تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمعلم و ادبنایاب کتب

مابعد تصور – رچرڈ کئیرنی —- ترجمہ: ناصرفاروق

چوتھا باب: جدید بیانیے

by دانش ڈیسک 22/01/2024
written by دانش ڈیسک 22/01/2024
302

جدید بیانیے

ماورائی تصور

’’تصورآدم کے خواب کی طرح ہے، کہ جب وہ جاگا اُس نے اسے سچ پایا۔‘‘ (جان کیٹس)

جو بات ’’تصور‘‘ پرجدید فلسفوں کوکئی پیشروؤں سے ممیز کرتی ہے وہ آدمی کی خلاقیت کا اثبات ہے۔ یہاں تصورنقل در نقل کے چکر سے نکل کر’تخلیقی عمل‘ بن جاتا ہے۔ اسے اب یہاں بلواسطہ ذریعہ نہیں سمجھا جارہا۔ دور جدید میں ’’تصور‘‘سچ کا براہ راست ذریعہ بن جاتا ہے۔ اب تصور انسانی ذرائع سے اپنی دنیا خود خلق کرنے کا اہل باور کیا جارہا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو خود سے ماورا کسی قوت کو جواب دہ نہیں۔ استعارہ میں سمجھا جائے تو اب تصور کوئی ’آئینہ‘ نہیں جوحقیقت منعکس کررہا ہو بلکہ یہ اب ایک ’چراغ‘ ہے جواپنی روشنی خود پھیلا رہا ہے اور اشیا کی حقیقت سامنے لارہا ہے۔ تصورکے بدلتے کردار تاریخ کے اس مرحلے پرمعنی کی نوعیت بھی بدل دیتے ہیں، معنی اب ترجیحی طورپر کوئی ماورائی مِلکیت نہیں بلکہ انسانی ذہن کی ماورائی تخلیق ہے۔ جدید فلسفہ کہتا ہے ’’تصور‘‘ آدمی کے اندرآسمانی ’شرارہ‘ ہے۔ یہ نظریہ نشاۃ ثانیہ کی انسان پرستی کے کلچر میں پہلے ہی نمایاں ہوچکا تھا۔ وجودیاتی الٰہیات کے سچ پر بشریات کا سچ مقدم ہوچکا تھا۔

اٹھارہویں صدی کے آخر سے انیس ویں صدی کے وسط تک، امانویل کانٹ اور جرمن مثالیت پسندوں کے وقتوں میں ’’تخلیقی تصور‘‘ مغربی فکرکا مرکزی دھارا بن چکا تھا۔ کانٹ، فٹشے، اور شیلنگ نے ’’تصور‘‘ کو طویل فلسفیانہ قید سے نجات دلائی۔ انہوں نے ’’تصور‘‘ کو نظریاتی قوت مہیا کی کہ جس نے اسے ’’وجودیت‘‘ اور ’’رومانوی‘ تحریکوں میں غیر متنازع بالادستی عطا کی۔ پہلی کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ ’’تصور‘‘ کسی بخشی ہوئی حقیقت کی نقل درنقل کا چکرنہیں رہا تھا، بلکہ آدمی کے شعورکی تخلیق خالص بن چکا تھا۔ اور یہ کہ تصویرکوئی حافظہ میں محفوظ جامد شے نہیں رہی تھی، بلکہ متحرک تخلیقی عمل بن چکی تھی۔ جدید فلسفیوں نے تصور کو آدمی کی ایسی صلاحیت قراردیا جواصل ’قدر‘ اور’سچ‘ کی دنیا خلق کرسکتی تھی۔ اب آدمی ’’وجود‘‘ پر اختیارکا اعلان کرسکتا تھا۔ مطلب یہ کہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے اب آرتھوڈکس ذرائع کی ضرورت باقی نہ رہی تھی۔ ’تصور‘ اب خود اپنا ضامن بن چکا تھا، یعنی ’’تصور‘‘ کا بلا واسطہ تخلیقی عمل وجود میں آچکا تھا۔

 کوپرنیکن انقلاب

دور جدید میں ’’تصور‘‘ کی مؤثرتعریف نو امانویل کانٹ نے کی۔ کتاب تنقید عقل محض Critique of Pure Reason کی پہلی اشاعت میں کانٹ نے معاصرین میں یہ چونکا دینے والا اعلان کیا کہ ’تصور‘ آدمی کے شعور میں موجود نامعلوم جڑوں سے پھوٹنے والا دوشاخہ ہے: ادراک اورحس۔ اس غیر معمولی دعوے نے روایتی نظریہ علم کا سلسلہ الٹے قدموں پھیر دیا۔ یہ کلاسیکی اور ازمنہ وسطٰی کی روایت سے کھلا اختلاف تھا، کانٹ نے ’’تصور‘‘ کو حس اور فہم کے درمیان فقط ایک ’’ذریعہ‘‘ کی حیثیت سے نجات دلائی۔ اعلان کیا کہ ’’تصور یا تخیل‘‘ علم کی لازمی پیشگی شرط ہے۔ کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانا جاسکتا کہ جب تک اُسے پہلے خیال کی تجزیاتی قوت سے تشکیل نہ دے دیا جائے۔

’’تصور‘‘ کی اس حیثیت میں بحالی نے جرمن مثالیت پسندی پرخصوصی اور یورپی رومانوی تحریک پرعمومی طورپراثرات مرتب کیے۔ کانٹ اپنی اس اہم دریافت کے انقلابی امکانات سے بے خبر نہ تھا۔ وہ آگاہ تھا کہ ’’تصور‘‘ کی روایت سے آزادی کا مطلب مابعدالطبیعات کی روایتی عمارت کے انہدام سے کم نہ ہوگا، اوریہ معقولیت پسندی فلسفیانہ روایت کی مستقل بنیاد بن جائے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کانٹ اپنے ہی دلائل سے اس قدرمحتاط ہوا کہ کتاب کی دوسری اشاعت میں یہ معاملہ مزید تفصیل سے زیربحث لایا، اور ابتدائی دعووں کے ممکنہ خدشات کسی حد تک زائل کرنے کی کوشش کی۔ مگر اُس کی یہ کوشش مغربی فکر سے ’’تخلیقی تصور‘‘ کی محوری اہمیت کم نہ کرسکی۔ کانٹ کے بعد، مغربی فکر کی تاریخ میں تصورکی مرکزی حیثیت علم، جمالیات، اوروجود کے جدید نظریات میں برقرار رہی۔

’’تصور‘‘ کی معین حیثیت کا ازسرنو جائزہ کانٹ کے فلسفہ ’’وجود‘‘ سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ روایتی اور کلاسیکی فکرمیں ’’وجود‘‘ آدمی کے کل علم کا ذریعہ تھا۔ حقیقت کا علم دراصل ’’وجود‘‘ کی مناسب پیشکش کے مترادف تھا۔ اسے ایک عام دانش سمجھ لیا گیا تھا کہ آدمی کا فہم خارجی اور تجریدی حقیقت سے بلواسطہ طورپر ہم آہنگ ہے۔

’’وجود‘‘ کائنات کا مرکزتھا اور انسانی ذہن ایک سیارے کی مانند اس کا طواف کرتا تھا۔ کانٹ نے یہ تصور الٹ دیا۔ اُس نے فلسفہ میں کوپرنیکن انقلاب برپا کردیا، انسانی ذہن کو کائنات کا مرکز قرار دے دیا۔ ’’وجود‘‘ اب معنی کے ’ماورائی اصل‘ کے طورپرنہیں دیکھا جارہا تھا، بلکہ یہ اب ایک انسانی موضوعیت یا زیادہ وضاحت سے کہا جائے توانسانی تصور کی تخلیق قرار دیا جارہا تھا۔ کانٹ نے کہا ’’وجود اصل کی خبردینے والا نہیں۔۔۔ بلکہ صرف شے کی جگہ متعین کرنے والا ہے‘‘۔ اس کوپرنیکن انقلاب سے مغربی فکر میں فیصلہ کن موڑ آیا اورقدیم وجودیاتی الٰہیاتی تعریفیں بدل کررہ گئیں، کہ جن میں ’’وجود‘‘ ’وسیلہ خدا‘ یا ’اصول اول‘ کے طورپر پیش کیا گیا تھا۔ مختصرا یہ کہ کانٹین انقلاب نے اس جدید خیال کی آبیاری کی کہ ’’وجود‘‘ اول اور آسمانی ماورائیت نہیں کہ جوآدمی کومعنی فراہم کرتی ہو بلکہ یہ آدمی کی اپنی تخلیق ہے، جو’ماورائی قوت تصور‘ کا نتیجہ ہے۔ یوں تصوراب نقل یا، نقل در نقل کا نہ ختم ہونے والا چکرنہیں رہا تھا۔ جیسا کہ شاعر ییٹس Oxford book of modern verse آکسفورڈ بک آف ماڈرن ورس کے تعارف میں کہتا ہے کہ، آدمی کی قوت ’تصور‘ قدیم تاریخ کی زنجیریں توڑدیتی ہے اور جدید جمالیات کا رستہ کھولتی ہے، یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب ’روح خود سے بغاوت کردیتی ہے، خود اپنی ہی نجات دہندہ بن جاتی ہے، ایک ایسی سرگرمی کہ آئینہ چراغ میں ڈھل جاتا ہے‘۔

عبوری تحریکیں

 کانٹ کی انقلابی دریافت کے گہرے اثرات بعد میں آنے والوں پرپڑے۔ مغربی فکر کی کئی لہریں اٹھیں، تیرہویں اور چودہویں صدی میں مکتبہ متکلمین کے اسلوب تحقیق اورکانٹین طریقہ تحقیق کہ جواٹھارھویں صدی کے اواخرمیں ابھرا۔ اس سے قبل کہ ہم ’تنقید عقل محض‘ کی دونوں اشاعتوں میں کانٹ کی ’’تصور‘‘ پر رائے کا تجزیہ کریں، ہم ایک سرسری نظرچند اہم ترین نظریات پر ڈالیں گے۔ یہ وہ نظریات ہیں جنہوں نے کانٹین فلسفہ کی کسی نہ کسی صورت پیش بینی کی۔

