ہماری عورت لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو عورت کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے عورتوں پر مردوں کے ”مظالم“ کو بیان کر رہی ہوتی ہیں اور التجا کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ مردوں کو چاہیے کہ ہم پر ظلم نہ کریں۔ہمیں آزاد کر دیں۔
جب عورت مرد کو مرکز بنا کر لکھتی ہے تو لامحالہ ایسی صورتِ حال تو پیدا ہوگی۔ایک ظالم بن جائے گا اور دوسرا مظلوم۔ایک فسٹ جینڈر بن کے سامنے آئے اور دوسرا سیکنڈ جینڈر۔ عورت لکھاری یہ بھی نہیں جانتی کہ جب وہ مرد سے انصاف مانگ رہی ہوتی ہیں تو وہ یہ تسلیم کر رہی ہوتی ہیں کہ مرد حاکم اور ہم محکوم جینڈر ہیں۔وہ ایک طاقتور شخص کی قید میں ہیں، جس سے رہائی کے لیے پہلے اسے طاقت ور ماننا پڑے گا۔جو عورتیں رہائی پا لیتی ہیں وہ بھی ساری عمر یہی راگ الاپتی رہتی ہیں کہ وہ مرد سے آزادہو چکی ہیں یعنی وہ قید کرنے والا اور میں قیدی تھی۔
اصل میں عورت اُس وقت تک اپنے وجود کا اثبات کروا ہی نہیں سکتی جب تک وہ مرد سماج کے اُن حاکم بیانیوں کو رَد نہیں کر سکتی جو مرد نے بطور لاشعور اس کے دماغ میں راسخ کر رکھے ہیں۔ وہ خودکو اقلیت ہی تصور کرتی رہے گی۔کسی بھی سماج میں وہ اکثریت اور برابری کاسماجی رتبہ سمجھ ہی نہیں۔ عورتوں کی تحریروں کو پڑھنے کے لیے ایلن شوالٹر نے ستر کی دہائی میں ایک گائنو تنقید کا سکول متعارف کروا یا تھا۔ عورت کی تخلیقی گرہ کشائی کی قرات کوئی اور نہیں بلکہ عورت خودکرے۔مرد عورت کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ مرد عورت کے بارے میں رائے دے سکتا ہے یا اپنے خیالات کا ظہار کر سکتا ہے مگر عورت خود کیا ہے یہ صرف عورت بتاسکتی۔ایلین شووالٹر نے اس سوال کو ایک اصطلاح Gynocriticism میں پیش کیا۔ گائنو کریٹسزم جسے اُردو میں انتقادِ نسواں کا نام دیا گیا ہے، کے بنیادی سوال اور داعیے مندرجہ ذیل تھے:
۱۔ عورت کی وجودی شناخت کیا ہے؟
۲۔ عورت بطور صنف(Gender)اور بطور فرد میں کیا اختصاص رکھتی ہے اور وہ اختصاص عورت کے وجودی اور ذاتی حوالوں کو کس طرح معرضِ بحث میں لاتا ہے؟
۳۔ عورت کا شعورِ ذات عورت کے نفسیاتی، داخلی اور حیاتیاتی معیارات اور اثرات سے کیسے تشکیل پاتا ہے؟
۵۔ عورت کی جنسی اور صنفی خوبیوں کا دائرہ کار کیا ہے؟
۶۔ عورت کے معاشرتی اور جبلی رویے کس طرح کام کرتے ہیں؟
۷۔ عورت کے تخلیقی متون کی درجہ بندی عورت کی ذاتی اور داخلی فضا میں کیا شکل اختیار کرتی ہے؟
۸۔ مادر سری اور پدر سری حاکمیت کی تقسیم کا سماجی اور جبلی امتیاز کیا ہے، کیا عورت مادر سری اور پدرسری دائروں میں جبلی طور پر تقسیم ہے یا کر دی گئی ہے۔
انسان کا وجود بنیادی طور پر دوشناختوں میں تقسیم ہوتا ہے:
۱۔ عورت/ مرد بطور جنس (Sex)
۲۔ عورت / مردبطور صنف(Gender)
صنف کا تناظر سماجی ہوتا ہے۔ ہم ایک سماج رہتے ہوئے حیاتیاتی شناخت یعنی انسان ہونے کے علاوہ ایک سماجی شناخت مرد یا عورت ہونا بھی رکھتے ہیں۔عورت یا مرد کو جس طرح سماج تشکیل دیتا ہے، وہ صنف کہلاتا ہے۔ جب کہ جس طرح عورت یا مرد فطرت کے دائرے میں ہوتے ہیں وہ ان کی جنس کہلاتا ہے۔جب عورت اپنے جینڈر پر اصرار کرتی ہے تو وہ لامحالہ سماجی شناخت پر سوال اٹھاتی ہے، جو مرد اساس معاشرے کا بنایا ہوا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں مرد حاکمیت نے تشکیل کیادیا ہے۔ جہاں عورت دوسرے درجے کی جینڈر مانی جاتی ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا عورت اپنی سماجی شناخت یعنی جینڈر کو نظرانداز کر کے مرد کی محکوم بنی رہے؟ تو اس کاجواب یہ ہے کہ عورت کو اپنی فطری (Sex)شناخت کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سماجی شناخت کے دعوؤں کو غلط کر سکے۔ کیوں کہ مرد نے اپنے سماجی بیانیے کی جو منطق ترتیب دی ہے، اس میں سے بیشتر کا تعلق عورت کی حیاتیاتی (Sex)بنیادوں پر ہے۔ یعنی عورت کمزور ہے، حیاتیاتی مجبوریوں (حیض، زچگی) کا شکار ہے۔ حسیاتی سطح (جذباتیت، گھبراہٹ،کم حوصلگی) پر غیر متوازن ہے۔ مرد نے عورت کی حیاتیاتی شناخت کو غلط سمجھا ہے،لہٰذا جب تک وہ اپنی جنسی شناخت کو تحریر میں نہیں لاتی اور اس بیاننے کی رد نہیں کر پاتی اُس وقت تک اس کی سماجی شناخت (gender)دوسرے درجے ہی کا رہے گا اور مرد اساس معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا۔اس صورتِ حال میں اگر وہ مرد معاشرے سے اپنی شناخت مانگتی رہی تو وہ خود تسلیم کرتی رہے گی کہ وہ مرد کی قید میں ہے۔ وہ دعائیں ہی مانگتی رہے گی کہ یااللہ اسے اس بادشاہ کی قید سے رہائی دے۔
اب آتے ہیں دوسرے مسئلے کی طرف کہ پھر عورت کیا لکھے، کسے اپنا مقدمہ بنائے؟ عورت لکھاری کے سوال ہونے چاہیے کہ عورت کیا ہے؟ عورت اور کائنات کا ذہنی و جذباتی رشتہ کیا ہے؟ عورت تخلیق سے کیسے گزرتی ہے؟ چوں کہ پوری کائنات میں ہر ذی روح مادہ کی تخلیق ہے، عورت کے بطن/ وجود سے ظہور کرتی ہے۔ عورت خود کیوں نہیں بتاتی کہ وہ کیا ہے؟ وہ کیوں گلے شکوے اور مرد سماج کی قیدی بنی ہوئی روتی دھوتی رہتی ہے۔
عورت لکھاریوں کے لیے یہاں کچھ موضوعات پیش کیے جا رہے ہیں، جن پر توجہ کی ضرورت ہے:
مرد اساس بیانیوں کی نفی:
عورت لکھاری کو چاہیے کہ وہ اُن تمام بیانیوں کو رد کرے جو عورت کے بارے میں مرد نے قائم کر رکھے ہیں، جیسے
عورت صنفِ نازک ہے
عورت صرف گھرداری کے لیے ہے
عورت کی سماجی عدم شراکت کا بیانیہ
عورت حکمرانی کے لیے نہیں
عورت بزدل تخلیق ہے
یہ اور اس طرح کے درجنوں بیانیے جو مرد اساس معاشروں میں سماجی سطح پر رواج پا گئے ہیں، ان موضوعات کو کہانیوں میں پیش کرے اور کہانی میں غیر شعوری طور پر ان کے رد کا اہتمام کرے۔
نفسی، وجودی اور جذباتی تجربات:
عورت زندگی میں شامل ہو اور اپنے تخلیقی تجربات میں اوروں کو شریک کرے۔ بیسویں صدی کی عورت نے کھل کر اپنا تجرباتی سرمایہ کہانیوں، مضامین اور فن پاروں میں پیش کیا ہے۔ جس سے عورت مرد کے مقابلے ہی کی نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان کی شکل میں سامنے آئی۔آج کی عورت کو بھی اس روایت کو آگے بڑھانا چاہیے جو اپنی مقدار میں بہت قلیل ہے۔
نقطہئ نظر کا اظہار:
عورت لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ مرد کے مظالم کا ذکر کرنے یا اُس سے اپنا حق چھیننے کی بجائے، سماجی تناظرات میں اپنا موقف پیش کرے۔ قومی مسائل، تہذیبی اقدار اور اہم نفسیاتی و فلسفیانہ اُمور پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ایسی کہانیوں کا انتخاب کرے جس میں بطور عورت اُس کی رائے کی اہمیت واضح ہو سکے۔اس کے کردار کی ایک نئی سماجی تشکیل ہو سکے۔
عورت مرکز بیانیہ کی تشکیل:
وہ تمام امور جن میں عورت مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور مرد نے اسے تسلیم نہیں کیا، خاموشی سے ان کی اہمیت کو واضح کرے۔ جیسے معاملہ فہمی،ذہنی بالیدگی،ذہانت، ماحول دوست نظریات،تخلیق و پیدائش، جنسی امور اور گھر داری وغیرہ۔عورت اپنا الگ سے بیانیہ ترتیب دے سکتی ہے کہ مرد کچھ جگہوں پر بالکل بے بس ہے۔ سماجی شراکت کے لیے ضروری ہے کہ جس طرح فطرت نے مرد اور عورت کو تقسیم کرکے برابری عطا کی ہے اسی بنیاد پر سماجی تقسیم بھی ہونی چاہیے۔یوں کچھ جگہوں پر مرد اہمیت اختیار کر جاتا ہے اور کچھ جگہوں پر عورت۔ سارا معاشرہ مرداساس نہیں ہوتا۔ عورت بھی برابرکی حصہ دار ہے۔
جنسی اظہار:
عورت جنس میں مرد کی باندی، کنیز یا محض پارٹنر بننے کی بجائے اپنے جنسی عمل کا اظہار کرے۔ وہ کس طرح جنس جارحیت کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔غیر فعال کا تصور مرد اساس معاشروں کی دین ہے۔ مرد عورت کو passive پیش کرتا ہے جسے عورت بھی قبول کرتی آ رہی ہے جب کہ فطرت نے جنسی سطح پر دونوں کو offensive پیدا کیا ہے۔دونوں کی جارحیت اپنی فطرت کے قاعدوں کے مطابق ہے۔ عورت جب تک مرد کے جنسی تجربات میں غیر فعال (passive) کرادر ادا کرتی رہے گی، مرد اسے کمزور اور حقیر ”شے“ کے طور پر پیش کرتا رہے گا۔جنسی بیانیے کا بہت سا تعلق عورت کی حیا یا شرم کے تقاضوں سے جڑا ہوا ہے جو سراسر مرد اساس بیانیے کی عطا ہے۔ فطری یا جسمانی حوالے سے عورت کسی طرح بھی غیر فعال نہیں ہو سکتی۔
کامیابیوں کا بیانیہ:
عورت لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ ان تمام سماجی شناختوں کو کھول کھول کر لکھے جس میں عورت ایک کامیاب انسان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عورت کی کامیابی اس سماجی بیانیے کا رد ہوگی جو مرد اساس معاشروں میں عورت کی عدم شراکت کے تصورات پر قائم ہے۔عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کہ عورت جب سماج کا حصہ بنتی ہے تو ایک ناکام سماجی فرد (Individual) بن کر رہ جاتی ہے۔ عورت کی کامیابیوں کا ذکر عورت کوپہلے سے متعین شناختوں کے مقابلے میں سماجی شناخت دے سکتا ہے۔
مشاہدات:
ادبی تحریروں میں سب سے زیادہ اہمیت مشاہدے یا Exposure کی ہوتی ہے۔ عورت چوں کہ سماجی حوالے سے ایکسپوژر نہیں رکھتی یا بہت کم سماجی مشاہدات رکھتی ہے، اس لیے وہ سماجی مساءل میں قوت فیصلہ سے محروم تصور کی جاتی۔ سماجی ایکسپوژر میں مرد اساس معاشرہ عورت کو حاشیے میں دھکیل دیتا ہے۔ عورت لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ جب لکھنے لگیں تو ان کے سامنے وسیع مشاہدے کا تناظر ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ سماجی میں برابری کے ساتھ مرد اساس معاشروں کا مقابلہ کر سکے
____________
عورت لکھاری جب تک اپنی جنس (Sex) فطرت کو بنیاد نہیں بناتی اس وقت تک مرد اساس معاشرے بھی عورت کی جنس کو قبول نہیں کرے گا۔ سارا مسئلہ عورت کی سماجی شناخت یعنی صنف (gender) کا ہے۔عورت کو چاہیے کہ وہ جینڈر کو رد کرے اور جنس (Sex) کی بات کا آغاز کرے۔ جنس (Sex) خدائے کائنات کی تقسیم ہے، جہاں سب برابر ہیں۔ رب العالمین کسی کو افضل اور کسی کو کم تر نہیں بنا سکتا۔ البتہ کچھ امور میں کسی ایک کاا نتخاب کر سکتا ہے۔جیسے تخلیق کے لیے عورت۔۔۔ جینڈر چوں کہ سماج (مرد) کی بنائی ہوئی تقسیم ہے جہاں ناانصافی ممکن ہے۔اگر فطرت (خدائے کائنات) کی تقسیم پر فیصلہ کیا جائے تو عورت زیادہ اہمیت اختیار کرجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (ا)
