تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

سجّن بے پرواہ اور صدف مرزا — زارا مظہر

by دانش ڈیسک 15/10/2017
written by دانش ڈیسک 15/10/2017
166

زیادہ پرانی بات نہیں ہے ہم نے اپنی فراغت اور بوریت سے تنگ آ کر ایک ٹوٹا پھوٹا افسانہ لکھ مارا کہ بہت بچپن کا شوق تھا جسے اٹھاتے اٹھاتے اب پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔ لکھ تو لیا مگر سوچ میں پڑ گئے کہ اسے کہاں لے جائیں۔ کسی کمرشل ڈائجسٹ میں دینا نہیں چاہتے تھے کہ وہ لمبے انتظار میں بٹھا دیتے ہیں اور ہدایت نامہ بھی جاری کر رکھا ہے کہ تین مہینے سے پہلے پوچھنا بھی نہیں ہے کب چھپے گا۔ بھلے تین ماہ بعد وہ اسے غیر معیاری کہہ کر معذرت کر لیں۔ ہم ٹہرے سدا کے اتاولے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارے اور پندرہ بیس منٹ میں افسانہ پبلش ہو کر لنک ہم تک پہنچ گیا۔ بلامبالغہ دو دو تین تین فٹ اونچی چھلانگیں لگائیں کیونکہ اس وقت ہم گھر میں بالکل اکیلے ہوتے ہیں۔ فون کرکے اپنی ہم زاد، اپنی بہن کو بتایا اور لنک دے کرفوراً پڑھنے کی زبردستی تاکید کی۔ بیچاری چھوٹی ہے تو ہماری ماری ہوئی بونگیوں کو بھی بڑی عزت دیتی ہے پڑھنے کے بعد فون کھڑکا دیا بے حد تعریف کی بلکہ حقیقت میں ہم سے زیادہ خوش ہوئی۔ وہ وہ قلابے ملائے ہماری ادیبانہ شان میں کہ واللہ مزا آ گیا ۔۔۔۔۔ بقول آسکی محبت کے اردو ادب میں ہم جیسے ہیرے کی کمی کب سے محسوس کی جا رہی تھی۔ آپکے تازہ تازہ چوندے چوندے افسانے سے امید ہے یہ خلا جلد ہی پُر کر لیا جائے گا اور بس آ پی آ پ خود کو مزید ہانڈی چولہے میں ضائع نا کریں وغیرہ وغیرہ۔ غیر متوقع طور پر کچھ دوستوں کے کمنٹس بھی آ گئے۔ مگر شام ہونا مشکل ہو گئی کہ کب سرتاج آ ئیں اور کب ہم اپنے افسانہ نگار بننے کی داستان سنائیں۔ خیر ہر صبح کی شام ہو ہی جاتی ہے ہم شِدّت سے چاہیں یا نا چاہیں اس خوبصورت صبح کی بھی شام ہو گئی۔ چائے پانی کے ساتھ میاں پاک کو خوشخبری بھی سنائی۔ سن کر نارمل لہجے میں بولے اچھا ااا۔۔۔۔ چلو بولائی بولائی پھرتی تھیں اچھی مصروفیت تلاشی ہے آ پ نے۔۔۔۔ کسی ٹھکانے سے لگیں ۔ (صاف سنائی دیا ہمیں کہ دل ہی دل میں کہا ہے شکر ہے جو ہر وقت کان کھاتی رہتی تھیں کچھ تو خاموشی رہا کرے گی) اور سر جھٹک کر کانوں پر عینک چڑھا کر نیوز چینل میں غُٹ ہوگئے۔ خیر ہم بھی رَگ پا چکے تھے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

لوگوں کی خوشی انگ انگ سے جھلکتی ہے ہماری پورے کمرے میں جھلکنے لگی۔ بے ترتیب ڈریسنگ ٹیبل پر، لڑکھتے چائے کے کپّوں پر، بیڈ پر بکھری ڈائیریوں پر اور رپٹ کر مڑے پاؤں میں۔

بڑی منتوں سماجتوں کے بعد چوتھے دن ویک اینڈ پر ہزار دھمکیوں کے بعد پڑھنے پر آ مادہ ہوئے مگر اگلے ہی منٹ ہینڈ سیٹ پرے دے مارا اتنا باریک اور اتنا طویل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی ڈی ایف کاپی دو تو نظر کے نیچے سے گزار لیتا ہوں۔ (اللہ اللہ احسان تو دیکھو۔۔۔۔ عصرِ حاضر کی نئی نئی عظیم لکھاری کی اتنی بزتی) ۔ مگر بے بسی سے کچھ گھچ مچولا کاغذ پیش کئے جن کو دیکھ کر صاحب پھر نخرے سے اکڑ گئے اتنی گندی لکھائی یہ تو چشمے سے بھی نہی پڑھی جا رہی۔ مگر ہم نے بھی دل بڑا کر لیا اور الٹا سیدھا جیسا بھی لکھا تھا پڑھا کر ہی چھوڑا۔

