آج کل کے ذرائع ابلاغ، فیمنزم کے زیر اثر اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ روایتی مذہبی معاشروں میں مرد گھر کے کام میں اپنا منصفانہ حصہ نہیں ڈالتے۔ فیمنسٹ ماہرین کا کہنا ہے پدرسری نظام معاشرت میں مرد، نہ صرف گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتے بلکہ اپنی شریک حیات کے کام کا ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ خواتین کا بے دردی سے استحصال کیا جاتا ہے اور انہیں بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو کام کے بدلے کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
اس پروپیگنڈے کے زیر اثر خواتین یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ وہ گھر میں زیادہ کام کرتی ہیں اور انکے خاوند اپنے حصے کا کام نہیں کرتے لیکن وہی خواتین جب اپنے خاوندوں کے ساتھ گاڑیوں اور دیگر پرتعیش چیزوں کا استعمال کرتی ہیں تو خاوند ان سے شکایت نہیں کرتے کہ وہ بھی ان اشیاء کی خریداری میں برابر کا حصہ ڈالیں یا ان کے ساتھ مل کر گاڑی صاف کریں، پنکچر لگائیں، اسکو پالش کریں، چمکائیں وغیرہ وغیرہ۔
اینگری ہیری (Angry Harry) اپنی کتاب ‘Housework’ میں لکھتی ہیں کہ ‘یہ درست بات ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد گھر کا کام کم سرانجام دیتے ہیں لیکن اسکی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ مرد گھر کے باہر کسی بھی نوعیت کا کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور انہیں کسی کام میں بھی آسانی سےمتنفر نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہلکی اور بھاری نوعیت کے ایسے بے شمار کام ہیں جنہیں خواتین کی اکثریت سرانجام نہیں دینا چاہتی یا انکے سرانجام دینے میں وہ شدید ناگواری کا اظہار کرتی ہیں’۔ اسی طرح وینڈی میک ایلروے (Wendy McElroy) اپنی کتاب ‘Mother’s work doesn’t warrant paycheck’ میں لکھتی ہیں کہ’ گھریلو خواتین اور مائیں اپنے آپ اور اپنے خاندان کو خدمات فراہم کرتی ہیں نہ کہ بازار کے گاہکوں کو۔ جس طرح آپ اپنا ناشتہ بنانے کیلئے تنخواہ کے مستحق نہیں ہوتے اسی طرح وہ مائیں بھی معاوضےکی مستحق نہیں جو اپنے بچوں کیلئے کھانا تیار کرتی ہیں’۔ [1]
کیا گھریلو کام صرف مرد وں کیلئے سرانجام دیےجاتے ہیں؟
گھر میں عورت کی طرف سے انجام دیا گیا سارا کام مرد کے فائدے کیلئے نہیں ہوتا، اس عورت اور بچوں کے فائدے کیلئے بھی ہوتا ہے لیکن فیمنزم کی طرف یہ الزام لگاتا ہے کہ صرف شوہر ہی بیویوں کے گھریلو کام کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ انہیں گھریلو نوکر یا غلام کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر فیمنزم کا لگایا گیا یہ الزام دلکش معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اس پر غور کریں تو اسکی سطحیت واضح ہوجاتی ہے۔ عورت جس باتھ روم کو صاف کرتی ہے یا جو بستر تیار کرتی ہے انہیں خاوند اور بچوں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ کہیں اکیلی رہ رہی ہوتی تو بھی اسے یہ سب کام اپنے لئے انجام دینا ہی پڑتے لیکن شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتی ہے کہ اسکے کام کے کچھ حصے سے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب اگر وہ اس کچھ حصہ کا معاوضہ لینا چاہے تو اسے اپنے کام کو خاوند کے کام کے اس حصے سے موازنہ کرنا پڑے گا جو وہ اپنی ذات کے علاوہ اس خاتون اور خاندان کے فائدے کیلئے کرتا ہے۔ مرد عورت کی نسبت باہر کے زیادہ کام کرتا ہے، گھر پر زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتا۔
