تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
صنف/ جینڈر

مرد کا پیار بے مثال؟ — طیبہ زیدی

by ویب ڈیسک 04/05/2017
written by ویب ڈیسک 04/05/2017
80

اللہ کتنا مہربان اور عظیم ہے، ہم اس کی نعمتوں کا چاہ کر بھی شکر ادا نہیں کرسکتے لیکن مرد کا تو کرسکتے ہیں نا! مرد نعمت ہے یا یہ کہ لیجئے لڑکا نعمت ہوتا ہے اور لڑکی رحمت۔  ہمیں مرد کی عزت کرنی چاہئے۔ مرد بہت عظیم ہوتا ہے۔ اسے پیاری پیاری لڑکیاں پسند ہوتی ہیں، وہ خود بھی پیارا ہوتا ہے، اسے مختلف لڑکیاں پسند ہوتی ہیں، کچھ لمبی، کچھ چھوٹی، کچھ کالی کچھ موٹی، لڑکیاں گوری بھی ہوتی ہیں، گوری لڑکیاں بہت ذیادہ ہوتی ہیں، کالی لڑکیاں اس سے بھی ذیادہ ہوتی ہیں۔ مرد بہت محنت کرتا ہے، صرف محنت کرتا ہے، صرف کماتا ہے یہ اسکا ہم پر احسان ہوتا ہے اگر وہ نہ کمائے تو ہم بھوکے مر جائیں۔ لڑکیوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ مرد سے شادی کیوں کرتی ہیں؟ آخر کیوں؟ کیا کوئی  لڑکی بےروزگار مرد سے شادی کرنے کو تیار ہوتی ہے؟ کبھی نہیں؟ بنیادی طور پر مرد سہارا ہوتا ہے کسی بھی خاندان کا۔ اسے سر پرست اعلیٰ کا عہدہ حاصل ہوتا ہے،چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ مرد ہوتا ہی بڑا ہے اسے کوئی چھوٹا نہیں سمجھتا۔ اور اگر بیٹا ایک ہوتا ہے تو وہ سب سے چہیتا ہوتا ہے۔ مرد صرف روزی کما کر پہلے درجے پر فائز کردیا جاتا ہے، اور لڑکی کماکر، کھلا کر، بچوں کی پرورش میں سر گرم عمل ہو کر بھی خود غرض، مادہ پرست اور مغرور تصور کرلی جاتی ہے۔ عورت ہوتی ہی بری ہے اسی لئے عورت ہوتی ہے، ورنہ مرد ہوتی؟ آپ خود سوچیں؟ کیا عورت کوئی بہت عظیم کام کرتی ہے؟ آخر کرتی کیا ہے؟ صرف بچوں کی ماں ہی تو ہوتی ہے؟ وہ تو ساری عورتیں ہی ہوتی ہیں، ساری ہی بچوں کو پالتی ہیں، ساری ہی نوکری کر رہی ہوتی ہیں، ساری ہی گھر سنبھالتی ہیں، ساری ہی کھانے بناتی ہیں، اور اگر خواتین نوکری کرتی بھی ہیں تو صرف اپنے لئے کیوں کہ انہیں پیسا بہت اچھا لگتا ہے، کم پیسوں میں ان کا گزارا ہی نہیں۔ مرد بل کل سہی کرتا ہے اگر طعنہ دے بھی دے دیتا ہے کہ نوکری اپنے لئے کر رہی ہو میرے لئے نہیں۔ نوکری کا رعب کسی اور پر جمانا اور اگر کھانا پکالیتی ہو، تو بھی کوئی احسان نہیں کرتیں، وہ بھی ساری عورتیں بناتی ہیں، بچوں کو بھی پالتی ہیں اور تم کرتی ہی کیا ہو، تمھارا کام ہی سونا اور رونا ہے۔ میری دوست کی بیوی اتنی اچھی ہے، برابر میں وہ جو لمبی سے خاتون ہیں وہ بھی بہت اچھی ہیں کبھی بھی شوہر سے ذبان نہیں چلاتیں۔ مرد مجاذی خدا ہوتا ہے، یہ تو میں ہوں جو رہ رہا ہوں تمھارے ساتھ۔ شکر ادا کیا کرو، ہزار لڑکیاں آفس میں آگے پیچھے گھومتی ہیں، جی جی کرتی ہیں۔
عورت گھر میں رہے تو بھی بری ہوتی ہے اور اگر کمانے چلی جائے تو اس سے ذیادہ  بری بن جاتی ہے،کیوں کہ وہ  یہ سب اپنے لئے کرتی ہے، اس کا بھی دل ہوتا ہے ارمان ہوتے ہیں، اگر وہ باہر نکل کر نوکری کر بھی لیتی ہے تو مردوں پر کوئی احسان نہیں کرتی۔ عورت  خود لالچی ہوتی ہے، وہ گھر کا کام نہ کرنے کی وجہ سے  گھر سے فرار اختیار کرتی ہے تا کہ ساس سسر کی خدمت نہ کرنی پڑے، نندوں کی دعوتیں نہ بھگتانی پڑیں۔ گھر میں رہے گی تو کام کرے گی نا! جب ہوگی ہی نہیں تو کام کرے گا کون؟ اس چالاکی سے عورت خود کو کام کاج سے بھی بچا لیتی ہے اور پیسا بھی کمالیتی ہے۔ مرد پر اسے رعب بھی تو جمانا ہوتا ہے اس کو اور کوئی بات نہیں۔
مرد عورت کا ہر طرح سے خیال کرتا ہے، اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے بیوی کو خوش رکھنے کی، مگر عورت کی فطرت میں ہی نہیں خوش رہنا، ہر وقت الکساتی ہے،پیسے کی ہوس، اسٹیٹس، گاڑی، اپنا گھر، مہنگے اسکول میں بچوں کی تعلیم، سب چاہتی ہے۔
عورت کو یہ سب شوہر سے بل کل نہیں مانگنا چاہئے اسے چاہئے وہ صرف انتظار کرے، چپ رہے، شوہر سے کوئی شکایت نہیں کرے، بل کے ایسا کرے کے اپنی ساس سے شکایت کرے اپنے شوہر کی، وہ سمجھائیں گی بیٹے کو کہ تم بہو کا خیال رکھو۔ اس کی فرمائشیں پوری کرو، لڑکی کو بل کل نہیں چاہئے کہ وہ اپنی ماں کو ہر بات پر فون گھما کر قصے کہانیاں سنائے اور مشورے مانگے۔
ساس بھی ماں ہوتی ہے، لڑکی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر، اپنی نند، اور خود اپنے سسرال میں اپنی شکایات کی ایک فہرست بنائے، پھر سب کو ایک ایک فوٹو کاپی کرواکر ٹی سی ایس سے ارسال کرے۔
لڑکی شادی کے بعد پرائی ہوجاتی ہے اس کو اپنے ماں باپ سے ذیادہ روابط رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اور اس کے ماں باپ صرف اس کی شادی سے پہلے پہلے تک ہی اس کے ماں باپ ہوتے ہیں، شادی کے بعد اس کی ساس اس کی ماں اور اس کا سسر اس کا پاپ بن جاتا ہے۔ لڑکیاں یہ سب بھول جاتی ہیں اس لئے شوہر ان سے خوش نہیں رہتا کیوں کہ وہ اس کے ماں باپ کو اپنا ماں باپ نہیں سمجھتی۔
لڑکی کو ہی ہوتی ہیں دشواریاں، پریشانیاں! آخر لڑکا بھی تو اس ہی گھر میں رہتا ہے، کھانا کھاتا ہے، ماں باپ کو وقت دیتا ہے، ان کی فکر کرتا، بیوی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے اور بار بار امی یاد آرہی ہیں کا ورد نہیں کرنا چاہئے، آخر مرد بھی تو نہیں کرتا، وہ بھی تو خیریت دریافت نہیں کرتا آفس سے فون کرکے ماں باپ کی۔
لڑکی کے ماں باپ کو بھی کم کم فون کرنا چاہئے بیٹی کے سسرال، سمجھ لینا چاہئے بیٹی پرائی ہوگئی،بس وہ شادی سے پہلے پہلے ہی ان کی بیٹی تھی اب اس کا اپنا گھر ہے، شاہر ہے، ساس سسر ہیں، نندیں ہیں، گھر کا کام کاج ہے، اگر اپنے ماں باپ سے ہر مہینے ملنے جائے گی تو اس سے اس کا اپنا گھر نظر انداز ہوگا۔ اسے اب اپنے ماں باپ سے مشورے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بڑی ہوگئی ہے،اسی لئے اس کے ماں باپ اس کی شادی خود کرتے ہیں کوئی زور زبردستی تھوڑی کرتا ہے لڑکا۔
لڑکی کے ماں باپ کو چائیے کہ ذیادہ بیٹی کو یاد نہ کیا کریں، اس سے اس کا سسرال اثر انداز ہوگا، اور تحفے تحائف بیٹی کے سسرال میں ضرور بھجوایا کریں، اس سے وہ سسرال میں بھاری رہے گی۔

