تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

چینی یا میٹھا زھر: عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

by ویب ڈیسک 25/04/2017
written by ویب ڈیسک 25/04/2017
121

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ شاہد اعوان


سفید زہر کہلانے والی موجودہ چینی کی پہلی فیکٹری ہمارے ہاں 1866 میں انگریزوں نے قائم کی۔ آج چینی کی ہماری روزمرہ زندگی میں کیا اہمیت و کردار، یہ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ چینی ہمارے مشروب سے لے کر ہماری بیکری تک, ہمارے کھانوں کے اختتام سے لے کر فرصت کے ٹائم کی کینڈیز تک ہر جگہ چینی ہی چینی ہے۔ ایک عام آدمی محتلف اشیاء میں تقسیم اس چینی کی روز کتنی مقدار استعمال کر جاتا ہے, کیا وہ اسکا تعین کرتا ہے؟ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ زبان کی اس مٹھاس کا حلق کے پار جانے کے بعد ہمارے بدن سے کیا تعلق ہے؟ کیا ہمیںاسکی اتنی ضرورت ہے جتنی ہم استعمال کرتے ہیں؟

چینی آج انڈسٹری ہے۔ ہمارے گھروں کے کچن تک آنے کیلئے یہ کونسا سفر طے کرتی ہے۔ اسکی بھی اپنی تاریخ ہے۔کبھی آپ نے ہائی ویز پر سفر کرتے ٹرالیوں کی طویل قطاروں میں بے ہنگم بھرا یہ گنا دیکھا ہوگا۔ وہ لوگ جو آج چالیس سال سے اوپر کے ہیں, وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسا گنا ہے؟ برصغیر کا گنا ایسا تو نہ تھا, پہلے ہمارے ہاں موٹا سبزی مائل پیلا گنا ہوتا تھا، رس سے بھرا اور باریک چھلکے والا, لوگ دانتوں سے چھیلتے اور کاٹ کاٹ کر اسکا رس چوستے تھے۔ آج موٹے چھلکے والا پھیکے سبز رنگ کا یہ گنا ہائی برڈ نسل کا وہ گنا ہے جسے بتدریج رائج کیا گیا۔ یہ اُس سفر میں ہے جب یہ گنا سوائے شوگر مل کے باقی سب کیلئے کشش کھو دے گا۔
چینی صحت کیلئے کتنی فائدہ مند یا نقصان دہ یہ بھی طویل بحث ہے۔ اور ماہرین طب ہی کریں تو بہتر ہے۔ ہاں چینی پر بنیادی معلومات ہر فرد سمجھ لے تو بہتر ہے۔ ہمارے معاشرے میں دو قسم کے افراد ہیں۔ ایک شوگر کے بیمار جن پر چینی حرام سمجھی جاتی ہے, دوسرے وہ جو صحت مند سمجھے جاتے ہیں۔ وہ چینی کا بے تحاشا استعمال فرض سمجھتے ہیں۔
چینی خون میں شامل ہوتے ہی دو بنیادی اقسام میں تقسیم ہوجاتی ہے۔
* گلوکوز ۔ یہ ہر جاندار کہ خلیہ میں قدرت کی طرف سے موجود ہوتا ہے۔ اگر ہم اسے خوراک کےساتھ نہ بھی لیں تو بھی ہمارا جسم یہ بنالیتا ہے۔
* فرکٹوز۔ یہ ہمارا جسم نہیں بناتا نہ ہی یہ جسم کی اشد ضرورت ہے۔
فرکٹوز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے, کہ اسکی ایک مخصوص مقدار ہی ہمارا جگر مستحیل یعنی metabolised کرسکتا ہے۔ یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں اگر ہم اسکی کچھ مقدار کھالیں۔ جیسا کے فروٹس یعنی پھلوں میں ہوتا ہے۔ فروٹس میں فرکٹوز ہی ہوتے ہیں۔ جگر اس فرکٹوز fructose کو گلائکوجن glycogen میں تبدیل کر کے سٹور کرلیتا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ لیکن اگر اسکی ترسیل جاری رہے اور استعمال نہ ہو تو جگر اسے چربی fat میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں، چربی چڑھنے کی ابتدا ہوتی ہے۔ یاد رکھیں پھلوں سے اتنا فرکٹوز کبھی نہیں ملتا جو جگر کو بھر دے، یہ چینی ہی کی کرامات ہیں۔
جب چینی نہیں تھی, انسانیت تب بھی میٹھا کھاتی تھی۔ تب بھی شہد ہوتا تھا ،گڑ ہوتا تھا۔ آج بھی قدرتی مٹھاس دستیاب ہے۔ مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی تب اُسی تناسب سے تھی۔ آج ہم نے چینی کیلئے اتنی ڈیمانڈ بنادی کے سپلائی اپنے آپ کو قائم رکھنے کیلئے ہم پر ہی نت نئے تجربے کررہی ہے۔ یاد رکھیں ہمھارا جسم گلوکوز تو پراسس کرلیتا ہے۔ لیکن جس مقدار میں ہم اسے فرکٹوز دے رہے ہیں اسکا سارا بوجھ ہمارے liver پر چلا جاتا ہے, liver اسے چربی بنا بنا کر ہماری نسلوں کو مٹاپا اور دائمی بیماریاں دے رہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق
1700 میں ایک عام آدمی 4 پاونڈ چینی سالانہ استعمال کرتا تھا۔
1800 میں یہ 18 پاونڈ ہوگیا۔
1900 میں 90 پاونڈ سالانہ پر چلا گیا۔ اور 2009 کے تخمینہ میں امریکہ میں 180 پاونڈ سالانہ استعمال بنا۔
چینی چھوڑ دینے سے زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا, لیکن اگر زندگی میں مٹھاس لازم رکھنی ہے تو اسکا تناسب بتدریج کم کردیں۔ اپنی اس خواہش کو قدرتی مٹھاس سے پورا کریں۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں ملاحظہ کیجئے

Facebook Comments Box
چینیخوراک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
بکھرا نظامِ تعلیم: چوہدری خضر امیر
next post
عالمی قانون کی ملکی سیاست پر چھاپ – قسط: 1

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.