مجموعی طورپر زیادہ کام کون کرتا ہے مرد یا عورت؟
وارن فیرل (Warren Farrell) اپنی کتاب ‘Does Feminism Discriminate Against Men: A Debate’ میں لکھتے ہیں کہ ” جرنل آف اکنامکس لٹریچر (Journal of Economic literature) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک عورت گھر میں مرد کی نسبت ہر ہفتے اوسطاً سترہ گھنٹے زیادہ کام کرتی ہے جبکہ ایک مرد گھرسے باہر ہفتے میں اوسطاً بیس گھنٹے عورت سے زیادہ کام کرتا ہے۔ اسکے علاوہ مرد عورت کے مقابلے میں اوسطاً دو گھنٹے زیادہ سفر کرتا ہے۔ اگر ان تمام اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو مرد عورت سے پانچ گھنٹے زیادہ کام کرتا ہے’۔
مزید یہ کہ وارن فیرل (Warren Farrell)گھر کے ارد گرد کام کی 54 اقسام کی نشاندہی کرتے ہیں جو عام طورپر بیویوں کے بجائے شوہر انجام دیتے ہیں لیکن نسائی ماہرین ‘گھر کے کام کے مطالعے’ کے دوران ان کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان میں کام کے دوران بازو، ٹانگ یا گردن کی ہڈی ٹوٹنا، کھوپڑی ٹوٹنا، دل کا دورہ پڑنا، بھاری وزن اٹھاتے ہوئے ہرنیا کا شکار ہونا وغیرہ اور اسی طرح کے دیگر کئی خطرناک کام شامل ہیں۔ [2]
حقیقت یہ ہے کہ فیمنزم عورتوں کے بلامعاوضہ لیبر کے مفروضے کے حوالے سے بالکل غلطی پر ہے۔ جب ایک گھریلو خاتون کسی امیر مرد سے شادی کرتی ہے تو یہ کام ‘بلامعاوضہ unpaid’ نہیں ہوتا بلکہ دراصل یہ ‘زائد معاوضہ overpaid’ ہوتاہے۔ گھر کاکام اور باہر کا کام محنت، ذمہ داری یا سرگرمی کے حوالے سے ایک نوعیت کے ہو سکتے ہیں لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ گھر کا کام معاوضے کا مستحق نہیں ہوتا۔ گھر کا کام اور بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال وغیرہ اگر اپنے گھر کے باہر کسی اور کے ہاں سرانجام دی جائے تو گھریلو ملازم کی حیثیت سے وہ قابل معاوضہ ہے اگر چہ اس کی تنخواہ کم ہوتی ہے اور غیر ہنر مند اور کم اہم نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔ گھر کے باہر کام کی کئی اقسام کے مقابلے میں گھریلو کام آسان، محفوظ اور اسٹریس فری ہوتی ہے لیکن اسکا معاوضہ بہرحال دیگر ہنر مند کاموں کی نسبت کم ہوتا ہے۔ اس کام کیلئے اس طرح کی جسمانی مشقت بھی نہیں کرنا پڑتی جیسے کوئلے کی کانوں یا تعمیراتی کاموں میں کرنا پڑتی ہے۔ جب کوئی خاتون گھر میں اپنی مرضی کے کام کرتی ہے تو وہ انتہائی پرسکون حالت میں ہوتی ہے اور کوئی آجر، سپروائزر یا منیجر مسلسل اسکے پیچھے نہیں پڑا ہوتا کہ اسے کیا کام کیسے اور کس حد تک سرعت کے ساتھ کرنا ہے۔ اصل بات یہ نہیں گھریلو کام کی نوعیت کیا ہوتی ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جہاں یہ انجام دیا جاتا ہے وہ کس کی جگہ ہے اور اس کام سے فائدہ کون اٹھاتا ہے۔
کیا اپنی تفریح کی غرض سے کئے گئے کام کا معاوضہ لینا جائز ہے؟
وہ لوگ جو بطور گھریلو ملازم کسی کے ہاں کام کرتے ہیں خواہ وہ کام بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق ہو یا گھر کا کوئی سا بھی کام ہو وہ معاوضے کے حقدار ہیں کیونکہ وہ انکا اپنا گھر نہیں ہوتا اور نہ ہی گھر کے مالک سے انکی کوئی رشتہ داری ہوتی ہے۔ ہر وہ سرگرمی جسے کام کہا جاتا ہے اگر وہی سرگرمی اپنی مرضی سے کسی دبائو اورفوری فائدے کے بغیر انجام دی جائے تو وہ بہت سی صورتوں میں شوق یا تفریح کہلاتی ہے۔ اپنے گارڈن میں پھول پودے اگانا، ٹریڈ مل پر دوڑیں لگانا، ایکسرسائز کرنا، سائیکل پر میلوں سفر کرنا، گھوڑے دوڑانا، پہاڑوں پر چڑھنا وغیرہ کئی ایسے کام ہیں جو شوق میں یا تفریح کی غرض سے کئے جاتے ہیں لیکن وہی کام کسی دوسرے سے کروائے جائیں تو معاوضہ اداکرنا پڑتا ہے۔
ایک گھر کا مالک یا مالکن جب اپنی مرضی سے مختلف نوعیت کے کام کرتے ہیں تو انہیں کوئی معاوضہ وصول کرنے کی امید نہیں ہوتی کیونکہ وہ انکے اپنے فائدے کے ہی کام ہوتے ہیں۔ صرف اپنے گھر میں ہی نہیں ہم اپنے جسم کو بھی صحت مند رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اسکی صفائی کرتے ہیں، نہلاتے ہیں، غیر ضروری بال اور ناخن کاٹتے ہیں، دانت صاف کرتے ہیں، بیماریوں سے بچنے کیلئے ادویات اور اسپیشل غذائیں کھاتے ہیں، اپنی تعلیم و تربیت اور سیر و تفریح پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن اسکے بدلے ہم کسی معاوضے کے متمنی نہیں ہوتے۔ اپنے ہی کام کیلئے اپنے آپ کو معاوضہ اداکرنا ایک بے تکی سی بات ہے لیکن یہی کام اگر کوئی نرس ہمارے لئے سرانجام دے تو وہ معاوضے کی حقدار ہوگی۔ [3]
ہم اگر حاجات ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے جسم کو صاف کرنے کا معاوضہ نہیں مانگتے تو جس جگہ ہم رہتے ہیں اسے صاف ستھرا کرنے کا معاوضہ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ ہم اپنے رہنے کیلئے جب عالیشان گھر بناتے ہیں تو اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہاں ہمیں آرام اور سکوں حاصل ہو۔ ہمیں اگر اس گھر کی تعمیر کے وقت کسی اور سے معاوضے کی توقع نہیں رکھتے تو اسی گھر کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے ہم معاوضے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ ہاں اگر اسی گھر سے ہماری فیملی کے علاوہ کوئی اور شخص لمبے عرصے کیلئے یا مستقل طورپر کوئی فائدہ اٹھانا چاہے تو ہم اس سے معاوضہ لینے کے حقدار ہونگے۔
قانون کے ایک پروفیسر کنگسلی برائون (Kingsley Browne) کے مطابق غیر شادی شدہ اکیلی رہنے والی خواتین کو گھر کے معاملات چلانے کیلئے اکیلے رہنے والے مردوں کی نسبت ایک تہائی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے[4]۔ اسی طرح کیتھرین حکیم (Catherine Hakim) نے کچھ دیگر مطالعات کے حوالے دئے ہیں جنکے مطابق اکیلی رہنے والی خواتین کو مردوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ اور بعض اوقات تین گنا زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں بننے، سنورنے اورتیار ہونے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل بات نہیں کہ خواتین بنیادی طورپر اپنے کام کا زیادہ حصہ اپنے ذاتی فائدے کیلئے نہ کہ شوہروں کیلئے استعمال کرتی ہیں اس لئے مردوں پرانکے استحصال کا الزام لگانا درست نہیں۔[5]