خیر اب ہمیں ایک پلیٹ فارم مل چکا تھا دوستوں نے دلجوئی کی خاطر برداشت اور کمنٹ کرنا بھی شروع کر رکھا تھا سو ہم لکھتے لکھتے عادی مجرم ہوتے گئے۔ کچھ ادھر ادھر سے آ فرز آ نی لگیں کچھ ڈائجسٹس تک بھی رسائی ہو گئی۔ مگر نہیں ہاتھ آ ئے تو میاں صاحب۔۔۔۔ اس ایک زبردستی والی کوشش کے بعد ہم نے ہر تحریر کے چھپنے پر بڑا زور مارا مگر جناب وہ تو کمرہ بدر ہی ہو گئے۔ کہ بیڈ پر ہماری جگہ ہی نہیں بچی اور یہ کہ یہ دھونس اور بد معاشی (زبردستی پڑھانے والی) مزید نہیں چلے گی۔ بہت کہا کہ وہ ایک کچّی پکّی تحریر تھی جو خوش قسمتی سے چھپ گئی ا ب بہت تعریف کرتے ہیں بڑے بڑے لوگ ۔ (دوستوں کے مرّوت مارے شاندار شاندار کمنٹ پڑھانے کی بڑی کوشش کی جس میں سہیلیوں نےکہا یار آ پ لکھتی ہو کہ موتی پروتی ہو) یہ دیکھئے فلاں فلاں نے کیسا شاندار کمنٹ کیا ہے مگر جناب کہاں۔۔۔۔ تم پڑھو مجھے کیا سمجھ ہے۔ فلاں ضروری کام سے نمٹ لوں تو۔۔۔۔ آ ج ایک اہم میٹنگ ہے۔ تم لکھا کرو نا میں نے تمہیں اجازت تو دے رکھی ہے۔ لو بھلا کبھی روکا ہے تمہیں۔۔۔ اور۔۔۔۔ اور ہماری آ نکھیں حلقوں سے باہر۔۔۔ بڑی کرم نوازی ہے جی اجازت دے رکھی ہے جیسے اجازت انکے پیسوں سے آ تی ہو۔ اور راشن میں وافر لا لا کر دیتے ہوں۔

خیر خوش قسمتی سے کچھ بڑے لکھاری دوستوں نے سراہنا شروع کر دیا۔ (انکی بڑی مہربانی جو انہوں نے اپنے بیچ جگہ دی) ہم اپنے ناٹے قد کے ساتھ اللہ جھوٹ نا بلوائے دو دو فٹ اوپر چلنے لگے بلکہ تیرنے لگے۔ ہر کام سرشاری کی لہر میں بہتے بہتے انجام دیتے۔ سر جھاڑ منہ پہاڑ رہنے لگے۔ اکثر شیشہ دیکھ کر ڈر جاتے نہانے دھونے کی فکر سے بھی آ زاد ہی ہو گئے۔ بم پھٹے بالوں میں چِڑیوں نے گھونسلے ڈال لیئے۔ مگر فائدہ یہ ہوا کہ کافی ذخیرہ جمع ہوگیا۔ جو بقول دوستوں کے بہت شاندارہوتا ہے۔ مگر سجّن۔۔۔۔۔۔۔ بے پرواہ ہی رہا۔

خیر اب ہمیں بھی اتنی پرواہ نہیں رہی وہ بے پرواہ تو ہم بھی لاپرواہ ہوگئے۔ اب یوں ہونے لگا کہ کسی کسی تحریر یا افسانے پر کمنٹس کے علاوہ اکثر دوستوں کے فون آ نے لگے یار اتنا شاندار لکھتی ہو حقیقت نگاری کرتی ہو فلاں تحریر پر رُلا دیا (ہائے لا اپنے منہ میاں مٹھو) کتنی باریک بینی سے لکھتی ہیں آ پ۔ اعلی جزیات نگاری ۔ حروف کی کمہارن ہیں آپ۔۔۔۔۔۔ کیسی کوزہ گری کرتی ہیں۔ حرف تو گویا ہاتھ باندھے غلام ہیں آ پکے۔ سنتے ہیں میاں جی نوشی کیا کہہ رہی ہے۔ (جلدی سے اسپیکر آ ن کیا) ہاں نوشی کیا کہہ رہی ہو آ واز کٹ گئی تھی۔ اس نے پھر تعریفی جملہ آ واز کٹنے کے ڈر سے ذرا زور سے بولا۔ اچھا میری جرابوں کے جوڑے بناتے وقت یہ باریک بینی کہاں جاتی ہے۔ الگ الگ باندھ دیتی ہو۔ گرے شرٹ کےکف کا ٹوٹا بٹن بھی ذرا باریک بینی سے دیکھ لیتیں تو آ ج آفس میں شرمندگی نا ہوتی۔ نیلی شرٹ کے نیچے کتھئی پینٹ کا کیا جواز۔ نوشی کی بات سنیں نا۔۔۔۔ ہاں بھئی سہیلی جو ہے بچپن کی۔ ۔۔۔