 نشاۃ ثانیہ کی تحریک تصوف

 نشاۃ ثانیہ Renaissance میں کئی صوفیانہ اورساحرانہ تحریکیں چلیں کہ جنہیں ’تخلیقی تصور‘ کی جرمن مثالیت پسندی سمجھنے کے لیے مثالوں کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحریکیں زیادہ ترچھوٹے طبقات تک محدود رہیں، کم از کم اُس وقت تک کہ جب شیلنگ اوررومانیت پسندوں نے انہیں وسیع دائرے تک نہ پھیلا دیا، تخیل کی منقلب کردینے والی قوت سے تحریرکا اہم حصہ تیارنہ کردیا۔ نشاۃ ثانیہ میں پیرا سیلسس اور برونو Paracelsus and Bruno ان صوفیانہ رجحانات کے انتہائی دلچسپ وکیل تھے۔ پیراسیلسس نے ’’تصور‘‘ کی کیمیاوی تھیوریزپیش کیں، وہ بیان کرتا ہے کہ ’سورج کی کرن محسوس نہیں کی جاسکتی مگر پورا مکان جلا کر راکھ کرسکتی ہے‘۔ اور وہ اس استعارہ کی پیروی میں، کہ جو کوپر نیکن انقلاب میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے، پیرا سیلسس یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’تصور‘‘ آدمی کا وہ اظہار ہے کہ جسے سورج کی مانند ہرشے تک رسائی کی خواہش کا حق حاصل ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ ’’تصور‘‘ آدمی کے اندرگردش میں رہنے والے سورج کے سوا کیا ہے! جب پیراسیلسس اور اُس کے شاگرد ’’تصور‘‘ کی ساحرانہ قوتوں سے کام لیتے ہیں، وہ آدمی کی تخلیقی فطرت کے جدید رجحان کی پیش بینی کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے کوپرنیکس بطلیموسی نظریہ کائنات کو الٹ کررکھ دیتا ہے، ساحرروایتی نظام علمیات کو پلٹا دیتے ہیں، کہ جس نے ’حقیقت‘ کوآدمی کی پہنچ سے باہر ماروائی سورج پر معین کر دیا تھا۔ اب ’’تصور‘‘ آدمی کے اندر بھڑکتا آسمانی شعلہ بن چکا تھا۔ اب پرومیتھئین کی چوری کا داغ مٹ چکا تھا، اورآدمی میں قوت تخیل کی دریافت کائناتی روشنی اور قوت کا ذریعہ بن چکی تھی، یہ موضوعیت کی بالادستی کی توثیق کرنے والی ابتدائی کوششیں تھیں۔ یہ ماوراالطبیعات سے آدمی کی خلاقیت کی جانب بڑھتا رجحان تھا۔ پیرا سیلسس اور اُس کے کیمیاوی شاگردوں کے لیے ’’تصور‘‘ ایک ایسا دیوتا تھا جوکنواری فطرت کے بطن سے پیدا ہوا تھا، اوراُسے رحمتوں کے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔

نشاۃ ثانیہ کی ایک اور عبقری شخصیت اٹھارھویں صدی کا اطالوی مفکر جادانو برونو ہے۔ برونونے ’’تصور‘‘ کو باطن کی صوفیانہ معرفت ثابت کرنے کی کوششیں کیں۔ یہ غناسطیت کے ملحدانہ نظریات سے عبارت تھیں۔ برونو نے ’’تصور‘‘ کوآدمی کا ’ذریعہ تخلیق‘ قراردیا اور اسے فکرکی ’عرفانی صورتوں‘ سے واضح کیا۔ برونونے اس کے لیے spiritus phantasticus کی اصطلاح استعمال کی، یعنی ’روحانی تخیلات‘۔ یہ فانی انسان کواس قابل بناتے ہیں کہ اپنی حالت کو ماورا کائنات کے پوشیدہ نظم سے ہم آہنگ کرسکے۔ وہ کہتا ہے کہ مادی دنیا آدمی کی تصوراتی قوت کے سہارے کائنات کے پوشیدہ ڈیزائن سے ہم آہنگ کی جاسکتی ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے بہت سے غناسطی برونو کے ہم عقیدہ تھے۔ ان میں ایک اہم نام مارسیلیوفشینو Marsilio Ficino کا ہے۔ اس عقیدہ کا لب لباب یہ ہے کہ آدمی کا ’’تصور‘‘ روح مقدس کی سواری ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کے مادی جسم کو بھی روحانی تخیل کی خارجی تخلیق باور کیا گیا۔ برونو کا اصرار تھا کہ ’’تصور‘‘ روح کی پہلی پوشاک ہے، کہ جس سے ’دلیل‘ اور ’جسم‘ پیدا ہوتے ہیں۔ برونو کے لیے، بقول ایک مبصر، ’تصورایک زندہ، ذاتی، اور آرٹ کا مثبت جوہر ہے‘۔ اوریہاں تک بھی کہا گیا کہ برونو اور فیشینو کے نظریات ایک قسم کی انسان پرست تحریروں کو از سر نوپیش کرتے ہیں، کہ جس میں افلاطونی صوفیانہ وژن کی بازگشت ہے۔

یقینا یہ متاثرکن ’’تصور‘‘ آسمانی سے زیادہ انسانی ہے۔ برونو کی یہ فکرچرچ کی نظرمیں قابل مذمت ٹھیری: اُسے زندہ جلادیا گیا۔ اُس کا نظریہ ’’تصور‘‘ اُس کے اپنے عہد میں مغربی فلسفہ پر کوئی براہ راست اثرڈالنے میں کامیاب نہ ہوا۔ مگراس کے باوجود، انسانی تصور کی صوفیانہ تھیوری کی بازگشت مسلسل سنائی دیتی ہے۔ گوکہ ایسے نظریات فطری طور پر مشکل ہی سے قابل مشاہدہ ہوسکتے ہیں۔ مگر کئی مبصرین، جیسے ژاں ساروبنسکی نے اس سلسلہ میں کئی کوششیں کی ہیں۔ بعد کے جرمن مثالیت پسندوں نے، جیسے شیلنگ نے صوفیانہ اورساحرانہ ترکہ مثبت انداز میں بھرپور طورپرقبول کیا ہے۔

ڈیکارٹ کا فلسفہ

دوسرا عبوری مرحلہ ڈیکارٹ کے فلسفہ کا ہے، یہ متکلمین اور جرمن مثالیت پسندی کے درمیان کا ہے۔ یاد رہے ڈیکارٹ پہلا جدید فلسفی ہے جس نے متکلمانہ تعلیمات پر کاری ضرب لگائی۔ اُس کے نظریہ COGITO نے مغربی فہم میں بڑی تبدیلی پیدا کی، کہ جس میں معنی کا ذریعہ آدمی کی موضوعیت کو قرار دیا گیا، اورماورائی وجود کی حقیقت کی معروضی دنیا غیر اہم ٹھیری (ڈیکارٹ نے طبیعات اور ما بعدالطبیعات میں، بطور ذریعہ علم اورحقیقت، حد فاصل قائم کردی۔ مترجم)۔ ڈیکارٹ کی دلیل تھی کہ ’سچائی‘ موضوع کی اپنی فکر سے منعکس ہونے والی ہم آہنگی سے پھوٹتی ہے۔ انسانی ذہن کومعروضی وجود پرترجیح دے دی گئی: ’میں سوچتا ہوں لہٰذا میں ہوں‘۔ اس فارمولہ کی بنیاد پر، ڈیکارٹ نے آدمی کو ’فطرت کا مالک اور قابض‘ باور کیا۔ باوجود اس کے کہ ڈیکارٹ خدا کے وجود پر دلائل مہیا کرتا ہے، اُس کا فلسفہ جدیدیت کے پراجیکٹ میں ’انسان پرست مابعدالطبیعات‘ کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگرچہ ڈیکارٹ اور اُس کے شاگرد جدید انسان پرستی Humanism کی راہ ہموار کرتے ہیں، وہ ’’تصور‘‘ کے خلاف روایتی تعصب میں گھرے بھی رہتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ آدمی کی موضوعی مرکزیت پرزوردیتا ہے، ڈیکارٹ ’’تصور‘‘ کا وصول شدہ نظریہ ہی آگے بڑھاتا ہے کہ یہ ’ذہن اورجسم کے درمیان مصالحت کار‘ ہے۔ مزید یہ کہ ڈیکارٹ کی ’عقل پرستی‘ سے وابستگی نے اُسے اس سوچ کی تحریک دی کہ تصویر حسی تجربہ کے لیے ایک نام نہاد مادی پناہ گاہ سے زیادہ کچھ نہیں، اوریہ درحقیقت خود شناسی کو دھندلا دیتی ہے۔ تصور کرنے کا عمل ناگہانی مادی خطاؤں سے داغداررہا ہے۔ مختصرا یہ کہ جب ڈیکارٹ اپنی انسان پرستی کے اثبات میں ’جدید‘ تھا وہ ’’تصور‘‘ کے حوالے سے ماقبل جدید کے منفی رجحان میں ہی جی رہا تھا۔ تصور اب تک نقل در نقل ہی کے طریقہ تحقیق میں واضح کیا جارہا تھا۔ اسے ناقابل بھروسہ سلسلہ نقل ہی باور کیا جارہا تھا۔ جیسا کہ روسوکا مشہور قول ہے کہ ’ڈیکارٹ کے فلسفہ نے شاعری کا گلا کاٹ دیا ہے‘۔ ڈیکارٹ کے فلسفہ کی ’’تصور‘‘ دشمنی سترہویں صدی کے عقل پرست فلسفیوں لائبنیز، اسپائنوزا، اور میلبرانش نے آگے بڑھائی۔ اپنے مضمون On The Improvement of the Understanding میں اسپائنوزا نے اعلان کیا کہ ’تصوراتی خیالات‘ ’مدلل خیالات‘ سے پست ہوتے ہیں کیونکہ مدلل خیالات ’ممکن‘ سے منطقی طورپرنسبتا قریب ہوتے ہیں۔ اور تب سے تصور اس قابل نہیں رہا کہ موجود اور غیر موجود اشیا میں تمیز کرسکے۔ یہ ذہن کو تضاد کی جانب لے جاتا ہے اورابدی سچائی سے دور کر دیتا ہے۔ اسپائنوزا یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ’’تصور‘‘ ’’آزادی‘‘ سے مطابقت میں نہیں ہے: آزادی صرف اُس وقت حاصل کی جاسکتی ہے کہ جب ذہن ماضی، حال، اور مستقبل کی تصوراتی بھول بھلیوں سے نکل آئے، اور یہ دریافت کرلے کہ ’’وجود‘‘ دلیل کی منطق سے قائم ہے۔ ’’تصور‘‘ کے ساتھ لائبنیز کا رویہ بھی ڈیکارٹ کے فلسفہ پر مہرتصدیق لگا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خواہ تصورکتنا ہی دانش افروزمعلوم ہو، یہ کبھی منطقی ضرورت کے معقول درجے پرمتمکن نہیں ہوسکتا۔ لائبنیز New Essays in Human Understanding میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ تصورہمیشہ دلیل میں کمزوری دکھاتا ہے، یہ ’’وجود‘‘ کی بابت بھی سچ سے قدرے دور رہتا ہے۔ ہم یہاں ڈیکارٹ کے فلسفہ کا یہ اثر دیکھتے ہیں کہ آدمی خود غوروفکر کرسکتا ہے اس لیے اسے شبیہوں کے ذریعہ سچ تک رسائی کی ضرورت نہیں۔ اس عقلیت پرست نظریہ کو دیگر بہت سے مفکرین نے بھی آگے بڑھایا ہے، خاص طور پہ نشاۃ ثانیہ کے آخر میں اور روشن خیال عہد کے آغاز میں۔ کیمبرج کے مثالیت پسند جون سمتھ نے بھی تصور کی مذمت کی ہے اسی طرح گراوینہ نے اسے جادوگری قرار دیا ہے اور مراتورین اسے ایک سرور کی حالت بیان کرتا ہے، کہ جیسے کوئی نشے میں ہو۔ یہاں تک کہ مفکرین جمالیات نے اپنی تھیوریز میں تصورکی ’منفی‘ تعریف پیش کی ہے۔ تصور کے بارے میں یہ رویہ جو ڈیکارٹ کے فلسفہ سے پیدا ہوا کافی سنجیدہ نوعیت کا تھا۔ یہاں تک کہ جمالیات کے فرانسیسی عالم کوروس نے اپنے فلسفہ میں تصور سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اس انسانی وصف کو ’حیوانی‘ قرار دیا ہے۔ اس نے مکمل طور پرشاعری کی مذمت نہیں کی لیکن اس نے کہا ہے کہ شاعری کی اجازت صرف اس صورت میں ہونی چاہیے کہ وہ بامقصد ہو مدلل ہو۔ یوں ڈیکارٹ کے فلسفہ میں منطقی دلیل پر اتنا زور دیا گیا کہ شاعری اور آرٹ کے بارے میں سنجیدہ فکر کا راستہ دشوار ہوگیا بلکہ مسدود ہوکر رہ گیا۔ ڈیکارٹ کی عقلیت پرستی نے انسان کی مدلل موضوعیت کو مقدم بنا دیا۔

تجربیت

فلسفہ کی پیشرفت میں تیسرا دور ڈیوڈ ہیوم کے فلسفہ سے عبارت ہے۔ فلسفہ تصور پر عیسائی متکلمین سے لے کر کانٹین مثالیت پسندی تک جو کام ہوا ہے اس میں ڈیوڈ ہیوم کا فلسفہ ’’تجربیت‘‘ بڑے خاصے کی چیز ہے۔ یہ فلسفہ یعنی کہ ایسا نظریہ علم جو ’’تجربیت‘‘ پر استوار ہے۔ کانٹ نے کہا ہے کہ ڈیوڈ ہیوم وہ فلسفی تھا جس نے اُسے عقائدی گڑھوں سے باہر نکالا اوردوبارہ یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ مغربی مابعد الطبیعات کی بنیاد کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے۔

ہیوم ایک شدید متشکک تھا۔ ہیوم کے تشکیکی نتائج کافی چونکا دینے والے ہیں۔ یہ نتائج خالصتا برطانوی تجربیت پسندی سے متاثر تھے۔ اوراس کا سرخیل جان لاک تھا۔ لاک کا فلسفہ ایک ایسے عہد کا فلسفہ ہے جس میں سچ کے حصول کے لیے آدمی کے تخیل کو کمتر خیال کیا گیا یعنی کہ اسے ’وہمی صورت‘ قیاس کیا گیا، ’سچ‘ تک پہنچنے کے لیے اسے غیر معیاری قرار دیا گیا۔ یہ فلسفہ اٹھارویں صدی کی میراث بنا، کہ جس میں ذہن کی تخلیقی قوت کوکمتر حیثیت دی گئی۔ جان لاک تصور کے نامعقول اثرات سے محتاط تھا۔ وہ اپنے مضمون THOUGHTS CONCERNING EDUCATION میں والدین کو مشورہ دیتا ہے کہ بچوں کو خیالی قصے کہانیوں سے دور رکھیں، ایسی خیالی دنیا ابتدا ہی میں برباد کردیں۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاک کے بعد آنے والے رومانیت پسند شاعروں نے اس روش پرشدید ناپسندیدگی کا اظہارکیا۔ ولیم بلیک نے لاک پرالزام لگایا کہ اس نے انسانی تصور سنگلاخ چٹانوں پردے مارا ہے۔ کالریج نے کہا کہ جان لاک نے انسانی ذہن کو ایک سرد میکانیت کی نذرکردیا ہے۔ اس طرح لاک کے فلسفہ سے بیزاری رومانیت پسند تحریک کا مزاج بن گئی۔ جان لاک کے فلسفہ کی مذمت کی گئی۔ ییٹس نے دعویٰ کیا کہ لاک نے دنیا کو ہم سے قریب کرنے کے بجائے دور کیا ہے۔۔ ہیوم نے بنیادی طور پر لاک کے فلسفہ کو قبول کیا ہے کہ جس میں ’’تصور‘‘ کو حواس کا زائل ہوتا ہوا ’نقش‘ قراردیا گیا ہے۔ تاہم ہیوم نے اس فلسفہ کا رخ بدل دیا، اور اسے انتہائی افسانوی FICTIONILSM قرار دیا۔ ہیوم نے اعلان کیا کہ انسانی علم اور اس کا ماخذ تصورات اور خیالات سے مملوضرور ہے مگر اس کا اصل منبع ما بعدالطبیعات میں نہیں رہا۔ ہیوم کا اصرار تھا کہ حاضر و موجود کی دنیا اور اس کا ٹھوس تجربہ ہی واحد ’موجودگی‘ ہے جسے ہم جان سکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ تصورعقل کو خود مختار حیثیت سے معزول کردیتا ہے، اسے احساسات کا تابع بنادیتا ہے۔ اس طرح تصور کی ساکھ احساسات کی درجہ بندی طے کرتی ہے۔ اس طرح آدمی کی عقل کسی بھی ٹھوس شناخت سے محروم رہتی ہے۔ یوں خارجی دنیا کی آزاد موجودگی مشتبہ ہوجاتی ہے۔ ہیوم نے اپنا یہ نکتہ پوری قوت سے TREATISE OF HUMAN NATURE میں اٹھایا ہے۔ وہ کہتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتوں اوردلائل کی دنیائیں افسانوی بن چکی ہیں۔ جب کہ تصورکی نقلیں کسی ماورائی سچائی کی اصل بیان نہیں کررہی ہیں بلکہ اپنے آپ میں معدوم ہوچکی ہیں۔ اگرواحد سچائی ’تصوراتی‘ ہے تواس کا مطلب یہ ہوا کہ کہیں کوئی سچائی نہیں۔ وہ اس بات پر زوردیتا ہے کہ اگر حقیقت سوائے افسانوی مجموعہ کے کچھ نہیں تو ہمیں ان افسانوں کوہی حقیقت سمجھ کرچمٹ جانا چاہیے کیونکہ ان کے بغیر ہماری روشن خیال زندگی کا سکون برباد ہوجائے گا۔ زندگی میں یکسوئی اور تسلسل ختم ہوجائے گا۔ اس لیے تصوراتی نظام بہر صورت انتشار سے بہتر ہے۔ یہی ہیوم کی دلیل کا اہم ترین نکتہ ہے اور یہ اسے ضمیر کے بحران میں مبتلا کردیتا ہے کہ اگر سچ بیان کر دیا جائے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہوجائے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تواجنبیت اورخود فریبی کی تنہائی میں کڑھنے کی سزا بھگتی جائے۔ وہ کہتا ہے کہ کہیں کوئی سچ موجود نہیں مگریہ ایسی معلوم حقیقت ہے کہ جس سے نظام زندگی منتشہوجائےگا، دنیا کا سکون برباد ہوجائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اگر لوگ تصورات پر یقین نہ کریں تو روشن خیال دلیل کی ساری عمارت ہی ڈھے جاتی ہے۔

 یہاں تک کہ ایک سیدھا سادہ وعدہ بھی بے اعتبار ٹھیرتا ہے، اپنا معروضی جواز کھو بیٹھتا ہے، کہ جو شخص وعدہ کرتا ہے اگلے ہی روزمنطقی طورپر کہہ سکتا ہے کہ اب وہ وہ شخص نہیں رہا جو گزشتہ روز تھا۔ ہیوم کے لیے تخیل کی پرواز ایک ثقافتی حقیقت ہے اور اس طرح کے حالات میں دلیل کے لیے واحد قابل جواز کردار یہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی تشکیک میں ہوشیار ہوجائے محتاط ہوجائے۔ دلیل کے بغیر فلسفی اس قابل نہیں رہے گا کہ نام نہاد حقیقتوں تک پہنچ سکے، ثقافت اورافسانویت کی حقیقتیں! وہ ناگواری سے اعتراف کرتا ہے کہ ’’حقیقت‘‘ کی اس دریافت کی حقیقت سے فلسفیوں کولازما باخبررہنا چاہیے۔ کیونکہ اگر لوگ یہ جان لیں کہ بادشاہ، ریاست، اور یہ سارا نظام بے بنیاد ہے، اس کی کوئی سماجی منطقیت نہیں ہے، اگرلوگ یہ جان جائیں کہ یہ اختیار، یہ قانون، یہ تعلیم، یہ اخلاق، یہ مذہب کچھ نہیں ہے تو ایسی صورت میں یہ ریاست یہ معاشرہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس طرح ایک معقولیت پسند متشکک محسوس کرتا ہے کہ وہ معاشرہ کے لیے اجنبی ہے، ایک ایسا منفی کردارجولوگوں میں گھل مل نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ وہ ہر انسانی سرگرمی سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔ اس تنہا انسان کے اندر ایک ایسی ناقابل برداشت حقیقت موجود ہوتی ہے کہ جو سمجھتی ہے دنیا سوائے نقلوں کی پرچھائیوں کے کچھ نہیں ہے سب تصورات کا گورکھ دھندا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ایک خاموشی اُس پر مسلط کردی گئی ہے کیونکہ بولنا سماج کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے اور امن و امان سے رہنا خطرے میں پڑسکتا ہے۔ ہیوم مثال دیتا ہے کہ یہ ’تصور‘ افلاطون کے غار کےتصورجیسا ہے، ایک ایسی تصوراتی دنیا کہ جہاں دھوکے میں رہنا ہی پرسکون زندگی کا باعث تھا۔ مگر یہاں ہیوم اور افلاطون میں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ ہیوم کسی ماورائی حقیقت پر یقین نہیں رکھتا کہ جو غار سے باہر موجود ہو۔ وہ سمجھتا ہے کہ تمام انسان جو ثقافت کا حصہ ہیں جھوٹے ہیں، یہ شاعر اور فنکار پیشہ ورانہ طور پر جھوٹے لوگ ہیں۔ اس طرح ہیوم تصور کو مقدر کا معمہ سمجھتا ہے۔ یہ دنیا ایک افسانہ ہے، اور اچھے برے افسانہ میں تمیز کیسے کرسکتے ہیں؟ اوریہ کیسے جان سکتے ہیں کہ کون سا افسانہ معاشرہ کی فلاح کے لیے ہے؟

ہیوم اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان خسارے میں ہیں۔ سوال فقط یہ ہے کہ ہم کیسے اور کتنا ان خیالی تصورات کے ساتھ سمجھوتہ کرسکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب واقعی بہت مشکل ہے اور ہمیں انتہائی مخمصہ میں ڈال دیتا ہے۔ ہم جس طرح بھی اس سوال کا جواب دینا چاہیں ہم تضاد کا شکار رہیں گے اور یہ تضاد ہمیں غلطیوں تک لے جائیں گے حماقتیں ہوں گی معاملات میں گم راہ رہیں گے اور بالاخر ہم اپنی حماقتوں پرشرمندہ ہوں گے۔ وہ کہتا ہے کہ دلیل کے لیے تخیل کی پرواز سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں رہی۔ اگر ہم اس اصول کو قبول کرلیں اور ہر طرح کی دلیل کی مذمت کریں تو ہم حماقتوں کی آخری حد پر پہنچ جائیں گے اور اگر ہم اس طرح کی دلیل کو مسترد کرتے ہیں تو ہم انسانی فہم کے سارے سلسلے کو الٹ دیں گے۔ اس لیے ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس سلسلے میں کیا ہونا چاہیے ہم اس بارے میں کیا کرسکتے ہیں! اس روشن خیال عظیم مفکر نے اپنے آخری تجزیے میں یہ سوال چھوڑ دیا ہے کہ ہم اس انتہائی افسوسناک صورتحال میں ممکنہ طور پر کرہی کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارے پاس بقا کی جو واحد حکمت عملی ہے وہ ’’گریز‘‘ ہے۔ ہیوم آخرمیں اپنی ساری کتابیں بند کردیتا ہے اور دوستوں کے ساتھ کھیل تماشے میں مگن ہوجاتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس معمہ کا حل کانٹ کے پاس ایک مختلف صورت میں موجود ہے۔

کانٹ اور ماورائی تصور

ایمانویل کانٹ جب ماورائی تصور کی بات کرتا ہے تو اس سے اُس کی کیا مراد ہوتی ہے؟

کانٹ کہتا ہے ’’تصور‘‘کُل علم کی پوشیدہ حالت ہے۔ کتاب تنقید عقل محض میں وہ لکھتا ہے ’’ماورائی تصور‘‘ انسانی روح کی گہرائی میں چھُپا ایک آرٹ ہے، اس کی بنیاد شے کی معروضیت کوموضوع کی موضوعیت میں قائم کرتی ہے، نہ کہ آدمی سے بعید کسی ’ماورائی نظام‘ میں۔

ماورائی تصوردنیا میں ہمارے تجربہ کی پیشگی شرط ہے۔ کانٹ کے لیے ’ماورائیت‘ کی اصطلاح کا تعلق تجربہ کی اولین شرط سے ہے۔ یہاں یہ سب سے پہلے تجربہ پرزوردیتی ہے۔ افلاطونی ما بعد الطبیعات کے برعکس، کانٹ ماورائیت کو کسی دوسرے عالم کی ’ابدی صورتوں‘ کے بجائے آدمی کے ’ذہن‘ میں جگہ دیتا ہے۔ کانٹ وضاحت کرتا ہے کہ ماورائیت اشیاکی معلومات سے اتنی متعلق نہیں جتنی اشیا کے بارے میں ہمارے علم سے متعلق ہے۔ یہیں سے جدید انقلابی اسلوب تحقیق برپا ہوتا ہے۔ کانٹ کے ہاں ماورائیت کا سوال یہ صورت اختیار کرتا ہے: علم کاحصول کیسے ممکن ہے؟

ڈیکارٹ اور ہیوم کے فلسفے پہلے ہی یہ بات مستحکم کرچکے ہیں کہ ’’موضوعیت‘‘ کوبالادستی حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ جدید مثالیت پسندی کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ کانٹ کا ڈیکارٹ اور ہیوم سے اختلاف یہ ہے کہ وہ ’ماورائیت‘ کی بنیاد پرآدمی کی موضوعیت کے دعوے پیش کرتا ہے۔

کانٹ دلیل دیتا ہے کہ تصور نقلوں کی پیشکش کا نمونہ نہیں ہے بلکہ اسے ماورائی نمونے کے طور پردیکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے اسے انسان کی تخلیقی قوت سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی خلاقیت ہی تصورکرنے کا عمل واضح کرسکتی ہے۔ تصور ذہانت اور حواس کے درمیان کسی مصالحت کا کردار ادا نہیں کرتا بلکہ یہ ان دونوں خصوصیات کی جڑہے۔

کانٹ معروضی علم کے جواز کو بحال کرتا ہے۔ وہ یہ دلیل مستحکم کرتا ہے کہ معروضی تصور ’مرکب تجزیے‘ کی شکل میں سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ہمارے احساس اور فہم کے تجربات کا مرکب ہوتا ہے۔ اس طرح تصور ایک من مانی صورت حال سے نکل آتا ہے اور ایک تخلیقی کارگزاری بن جاتا ہے، اورایک خالص علم بن جاتا ہے۔

کانٹ تصور کو کیسے اس راستے پر قابل جواز ٹھیراتا ہے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں تنقید عقل محض کے مزید کئی تکنیکی دلائل کو دہرانا ہوگا۔ کانٹ ہیوم کے تجربی دلائل کا جائزہ لیتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انسان کا سارا علم اس کا تجربہ ہے، علم ’حسی تجربہ‘ کے سوا کہیں نہیں ہے۔ کانٹ اس بات کی جزوی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محض حسیاتی تجربہ سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے فہم سے بھی کام لینا پڑتا ہے اور ہمارے حواس ہماری قوت فہم کے بغیر بے کار ہیں۔ اسی طرح ہمارا فہم بغیر احساس اور تجربے کے محض ’خالی پن‘ ہے۔ پہلے قدم پرکانٹ ہیوم کے اس فلسفہ کو رد کرتا ہے کہ علم سارا کا سارا تجربہ سے حاصل ہوتا ہے۔ کانٹ کہتا ہے کہ علم دونوں ذرایع سے حاصل ہوتا ہے اس میں ادراک اور حواس دونوں کا یکساں کردار ہے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر موجود نہ ہو تو علم کا حاصل ہونا محال ہے۔

کانٹ اگلے قدم پر یہ واضح کرتا ہے کہ احساس اور ادراک کس طرح متحد ہوکرہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ اس دلیل کو ایک مرکب تجزیے synthesis کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں خصوصیات کس طرح تعامل کرتی ہیں۔ محض یہ کہ کوئی بھی ایسی شے جو ہمارے حواس میں داخل ہوتی ہے علم کا سبب نہیں بن سکتی۔ جب اشیاء شعور کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم کر کے دکھا دیتی ہیں تو علم کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ یہ کام اشیاء مجموعی طور پہ بھی کرتی ہیں اور انفرادی سطح پر بھی اور یہ ہماری شعوری کارگزاری ہوتی ہے شعوری تصور ہوتا ہے کہ جو ہمیں تجربے کی درست سمجھ میں مدد فراہم کرتا ہے اور اس طرح ہمارے ادراک شدہ تصورات ہمیں چیزوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

کانٹ کی جمالیات

Critique of pure reasonتنقید عقل محض کی دوسری اشاعت میں تخلیقی تصور کے لیے جہاں کانٹ نے اپنے بہت سے دعووں سے رجوع کیا، وہیں تنقید بصیرت The Critique of Judgement میں اپنے تصور جمالیات کوقدرے نرم کیا ہے، اس حد تک کہ شاعری کو لائسنس جاری کیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کہ جب وہ فلسفہ تصور کے دفاع کی جنگ لڑ رہا تھا، اس نے تخلیقی تصور کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کیں۔ کانٹ نے اپنے تصور جمالیات کی تھیوری The Critique of Judgement میں مفصل پیش کی۔

حس ’جمالیات‘ کے لیے کانٹ نے انسانی ذہن کو تین خانوں میں بانٹ دیا: ادراک، دلیل، اوربصیرت۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کا فہم اور اس کی دلیل دونوں مشترکہ طور پر کسی درست نتیجے پر پہنچاسکتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ نتائج مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ کانٹ حِس جمالیات سے حاصل ہونے والی بصیرت کوبہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمالیات یعنی ’ذہن کی کشادگی اوراحساس لطیف‘ تخلیقی تصور کے لیے لازم ہے۔ جیسا کہ جرمن فلسفی ہربرٹ مارکوزنے مشاہدہ کیا ہے۔

’’تنقید بصیرت میں جمالیات کی جہت کا لطافت سے تعامل ابھرکر سامنے آتا ہے، یہ محض ذہن کا ایک خانہ نہیں بلکہ اس کا مغزہے۔ جمال اس مقام پرآزادی کےوجدانی اظہارکی علامت بن جاتا ہے۔ جب کہ آزادی ایک ایسا احساس ہے جوکسی حس میں سما نہیں سکتا، اس طرح کا اظہاربلواسطہ اورعلامتی یا تمثیلی ہی ہوسکتا ہے۔‘‘

درحقیقت کانٹ کی مراد یہ ہے کہ ’جمالیاتی بصیرت‘ بڑے خاصے کی چیز ہے۔ اس کا ابتدائی اظہار’حُسن‘ کی اصطلاح سے کیا جاسکتا ہے۔ جیسے مثال کے طورپر ہم یہ کہیں کہ یہ آدمی بہت حسین ہے۔ یہ ہمارے تجربہ کی صورت اورقطعیت سے برآمد ہوتا ہے۔ ایک شے کے اندر خواہ فن پارہ ہو نظم ہو یا موسیقی، فنکار اور ناظرین دونوں کی جانب سے یہ ’جمالیاتی ذوق‘ سامنے آتا ہے۔ اس بصیرت کا انحصارصورت کی داخلی قطعیت پر ہے۔ اس کا تعلق کسی ماورائی حقیقت سے نہیں بلکہ آدمی کے اندرموجود جمالیاتی بصیرت سے ہے۔ یہ ایک فنکارانہ تجربہ میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ کانٹ اسے تصور کا آزادانہ کھیل کہتا ہے۔ اس طرح خارج کی پابندیوں سے آزاد ذہن ’خودکارغایت‘ بن جاتا ہے، یہ خود اپنے معنی بن جاتا ہے، خود ہی اپنا اختتام، آئینہ، اور بالاخر چراغ بن جاتا ہے۔

یہ ہے وہ حس جمالیات، جسے کانٹ ’’ مقصدیت بغیرمقصد‘‘ کہتا ہے۔ کیونکہ جو اپنی داخلی قطعیت پرمطمئن ہے اور خود کو کسی بھی خارجی ہدف سے روک لیتا ہے، وہ مقصود پالیتا ہے۔ مگرکسی خارجی پابندی سے آزاد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ’آرٹ‘ کسی نظم کا پابند نہیں۔ ایسا نہیں ہے، ہماری حس جمالیات تصورکی قوت سے اپنا نظم خود قائم کرتی ہے، جوخارجی دنیا کے انتشار سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔ درحقیقت تصوراصولوں پرغورضرور کرتا ہے مگر یہ خود آوردہ ہیں۔ یہاں ہمیں رومانیت پسند جمالیات، علامتیت، آرٹ برائے آرٹ کی جڑیں ملتی ہیں۔

ہرجمالیاتی تجربہ کسی مخصوص معروض کا ردعمل ہے مگر اس کا مطلب اس کا آفاقیت سے تہی دست ہونا نہیں ہے۔ کانٹ کے لیے حُسن دیکھنے والے کی آنکھ کا سادہ منظر نہیں ہے۔ وہ سمجھتا ہے جمالیاتی بصیرت کی لطافت اپنی اصل میں ’آفاقی‘ ہے۔ یہ کائناتی سطح پر قابل کلام ہے، یہ محض چند ذہین افراد کی اہلیت نہیں، جمالیاتی حس ایک ایسی معروضی خاصیت ہے جو ہرکسی کوحاصل ہے اور وہ فن کی گہرائی کا مشاہدہ کرسکتا ہے اور دوسروں کواس کا شریک بناسکتا ہے۔ جمالیاتی اشیاء واضح طور پر روز مرہ کی عام اشیا سے مختلف ہیں۔ جمالیاتی اشیا سے تصورقطعیت حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طورپر جوتوں کا ایک جوڑا دیکھنا عام سا تجربہ ہے مگر جب یہی جوتوں کا جوڑا معروف مصور وین ہوہ کے فن پارے میں منقش کسان کے پاؤں میں نظرآئے گا تو انوکھا احساس اورجمالیاتی معنی دے گا۔ یہ جوتوں کا جوڑا اپنے اندرایک مکمل اور منفرد اظہار ہے، یہ کسی تجربی حقیقت سے بے نیاز ہے۔

آرٹ کے کلاسیکی اورجدیدفلسفوں میں اختلاف بہ مشکل ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ کانٹ یہاں متضاد محسوس ہوتا ہے۔ جب افلاطون آرٹ کے غیر عملی کردار کی مذمت کرتا ہے کانٹ اُس کی تائید کرتا ہے۔ جب قدما جمالیاتی تصورکی فرض کی گئی خودمختاری کا تمسخراڑاتے ہیں، کانٹ ان کی افضلیت تسلیم کرتا ہے۔ تاہم، داخلی آزادی کے ساتھ، کانٹ کا ماورائی تصورآدمی کے اظہارکا استحقاق بن کرپیش قدمی کرتا ہے۔ درحقیقت کانٹ کے بعد، تصورکا یہ آزادانہ کھیل آرٹ کے جدید نظریات میں مرکزی حیثیت حاصل کرلیتا ہے۔

جمال سے جلال تک

کانٹ تخلیقی تصور کے مثبت کردارکا احاطہ کرتا ہے۔ وہ آرٹ کی حدوں میں اس کی مکمل آزادی کا قائل ہے۔ اس نظریہ کا رومانیت پسند تحریک پرگہرا اثرپڑتا ہےجو ’سماجی حقیقت پسندی‘ اور ’صنعتی معاشرہ سازی‘ کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ دنیا ہے۔ کانٹ کہتا ہے کہ تصور اور ادراک کے درمیان ایک ہم آہنگی کام کرتی ہے، یہ ایسا آرٹ ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس میں زندگی کا احساس منطق سے الگ ہو جاتا ہے۔ کانٹ قطعی طور پرتخلیقی تصور کو احساسات کی دنیا بیان کرتا ہے اور پیش بینی کرتا ہے کہ رومانیت پسند سائنس اورآرٹ کے درمیان اختلاف قائم کریں گے۔ کانٹ کے جمال سے جلال تک کے سفرمیں، جمالیات کی رومانوی جہت شاید سب سے نمایاں ہے۔ درحقیقت یہ تقسیم کانٹ نے پیدا نہیں کی، ایڈیسن، ہچییسن، اور برک یہی بات دیگراصطلاحوں میں پہلے کرچکے تھے۔ مگریہ کانٹ نےسب سے پہلے واضح کیا کہ ان دونوں (حس اور فہم) کا تصور کی تخلیقی سرگرمی سے تعلق کس طرح ایک نظام کی صورت میں کام کرتا ہے۔

تنقید بصیرت میں اس کا بیان ہے کہ ’تفہیم‘ وہ خانہ ہےجہاں beauty and sublime جمال اور جلال کی فکری حالتیں راحت بخش ہوتی ہیں، اور تخلیقی شہکار تشکیل دیتی ہیں۔ ’جلال‘ تخلیقی عمل کی انتہائی حالت ہے، یہ ہماری قوت بصیرت کی اوج ہے۔ یہ بڑی جلالی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کیفیت کیوں طاری ہوتی ہے؟ کیونکہ یہ نہ صرف عام فہم تصورات سے ماوراہوتی ہے بلکہ خود تصورکی صورتوں سے بھی فائق ہوجاتی ہے۔ تصورکی یہ حالت حدوں سے آگے ’حالت انکار‘ یا ’حالت فنا‘ پرپہنچ جاتی ہے۔ یہ ’جلال‘ حُسن سے ہم آہنگ مناسبت کے لیے خطرہ بھی بن جاتا ہے۔ یہ تصورکونئی بلندیوں پر لے جاتا ہے کہ جن کی پیمائش اور گہرائی تک جانا امکان سے ماوراہے۔ ایسا تصور عالم ’نامعلوم‘ کے کھوج پراکساتا ہے۔ یہ انتشارکی صورتوں میں نظم کی نئی صورتیں تلاش کرتا ہے۔ اس کانٹین جلال کے بارے میں میری وارنوک کہتی ہیں: ’’تخلیقی تصورکی کارگزاری میں یہ ایک ایسی کیفیت ہے جوہمارے حساس خیالات متحرک کرتی ہے مگر انہیں ظاہری یا حسی طورپرنمایاں نہیں کرتی۔‘‘۔

’جلال‘ ہماری موضوعی داخلیت کا احساس گہرا اور کشادہ کردیتا ہے، جیسا کہ کانٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ’انسانی ذہن یہ (جلالی)کیفیت خود پر طاری کرسکتا ہے‘۔ لہٰذا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جلال تصورکی لامحدود دنیا کا سفرہے، کہ جسے عام صوری اصطلاحوں میں واضح نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ جلالی کیفیت ’راحت بخش‘ سے زیادہ ’حیران کُن‘ معلوم ہوتی ہے۔ ہم آدمی کی قوت تخیل کے معاملہ میں کمال حیرت کی زد میں ہیں۔ تخیل کی پروازمیں ہم فہم کی حدوں سے نکل جاتے ہیں۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جوکچھ ہم دیکھتے ہیں اورمحسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ اندر کی آنکھ سے مشاہدہ کرتے ہیں حقیقتیں اُن سے ماورا ہیں۔

Critique of judgment کانٹ کی (تنقید بصیرت) میں ’’تصور‘‘ کی جوتعریف بیان کی گئی ہے وہ بہت مبہم ہے۔ حُسن کے بارے میں، تصوراپنی آزاداورخود مختار قوت کا اظہار کرتا ہے۔ مگر’جلال‘ کے معاملہ میں تصوراپنی طاقت ’عجز‘میں ظاہرکرتا ہے۔ یہ ایسی لامتناہیت کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ یوں فنکارانہ تصور ایک علامت کےطورپرکام کرتا ہے، اوریہ ہمیں کانٹ کی مبہم اصطلاح mind’s suprasensible province (ذہن کا ماورائے حس حصہ) کی جانب لے جاتا ہے۔ آرٹ یہاں اس قدر رفعت اختیارکرلیتا ہے کہ ’علامتیں‘ تخلیق کرتا ہے۔ یہ علامتیں ایسی معنی خیزہوتی ہیں کہ ذہن انہیں پوری طرح گرفت میں نہیں لے پاتا۔ اورنتیجتا مشاہدہ کرنے والے کے ذہن پر’کسی پراسرارحد تک عظیم شے‘ کی آگاہی پیدا کرتا ہے۔ مگراس پراسرارعظیم شے کی مکمل شناخت معطل کردی گئی ہے۔ کانٹ ایک ایسے غیر واضح تعلق کی جانب اشارہ کرتا ہے، جوعقلی دلائل اور ’ذہین مفکر‘ کے جمالیاتی نظریات میں ہے۔ گوکہ کانٹ کے ’تصور‘ کے بارے میں یہ نظریات فکرانگیزہیں مگرکسی واضح فکرکا کم ہی امکان رکھتے ہیں۔

اس بارے میں کوئی زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہے کی جمالیاتی تصورات کی کارگزاری تمثیل کے علامتی طریقہ پرکام کرتی ہے۔ جمالیاتی حس وجود کی نامعلوم گہرائیوں تک رسائی رکھتی ہے۔ یہاں فنکار کی انفرادیت کا انحصارجمالیاتی حس کے برتنے پر ہے کہ آیا وہ کس طرح تخلیقی قوت کو کام میں لاتا ہے۔ یہاں کانٹ کا افلاطونیت سے اختلاف غیرمعمولی ہے۔ افلاطون کی ’ریاست‘ کے برعکس، کانٹ آرٹ کواخلاقی خیرسے مطابقت میں دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دونوں ہم آہنگ ہیں مگرایک جیسے نہیں۔ یہ باہم تعامل کرتے ہیں۔ وہ اس یقینی الجھاؤ پربہ اصرار ’جلال‘ کوتصورکے عقلی دلائل اور جمالیاتی نظریات سے جوڑتا ہے۔ کانٹ یہ دونوں رستے اختیار کرتا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہے جیسے وہ دونوں پرایمان رکھنے کا خواہش مند ہو۔ وہ تصور کی بالادستی بھی مستحکم رکھنا چاہتا ہے اوردلیل کی حدبندی بھی کرنا چاہتا ہے۔ ان دونوں کا تنازع کانٹ کے ہاں ناقابل حل ہی رہتا ہے۔ جرمن مثالیت پسند اوربہت سے رومانیت پسند جنہوں نے کانٹ کی پیروی کی، اس معمہ کوحل کرنا چاہااور اس کے لیے تصوراور دلیل کے کامل اختلاط کی کوشش کی۔ انہوں نے تصورکی اس ’انسان پرست‘ قبولیت کے انقلابی نتائج بغیر کسی پشیمانی سینے سے لگائے۔

جرمن مثالیت پسندی، فشٹے اور شیلنگ

جرمن مثالیت پسندی کی تحریک پر کانٹ کا اثر عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم کانٹ کے ماورائی تصورکے ابتدائی کلیہ اوربعدکے مثالیت پسندوں فشٹے اور شیلنگ کی تھیوریزکے موازنہ پرتحقیق میں باقاعدگی کم ہی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ بلاشبہ کانٹ کی سرکاری ’عقلیت پرست‘ تشریحات ہیں۔ جنہیں انیس ویں صدی اور بیس ویں صدی کے آغازپر نیوکانٹین فلسفہ میں بڑی پذیرائی ملی۔ ہائیڈیگر وہ پہلا جدید فلسفی ہے جس نے اس غفلت کی نشاندہی کی۔ وہ ’کانٹ بک‘ میں لکھتا ہے کانٹ کے فلسفہ تصورکا معاصرین پرگہرا اثر ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ فشٹے، شیلنگ، اورجیکوبی نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں ’’تصور‘‘ کے ضروری کردارکی تحسین کی۔

اس سرسری اشارے کو تفصیل سے پھیلانے کی ضرورت ہے۔ شیلنگ اورفشٹے کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ماورائی تصور کے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کی اوراس کو ایک ایسے نقطے پہ پہنچا دیا کہ مذہبی قواعد ضوابط اور ان کا روایتی ’تصور علم‘ زائل ہو کررہ گیا۔ کانٹ جیسا کہ ہم نے دیکھا اسی رخ پر آگے بڑھ رہا تھا مگرآخرمیں وہ پیچھے ہٹ گیا، اور اس طرح کے اطلاق سے گریز کیا۔ کانٹ کی قدامت پرستی اور روایت کے لیے احترام واضح تھا۔ روایت کا احترام اس کے ہاں اخلاقی تھیوری اور جمالیاتی تھیوری دونوں میں ملتا ہے۔ وہ جرمن مثالیت پسند جنہوں نے کانٹ کی اتباع کی، وہ اس حد بندی کو مٹا دینا چاہتے تھے اور ذہن کے سارے خانوں کو تخلیقی تصور کے لیے وقف کردینا چاہتے تھے۔ یہ انقلابی پیشرفت ابھرتی ہوئی عرفانی اورباطنی تحریکوں کے احیا کی وجہ سے ہوئی تھی۔ کانٹ کے بعد کے مثالیت پسندوں کی فکرکے مرکزی محرکات عارفانہ اور باطنی تھے۔