پروفیسر برائون کے اعداد و شمار کے مطابق شادی شدہ مرد اوسطاً گھر کاکام اتنا ہی کرتے ہیں جتنا وہ اکیلے ہونے کی صورت میں کرتے تھے ہاں البتہ کچھ صورتوں صرف ایک گھنٹہ کم کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔ لیکن اسکے ساتھ یہ چیز بھی مد نظر رہنی چاہیے شادی کے بعد مرد اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کے لئے باہر کے کام میں کئی گھنٹوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ مرد قانونی طورپر بھی اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کریں اور طلاق کی صورت میں بھی قانون انہیں پابند کرتا ہے کہ وہ بیوی کےنان و نفقہ کی ادائیگی کریں لیکن خواتین پر اس طرح کی کوئی قانونی پابندی نہیں۔ [6]
مرد کی کمائی پر اصل کنٹرول کس کا ہوتا ہے؟
فیمنزم کا یہ اعتراض کہ شادی کے بعد مردعورت کے کام سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں کسی طور درست نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کیلئے کام کی مختلف ترجیحات ہوتی ہیں اور مردوں کے لئے گھر کا کام اس ترجیح میں سب سے نیچے ہوتا ہے۔ ماہر معاشیات جینیفر روبیک (Jennifer Roback) تسلیم کرتی ہیں کہ ‘ اگر میں یہ چاہوں کہ میرا خاوند گھر کا نصف کام کرے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ میری خواہش ہے کہ میرا خاوند میری ترجیحات کی لسٹ میں سے ہر چیز پر آدھا وقت لگائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ اسکی کام کی ترجیحات کی اپنی لسٹ ہے اور میں اس میں سے نصف کام سرانجام نہیں دے سکتی’۔ [7]
فیمنزم کی طرف سے عام لوگوں کو برین واش کیا جاتا ہے کہ گھریلو کام، باہر کے مردانہ کاموں سے زیادہ بے لوث اور قابل قدر سرگرمی ہے لیکن حقیقت یہ ہے گھر میں ہونے والی غیر معمولی تزئین و آرائش خواتین کے ذوق کے مطابق ہوتی ہے اور اس میں مردوں کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ایسٹر ویلر (Esther Villar) کہتی ہیں کہ ‘ زیادہ تر مرد اپنے رہن سہن میں سادہ اور کام کو ترجیح دینے والے ہوتے ہیں۔ انہیں گھر میں سجاوٹ کی غرض سے رکھے گئے شو پیسز، رنگ برنگے پردوں، ربڑ کے مصنوعی پودوں، قیمتی فرنیچر، ریشم اور مخمل کے کشنز، دیواروں پر لگائے گئے شیشوں اور پھولوں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ انہیں تو باتھ روم میں شیو کرتے وقت اپنا استرا(ریزر) رکھنے کی جگہ نہیں ملتی کیونکہ ہر الماری اور شیلف خواتین کی کریموں، لوشنز، پرفیومز اور کاسمیٹکس سے اٹی پڑی ہوتی ہے’۔ [8]
مردوں کو اگر اس طرح رہنا پسند ہوتا توشادی سے پہلے تنہا رہتے ہوئے وہ اپنے کمروں کو سجاتے لیکن حقائق اسکے برعکس ہیں۔ یہ ماحول مردوں کے عمومی مزاج کے خلاف اور عورتوں کا پیدا کردہ ہے اور مرد اسے شادی کی قیمت سمجھ کر برداشت کرتے ہیں۔ مرد گھر میں کم وقت گزارتا ہے اور زیادہ وقت باہر مصروف ہوتا ہے اس لئےگھر کی آسائشوں سے خواتین ہی زیادہ مستفید ہوتی ہیں۔ موجودہ قوانین کی موجودگی میں اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ علیحدگی یا طلاق کی صورت میں مرد اپنی دن رات کی محنت سے بنائے گئے گھر میں رہنے کا حق بھی کھو دے۔ جیسا کہ ولار (Villar) اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘مرد درحقیقت ایک بے گھر مخلوق ہے، جو دفتر اور گھر کے درمیان ہر وقت مسلسل محو حرکت رہتا ہے’[9] ۔ وارن فیرل (Warren Farrell) کہتے ہیں کہ ‘عورت کے نقطہ نظر سے گھر مرد کا قلعہ ہوتا ہے لیکن مرد کے نقطہ نظر سے شادی شدہ آدمی کا گھر اسکا اپنا نہیں ہوتا بلکہ عورت کے پاس گروی ہوتا ہے’۔ [10]
بچوں کی کفالت میں اہم کردار کون ادا کرتا ہے؟
اب بات رہ جاتی ہے بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے حوالے سے کام کاج اور ذمہ داریوں کی جو عورت اور مرد کے ذاتی کام نہیں کہلا سکتے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اگر عورت زیادہ وقت دیتی ہے تو اسے معاوضہ ملنا چاہیے ورنہ یہ ناانصافی ہوگی۔ اس دلیل کے جواب میں دو اہم نکات ہیں، پہلا یہ کہ اس اعتراض سے یہ کہیں واضح نہیں ہوتا کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں بچوں کی دیکھ بھال زیادہ کرتی ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے حوالے سے خواتین اور مردوں کی ذمہ داریوں کی نوعیت مختلف ہے۔ خواتین اس عمل میں براہ راست خدمات فراہم کرتی ہیں جبکہ مرد بالواسطہ طورپر۔ مرد جو مالی معاونت فراہم کرتا ہے اسکی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ مرد اس معاشی بھاگ دوڑ میں نہ صرف گھر سے زیادہ وقت دور رہتا ہے بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ پیار محبت کا وقت گزارنے سے بھی محروم رہتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس سلسلے میں عورتوں کو انتخاب کی آزادی ہے وہ چاہیں تو بچوں کی پرورش کی ذمہ اداکریں اور نہ چاہیں تو اس سے دستبردار ہوجائیں لیکن قانونی طورپر مرد اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ وہ انکے جوان ہونے تک کفالت کرنےکا پابند ہے۔ امریکہ میں بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں میں سے اگر مرد میں طویل المدت تعلقات یا بچے پیدا کرنے کی خواہش نہ ہو تو بھی بچہ ہونے کی صورت میں وہ قانونی طورپر اٹھارہ سال کی عمر تک اسکی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
شادی شدہ یا ساتھ رہنے والی عورتیں اپنے شوہر کی تنخواہ کا ایک حصہ الگ سے وصول کرتی ہیں اسے گھر کے کسی کام کے بدلے یا ادائیگی کے طورپر تصور کیا جا سکتا ہے۔ وارن فیرل کے مطابق ایک شادی شدہ آدمی کی آمدنی اسکے اپنے لئے نہیں ہوتی وہ سب خاندان کیلئے ہوتی ہے۔ گھر کا کرایہ یا قسطیں، باغ، کاریں، ڈاکٹر، انشورنس، معالج کے بل اور دیگر اشیاء ضرورت پر خرچ عموماً اسکی آمدن سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے’۔ [11]
بچے پیدا کرنے سے لیکر اسقاط حمل تک کا اختیار عورت کے پاس ہے۔ مرد جنین کو باقی رکھنے یا گرانے کے حوالے سے پابند اور بے بس ہے۔ خواتین جب بچے پیدا کرنے کا انتخاب اپنی مرضی سے کرتی ہیں تواسکا مقصد تفریح کا حصول بھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ آجکل ایسے ہی ہے جیسے آپ پالتو جانور خریدتے ہیں یا مہنگی گاڑیوں اورپرتعیش سازوسامان میں پیسے خرچ کرتے ہیں۔ جو خواتین بچے سے لطف اندوز ہونے کا ذوق نہیں رکھتیں وہ بچے پیدا کرنے کا فیصلہ بھی نہیں کرتیں۔ مغربی معاشروں میں مانع حمل اور اسقاط حمل کے موثر طریقوں کی دستیابی یہ فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بچے پیدا کرنے کا فیصلہ روزگار کے مشابہ کم اور تفریح کے حصول کا ذریعہ زیادہ ہے اور مشغلے کیلئے معاوضہ طلب کرنا حقوق میں شمار نہیں ہوتا۔
چائلڈ کئیر کو بلامعاوضہ مزدوری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ خواتین اپنی مرضی سے اسکا انتخاب کرتے ہوئے لیبر فورس سے دستبردار ہوتی ہیں اور اپنی خوشی اور تفریح کی خاطر بچوں کی پیدائش اور پرورش کرتی ہیں۔ مغربی معاشروں میں بچے کی پیدائش کے بعد اگر خواتین کو لگے کہ یہ انکا غلط فیصلہ تھا یعنی انہوں نے جس خوشی کے حصول کا سوچا تھا وہ انہیں حاصل نہیں ہو رہی تو کئی ایسی ایجنسیاں موجود ہیں جو اس بچے کو گود لے لیتی ہیں اور پھران والدین کے حوالے کر دیتی ہیں جو بچوں کے خواہشمند ہوتے ہیں اور انکے ہاں کوئی بچہ نہیں ہوتا۔ مغرب میں خاتون پر کوئی جبر نہیں کہ وہ ضرور بچے پیدا کرے اس لئے اپنی خوشی سے پیدا کئے گئے بچے کی پرورش کے سلسلے میں کسی معاوضے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ [12]
مردوں کی جیبیں کون خالی کرتا ہے؟
مردوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی نسبت انکی زیادہ تعداد مالی طورپر بہتر یا امیر ہوتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے پروفیشن، ملازمت یا بزنس میں زیادہ وقت دیتے ہیں اور محنت کرتے ہیں لیکن انکی کمائی کا ایک بڑا حصہ انکی بیگمات خرچ کرتی ہیں۔ طلاق اور علیحدگی کی صورت میں انہیں اپنی دولت کا ایک حصہ اپنی سابقہ بیوی یا گرل فرینڈکو بھی دینا پڑتا ہے۔ مارکیٹ کے محققین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ روزمرہ اخراجات میں خواتین، مردوں پر حاوی ہیں۔ برنس کینر (Bernice Kanner) کے مطابق عصری امریکہ میں 88 فیصد شاپنگ خواتین کے ہاتھوں انجام پاتی ہے[13]۔ مارٹی بارلیٹا (Marti Barletta) کے مطابق گھریلو اخراجات کے 80 فیصد حصے کی ذمہ دار خواتین ہیں۔ [14]
امریکہ میں بیویوں، سابقہ بیویوں اور بچوں کی مائوں کو خواہ انہوں نے بچوں کے والد سے شادی نہ کی ہو دو طرح کی ادائیگیاں ہوتی ہیں ایک بچوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں اور دوسری فلاحی ادائیگی۔ کوئی مرد باپ بننے کا خواہشمند ہو یا نہ ہووہ ادائیگیوں سے انکار نہیں کر سکتا حتیٰ کہ عام ٹیکس دہندگان پر بھی یہ ذمہ داری عائد کی جاتی ہے کہ وہ تنہا مائوں اور انکی اولاد کی کفالت کے سلسلے میں ریاست کے فیصلے سے انکار نہ کریں۔ اس سارے عمل میں خواتین، مردوں کی جیبیں خالی کرنے کیلئے بچوں کو اوزار کے طورپر استعمال کرتی ہیں۔ ایسٹر ویلر (Esther Vilar) اپنی کتاب ‘The Manipulated Man’ میں لکھتی ہیں کہ خواتین کا یہ عمل بچوں کے اغواکاروں سے مشابہ ہے جو بچوں کو یرغمال بنا کر والدین کو لوٹتے ہیں۔ [15]
