مانسہرہ شہر کے بیچوں بیچ ایک بازار میں سکھوں کا پرانا گردوارہ ہے جو اب لائبریری بن چکا ہے میں اس کتاب خانے کے سامنے مانسہرہ والوں سے ان کی رائے لے رہا تھا کہ وہ کونسی جماعت یا امیدوار کو اپنے ووٹ کا حق دار سمجھتے ہیں۔ بازار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز لگے تھے۔ لوگوں کی اکثریت تو تحریک انصاف کو ووٹ دینے پر مائل دکھائی دے رہی تھی مگر تحریک انصاف کی کوئی نشانی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ آج کل تحریک انصاف کا جھنڈا لگانا خوامخواہ مصیبت کو دعوت دینا ہے اس لیے لوگ جھنڈے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے۔ مانسہرہ والوں سے بات کرتے کرتے میری نظر اچانک ایک دکان پر پڑی جس کے باہر تحریک انصاف کا بڑا سا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ میں نے کام روکا اور اس دکان کی طرف چل پڑا۔ دکان پر کتابیں اور لکھائی پڑھائی کا سامان بک رہا تھا۔ میں نے دکاندار سے پوچھا کہ بھائی تحریک انصاف کا جھنڈا لگاتے ہو تم پر اب تک کوئی مصیبت نہیں آئی؟ اس نے خوش دلی سے جواب دیا مصیبت تو نہیں آئی، ایک دن پولس آئی تھی۔ پولس والے کہنے لگے یہ جھنڈا کیوں لگایا ہے؟ میں نے کہا بھائی جھنڈے بھی بیچتا ہوں۔ اس کے ساتھ دیکھو سبھی جماعتوں کے جھنڈے لگے ہیں. اس کی بات سن کر میں نے بھی ذرا غور سے دیکھا تو واقعی دوسری جماعتوں کے جھنڈے بھی لگے تھے۔ جھنڈوں کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ اگر آپ اس بازار میں شمال کی طرف سے داخل ہوئے ہیں تو تحریک انصاف کا جھنڈا دکھائی دے گا باقی چھپ جائیں گے۔ اگر جنوبی سمت سے آئے ہیں تو بھی تحریک انصاف کا جھنڈا دکھائی دے گا باقی دکھائی نہیں دیں گے۔ ان دو جھنڈوں کے درمیان دیگر جماعتوں کے جھنڈے لگے ہیں جو صرف اسی صورت میں نظر آئیں گے جب آپ عین دکان کے سامنے پہنچائیں۔ میں نے اسے اس کاریگری کی داد دی اور پوچھا کہ پولس نے تحریک انصاف کا جھنڈا اتروایا نہیں؟ اس نے کہا پولس نے کہا تھا مگر میں نے کہا پی ٹی آئی کے جھنڈے زیادہ بکتے ہیں تو بتاؤ میں کیوں نہ لگاؤں؟ میری بات سن کر پولس والے چلے گئے۔ میں نے کہا تم استادی کر رہے ہو، تحریک انصاف کی مہم چلا رہے ہو اور کہتے ہو میرا تو کاروبار ہے۔ اس پر وہ کچھ اداس ہو کر بولا “میں تو بس اتنا ہی کر سکتا ہوں”۔
خانیوال میں مجھے ایک نوجوان دکھائی دیا جو موٹرسائیکل پر سوار تھا۔ اس کی موٹرسائیکل لمبائی کے رخ دو رنگوں کی تھی۔ یعنی ایک طرف سے دیکھو تو مکمل سبز اور دوسری طرف سے مکمل سرخ، پیٹرول والی ٹینکی کو دیکھیں تو پتہ چلتا تھا کہ یہ تحریک انصاف کا جھنڈا ہے۔ ٹینکی کے دونوں طرف جہاں موٹرسائیکل بنانے والوں کا معرکہ ہوتا ہے، انگریزی میں پی ٹی آئی لکھ رکھا تھا۔ اس نوجوان کو میں نے بازار میں ہی روک لیا، پوچھا کہ تمہیں پولیس والوں نے نہیں روکا؟ بولا ایک دن روکا تھا اور کہا یہ پی ٹی آئی کے لفظ مٹا دو! میں نے کہا میں نے اپنے پیسے جمع کر کے موٹر سائیکل پر یہ رنگ کرایا ہے۔ تم پیسے دو تو دوسرا رنگ کرا لوں گا پھر پولیس والوں نے ہنس کر جانے دیا۔ میں نے مزید کچھ پوچھنا ہی تھا کہ بڑے فخر سے بولا میرا شناختی کارڈ بھی بن گیا اور ووٹ بھی۔ اب میں نے سارے گھروالوں کے ووٹ عمران خان کو ڈلوانے ہیں۔
مظفرگڑھ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے میں ایک جگہ ہے “چوک قریشی”۔ یہ چوک ارد گرد کے دیہات کے لیے بنیادی ضروریات کی منڈی بھی ہے۔ اردگرد کے لوگوں کی قوت خرید کی کمی کا ثبوت چوک قریشی کی دکانیں بھی ہیں۔ جن میں آٹا دال چاول کے علاوہ سامان بس مناسب سا ہے۔ اصولی طور پر اس جگہ کو چوک نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہاں چوتھا راستہ ہے ہی نہیں۔ اصل میں تین راستے ہیں گویا تراہہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ تین راستے جہاں ملتے ہیں وہاں ایک ہی جھنڈا لہرا رہا تھا اور وہ تحریک انصاف کا تھا۔ ہم نے دور سے یہ دیکھا اور جو لوگ گاڑی میں بیٹھے تھے۔ سب کے لیے حیرت کا مقام تھا۔ کہ تحریک انصاف کا جھنڈا پنجاب میں اتنی دیدہ دہلیری سے لہرائے جا رہا ہے۔ یہ تو ہمارے وہم و گمان سے باہر کی بات تھی۔ قریب پہنچے تو نظارہ زیادہ سنگین تھا۔ جھنڈا لہرانے والے نے نہ صرف تحریک انصاف کی مخصوص ٹوپی پہن رکھی تھی بلکہ گلے میں بھی مفلر کے انداز میں ایک جھنڈا ہی تھا۔ میں تو یہ منظر دیکھ کر کچھ سہم گیا تھا۔ اس لیے فاصلے پر ہی اس خوف سے کھڑا رہا کہ نہ جانے اس شخص کا اب کیا حشر ہونے والا ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے دو تین لوگ آئے اس شخص کے ہاتھ سے جھنڈا لیا، باری باری اسے لہرایا اور چلے گئے۔ ان لوگوں کو دیکھ کر میری ہمت بڑھی اور میں اس شخص کے قریب چلا گیا جو جھنڈا لہرا رہا تھا۔ جب اس نے بات کرنے کے لیے میری طرف رخ کیا تو میں گھبرا ہی گیا کیونکہ اس نے سینے پر عمران خان کی تصویر دو بکسوؤں کے ساتھ ٹانک رکھی تھی۔ میں نے پوچھا تمہیں اب تک کسی نے روکا نہیں؟ کہنے لگا پولس والے لے گئے تھے۔ میں نے کہا اگر مارو گے تو بے جرم مارو گے، اگر گرفتار کرو گے تو بے قصور کرو گے، تم میرے بچوں جیسے ہو تمہیں شرم نہیں آئے گی کہ سفید داڑھی والے سے زیادتی کرتے ہو؟ اس کی گفتگو کا انداز ایسا تھا جیسے ذہنی طور پر کھسکے ہوئے لوگوں کا ہوتا ہے۔ وہ بات یوں کر رہا تھا جیسے کوئی خود کلامی کرتا ہے۔ وہاں موجود دوسرے شخص نے مجھے کان میں کہا یہ بابا پاگل ہے۔ میں خاموش رہا مگر وہ بولتا رہا اور اپنے پاگل پن کا اظہار کرتا رہا۔ مثلا پاکستان میں بولنے پر پابندی نہیں لگا جا سکتی، میں جسے چاہوں ووٹ دوں، مجھے کوئی تب ہی پکڑے جب میں غیر قانونی کام کروں، وہ پاگل بولتا رہا۔ کچھ مقامی عقل مند اس کے گرد کھڑے سر ہلاتے رہے۔ میں بھی ان کے ساتھ سر ہلانے لگا۔ شاید آج کل عقل مند کے لیے یہ ضروری بھی ہے کہ وہ صرف سر ہلاتا رہے۔
بس ایک خیال پھیل گیا ہے کہ ملک تو آرام سے ہی ٹھیک ہوگا لیکن اس کی ابتدا عمران خان ہی کریں گے۔
مانسہرہ سے لیکر مظفرگرد تک تحریک انصاف کی الیکشن مہم کے یہ کل تین مناظر ہیں جو میں نے دیکھے ہیں۔ چوتھی ایک جھلک ہے جو سوات میں خوازخیلہ کی ایک سڑک پر دکھی۔ یہ ایک رکشا تھا جو مکمل طور پر تحریک انصاف کے جھنڈوں سے سجا تھا۔ یہ تیزی سے ایک موڑ مڑ گیا اور ڈرائیور سے بات نہیں ہو سکی اور جھلک منظر میں نہ بدل پائی البتہ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام درجنوں آزاد امیدواروں کے ہزاروں اشتہار اس سفر میں لہراتے لٹکتے اور دیواروں سے چپکے دیکھے۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک جماعت جس کا جھنڈا سوائے پاگلوں کے کوئی لہرانا سکے۔ اس کے نام پر کوئی کھڑا ہو تو گرفتارِ بلا ہو جائے۔ بہاولپور کے فرید گیٹ کے سامنے دیوار پر اس کے لیے گالی لکھ دی گئی ہو پھر بھی اس کی حمایت گلی کوچے میں کیوں موجود ہے؟ اس سوال کا جواب لوگوں کی زبان پر کم دل میں زیادہ ہے۔ بات جب دل میں ہو تو پھر ظاہری اسباب کے معنی بدل جاتے ہیں۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحریک انصاف کا امیدوار کون ہے؟ اس کا نشان کیا ہے؟ اس کا ماضی کیا تھا؟ مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سبھی سوال کہیں پیچھے رہ گئے۔ عمران خان کیا تھے کیا نہیں؟ اب یہ بھی کوئی نہیں سوچ رہا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ لوگ انہیں نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ بس ایک خیال پھیل گیا ہے کہ ملک تو آرام سے ہی ٹھیک ہوگا لیکن اس کی ابتدا عمران خان ہی کریں گے۔
دوسری بات یہ کہ عمران خان نے قید میں رہ کر پاکستان کے لیے جو کچھ کر دیا ہے اس کا کم سے کم صلہ ووٹ ہے۔ یہ خیال اب کسی تصویر کا محتاج ہے نہ جلسے جلوس کا۔ یہ کہیں تو آندھی کے دوش پر پہنچائے اور کہیں باد صبا کے ہلکورے سے۔ سینہ بہ سینہ بات چل رہی ہے اور چلتی جا رہی ہے۔
مانسہرہ کے کتاب فروش کی محبانہ عیاری اس کے دل سے نکلی تو خانیوال میں پی ٹی آئی کے رنگوں سے مزین موٹرسائیکل پر بیٹھے نوجوان کا جذبہ بن گئی۔ یہاں سے چلی اور مظفرگڑ چوک قریشی میں کھڑے شخص کو پاگل کر گئی۔ عمران خان کی الیکشن مہم اسی طرح چل رہی ہے۔
