تازہ چائے کا ایک اشتہار انٹرنیٹ پرایک معروف لطیفہ ہے، ’بھائی ذرا ایک ’فلاں‘ دکھانا، بھائی ذرا سستے میں دکھانا ‘ اور اس مقام پر سستے میں اس چیز کی کوئی مقامی کاپی دکھا دی جاتی ہے۔ مریم نواز ہنزائی لباس پہنتی ہیں تو وہ ارطغرل غازی کی حلیمہ سلطان کی ہلکی کاپی بن جاتی ہیں، ساحر لودھی شاہ رخ خان کی اور یونہی یہ سلسلہ انٹرنیٹ ’میمز‘ کی دنیا میں چلتا رہتا ہے۔
مذاق تو خیر مذاق ہی ہے، مذاق کو سنجیدہ لے کر برا نہیں ماننا چاہئے۔ جب انٹرنیٹ پر ’میم‘ کی دنیا آباد نہیں ہوئی تھی تب بھی اس نوع کے لطیفے ٹیوی کے مزاحیہ پروگرامز کے زریعے عوام میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ مجھے بھی بچپن سے ہی مزاحیہ پروگرامز اور لطیفوں کا بڑا شوق تھا۔ میں اپنے زمانہ طالب علمی میں نقل اتارنے کی صلاحیت کیلئے مشہور تھا۔ شعبہ نفسیات میں نئے طلبہ کیلئے استقبالیہ دعوت میں میرا پیروڈی کا آئٹم رکھا گیا۔ میں نے اپنے استاد جناب حیدر رضوی صاحب (اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے) اور استانی محترمہ فرح اقبال صاحبہ کی پیروڈی پیش کی۔ تقریب کے بعد ڈاکٹر رخشندہ طلعت حسین (جن کے شوہر ٹیوی کے مشہور فنکار ہیں اور جو کہ ہماری چیئر پرسن تھیں) نے مجھے اپنے پاس بلا کر تعریف کی اور کہا کہ ”بیٹا ایک مرتبہ مجھے پھر فرح اور حیدر کی نقل کرکے دکھانا۔“ پر میری ہمت نہ پڑی اسلئے کہ مجھے اندازہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں مذاق کو بہت سنجیدہ لیا جاتا ہے۔ تفریح کو تنقید و طنز سمجھا جاتا ہے۔ خیر میرے دونوں اساتذہ نے تو مجھے بلا کر تعریف کی کیونکہ میں نے چن کر ایسوں کی ہی پیروڈی کی تھی جو کہ اس بات کا برا نہیں مانتے۔
جیو ٹیوی کے ایک معروف پروگرام ”ہم سب امید سے ہیں“ میں سوائے الطاف حسین کے سارے سیاستدانوں کی پیروڈی ہوتی تھی۔ تب ”الطاف بھائی“ پر بات کرنا شجر ممنوعہ ہوا کرتا تھا۔ سارا سماج اپنے اپنے الگ الگ رنگ و نسل کے الطاف بھائیوں کو اپنی نفسیاتی سرحدوں سے باہر کئے ہوئے تھا۔ مزاق کیا جاسکتا تھا مگر اسکی حد تھی، بات کی جاسکتی تھی مگر اسکی حد تھی۔
آج بھی یہ حد موجود ہے۔ مگر میں اس کی بات نہیں کرسکتا۔ اسلئے میں کوئی انقلابی نہیں ہوں۔ میں ایک بزدل انسان ہوں۔ میں انقلابی نہیں بن سکتا۔
مگر انقلاب و سماجی تبدیلی ”سستے میں“ نہیں ملتے۔ مزاق و لطیفے سستے میں ہوسکتے ہیں۔ الطاف بھائی کی جگہ فارق ستار کی پیروڈی ہوسکتی ہے مگر الطاف حسین کی شوگر کی دوائی فاروق ستار کو نہیں کھلائی جاسکتی۔ اس دنیا میں جس نے بھی جنگ لڑ ی اور جیتی ہے اسے فتح ”سستے میں“ نہیں ملی۔ فتح تو کیا شکست بھی”سستے میں“ نہیں ملتی۔ نپولین کو سینٹ ہیلینا کی قید مفت میں نہیں ملی تھی۔ چی گوارا کو بولیویا کا فائرنگ اسکواڈ مفت میں نہیں ملا تھا۔ عمر مختار کو پھانسی کا پھندا مفت میں نہیں ملا۔ ٹیپو سلطان اور شیر کی ایک دن کی زندگی بہت مہنگی ہوتی ہے، سستی ہوتی نہیں، ہوسکتی نہیں۔
پھر آج کے شیطان سے برائت ضروری ہوتی ہے۔ آج میں الطاف بھائی کو چوہا کہہ کر شیر نہیں بن سکتا اگر میں نے آج سے پندرہ سال قبل ایسا سوچنے کی بھی جرات نہیں کی۔ آج میں ایوب، یحییٰ، ضیاء و مشرف پر تنقید کروں جو کہ ماضی کے مزار ہیں مگر آج کے یحییٰ، آج کے ایوب، آج کے ضیاء، آج کے فرعون، آج کے راون ؔاور آج کے یزید سے برائت نہ کروں تو یہ کسی انقلابیت ہے؟ مگر ہمارے ملک کے سارے رائٹ لیفٹ کے انقلابی، سارے ’تبدیلیے‘ ’انقلابیے‘ ’اصلاحیے‘ چاہے انکا نظریہ یا عقیدہ کچھ بھی ہو اپنی اصل میں ایک مزاق سے آگے کچھ نہیں۔ بڑے بڑے دعوے اور نعرے لگانے والے جیل میں تین مہینوں میں معافی نامہ لکھ کر باہر آجاتے ہیں۔ اور پھر بھی بڑی ڈھٹائی سے سیاست کرتے رہتے ہیں۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کی طاقت والوں کو دیکھ کر گھگی بندھ جاتی ہے۔