امریکہ میں عملی طورپر مردانگی کا اختتام بلوں کی ادائیگی اورنسوانیت کا فوائد سمیٹنے پر ہوتا ہے۔ مورخ مارٹن وان کریولڈ (Martin Van Creveld) کا کہنا ہے کہ ‘بظاہر مرد، خیراتی اداروں، این جی اوز، ویلفئر آرگنائزیشنز اور ویلفئر اسٹیٹ سے بالکل مختلف مخلوق ہیں لیکن اگر اس اصول پر غور کیا جائے جو ان سب کو چلانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے تو وہ یہ ہے کہ تمام وسائل مردوں کے ہاتھوں سے عورتوں تک کیسےمنتقل کئے جائیں’۔ [16]
حوالہ جات:
[1] McElroy, Wendy, (2006) ‘Mother’s ‘Work’ Doesn’t Warrant Paycheck’, https://www.foxnews.com/story/2006/05/09/mother-work-doesnt-warrant-paycheck/
[2] Farrell, Warren “Does Feminism Discriminate Against Men?: A Debate” https://www.amazon.com/Does-Feminism-Discriminate-Against-Men/dp/019531283X
[3] Twain, Mark (1984) “The Adventures of Tom Sawyer” https://www.gutenberg.org/files/74/74-h/74-h.htm
[4] Browne, Kingsley R. “Biology at Work: Rethinking Sexual Equality”. https://www.amazon.com/Biology-Work-Rethinking-Equality-Evolution-ebook/dp/B000SPCVQI
[5] Hakim, Catherine (2004) “Key Issues in Women’s Work”. https://books.google.co.uk/books/about/Key_Issues_in_Women_s_Work.html?id=ESNZSof2lrQC&redir_esc=y&hl=en
[6] Browne, Kingsley R. “Biology at Work: Rethinking Sexual Equality”. https://www.amazon.com/Biology-Work-Rethinking-Equality-Evolution-ebook/dp/B000SPCVQI
[7] Roback, Jennifer (1994) “Beyond Equality” https://heinonline.org/HOL/LandingPage?handle=hein.journals/glj82&div=24&id=&page=
[8] Vilar, Esther Margareta (1971) “The Manipulated Man”. https://dontmarry.files.wordpress.com/2008/08/the_manipulated_man.pdf
[9] Vilar, Esther Margareta (1971) “The Manipulated Man”. https://dontmarry.files.wordpress.com/2008/08/the_manipulated_man.pdf
[10] Farrel, Warren (2001) “The Myth of Male Power”. https://www.amazon.com/Myth-Male-Power-Warren-Farrell/dp/0425181448/ref=pd_sim_b_6
[11] Farrel, Warren (2001) “The Myth of Male Power”. https://www.amazon.com/Myth-Male-Power-Warren-Farrell/dp/0425181448/ref=pd_sim_b_6
[12] Browne, Kingsley R. (2002) “Biology at Work: Rethinking Sexual Equality” p171 https://www.amazon.com/Biology-Work-Rethinking-Equality-Evolution-ebook/dp/B000SPCVQI
[13] Kanner, Bernice (2004) “Pocketbook Power: How to Reach the Hearts and Minds of Today’s Most Coveted Consumer – Women” p 5. https://www.amazon.com/gp/product/0071418601/ref=cm_cr_asin_lnk
[14] Barletta, Marti (2007) “Marketing to Women” p 6. https://www.amazon.com/gp/product/0793159636/ref=cm_cr_asin_lnk
[15] Villar, Esther Margareta (1971) “The Manipulated Man”. https://dontmarry.files.wordpress.com/2008/08/the_manipulated_man.pdf
[16] Creveld, Martin Van (2013) “The Privileged Sex” p 137. https://www.amazon.com/Privileged-Sex-Martin-van-Creveld/dp/1484983122/ref=sr_1_1?s=books&ie=UTF8&qid=1395951866&sr=1-1&keywords=the+privileged+sex
