تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

لاک ڈاؤن، حجامت اور بیگم — احمد شہزاد

by دانش ڈیسک 31/05/2020
written by دانش ڈیسک 31/05/2020
90

لاک ڈاؤن کی بدولت گھر میں بیٹھے بٹھائے جہاں وزن بڑھا وہاں بال بھی اپنی حدود سے تجاوز کرکے ادھر اُدھر بھٹکتے دکھائی دینے لگے۔ بچوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا اب پونی باندھ لیں یا ہیئر کیچر لگا لیں جبکہ بیگم کہنے لگیں آپ نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے۔ ماتھے پرآئے بالوں کو شانِ بے نیازی سے پھونک مار کے ُاڑانا چاہا تو بیگم دیکھ کر بولیں اب اس عمر میں وحید مراد نہ بنیں۔ ہم نے بھی ترنت جواب دیا جب سامنے زیبا ہو تو وحید مراد کیا عمران ہاشمی بھی بنا جا سکتا ہے بیگم یہ سنتے ہی شرماتے لجاتے ہماری طرف بڑھنے لگیں ہم سمجھے نشانہ ٹھیک لگا ہے ہم ابھی پوزیشن سنبھال ہی رہے تھے کہ بیگم بالوں کی لٹ پکڑ کر کہنے لگیں تمام سیلون بند ہیں کیوں نہ ان ناتراشیدہ زلفوں کو ہم قینچی سے سنوار دیں۔ اتنا سننا تھا کہ ہمیں بالوں کے لالے پڑ گئےکہاں وحید مراد ایسے بال کہاں نازک ناتجربہ ہاتھوں کی کٹنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کٹ کررہ گیا۔

ایسے میں کبھی ہم بالوں کو ہاتھ لگاتے اور کبھی قینچی کا تصور کر کے توبہ توب کرتے۔ اس پر بیگم بولیں آپ بالوں کے اس چھتے کے ساتھ افریقہ کے شہزادے لگ رہے ہیں ہم نے کہا ہم پہلے کون سا شہزدہ گلفام ہیں، ویسے ہماری زلفیں ہماری مرضی۔ بیگم نے کہا کہیں ایسا نہ ہو چڑیاں گھونسلہ سمجھ کر بسیرا کر لیں یہ سن کر ہم نے بالوں کی امان پا کر عرض کیا آپ کو کٹنگ کا کیا تجربہ؟ تو کہنے لگیں دو تین سہلیوں کے بال کاٹ چکی ہوں، بس اب بال میں ہی کاٹوں گی۔ یہ نادر شاہی حکم سن کر ہمارا وہی حال تھا کاٹو تو بال نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پر ہم نے بھی کہا کہ اگر بال کاٹنے ہیں تو ماحول ویسا ہی بنایئں سامنے ایک قدِ آدم آئینہ رکھیں، ریوالونگ چیئر ہو، اُونچی آواز میں میوزک لگا ہو، ہلکے ہلکے کندھے دبائیں اور بالوِں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے چمئی بھی کریں۔ پہلے تو بیگم نے گھور کر دیکھا پھر کہا “ایڈی میں ہیئر ڈریسر”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ہم ایک سعادت مند شوہر کی طرح سر جھکائے کرسی پہ براجمان تھے۔ بیگم نے بال کاٹنے سے پہلے ہماری گردن اتنی بار دائیں بائیں گھما کر جائزہ لیا کہ ہمارا تراہ نکل گیا کہ بال قینچی سے کاٹنے ہیں یا چھری سے۔ ویسے تو ہر شوہر بیگم کے قابو میں ہوتا ہے ہم تو اس وقت بے بسی کی حد تک قابو میں تھے۔ اس موقع پر سکھ حضرات یاد آئے نہ بال بڑھنےکا مسئلہ نہ کٹوانے کا تردد۔۔۔۔

سب سے پہلے بیگم نے گردن پر کس کر کپڑا باندھا ہم نے بھی حوصلہ باندھا، پھرقینچی پکڑی ہم نے مضبوطی سے دل پکڑا، انہوں نے بالوں میں کنگھی پھیری ہم نے خوف سے منہ دوسری طرف پھیرا، اس سے پہلے کہ قینچی چلتی بیگم کی زبان چلنا شروع ہو گئی “سیدھے بیٹھے رہو، ادھر اُدھر مت دیکھنا اور نہ ہی سر ہلانا” ہماری حالت اس وقت ایسی تھی کہ مرغی چھری کے نیچے آئی ہو۔ بس ہمارے گلے سے اس وقت جو آخری گھگھیائی آواز نکلی وہ یہ تھی کہ “بسم اللہ اللہ اکبر”

اِدھر حجامت شروع ہوئی ہمارے رونگٹے ہی کھڑے نہ ہوئے بال بھی مؤدب ہو کر کھڑے ہوگئے۔ ہم صرف اتنا کہہ پائے “صرف بال ہی اتاریئے نہ کہ کھال”۔

 کنگھی کی رفتار، قینچی کی جھنکار، پانی کی پھوار اور بیگم کی ڈانٹ پھٹکارنے حالت ایسی کر دی کہ ہمیں کچھ دیکھنے سمجھنے کا حوصلہ نہ رہا۔ جیسے ہی قینچی کان کے قریب آتی ایسا لگتا کہ کان اب کٹا کہ کٹا، وہ تو خدا کا شکر بیگم نے عینک لگائی ہوئی تھی۔ قینچی کی کٹ کٹ سے دل کٹ رہا تھا۔ دورانِ حجامت دل کی حالت ایسے ہی تھی جیسے موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل کبھی اُوپر جاتی ہے کبھی نیچے۔

تھوڑی دیر کے بعد بڑی خود اعتمادی سے بیگم نے ایک چھوٹا آئینہ سر کے پیچھےرکھا اور فخریہ کہا “دیکھیں” ڈرتے ڈرتے ہماری نظر پڑی تو یوں دکھائی دیا جیسے کسی چراگاہ کی اُوپر نیچے گھاس کاٹ دی ہو اب اس حالت میں نہ چوں کر سکتے تھے نہ چرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعد از حجامت سر اور چہرے کی عجب داستان رقم ہو چکی تھی۔ بال اس طرح کٹے تھے کہ چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہو گئی تھی۔ ایسے میں کبھی ہم سر کو دیکھتے کبھی مونچھوں کو، الہی! کیا صورت بنا دی ایسا لگ رہا تھا کوئی پرکٹا پرندہ ہے اور اُڑنے کو پر تول رہا ہے۔

دیکھا جو کٹوا کر بالوں کی طرف عجیب شخص سے ملاقات ہو گئی۔

نہا کر آئینے میں دیکھا تو خود پر ترس آ رہا تھا۔ اس سےتو اچھا تھا کہ بازار میں کسی لڑکی کو چھیڑ کر حجامت بنوا لیتے بلکہ ٹنڈ کروا لیتے کوئی افسوس تو نہ ہوتا!

Facebook Comments Box
طنز و مزاحمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ورکنگ ویمن اور ہراسمنٹ: کچھ مزید تلخ پہلو — مریم عرفان
next post
نعوذ باللہ – محمد اویس حیدر کا افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.