The vocation of man میں فشٹے نے کانٹ کی مشہور ’تقسیم‘ ایک طرف رکھ دی، کہ جس میں ایک دنیا کوجانا جاسکتا تھا جب کہ دوسری دنیا سمجھ سے ماورا تھی۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ خواہ وجود خودی میں واحد اور لامتناہی کیوں نہ ہو، براہ راست ’خالص ماورائی مثالیت پسندی‘ کی ملکیت ہے۔ فشٹے اپنی پوزیشن واضح کرتا ہے، وہ ’’تصور‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’ہمارے شعور، زندگی، اور وجود کا انتہائی امکان قراردیتا ہے‘۔ وہ کانٹ کی اس دریافت، کہ ’تصور‘ اور’ماورائی انا‘ میں قریبی تعلق ہے، پرقیاسی اطلاقات کرتا ہے۔ وہ دعوٰی کرتا ہے کہ موضوعیت پرسارے حتمی تجزیے بشمول عقلی دلائل صرف ’تخلیقی تصور‘ کی مدد سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔ ’دلیل‘ خود تصورکی طاقت سے ہی قابل شناخت بن پاتی ہے اورپھر’اصل وجود کے روحانی نظم‘ تک رسائی دیتی ہے، ایک ایسا نظم جہاں یہ ’خالص سرگرمی، اورتنہا کافی ہوجاتی ہے، اورکسی بھی خارجی دلیل کی ضرورت سے بے نیاز ہوجاتی ہے، کامل آزادی سے ہمکنارہوتی ہے‘۔ ’تصور‘ اور’آزادی‘ میں شاید ہی اس سے زیادہ شفاف مساوات ظاہر کی جاسکے۔ دوسرا عظیم جرمن مثالیت پسند شیلنگ فٹشے سے بھی دو قدم آگے بڑھ کردلائل دیتا ہے۔ اپنی عظیم کتاب The System of Transcendental Idealism جوسن اٹھارہ سو میں شایع ہوئی، وہ بڑے ولولے سے دعوٰی کرتا ہے کہ ’تخلیقی اورتجزیاتی تصورہی نظام منطق اور فلسفہ کا نقطہ کمال ہے‘۔ یہ متن، کہ جوبہت سے رومانیت پسند فن کاروں کے لیے ایک قسم کا فلسفیانہ منشورتھا، ’تصور‘ کی تعریف میں کہتا ہے کہ یہ ایسی ’تخلیقی قوت‘ ہے جس نے مغربی ماورالطبیعات، آزادی اور ضرورت، وجود اور بننے کا عمل، کائناتی اور مخصوص، ابدی اور عارضی، یہاں تک کہ انسانی اورآسمانی کے درمیان مخالفتوں میں مصالحت قائم کر دی۔ یہاں ’تصور‘ سارے مسائل کا اکسیر اعظم ہے۔ یہ انتشارمیں نظم ہے۔ الجھن میں سلجھن ہے۔ کائنات میں یہی اول وآخر ہے۔ درحقیقت کوئی بھی یہ باور کرنے میں غلطی نہیں کرے گا کہ شیلنگ نے وجودیاتی الٰہیاتی کی آسمانی تعریف ’تخلیق کار وجود‘ میں ڈھال دی ہے۔ یہ آدمی کی انسان پرست ’تخلیقی تصور‘ کی تعریف ہے۔ شیلنگ سمجھتا ہے کہ ماورائی مثالیت پسندی نے قدیم مابعدالطبیعات کا خاتمہ کردیا ہے اور یہی نئے رومانیت پسند دور کا آغاز ہے۔ اس فیصلہ کن موڑنے انسان پرست اسلوب پرتاریخ فلسفہ کی از سر نوتشریح کے قابل بنادیا ہے۔ شیلنگ نے بھرپورعزم کے ساتھ عارفانہ اورسائنسی فکرمیں مصالحت کی کوشش کی، جواُس کے انداز اورپیشکش کی انتہائی صورت تھا۔ شیلنگ اور اُس کے متبعین ساحرانہ تشکیلات، کہاوتوں کے چیستاں، اورمہمل باتیں پیش کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ منطقی قضیے خیالی انہماک کی راہ ہموارکرتے ہیں۔ یہاں فلسفہ کا شاعری کی زباں سے باقاعدہ قرب حادثاتی نہیں ہے۔ یہ فلسفہ کے انتہائی مواد میں اہم تغیر کی بات کرتا ہے۔ شیلنگ لکھتا ہے ’معروضی عالم ہی دراصل روح کے حال کی شاعری ہے‘۔ آرٹ اور فلسفہ دونوں کا کام ایسی شعوری شاعری خلق کرنا ہے جووجود کے حال کی صورت گری کرتی ہے۔ یہ ماروائی شاعری ہی دراصل تخلیقِ مسلسل ہے۔ اس عمل میں سارے انسان یکساں طور پر تخلیقی تصورکی مدد سے حصہ لیتے ہیں۔ ماورائی شاعری کا یہ نظریہ یقینا کانٹ کے فلسفہ تصور ’نامعلوم کی جڑ‘ کی بازگشت ہے۔ مگرشیلنگ یہاں ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ وہ روزمرہ زندگی میں تصور کے ماورائی تخلیقی عمل اورآرٹ فلسفہ میں اس کے شعوری تخلیقی عمل میں تعلق بیان کرتا ہے۔ شیلنگ فطرت اور آرٹ کے درمیان وہ تضاد ڈھا رہا ہے، جو افلاطون سے کانٹ تک رائج رہا تھا۔ بلا شبہ، شیلنگ ہمیں باورکرواتا ہے کہ، بشمول عقلی نظریات کے، ’تصور‘ فطرت اور آرٹ، دنیا کی اصل اشیا اورثقافت کی مثالی چیزیں دونوں خلق کرتا ہے۔ مختصرا یہ ’’تصور‘‘ نظمیں اور کائناتیں دونوں خلق کرتا ہے۔ شیلنگ یہ کہہ کربات ختم کرتا ہے کہ فنکارانہ ذہانت عام فہم لوگوں سے جُدا ہوتی ہے کیونکہ فنکار اپنی شعوری لاشعوری تصورکی وحدت سمجھ لیتا ہے۔ اورجوراحت آرٹ کی توصیف سے ملتی ہے وہ اسی پوشیدہ اور ظاہرتخلیقی عمل کی ’ہم آہنگی‘ کا تجربہ ہے۔ شیلنگ کہتا ہے کہ تمام فطرت میں زندگی صرف پنہاں کارگزاری میں عیاں ہے۔ اور اگر یہی پوشیدہ عملِ تخلیق ایک آرٹسٹ میں کام کرے تو وہ فطرت سے ہم آہنگی اختیار کرے گا۔ مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آرٹسٹ فطرت کا ماتحت یا محتاج ہے۔ بلکہ شاعرانہ ذہن کی کارگزاری کولاادری عملِ تخلیق سے بلند ہونا چاہیے اور آرٹ کے ذریعہ شعور میں منظر خلق کر دکھانا چاہیئے۔ اس طرح ایک فلسفی ایک شاعر سے رہ نمائی حاصل کرتا ہے، کہ جو نہ صرف عالم کی تخلیقی ساخت کی تشریح کرتا ہے بلکہ اس تخلیقی عمل میں سرگرمی سے شریک ہوتا ہے اوراُفق تک آزادانہ وسعت اختیار کرتا ہے۔ تاہم، یہ بلند بانگ دعوے یقینا آدمی کے تصور پر الوہی ذہن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شیلنگ تسلسل سے آسمانی تصورات اورتصورکی علامات مساوی طور پر پیش کرتا ہے۔ اس طرح وہ الوہی اور انسانی تخلیق کے درمیان درجہ بندی ڈھا دیتا ہے۔ شیلنگ تصور کے بارے میں روایتی سوچ، کہ تصورخدا کے اصل وجود کی نقل در نقل ہے، کا خاتمہ ضرور کرتا ہے، مگر تصور کا یہ آفاقی اطلاق بھی ’’روشن خیال تحریک‘‘ کے لیے ایک للکارہے، کہ جس کا اصرارہے کہ ’’تصور‘‘ عقل کا تابع ہے۔

رومانیت پسند تحریک نے روایت اورروشن خیال عقلیت پرست دونوں کے نظریہ تصور کو الٹا کر دیا۔ بہت سے مبصرین نے اسے محتاط بلکہ مخاصمانہ رویے کے طورپر دیکھا۔ اپنی کتاب Imaginationمیں میری وار نوک نے اسے عقلیت پرست ماحول کے شدید بگاڑ میں دیکھا۔ وہ یقین رکھتی ہے کہ، وہ واضح تقسیم جوکانٹ سے چلی آرہی تھی کہ کیا جانا جاسکتا ہے اور کیا نہیں جانا جاسکتا! اب ایک حقیقت بن چکی تھی۔ جرمن مثالیت پسند، جو کانٹ کے بعد ظاہر ہوئے تھے، تصورکی قدرمیں عقل، حس، عالم وجود، اور آفاقیت سے اضافہ کرچکے تھے۔ اس طرح کثرت میں وحدت کے انکشاف کا سہرا ’’تصور‘‘ کے سرجاتا ہے، اور کیا اس طرح یقینا ہم سے ماورا کسی علم یا تشریح کی گنجائش باقی نہیں رہتی؟ یعنی تصورکے سوا کچھ نہیں جواپنی تخلیق مسلسل کا لامتناہی کھیل آزادی سے کھیل رہا ہے؟

رومانیت پسند تحریک

درحقیقت یہ ایک پیغام تھا جو بہت سے رومانیت پسندوں کو’’ماورائی تصور‘‘ کے فلسفہ سے ملا تھا۔ انگریز رومانیت پسند سیموئیل ٹیلر کالرج اس کی مثال ایک رجحان کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اُس کی مشہور کتاب Biographia Literaria جواٹھارہ سو سترہ میں شایع ہوئی، رومانوی تحریک کی تھیوری کی کلاسیک کہلائی۔ کالرج نے تسلیم کیا ہے کہ اس تھیوری کے لیے اس نے شیلنگ کے نظریہ سے مددلی۔ اس تھیوری پرتفصیلی تجزیے کیے گئے۔ ابرامس کا ’آئینہ اور چراغ‘، آرسینی کا ’کالریج اورجرمن مثالیت پسندی‘، اورمارسل کا ’کالرج اٹ شیلنگ‘ قابل ذکر ہیں۔ ہم یہاں تفصیل میں جانے کے بجائے کالرج کے متن سے چند اہم حصے الگ کریں گے، کہ جورومانوی فکرکا اسلوب استدلال واضح کریں گے۔

بائیوگرافیا کے دسویں باب میں کالریج esemplastic کی اصطلاح وضع کرتا ہے، اس سے اُس کی مراد ’’تصور‘‘ کی وہ قوت ہے جو’وحدت کی صورت گر‘ ہو۔ وہ جرمن مثالیت پسندوں کے نظریہ تخلیقی تصوراوراس اصطلاح میں براہ راست تعلق تسلیم کرتا ہے۔ کالریج تخلیقی تصورکو اس کے روایتی کردارسے الگ کرکے پیش کرنے کے لیے پرعزم نظرآتا ہے۔ روایتی نقلی کردارکے لیے’خیالی دنیا‘ کی اصطلاح مخصوص کرتا ہے۔ بائیوگریفیا کے ایک مشہور حصہ میں کالریج ان دونوں میں فرق کی وضاحت کرتا ہے، انہیں دوالگ اسلوب تخلیق قراردیتا ہے۔ ایک مقدم اور دوسرا ثانوی درجہ کا ہے۔ مقدم ’’تصور‘‘ ایک زندہ متحرک قوت تصورہے، یہ محدود ذہن میں لامتناہی عملِ تخلیق کے دہرائے جانے کی کیفیت ہے۔ جب کہ ثانوی ’’تصور‘‘ مقدم کی بازگشت ہے، یہ شعوری ارادے کے ساتھ ہے، محض درجے میں کم اورطریقہ میں مختلف ہے۔ اس کثیف اورقدرے الجھے ہوئے متن پربڑے تبصرے کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے مصنف یہاں مقدم تصور کی کارگزاری کومثالیت پسند نظریہ ’ماورائی تصور‘ کے برابربیان کرنا چاہ رہا ہے: ایک ایسا نظریہ کہ جسے کانٹ نے ’نامعلوم جڑ‘ کہہ کرمتعارف کروایا ہے۔ بعد میں شیلنگ نے اسی خیال کو’لاادری شاعری‘ کہا ہے۔ جب کہ دوسرے درجہ کے ’’تصور‘‘ کو مناسب فنکارانہ کاموں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، کہ جسے کانٹ نے ’جمالیاتی بصیرت‘ اورشیلنگ نے شاعر کی الہامی تخلیقات سے شناخت کیا ہے۔ مزید یہ کہ کالریج لامتناہی (میں ہوں) کا حوالہ دیتا ہے، جوبظاہرخدائی عملِ تخلیق (اناجیل کے ’میں ہوں جوہوں‘) کا اطلاق آدمی کی خلاقیت پرکررہا ہے۔