حال ہی میں ایک واقعے نے دل کو بہت اداس کیا۔ کیسے کراچی میں نسلہ ٹاور کو گردیا گیا اور اس اقدام کے انسانی پہلو کو سراسر نظرانداز کردیا گیا۔ کیسے ریاست اپنی غلیظ طاقت سے اتنے بہت سے خاندانو ں کی جمع پونجی انکے خوابوں کو کچلتی رہی۔ کیسے یہ سماج اس ظلم کو دیکھتا رہا۔ یہ وہی ملک ہے کہ جہاں راو انوار کو گرفتار کرنے کی جرات سپریم کورٹ میں بھی نہیں ہوتی، جہاں راو انوار کو جیل بھیجنے کی ہمت کسی میں نہیں ہوتی اور اسکے گھر کو سب جیل قراردیا جاتا ہے، جہاں عزیر جان بلوچ باعزت بری ہوتا ہے مگر جہاں ہزاروں غریب بے گناہ ہوتے ہوئےدہائیاں جیل میں بیتا دیتے ہیں۔ جہاں کوئی سوال نہیں پوچھتا کہ سفورا چورنگی کے آس پاس کتنی زمینوں پر اُس لمحے بھی قبضہ جاری ہے جب نسلہ ٹاور کی عمارت گرائی جارہی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر کی ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس کو دیکھ کر پھر سے زوہیر طورو یاد آگیا۔ قارئیں کو شائد یاد نہ ہو مگر زوہیر طورو بیچارا تحریک انصاف کا کارکن تھا جو انقلاب لانے سڑک پر نکلا تھا مگر گرمی اور پولیس کے ڈنڈوں سے تنگ آکر کہتا تھا کہ جب ہماری اپنی پولیس ہمیں ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے؟ طورو تو خیر ایک نوجوان تھا اوراس نے جو کہا تھا وہ سنجیدہ لینے کی بات نہیں مگر حافظ نعیم صاحب کی بات نے بتادیا کہ پاکستان میں کوئی حقیقی انقلاب کبھی بھی کیوں نہیں آیا اور کیوں کبھی آبھی نہیں سکتا۔ اس ویڈیو میں حافظ صاحب نسلہ ٹاور کے ایک رہائشی سے کہتے ہیں کہ ”دیکھیں ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں، اب ہم اسٹیٹ کی طاقت سے تو نہیں ٹکرا سکتے؟“
سلام ہے آپکی عظمت کو حافظ صاحب! ریچل ؔ کوری نامی امریکی لڑکی تو صرف تئیس سال کی تھی جب وہ ایک اسرائیلی بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہوگئی کہ فلسطینی کا گھر نہیں توڑنے دے گی۔ وہ بلڈوزر سے کچل کر ماردی گئی۔ اسنے حق کیلئے جان دے دی۔ وہ نہ تو مسلمان تھی نہ فلسطینی۔ وہ صرف یہ جانتی تھی کہ اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے اور یہ ظلم وہ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اُسکے پاس کوئی فوج نہیں تھی، کوئی بندوق نہیں تھی کوئی جماعت نہیں تھی، صرف اپنا وجود تھا۔ اُس نے اپنا وجود اُس بات کیلئے قربان کردیا جس کو وہ سچ سمجھتی تھی۔ وہ اسرائیل کی بلڈوزور جیسی ریاست سے ٹکراگئی۔ حافظ صاحب آپ ریچلؔ کوری نہیں بن سکے۔
اِس ملک میں کوئی انقلاب اسلئے نہیں آتا کہ یہاں سب کو سستا انقلاب چاہئے۔ یہاں سب تاریخ کی کتاب سے کہتے ہیں ’بھائی ایک انقلاب دینا‘ مگر جب تاریخ انقلابات کی تصویر دکھاتی ہے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ پھر سستے انقلاب کی طلب ہوتی ہے۔ ظاہر ہے قربانی کون دے جب بڑے بڑے انقلابی پھنے خانوں کو ٹھنڈا پانی پینے اور سرکاری نوکری کرنے کی عادت ہے۔ اپنے بستر کو چھوڑ کر جیل کی سخت زمین کیسے برداشت کی جائے؟ فیس بک پر اسٹیٹس لگانا، ٹوئیٹ کرنا اور بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے، سڑک پر کھڑا ہونا مشکل اور بلڈوزر کے سامنے کھڑا ہونا اُس سے زیادہ مشکل۔ ہمارے انقلابی، نیلسن مینڈیلا کیا بنیں گے وہ تو ریچلؔ کوری بھی نہیں بن سکتے۔ ریچل کوری کا یقین اسرائیل کی ریاست سے زیادہ مظبوط تھا۔ ہمارے انقلابیوں کو اپنی نوکریوں، گاڑی، گھر اور بچوں کی فیس پر اتنا ہی یقین ہے۔ اب نوکری چھوڑ کر پینشن کون گنوائے گا؟ اسلئے اسٹیٹ سے ٹکرائے بغیر ہی انقلاب آئے گا۔
”ہماری اپنی پولیس ہمیں ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے۔ ۔ ۔ ؟“
