سرفراز میرا زندگی بھر کا دوست ہے وہ بلکل ایسے ہی بتایا کرتا ہے کہ کیسے اس کے ابا نے قیامت کی ان گھڑیوں میں اپنے 9 سالہ بیٹے سرفراز کو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بارڈر کو ایک اسمگلر کے ذریعے پار کرایا اور کہا کہ بیٹا تمہارے ماموں کا قصبہ اتنی دور اور اتنے اسٹیشن کے بعد آئے گا وہاں اتر جانا اور کسی طرح اپنے ماموں کے گھر پہنچ جانا میں یہاں بنگلہ دیش میں بہاریوں کے لئے بن جانے والی کربلا میں اپنے بقیہ خاندان کو بچانے کی جدوجہد کرتا ہوں، سرفراز انڈیا چلا گیا دوسرا بھائی پاکستان آگیا تیسرا بھائی 15 سال بعد اردن میں ملا اور سرفراز کے باپ جو مشرقی پاکستان اس لئے ہجرت کرکے آئے تھے کہ وہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں جارہے ہیں بنگلہ دیش میں دفن ہوگئے اور اس کے ساتھ ہی ان بہاریوں کے خواب آدرش اور اچھی زندگی کی امید پلٹن میدان میں دفن ہوگئے۔
ریفیوجی پڑھتے ہوئے مجھے بار بار سرفراز یاد آتا رہا کہ عظمت اشرف کہیں سرفراز کی آب بیتی تو نہی لکھ رہے ہیں لیکن خیال آیا کہ یہ تو ان ہزاروں بہاریوں کی کہانی ہے جو ایک لاحاصل خواب کی امید میں قتل کردئے گئے۔ جن کے خون کی وارث وہ مملکت بھی نہی ہوئی جس کے لئے وہ قربان ہوگئے۔ یہ کتاب لکھ کر شاید عظمت اشرف نے کہیں ایک چراغ روشن کردیا ہے کہ اس کی روشنی میں کچھ اور لوگ آئیں اور ان راندہ مملکت لوگوں کی بات کریں۔
عظمت اشرف کی انگریزی تصنیف ریفیوجی جس کا اردو ترجمہ ریفیوجی کے نام سے ہی ابو احمد عاکف نے کیا ہے اس کی رونمائی کراچی کے کتب میلے میں ہوئی، IPS نے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا ہمارے دوست اور ادارے کے جنرل منیجر نوفل شاہ رخ نے ہمیں اس پروگرام کی نظامت کے لئے حکم دیا تھا۔ لائوڈ اسپیکر پر ہونے والے اعلانات سے پریشان ابو احمد عاکف سے کتاب پر کچھ تشنہ کچھ کھلی ڈلی بات چیت میں نے کی۔ بیوروکریٹ کی روایتی رازداری کی عادت اور شور سے مترجم کی پریشانی کی وجہ سے زیادہ لمبی بات ہو نہی سکی لیکن کتاب پڑھنے سے زندگی کے کئی نئے رخ سامنے آئے، انڈیا میں ایک بیٹی کے کرفیو کے دوران دوا نہ ملنے کی وجہ سے حیات صاحب جمشید پور بہار انڈیا سے پاکستان چلے آئے لیکن صرف 24 سال بعد جب وہ ایک مطمئن مسرور اور خوشحال زندگی گزارہے تھے تو مشرقی پاکستان ہجرت کرنے والے حیات کے اس خاندان کو ایک مختلف زبان بولنے کی وجہ سے اس کے ہم مذہب لوگوں نے قتل کردیا۔
عظمت اشرف کی آب بیتی تین نسلوں کی کہانی ہے کہ جو امن کی تلاش میں خوف سے نجات کے لئے ہجرت پر مجبور ہوئی عظمت اشرف جو اپنے والدین کی گود میں ہجرت کرکے اپنے خوابوں کی سرزمین کی طرف آئے لیکن جب وہ خواب ٹوٹے تو اس نسل کے سامنے ان کے پیاروں کی لاشیں تھیں اور دل میں وہ زخم کے جس کو لیکر اب انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنی تھی، عظمت اشرف کا خاندان مشرقی پاکستان میں ان کے بقول بنگلہ دیش کی اکٹریتی آبادی کے درمیان رچ بس جانے والا خاندان تھا جو کہ مالی و تعلیمی طور پر بھی خوشحال تھا لیکن یہ رچ بس جانا، میل جول اور تعلق بھی ان کے خاندان کو مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل سے نہ روک سکے۔
عظمت اشرف کی ریفیوجی انسانی عزم وہمت کی بھی داستان ہے کہ کس طرح لٹے پٹے اور کٹے مرے خاندان دوبارہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہوسکتے ہیں، عظمت اشرف پاکستان لندن سعودی عرب اور دوبارہ پاکستان میں اعلی پوزیشن پر زندگی گزارنے رہے اعلی معیار زندگی کے باوجود وہ جس خوف کا شکار تھے اس نے انہی اس آخری ہجرت پر مجبور کردیا، اور وہ اپنے والد کے خوابوں کی سرزمین سے امن کی تلاش میں خوف سے اپنی نسلوں کو آزاد کرانے کے لئے کنیڈا چلے گئے یہ ایک آدمی کے بار بار ہجرت کی ایک ایسی داستان ہے کہ جو اپنی زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن سےایک ایسی ہجرت کررہا ہے کہ جو اس کی بچیوں کو خوف سے نجات دلادے۔
بنگلہ دیش بننے کی وجہ سے جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ لوگ تھے کہ جنہوں نے اس وقت پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا خواہ وہ بنگالی ہو یا کوئی دوسری زبان بولنے والے جوک وہاں بہاری کہلاتے تھے پاکستان کا ساتھ دینے والے آج بھی پھانسی پر لٹکائے جارہے ہیں اور کیمپوں میں زندگی گزارہے ہیں، کن حالات میں ان لوگوں نے پاکستان کا ساتھ دیا وہ موقف کبھی سامنے نہی آسکا۔ میرے خیال سے سانحہ مشرقی پاکستان کے بارے میں ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی نہ تو اس بارے میں اچھی کتابیں آسکی نہ ہی کوئی اچھی فلم یا کوئی ڈرامہ۔ جن لوگوں کا خون مشرقی پاکستان میں پاکستان کو بچانے کے لیے رزق خاک ہوا ان کے بارے میں کچھ نہی لکھا گیا۔
عظمت اشرف صاحب کی یہ کتاب ریفیوجی ان تاریخی حقائق سے بھی پردہ اٹھاتی ہے کہ محرومیاں، حکمرانہ طرز احساس اور جغرافیائی خطوں کے رسم و رواج کو نہ سمجھنا کس طرح ملک کو تقسیم کردیتا ہے۔ ابو احمد عاکف ایک ریٹائرڈ سینئر بیوروکریٹ ہیں آپ کئی کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں اس کتاب میں بھی آپ نے ترجمہ کو کس طرح حقیقت سے قریب کیا ہے وہ لائق تحسین ہے کسی بھی جگہ کسی تشنگی کا احساس نہی ہوتا، کتاب کی اشاعت بھی آپ کے ادارے دارالکشف جوکہ آپ کے والد آور ممتاز علمی و ادبی شخصیت جناب ابوالخیر کشفی صاحب کے نام پر ہے نے کی ہے، طباعت و اشاعت کا معیار اعلی ہے سرورق کتاب کے موضوع کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔
