فنون کی مختلف اشکال ہر سوسائٹی میں مقبول ہیں لیکن ان کی صورت گری وہ اپنے ڈھنگ سے کرتی ہے۔ برہمن مجلسی, فلمی یا معروف معنوں میں غیر مذہبی موسیقی کو لائقِ اعتناء نہ بھی سمجھے، وہ مندر میں بھجن کو اصول قاعدے سے گانے کو درست سمجھتا ہے۔ مندر، کلیسا اور گردوارے میں خوش الحانی اور ساز چھیڑنے کا عمل اگر مقدس ہے تو مخصوص معیار کا آئینہ دار بھی رہا ہے۔ یہی صورت دیگر مذہبی متون کی قراءت میں ترنم اور کہیں ساز کی آمیزش کے ساتھ خوش الحانی کی ہے۔ جدید فنون کی بڑی اور معتبر صورتیں عبادت گاہوں میں پروان چڑھی ہیں۔ انسان جب کوئی مہارت حاصل کرتا ہے تو اسے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے عام نہج سے ہٹ کر بھی استعمال کرتا ہے۔ یوں یہ فنون اپنی پرورش کے زمانوں میں بھی دیگر انسانی جذبات کا جزوی اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ممکن نہیں ہوتا کہ مخصوص کیمسٹری رکھنے والا معاشرہ کسی دوسرے معاشرے میں مقبول صورتوں کو من و عن قبول کر لے۔ میں رقص کو طبعاً پسند نہیں کرتا کہ اس فن کو اختیار کرنے کی خواہش مجھ میں نہیں لیکن دل کو چھونے والی آواز اور بات پر جسم جھوم جاتا ہے۔ مجھے اچھا خط اور تصویر کشی روح کی گہرائی تک متاثر کرتے ہیں۔ میرے ہی معاشرے میں رقص کی علاقائی صورتیں قبل از تاریخ سے رائج ہیں اور ان میں معمولی تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر میں بھی لطف اندوز ہوتا ہوں۔ گویا ایک فرد اپنے مزاج کی رعایت سے ایک فن کی جانب سیکھنے کے لیے بڑھتا ہے اور باقی فنون سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
برصغیر کی موسیقی میں مسلمانوں کا کنٹری بیوشن اور چشتی سلاسل میں سماع کی روایت وہ صورتیں ہیں جنہیں سوسائٹی نے اپنے مزاج سے ہم آہنگ کر کے قبول کر لیا ہے۔ قوالی، نعت اور غزل کی اصناف نے جو رنگ جمایا ہے، وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ لوک گیتوں کی روایت انتہائی مضبوط ہے جس سے دھنیں مستعار لے کر کتنے لوگ بڑے موسیقار کہلائے۔ یہ بات اگر اعتراف کے ساتھ ہو تو بہتر ہے ورنہ اپنی تہذیبی طرز سے متاثر ہونا بجائے خود مستحسن عمل ہے۔ علاقائی صوفیوں نے سندھ, کشمیر، بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپنے الگ رنگ بنائے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ہم آرٹ کو آرٹ گیلری کی دیوار سے لگے فریم میں دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، موسیقی کو اوپرا ہال یا سٹیڈیم میں آدھی رات کے وقت منعقد ہونے والے کونسرٹ میں ناچنے والے بندر کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور مغرب کی طرز پر مجسمے کو ہر بڑے چوراہے پر لینڈ مارک بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں بندر کا لفظ تحقیر کے لیے نہیں بلکہ احساس کی سطح پر ابھرنے والی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔
سو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذہبی انسان نے بالعموم اور مسلم سماج نے بالخصوص ساز یا بغیر ساز غنائیت کو علی الاطلاق غلط سمجھا ہے۔ چند لوگوں کی انتہاء پسندانہ رائے معاشرے کی نمائندہ نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک یہ بھی انتہاء پسندی ہے کہ فنون کی جن صورتوں سے کوئی معاشرہ طبعی ہم آہنگی نہ رکھتا ہو، ان کو اختیار نہ کرنے والوں کو غیر مہذب سمجھا جائے۔ جیسا کہ ہمارے لبرل دوست چاہتے ہیں کہ مغربی موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور رقص کو قبولیت کے تدریجی عمل سے گزرے بغیر اختیار کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک فن کی مقامی صورتیں معتبر نہیں۔ میرے نزدیک ہر انتہاء پسندی بذاتِ خود غیر مہذب شخص یا گروہ سے ظہور پاتی ہے۔
مسلمانوں نے مصوری اور تحریر کے امتزاج سے خطاطی کے فن میں وہ ادا پیدا کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ خطاطی ہر مذہب اور معاشرے میں رہی ہے لیکن اس درجے تک نہیں پہنچی۔ اسی طرح مصوری نے ہمارے ہاں ابتداء میں نقاشی اور بعد ازاں منی ایچر کی شکل اختیار کی ہے۔ ہم نے فنِ مجسمہ سازی کو ابھری ہوئی سنگی خطاطی اور لکڑی کی منبت کاری کی صورت دیکھا ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ہمارے لیے مجسمہ سازی کی اصطلاح اس قدر معتبر نہیں جتنی منبت کاری اور عمارتی نقاشی کی ہے۔ صوفیوں کی دھمال، ترکوں کے رقصِ درویش اور ہمارا علاقائی رقص یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمیں کوئی اپنی مرضی سے نہیں نچا سکتا۔ ہماری خاک میں جو دھنیں اور ہمارے خمیر میں جو ادائیں گھلی ہوئی ہیں، وہی ہمارے اظہاریوں کی جان ہیں اور ہم ان کے بغیر کبھی خوش اور مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہم ہنس ہیں تو کوّوں کی چال کیوں چلیں۔
جب تک مقامی موسم، حقیقی تمدنی ضرورتوں، روایتی فنونِ لطیفہ، تہذیب سے جڑے ادب اور مذہب کے تعامل سے ہمارا آرٹ، آرکی ٹیکچر، گرافک ڈیزائن، لباس، فلم اور ڈرامہ تشکیل نہیں پاتے اس وقت تک ہمیں احساسِ کمتری کی نفسیات گھیرے رکھے گی۔ مقتدر تہذیب اپنی زبان، جمالیات، اصطلاحات اور ظاہری صورت کو اگر ہر جگہ دیکھنا چاہتی ہے تو یہ بھی بالغ نظری نہیں کہ یوں دنیا جس تنوع کے بل پر خوبصورت ہے، وہ مر جائے گا۔ دوسری جانب معاشی اور سیاسی غلامی کا شکار قوموں کے تخلیقی اذہان بغیر دردِ دل کے اس چیلنج سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔
ہم شناخت کے جس بحران کا شکار ہیں، اس میں اب ہمارے پاس ایک ہی علامت بچی ہے جس کے تحفظ کے لیے ہم آخری درجے کی درندگی کو بھی مقدس سمجھنے لگے ہیں۔ یہ نوبت اس وقت آتی ہے جب باقی تہذیبی علامتیں بے رنگ اور نا معتبر ہو جاتی ہیں۔
ہماری پاس گنگنانے کو اپنا کلام, گانے کے لیے اپنی دھن، بجانے کے لیے اپنے ساز، لکھنے کی لیے اپنے خط، کلک و روشنائی، اور مصور کرنے کو اپنے انداز ہیں۔ ہم اپنے گھر، عبادت گاہ اور ایوان اپنی ادا سے بنا سکتے ہیں۔ ہم شعور کی وسعت کے لیے زندگی کے تنوع پر نظر اور ہر روایت سے مستفید ہونے کا جوہر اپنے اندر رکھتے ہیں۔
کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جو عام تھے، مجھے کھا گئے
(خورشید رضوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری بات
یہ تحریر فنون کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ علم، تحقیق اور ایجاد کے بہت سے پہلو مذکور نہیں۔ ان میدانوں کے دوست اپنے اپنے پس منظر میں جب اس دردِ دل کے ساتھ لکھنے لگیں گے تو بات مکمل ہوتی جائے گی
یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو سوسائٹی کے قلب میں کبھی اترے ہی نہیں۔ ان کی کم نصیبی نے انہیں اپنی مٹی کی مہک اور اپنے منظر کی دلربائی سے دور رکھا ہے۔ یہ سوال طنز نہیں دل گرفتگی کے ساتھ ہونا چاہے کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہؤا؟