بہرحال ایک نظرمیں مقدم اورثانوی تصور کی تفریق الجھادینے والی ہے۔ زیادہ غورکیا جائے توتصورکی ماورائی قوتوں کی مربوط تشکیل نوکی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ’’تخلیقی تصور‘‘ کے اس جدید طریقہ تحقیق پردیگرکئی رومانیت پسندوں نے بھی مہرتصدیق ثبت کی ہے۔ ورڈزورتھ نے تصورکوقوت مطلق کا دوسرا نام دیا، اوراسے عقل کی راحت قراردیا۔ بلیک نے اسے الوہیت سے پھوٹتی روحانیت کہا کہ جسے ہمیشگی حاصل ہے۔ اورشیلے نے A Defense of Poetry میں لکھا کہ عقل تصورکا ’سایہ‘ ہے۔

لب لباب: تصور کی پسپائی

جرمن مثالیت پسندی اور رومانیت پسند تحریک کے ساتھ تصور کی جدید تعریف اپنی انتہا پر پہنچتی نظرآتی ہے۔ کائنات فتح کرنے کے بعد لگتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں بچا جو تصورکی عملداری میں آنے سے رہ گیا ہو۔ مگر تصور کی یہ لاانتہا بلندیاں جلد ہی زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ اس زوال کے جڑیں رومانیت پسند تحریک کے اندر ہی ہیں۔ آدمی کی تخلیقی قوت کے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد یہ ناگزیر تھا کہ جلد یا بدیر سراب کی سی کیفیت پیدا ہو۔ رومانوی تصور ممکنہ طور پر اپنے وعدے پورے نہیں کرسکا تھا۔ یہ جدید وجودیت کے حقائق کا سامنا نہیں کر سکا تھا۔ سیاسی انتشار اور صنعتی انقلاب کی تباہ کن فطرت، معاشرے کی بیوروکریٹائزیشن اور میکانیت نے منڈی کی تشہیر کی اور سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری قائم کردی۔ روشن خیال تحریک اور رومانیت پسند تحریک کی امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔ تصورنے خود کو بہت جلد ناگوار پسپائی سے دو چار پایا۔ جیسے ماسکو کے بعد نپولین کی مہم جوئی وغیرہ۔

تصور کی یہ پسپائی پہلے ہی بہت سے رومانیت پسندوں کے کام میں محسوس ہوتی ہے۔ ورڈز ورتھ رومانوی تصور کو ایک مثالی استعارے کی صورت میں پیش کرچکا تھا کہ جب اُس نے لکھا کہ ایک شاعر اس ظالم دنیا کو چھوڑ کر واچ ٹاور میں گوشہ نشین ہوجاتا ہے۔ یہاں ایسا لگتا ہے تخلیقی تصور اپنی شان و شوکت کھو رہا ہے۔ اس کی تصویر سازی بلاشبہ جاری ہے مگر یہ حقیقت بدلنے کے قابل نہ رہا۔ رومانیت پسند افسانہ حقیقت میں نہ ڈھل سکا۔ سماجی تنازعات اور سیاسی انتشار کی جدید دنیا میں یہ بے جوڑ بےمحل ہوچکا تھا۔ اب یہ صرف حقیقی اور غیر حقیقی دنیا کے بیچ دیوار اٹھا رہا تھا۔ اب تصور صرف اپنی ناممکن آرزوؤں کواپنی حدوں میں محفوظ بنارہا تھا۔ حُسنِ خیال اور حقیقت کی یہ تقسیم صرف انگریز رومانیت پسندوں تک محدود نہیں تھی۔ مختلف درجوں میں دیکھا گیا کہ سارے یورپ کی رومانیت پسند تحریکوں میں یہ صورتحال پیدا ہو چکی تھی۔ جرمن رومانیت پسند فریڈرک شلر نے اپنی تحریروں میں پوری طاقت سے اس بات کا اظہار کیا کے حقیقت اور تصور میں طلاق ہو چکی ہے۔ اس نے اپنے Letters on the aesthetic education of man میں کہا کہ تصور ڈرامے کی جمالیات میں پوری ازادی سے غیر حقیقی دنیا تخلیق کر رہا ہے۔ ’’تصور‘‘ حقیقت کی دنیا سے چھلانگ لگا کر ایک خیالی دنیا ایجاد کر رہا ہے۔ شلر اسے ڈرامے کی تفریحی دنیا کہتا ہے۔ اس کی وجہ یہاں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ذہن اور جسم کے درمیان روایتی دوہرا پن جیسے آرٹ میں دورکیا جاسکتا ہو۔ مگرحقیقی تاریخ میں ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی کوئی خدائی سلطنت نہیں ہے جو خدا ہم پر منکشف کرے۔ یہ صرف آدمی کے تصور کا جمالیاتی پروجیکٹ ہے۔ تصور کی دنیا وہ ہے جہاں آدمی خود ہی بادشاہ ہے اور خود ہی اپنے بہترین افسانوں کا خالق۔ شاید ہیگل بھی یہی کر رہا تھا کہ جب وہ کہہ رہا تھا کہ انسانی طاقت کی ساری حقیقت ’’روح کامل‘‘ میں ہے۔ اور جیسا کہ بعد میں رومانیت پسند مفکر ویلیس سٹیونس نے کہا کہ تصور ایک ایسی قدر ہے کہ جس کے ذریعہ ہم خدا کے خیال کو آدمی کے خیال میں پراجیکٹ کرتے ہیں، تصور ہی واحد ذہانت ہے۔

تصور کے بارے میں رومانیت پسندوں کی دنیا اپنے اندرایک مصنوعی جنت تھی جو خود کوہلاکت میں ڈالنے والی تھی۔ یہ تاریخی حوادث کے ردعمل میں وجود میں آئی تھی۔ جیسے جیسے فطرت پر مشینی اصولوں کی حکمرانی قائم ہوتی گئی، مثبت سائنسز اور معاشرہ صنعتی چیرہ دستیوں کا شکار ہوا، اور سرمایہ دارانہ نظام پھیلتا چلا گیا، تصور زیادہ سے زیادہ اپنے آپ میں سمٹنے پر مجبور ہوتا چلا گیا۔ تصور کی دنیا ایک جادوئی دنیا بن کر رہ گئی۔ اس طرح انسان کی موضوعیت تاریخی حوادث کے باوجود اپنا تخلیقی عمل بظاہر جاری رکھ سکی، اورتاریخ کی نفی کرتی رہی۔ رومانوی آرٹ نے مظاہر کی اپنی ایک دنیا قائم کرلی۔ اس پیشکش میں ثقافت اور حقیقت لا تعلق ہو کر رہ گئے۔

یہاں سے پرومیتھیس کی بطور ایک مثالی ہیرو واپسی ہوئی۔ جسے یونانی اسطورمیں اورمابعدالطبیعات میں دیوتاؤں کی تخلیقی قوت والی آگ چرانے والا قرار دیا گیا تھا، کہ جس نے بعد میں یہ آگ آدمی کوبخش دی تھی۔ پرومیتھیس نے ایک بار پھر رومانوی ادب میں نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔ Denis Donoghue نے پرومیتھیس کی واپسی کی منطق کچھ اس طرح بیان کی ہے:

پرومیتھئین شاعر محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تقدیر کا انحصارصرف اُس کی ذات پرہے، اور اسے ہرگزکسی مدد کی ضرورت نہیں۔ رومانوی ادب میں پرومیتھئیس عمومی طور پر ایک شاعر ہے۔ وہ فطری حُسن کا محافظ ہے، ایک ایسا تیزفہم جوبڑھتی ہوئی مادی دنیا کے خلاف مقدمہ قائم کرتا ہے۔ اس بات سے انکارمشکل ہے کہ پرومیتھئین محرک رومانوی ’’تصور‘‘ میں سرگرم رہا۔ اسے یقینی محرکات میں قریبی تعلق کے طور پر دیکھا گیا کہ جسے الگ کرنا مشکل ہے۔ پرومیتھئیس کا قصہ ایسا ہے کہ جیسا جنت گم گشتہ میں شیطان کا کردار ہے۔ اس بغاوت کی پہلی خاصیت یہ ہے کہ پرومیتھئیس خود پر تنقید نہیں کرتا اور نہ ہی اپنا جائزہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے اس کی یہ بغاوت اپنے آپ میں قابل جواز ہے وہ گناہ کرتا ہے مگر اس نظام انصاف کی مذمت کرتا ہے جو اسے سزا دیتا ہے۔ وہ گناہوں کا کوئی اعتراف نہیں کرتا۔ وہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی توجہ اپنے نام پرمرکوز رہتی ہے۔

رومانوی انسانیت پرستی قدیم اسطور کی بغاوتوں کو بحال کرتی ہے۔ مثال کے طور پہ شیلے پرومیتھیئس کا قصہ دوبارہ لکھتا ہے۔ اسی طرح کے اور ہیروز کو از سر نو تشریح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جیسے ڈاکٹر فاؤسٹ اور ڈاؤن جون وغیرہ۔ اب آسمانی شرارہ آدمی کے ارادے اور خواہش کی گہرائیوں میں تلاش کیا جارہا ہے۔

جیسا کہ بلیک نظم یروشلم میں اعلان کرتا ہے کہ الہامی شاعر کا کام ان لافانی آنکھوں کو کھولنا ہے جو آدمی کے اندر کی فکری دنیا کو بیدار کرسکیں۔ اسطوری باغی فاتحانہ شان کے ساتھ لوٹے ہیں۔یہ تمام اخلاقی اور علمی اصولوں سے آزاد ہیں۔ یہاں جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ انکار کی توانائی ہے۔ یہاں کسی بھی قادر مطلق دیوی دیوتا کی حکمرانی معطل کردی جاتی ہے۔ رومانیت پسند ماورائی تصور کو اپنے آپ میں خوش اور مگن دیکھتے ہیں۔

بہت سے رومانیت پسندوں نے اس صورتحال سے بے خبر رہنے کا فیصلہ بھی کیا۔ تصور کا خواب چکنا ہونا شروع ہوا تو تاریخی وجودیت کے حقائق تیزی سے مداخلت کرنے لگے۔ نظریہ تصور کی تاریخ کا یہ وہ نقطہ تھا جہاں رومانیت پسند مثالیت کا اختتام ہوا اور وجودیت پرستی کی ابتدا ہوئی۔

