تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
English

by دانش ڈیسک 28/01/2024
written by دانش ڈیسک 28/01/2024
174

وحی الٰہیہ انبیا علیہم السلام کے قلوب واذہان کے ذریعے تاریخ سے تعامل interact کرتی آئی ہے۔ یوں جہاں آدم تا محمدﷺ وحی کا ابدی ودائمی پیغام توحید باری تعالیٰ، عمل صالح اور یوم آخرت پر ایمان رہا ہے جسے بالاجمال اسلام کا نام دیا گیا ہے وہاں وحی ہرعہد کے مخصوص نفسیاتی، سماجیاتی اور تاریخی حقائق وعوامل کی روشنی میں انسان کو اخلاقی اور سماجی و معاشی خودکشی سے بچانے کے لیے کاروان انسانی کی ہم سفر رہی ہے جس نے سرور انبیا کے بعد انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی غرض سے خود انسانی مفاد میں اپنی تکمیل اور خاتمے کا اعلان کیا۔ یوں کسی بھی صاحب وحی کے پیغام کو سمجھنے کے لیےضروری ہے کہ اس کے عہد کی Psychological, sociological and historical settings or conditions کا مطالعہ کیا جا ئے۔ جرمنی میں بائبل کی تشریع وتوضیع کے لیےیہی اصول اپنایا گیا اوراسے وہ Sitz im Leben کہتے ہیں۔ یعنی کسی بھی رسول کی شریعت کو سمجھنےکے لیے اس عہد کے Social milieu کا ادراک ضروری ہے۔ کیونکہ احکام شریعہ خلا کے برعکس مخصوص سیاق و سباق کے حامل ہوتے ہیں اوران کی context سے ماورا تفہیم زیادہ تر بگاڑ اور خرابی آباد کرتی ہے اور علم کے ہاتھ میں عشق کی تیغ جگردار سے خالی نیام تھما دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے قرن اول کی نسل اسلام نے آیات الٰہیہ کے مخصوص نفسیاتی و نفسانی، سماجیاتی، سیاسی اور تاریخی پس منظر کو قلمبند کرنا ضروری سمجھا جسے ہم “شان نزول” کے نام سے جانتے ہیں تاکہ متاخرین قرآن کے عالمی نظریہ اخلاق اور احکام کو متن پرستانہ اپروچ کے بجا ئے قرآن کے حتمی مقصود و منتہیٰ کو محل نظر رکھیں۔ قرآن نے ذہنی زیست سے کہیں زیادہ حیات قلب کو مطمع نظر بنا کر دل کے شریف داعیات کو ایسی جلا بخشی کہ اخلاقی تناظر کو عین حیات اور مادہ پرستانہ تصورحیات کو عین ممات قراردیا(۱)۔ آیات الٰہیہ عقل کے عقدے بھی کھولتی ہیں تاہم ان کا بنیادی مقصد قلب منیب کو چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں بنا کر جہان حیرت کدہ بنانا اور تسلسل حیرانی کے ہنگام ہستی کے غیرمختمم دست بستہ رازوں سے انسان کے لامتناہی اخلاقی امکانات کو جلا دے کر پردہ اٹھاتے چلے جانا ہے۔ رومی نے کیا عمدہ نصیحت کی ہے۔ “زیرکی بفروش وحیرانی بخر۔ ۔ زیرکی ظن است وحیرانی نظر”۔ عقل کی عیاریوں کو بیچ کردل کی حیرانیاں خرید کیونکہ عقل کا رخت حیات ظن وتخمیں اور دل کی متاع حیرانیوں کے ہنگام مازاغ البصروما طغیٰ سے متصف ہو کر “حق” پر نگاہ پاک سے ایسی کمند ڈالنا ہے کہ نظر کا اپنے ہدف سے اوپر نیچے یا دائیں بائیں پڑنا مطلقاً خارج از امکان ٹھہرے۔ “بوعلی اندرغبارناقہ گم۔ ۔ دست رومی پردہ محمل گرفت”۔ ایں فروتر رفت و تاگوہر رسید۔۔ آں بگردابی چو خس منزل گرفت”۔ بوعلی اونٹنی کے غبار(فلسفیانہ موشگافیوں) میں مگن رہا اور رومی کا ہاتھ لیلا ئے مقصود(لیلا ئے مطلقہ پر پڑا) پر پڑا، ایک نے گہرائی میں جاکر گوہر تک رسائی حاصل کی اور دوسرے نے تنکے کی مانند گرداب اور سطح آب کو منزل جانا۔