لڑکیوں کو سمجھداری سے کام لینا چاہئے، مرد کی بات ہر حال میں ماننی چاہئے، بس ایک یہی طریقہ ہوتا ہے خوشگوار ذندگی گزارنے کا اور شوہر کے دل میں اپنی جگہ بنانے کا، برداشت کرے اور کام کرے، آخر شوہر بھی تو کتنا برداشت کرتا ہے ایک اپنا آفس اور دوسرا آپ کا فرمائشی پروگرام۔ اگر ان تمام باتوں پر لڑکی اور اس کے ماں باپ عمل کریں پھر دیکھئے گا آپ کی بیٹی کبھی پریشان نہیں رہے گی، اس کے سسرال والے بہت خوش رہیں گے اس سے، اور آخر شادی کے بعد لڑکی کا مقصد بھی کیا ہوتا ہے، شوہر اور سسرال کو خوش رکھنا۔

Facebook Comments Box
پاکستانی عورتعورت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
برائیلر مرغی — ہم کیا کھائے جارہے ہیں
next post
بٹ خیلے کا ندیم ولی کیت کیت کیت ۔۔۔۔۔۔ زارا مظہر

Related Posts

خواتین اور پدر سری سماج : کچھ مثبت...

07/03/2024

لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —–...

21/07/2023

طوائف کا ادارہ ———– قاسم یعقوب

08/03/2022

تانیثیت کے بنیادی مباحث اور ” ہوا سے...

02/02/2022

فیمنسٹ لکھاریوں کا اصل مقدمہ کیا ہونا چاہیے...

26/01/2022

کیا خواتین گھریلو کام کے معاوضے کی مستحق...

10/12/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.