تتمہ

کانٹین تصور۔۔۔ ہائیڈیگرکی تشریح

اپنے متنازع کام میں Kant and Problem of Metaphysics جو 1929 کو شایع ہوئی۔ مارٹن ہائیڈیگر نے دعوی کیا کہ کانٹ کا نظریہ تصور مغربی فلسفہ میں ایک فاصل آب watershedہے۔ ہائیڈیگر کا تجزیہ ہے کہ کانٹ نے سائنسی مابعدالطبیعات کی بنیادیں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ کانٹ نے اس نظریہ پر چوٹ لگانے کی سعی کی کہ ہمارا سارا علم انسانی موضوعیت کی محدودیت سے ماخوذ ہے۔ وہ محدودیت جو اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ محض عقل تجربے کے معروضات تک نہیں پہنچ سکتی، سوائے اس کے کہ قوت وجدان سے زمان و مکاں کی وسعتوں تک رسائی حاصل کی جائے۔

دراصل ہائیڈیگر یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ کانٹ محض تصور کے روایتی نظریہ کی تکرار نہیں کررہا تھا کہ جو جسم اور ذہن کے درمیان پل کا کام کرتا ہے، بلکہ وہ تصور کے ’’تخلیقی‘‘ کردارکو جذبہ اور ادراک کی وحدت میں مستحکم کررہا تھا۔

ہائیڈیگرکا اصرارتھا کہ کانٹ نے وجدان اور فکردونوں کوتصورکے ’تشکیلی مرکز‘ کے طورپراز سر نو متعارف کروایا ہے۔ ہائیڈیگر نے اس طرف توجہ دلائی کہ کانٹ درحقیقت ’’تصور‘‘ کا مثبت پہلواجاگرکرتا ہے، اس کا وہ کردار جو’حسی ادراک‘ ادا کرتا ہے، وہ تصویریں جوفہم کی اپنی تخلیق ہیں، نہ کہ اخذ شدہ پیشکشیں۔ ’حسی ادراک‘ تخلیقی تصورکی وہ خاصیت ہے جوممکنہ اشیا کے تجربہ میں آنے سے پہلے ہی تصورات میں تشکیل پاجاتی ہیں۔ اشیا کی یہ قبل ازوقت ’تفہیم وتشکیل‘ کانٹ کی نظر میں ’خالص تخلیقی تصور، تجربہ سے بے نیاز، کہ جس کی پیشکش تجربہ سے پہلے ممکن ہے‘۔ یہ ماورائی آزادی ہے جس میں یہ عمومی طورپرمعروضیت کی پیشگی اولیت کا کام کرتی ہے۔ ہائیڈیگر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ’وقت‘ کے لیے ہماری تفہیم کی اصل یہی ہے: ’تصور‘ پیشگی متشکل ہوتا ہے اورشے کے ہرتجربہ سے پہلے سوچ کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ تصورکا انحصار شے کی ’موجودگی‘ پر نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں زماں خالص وجدان ہے جو’حسی ادراک‘ کے کل تجربہ کے اُفق پر کام کرتا ہے۔ مگرایسا اس صورت میں ہی ہوگا کہ جب تفہیم کا تعلق ماورائی تصورسے ہو، اورجوصورت پیشگی خیال میں بن جائے اپنے آپ میں بھی لازما ’تصوراتی‘ ہونی چاہیئے۔ یہ ایک ’کچھ‘ تصوراتی ہے۔ یہ اجنبی ’کچھ‘ کہ جوحسی اشیا کے بالمقابل ’کچھ نہیں‘ ہے، مگر اپنے آپ میں ’زمان‘ ہے: اُفق پرموجود ایک امکان، حسی ادراک سے فرض کرلی گئی تمام ’اصل اشیا‘۔ اس طرح، نتیجتا زماں time کے خالص ادراک نے ’حسی ادراک‘ کوممکن بنایا، کہ جسے اب خالص تصور کے طورپر شناخت کیا گیا، کانٹ نے مؤثر اندازمیں یہ واضح کیا کہ ذکاوت کی جڑیں درحقیقت ’ماورائی تصور‘ میں ہیں۔ تصور اور زمان میں کانٹ کا باہمی ربط قائم کرنا ہائیڈیگر کی ’وجودیت پرست‘ تشریح کا مرکز ہے۔ لہٰذا ’تصور‘ یقینی طور پر تخلیقی خودمختار ہے۔ ہائیڈیگر کہتا ہے کہ تصور کی یہ ’تشکیلی طاقت‘ بہ یک وقت بے ساختہ طور پر اخذ کرنے والی اور تخلیق کرنے والی دونوں ہے۔ یہ بہ یک وقتی ’تصورکے سانچے‘ کا جوہر ہے۔ تاہم اگر اخذ کرنے کی اہلیت معقولیت اوربے ساختگی فہم کے ساتھ نتھی کی جائے تویہ ان کے بین مخصوص راہ نکالتا ہے۔ یہ سجھاتا ہے کہ تصور تخلیق کی اصل قوت ہے جس کی غیر موجودگی میں حس اور فہم دونوں بے معنی ہوجاتے ہیں۔ یہ قوت تصورہے جوقوت فہم کوموازنہ، صورت گری، امتیاز کرنے، اور ہم آہنگی کا اہل بناتی ہے۔ تصورکا یہ تجزیاتی کردار، حس اور قوت فہم کی پیشگی علم کی خاصیت ہمیشہ سے لاشعور میں ودیعت ہے۔ یہ ایک چونکا دینے والی فکر ہے، کہ جس کی تحقیق واضح کرسکتی ہے کہ مغربی فلسفہ کوکیوں دوہزار سال اس ’حقیقت‘ کی موجودگی کے اعتراف میں لگے۔ کانٹ تسلیم کرتا ہے کہ عمومی طور پر یہ سنتھیسز قوت تصور کا نتیجہ ہے، روح کی ایک اندھی مگر ضروری کارگزاری ہے، کہ جس کے بغیر ہم کسی علم کے اہل نہیں۔

ہائیڈیگر کانٹ کے ماورائی تصورکی اہمیت اور علمیت تسلیم کرتا ہے، وہ اسے ’وجود‘ کے تجزیہ کے لیے فیصلہ کُن پیش بینی قرار دیتا ہے، اس کی تحسین کرتا ہے۔ وہ اپنی تصنیف  Being and Time (1927) میں ممکنات کے عارضی منصوبہ کے بنیادی خطوط میں اسے بیان کرتا ہے۔ کانٹ نے مابعدالطبیعات کوزیرکرنے میں اہم حصہ ڈالا ہے۔ وہ شاید پہلا مغربی فلسفی ہے کہ جس نے اس طرف اشارہ کیا کہ وجود کی بطور مستقل موجودگی کا روایتی نظریہ نہ کم نہ زیادہ بس ایک ’’پراڈکٹ‘ تھا: آدمی کی محدود موجودگی کے جوازکا عارضی منصوبہ۔ کانٹ مانتا ہے کہ ’موجودگی‘ کوئی معروضی ماورائیت نہیں کہ قبل از زماں وجود رکھتی ہو۔ یہ ہماری ماورائی قابلیت سے تشکیل پانے والی وہ کیفیت ہے جو آزادی سے زماں سے گزررہی ہے۔ یہ تجریدی ہے۔ ہائیڈیگر نے کانٹ کی ’ماورائی تصور‘ کی دریافت کی تحسین کی، اسے ’وجود‘ کی ’زماں‘ کی اصطلاح میں تشریح کی کوشش قراردیا۔ Kant and the Problem of Metaphysics میں ہائیڈیگر سمجھاتا ہے کہ کیسے وجود کی مابعدالطبیعاتی تعریفیں حتما زماں سے جا جڑتی ہیں۔ وجود کی اس تفہیم کی بنیاد کیا ہے؟ زماں سے یہ تعلق بلکہ ابدیت سے ’وجود‘ کا یہ رشتہ ’مستقل‘ ہے، کہ جو اب ’زماں‘ میں ہی قابل فہم ہے۔ وجود مناسب معنوں میں ’موجودگی‘ کے طورپر ہی سمجھا گیا ہے۔

کانٹ وہ پہلا جدید مفکر ہے جس نے ’وجود‘ کی وجودیت کا خاکہ کھینچا اور اسے’زماں‘ میں مستحکم کیا۔ کانٹ کا یہ کہنا مغربی فلسفہ کے نظام پر وسیع اطلاقات کا حامل ہے کہ ’ماورائی تصور‘ ہمارے ’فہم وجود‘ کا ’اصل الاصول‘ ہے۔ اس بات نے اختلافات کے سارے سلسلہ کوتہ وبالا کردیا۔ سب سے پہلے کانٹ نے عقلیت پرستی اور جذبات پرستی کے دوہرے فلسفوں کے نظام ڈھائے۔ واضح کیا کہ دونوں ’تصور‘ کی پیداوار ہیں جو بہ یک وقت حسیاتی اور معقول دونوں ہے۔ کانٹ نے ’عارضی اور مستقل ذات‘ کے روایتی اختلاف کی بیخ کنی کی۔ کانٹ نے وجود اور عدم وجود کے درمیان ’قطعی نوعیتی تقسیم‘ کو چیلنج کیا، واضح کیا کہ وجود کی بطور ابدی ’موجودگی‘ کے بارے میں ہماری ساری سمجھ کی جڑ تصور کی عارضی تخلیقات میں ہے۔ کانٹ نے ’منطق‘ کی نظری اور اخلاقی تعریفات میں اختلاف الٹ کر رکھ دیا۔

کانٹ اس بات سے بے خبر نہ تھا کہ مابعدالطبیعاتی روایات کویوں الٹے قدموں پھیرنا ’تباہ کن‘ نتائج سامنے لاسکتا تھا۔ وہ اس معاملہ میں اپنی اس پوزیشن کے اثرات دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ ہائیڈیگر نے کانٹ کی گو مگو کیفیت ڈرامائی انداز میں بیان کی ہے: اگر پست کواعلٰی درجہ کی جگہ دے دی جائے توہرشے الجھ نہ جائے گی؟ اُس معزز روایت کا کیا ہوگا کہ جس کے مطابق ’قدر‘ اور ’کلام ربانی‘ کا کردار مرکزی ہے؟ کیا منطق مقدم نہیں رہے گی؟ کیا ماوراالطبیعات کی ’ماورائی جمالیات‘ اور ’منطق‘ دونوں میں بنیاد مستحکم رہے گی؟ اور کیا کانٹ کی عقلِ محض پرتنقید خود اس کی اپنی تھیم ’عقلِ خالص‘ سے محروم نہیں ہوجاتی کہ جسے اُس نے ’ماورائی تصور‘ کی صورت دے کر پیش کیا ہے؟

اس سلسلہ کا اگلا یعنی پانچواں مضمون اس لنک پہ

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

Facebook Comments Box
A Defense of Poetrybeauty and sublimeCOGITOCritique of judgmentCritique of Pure ReasonDenis DonoghueKant and Problem of MetaphysicsLetters on the aesthetic education of manmind’s suprasensible provinceNew Essays in Human UnderstandingOn The Improvement of the UnderstandingParacelsus and BrunoThe System of Transcendental IdealismTHOUGHTS CONCERNING EDUCATIONتجربیتڈیکارٹ کا فلسفہرچرڈ کئیرنیرومانیت پسند تحریککانٹ اور ماورائی تصورکانٹ کی جمالیاتمابعد تصوروجود
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایزد عزیز : حیرت کا ہم راز — خاکہ نگار : یاسر رضا آصف
next post
عمران کی انتخابی مہم اور مانسہرہ کا پاگل — حبیب اکرم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.