بتائیے بھلا دوستو تعریف کروانا آ سان کام ہے۔ وہ بھی بچپن کی سہیلی سے جو سارے کرتوت سب کے سامنے بیان کرتی ہے اور بھری محفل میں تُو تڑاخ کر کے بولتی ہو جس کو والدہ صاحبہ کی ایک ایک جِھڑکی سیاق و سباق سمیت ازبر ہو۔ خیر چھوڑیے کام کی بات تو اب سنانی ہے۔ آ ج صدف مرزا کا اچانک فون آ گیا ڈنمارک سے۔ ہم دونوں کی لمبی گفتگو ہوئی (آ ہم آ ہم۔۔۔۔ دو بڑی لکھاریوں کے درمیان بہت سے ادبی و باہمی دل چسپی کے امور زیرِ بحث آ ئے) آج کل انکا تعارف بس ایک عدد ایک سالہ نواسی ہے جس نے ہمیں پاگل بنایا ہوا ہے۔ اسکی حرکات اسکے ڈریسز اور اسکا اپنی اماں کو نام سے بلانا۔۔۔۔ سنا کرے کوئی۔ صدف مرزا آ جکل89 میں بیٹی کا بچپن کھوج رہی ہیں اور دن بدن ہمیں اس حِرص میں مبتلا کیئے جا رہی ہیں۔ رُستا خیز آ تی ہیں ایف بی پر، کسی تازہ کاروائی کی دو چار لکیری رپورٹ ڈھیروں تصاویر کے ساتھ وال پہ ڈال کر آ ئمہ کو انگلی سے لگائے چلتی بنتی ہیں۔ کبھی کسی مشاعرے کی رسید تھما دیتی ہیں شعراء کی تصویروں کے ساتھ ۔

اتنا خوبصورت اور بے ساختہ لکھتی ہیں کہ جن دریاؤں کے کنارے بستی ہیں انکی روانی تحریر میں بسا دیتی ہیں۔ جب انہوں نے کہا آ پ کی تحریروں کے حوالے سے ملنے کا اشتیاق رکھتی ہوں تو ہم سچ میں بھّرا گئے۔ (میرے مولا مجھ کج ادا کو اتنا نواز دیا)  (پنجاب یونیورسٹی انکی ڈینش شاعری پر ان کا ریسرچ ورک چھاپ رہی ہے اس سلسلے میں نومبر میں پاکسان آ ئیں گی۔ تو شاید ملاقات کی کوئی سبیل ہو ۔ ہم دیدہ و دل فرشِ راہ کیۓ بیٹھے ہیں اب تو۔)

تحریروں پر انکےکمنٹس تو ملتے رہتے ہیں مگر جب انہوں نے فون پر اپنے خوب صورت لب و لہجے میں یہ سب کہا تو ہم اپنے بڑھتے وزن کے باوجود بڑے سبک سر محسوس کیا کئیے خود کو۔ بہت سی کتابوں کی خالق ہیں۔ ڈینش ادبی سوسائٹی کی روحِ رواں۔ ہر ادبی و ثقافتی وفد کی میزبان۔

ارے صاحب ہماری شہرت ملکی سرحدوں کو توڑتی ہوئی بیرونِ ملک جا پہنچی ہے لِلّہ اسے لگام دیجئے گھر پر تھوڑی تعریف کر دیا کیجیئے۔ میاں صاحب کو گفتگو کی تفصیل و متن سے آ گاہ کیا (جو دو مقبول عام خواتین کے درمیان ہوئی۔ بڑھا چڑھا کر، کچھ سنوار کر پیش کی۔ صاحب نے ذرا کی ذرا بے توجہی سے نظر اٹھا کر دیکھا اور بغیر ہوں ہاں کیئے احسن اقبال کی لن ترانیاں بڑے خضوع و خشوع سے سننے میں منہمک ہو گئے۔۔۔۔۔ اف کیا علاج کریں اس سجّن بے پرواہ کا۔

Facebook Comments Box
daanishsadaf mirzaurdu mazmoonurdu writerصدف مرزا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اردو میں تحقیقی مقالے کی صورتِ حال : معراج رعنا
next post
ابھی اور اسی وقت: سید اسرار احمد بخاری

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.