قرآن پارس و روم کے برعکس اہل عرب پر کیوں نازل ہوا؟

پارس و روم کی علمی روایا ت چونکہ صنعیت اور وضعیت کے صناعی اور وضعی ڈھانچوں میں پختہ تر ہوکر زیرکی کی فروتر و فرسودہ چالوں کا ناقابل دفاع و نجات صیدزبوں بن چکی تھیں اس لیے تہذیب و تمدن کے یہ نام نہاد مراکز قرآن کے گہرائی اور گیرائی بھرے پرمغز مقفیٰ و مسجع اور مرفع طرز کلام کے سزاوار نہیں تھے۔ “زہر کلام کلام عرب فصیح تراست۔۔ بجز کلام خاموشی کہ افصح ترعرب است”۔ زبان عرب کی افصح الخیالی اور بلیغ البیانی کا بجز کلام خاموشی کس سے موازنہ ہو کہ ان پروردگان صحرا کے کلام اور فکر وعمل کی پتواریں دماغ کے برعکس دل کے ہاتھ میں چلی آرہی تھیں۔ صرف شاعری ہی نہیں ان کی نثر بھی بلیغ و فصیح تھی۔ ان کے علمی مذاکرے جو Oracle میں منعقد ہوتے ان کی نوعیت بھی نیم شاعرانہ اور نیم نثری تھی۔ کسی ایک ایشو سے متعلق دلائل کے سارے جملوں کے آخری الفاظ ہم قافیہ ہوتے، گفتگو کے ایک پہلو سے دوسرے پہلو میں داخلہ نثری جملوں کی نئی قافیہ بندی پر مبنی ہوتا۔ کہا جاسکتا ہے کہ شاعری کی طرح وہ نثری دلائل کے ڈول بھی حوض قلب سے بھرا کرتے تھے اور اپنے اس حسن کلام اور حسن دلیل کے زور پر ان نے غیرعربوں کو عجم کہا۔ قرآن نے ان کو انہیں کے ڈکشن اور اسلوب میں مخاطب کیا تو کچھ کلام شناسوں نے شاعری اور نثردونوں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ قرآن نے ان کے مشاعروں اور علمی مذاکروں کو ششدر و گنگ کردیا۔ وہ کانھم حمرمستنفرۃ، فرت من قسورۃ(74:50-51) اور وہ وان یقولواتسمع لقولھم، کانھم خشب مسندۃ (۶۳:۴) کی جیتی جاگتی تمثیل بن گئے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان صحرانشینوں میں بیاض دل کاچلن تھا۔ ان کے کبروجہل کے سوتے بھی دل ہی سے پھوٹےتھے اورجوحنفاء تھے وہ بھی دل وضمیرہی کے whispers کی بنیاد پرتھے۔ منافقت، چاپلوسی اورتصنع توکیا ان کے ہاں بخل بھی لغووتاثیم کا استعارہ تھا۔ وہ عجم کے مقابلے میں زیادہ Egalitarian & democratic تھے۔ انسان کی فطرت دل پر engineered ہے اس لیے وحی عقل سے زیادہ دل کو مخاطب کرتی آئی ہے۔ رسول اللہﷺ کا مذہبی تجربہ اسی دل کی اقلیم سے پھوٹا اورقرآن نے دل مصطفےﷺ کو Locus of Revelation قرار دیا (42:24;17:86)۔ اقبال نے اسی حقیقت کوآشکارکیا ہے۔ “جہاں از عشق وعشق از سینہ تست۔ ۔ سرورش ازمی دیرینہ تست” جز ایں چیزی نمیدانم زجبریل۔ ۔ کہ اویک جوہرازآئینہ تست”۔ اے رسولﷺ جہاں کی تقویم عشق پرہے اورعشق کا وجود آپ کے سینے سے ہے اور جبرائیل سے متعلق میں اس کے سواکچھ نہیں جانتا کہ وہ آپ کے آئینے (دل) کا ایک جوہرہے۔

فہم دین کے لیے تصوف کیوں ضروری ہے؟

تصوف اسلامی جو رسول اللہ کی میراث ہے وہ دراصل فہم دین کے ایک ہتھیار سے ماورا کچھ نہیں ہے۔ عربی اور ماوراالنہری تصوف کی بنیاد یہی ہےاس لیے اس کی نیو قرآن و سیرۃ پر اٹھی ہے۔ یہی وجہ ہےامام مالک، ابن تیمیہ اور مجددالف ثانی کے فکر وعمل میں کامل ہم آہنگی نظرآتی ہے۔ مقصد تو غزالی کا بھی یہی تھا کہ وہ صوفی تجربات کی مدد سے ایمان کی سچائیوں اور اصولوں کا حقیقی زندہ و جاوید لمس حاصل کریں اور صوفیانہ طرز کی بارہ سالہ خارہ شگافی سے نتیجہ بھی یہی اخذ کیا کہ ایمان درحقیقت صرف حیات قلب کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے اور اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ صوفیانہ تجربہ کوئی cognitive content نہیں رکھتا۔ تاہم عجمی روح Bare-minimum Truth پر کہاں قانع رہ سکتی تھی۔ زبان و دہن و گوش عجم مبالغہ پسند واقع ہو ئے ہیں۔ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ امام غزالی یا توسرزمین عراق و ایران کے عیسائی ماہرین الٰہیات سے متاثر ہوئے ہیں یا انہیں سلجوق مفادات نے مجبور کیا یا پھر ابن تیمیہ کے بقول ان کی قرآن واسوۂ رسول سے کمزور رشتے کی دلیل ہے یا ان کا ثانوی ماخذ اسلام پر انحصار ہے کہ ان کا تصوف کسی اجتماعی جدوجہد سے نظم اخلاق کے قیام میں دلچسپی لینے کے برعکس جو کہ ابتدائی خالص اسلام کا جزولاینفک تھا، انفرادیت پسندی Individualism, Personalism or personal salvation پر منتج ہوا۔ یہ تصوف اچھے ہندو اور اچھے مسلم، یا اچھے بدھسٹ اور کرسچین مونک میں فرق نہیں کرتا۔ پھر شاعر، ادیب، ماہر لسانیات، فلسفی اورصوفی ابن العربی کے لیے یہ لائن گویا تخیلاتی ریاضتوں کے لیے نعمت مترقبہ یا water- shed event تھی۔ انہوں نے شاعرانہ تخیل کے زورسے ایک ایسی Syncretic Sufi movement کی بنیاد رکھی جس نے دیگر مذاہب کی تصوفانہ روایات کو بھی اپنے اندر ضم کرلیا اور وہ اسے Sufi Theosophy کے زور سے منوانے میں بھی کامیاب ہوگئے کیونکہ ان کا صوفی تجربہ انہیں کشف کی بنیاد پر infallible content دے رہا تھا جو عقل خطاکار کی پہنچ سے بہت دور تھا۔ پھر جب اسے ابن سینا کی فلسفیانہ cast میں پیش کیا گیا تو کمیونٹی کے اجتماعی فیبرک سے عقل کی چھٹی مغربی استعمارکی آمد تک ناگزیر ٹھہری۔ تاہم یاد رہے سرزمین عرب اور ماوراالنہر سے جتنے صوفی مصلح اٹھے ان کے ہاں collectivism ہے اورقرآن و سیرت کی بنیاد پر Moral initiative کی تحریک ہے۔ جبکہ عجمی تصوف نے اس پہل کاری کو حرف غلط نہیں تو حرف مکرر ضرور جانا۔ ہندوستان میں شیخ مجدد کی خدمات لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے ابن العربی کے وحدت الوجودی فلسفے کو اپنے صوفیانہ تجربات کی مدد سے حتمی منزل سے پہلے کا immature پڑاؤ اور ناکافی ثابت کیا جسے Transcend کرنا ضروری تھا۔ شیخ نےتصوف کی تاریخ میں پہلی دفعہ پیغمبرانہ اورصوفیانہ مذہبی تجربے کے درمیان حدفاصل کا تعین مضبوط نفسیاتی بنیادوں پر کیا۔ کہا کہ نزول بمقدار صعود ہوتا ہے۔ صوفی کا صعود نامکمل ہوتا ہے پہلی منزل monistic stage ہےاس مقام پر صوفی کا جذب اس قدر intensive ہوتا ہے کہ خداکے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا جس طرح دن کی روشنی میں ستارے اپنا وجود رکھنے کے باوجود ضیائے شمسی میں تحلیل دکھائی دیتے ہیں۔ یوں صوفی کو ہمہ اوست کہنا پڑتا ہے جوکہ optical illusion کے ماسوا کچھ نہیں ہے۔ یوں صوفی کائنات کوخدا اور خدا کو کائنات قرار دیتا ہے۔ ابن العربی کے ہاں God-world identity اسی نامکمل تجربے کی زیاں کاری ہے۔ اس مقام کو Transcend نہ کرنا نفس کی مفلوک الحالی کا سبب بنتا ہے۔ ابن العربی نے اسی نامکمل تجربے کی بنیاد پر Speculative Philosophy کا بھرپور دبستان مرتب کیا۔ نبی کے مذہبی تجربے کا province اس سے بہت اوپر کامل صعود کا متقاضی ہے جہاں انبیا کی mediacy سے کچھ صوفیا بھی پہنچتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے اخلاقی اقدارکا content ملتا ہے جسے وہ بعد ازنزول تاریخ کے گوشت پوست میں انجیکٹ کرتے ہیں۔ صوفی کا جزوی نزول جزوی صعود کا نتیجہ ہوتا ہے اس لیے اسے زمین کی فضا راس نہیں آتی۔ جب زمین خداوند عظیم کی دلچسپیوں کی آماجگاہ ہے توصوفی کا زمین سے فرار چہ معنی دارد؟ یوں جہاں ابن تیمیہ نے اپنی Traditional learning کے زور پر ابن العربی کو Epitome of everything un-islamic قرار دیا وہاں شیخ مجدد نے اپنے صوفیانہ تجربات کی روشنی میں انہیں Saint in cardinal error کہا۔ شیخ مجدد کا تصوف حجازی نوعیت کا تھا جو moral imperatives کے ساتھ زمین پر عالمی نظم اخلاق کے قیام کا خواستگار ہوا۔ باقی رہے شاہ ولی اللہ جوخود صوفی بھی تھے اور عظیم نابغہ اسکالر بھی۔ علم و فضل کی اقلیم پر وہ شیخ سرہندی اور ابن تیمیہ تو کیا ابوالحسن العشری اور رازی وغیرہ سے بھی بلند مرتبہ ہیں۔ مگر اصول تطبیق جہاں ان کی عالمانہ طاقت کا سرچشمہ ہے وہاں یہ ان کی گراں قدر کمزوری بھی ثابت ہوا۔ شاہ صاحب کی Synthetic approach نے جہاں فقہ وحدیث اورعلم التفسیر کی بڑ ی گتھیاں سلجھائیں وہاں ان پر اصول تطبیق کا خبط اتنا سوار تھا کہ وہ آگ اور پانی کے درمیان بھی تطبیق ڈھونڈ نکال لیتے تھے۔ وحدت الوجود اوروحدت الشھود کے درمیان تطابق پیدا کرنا ایسی ہی مثال ہے۔ یوں ایک طرف جہاں انہوں نے نظریہ ارتفاق واقتراب کی مدد سے عالمی نظم اخلاق کے قیام کو نہ صرف قرآن و سیرۃ کی بنیاد پر ثابت کیا بلکہ ایک قدآور ماہر سماجیات و نفسیات کی حیثیت سے اسے sound intellectual foundations فراہم کیں وہاں وحدت الوجود کی توثیق سے بالواسطہ طور پر ایسی جہد پیہم کو کار مہمل بنا دیا۔ یوں جہاں شاہ صاحب کے فکری ورثاء کانگریس کے ساتھ متحدہ بھارت کے داعی تھے وہاں شیخ مجدد سے انسپایریشن لینے والے اقبال نے Single-handedly قیام پاکستان کے حق میں فضا بدل دی۔ فہم اخلاق کی حرکیات moral dynamism ادراکی حرکیات cognitive dynamism کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ادراک بڑھتا ہے اسی حساب سے اخلاق نمو وعلو پاتا ہے۔ اخلاق کے نئے نئے زاویے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ادراک محض کی اقلیم ہو یا اخلاقی ادراک شیخ مجدد دونوں اقلیمات پر بلندی اور ترفع کا استعارہ واقع ہو ئے ہیں۔ یوں خواہ ہندو زعماء ہوں یا شاہ صاحب کا فکری وارث دارالعلوم دیوبند یا پھر پاکستان اور بھارت کے بیرونی بھی خواہ جلد یا بدیر سب پر یہ بدیہی سچ آشکار ہوکر رہے گا کہ برصغیر کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی عقدے کا حل ہندو مسلم باہم انجذاب integration کے برعکس ہندو مسلم co-existence میں ہے جس کا بلو پرنٹ چار صدیاں قبل شیخ مجدد نے پیش کیا تھا۔

”Of course, if one wants to push back the sharp Muslim-Hindu division in the sub-continent and hence trace back the seeds of India-Pakistan division, one can logically go back to the Mujaddid’s teaching2.”

اور جب بھی قیام پاکستان کی فکری جہات اور بنیادوں کو معروضیت کی اقلیم پرکھوجا اور پرکھا جا ئے گا تواس کے ڈنڈے علیگڑھ یا دارالعلوم دیوبند کے برعکس فکر مجدد سے جا ملیں گے جس کے زور پر اقبال نے قیام پاکستان کی ضرورت کو برصغیر کے مسلمانوں کا Rallying cry بنایا۔

شاہ ولی اللہ اور اقبال کے مطابق وحی زندگی کی آفاقی خصوصیت ہے

مذکورہ بالا پس منظراس لیے ضروری تھا کیونکہ حیات قلب اورتصوف اسلام کا جوہری معاملہ ہے اور صوفی متکلمین نے فقہاء اور مسلم حکماء کے برعکس تفہیم دین میں زیادہ کلیدی اور موثر کردار ادا کیا ہے، تفہیم دین میں بڑے سے بڑا سنوار اور بڑے سے بڑا بگاڑ تصوف ہی سے آیا اس لیے اس کا مختصرناقدانہ جائزہ ضروری تھا۔ اب ہم چلتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ کسی بھی رسول کی شریعت کو سمجھنے کے لیےاس دور کے Sitz im Leben کا ادراک کیوں ضروری ہے؟ ارتقا  اورترقی حیات اور کائنات کا تلازمۂ اور حسن ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:

“ The natural law ordained by God has provided for each species a Sharia i.e. a course of conduct, which is transfused in the heart of each individual member of the species. Likewise, God has inspired man to instinctively pursue his beneficial ends (irtifaqat) with regard to these necessities3”.۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ صاحب اسپیشیز (حیوانات و نباتات) کی شریعت کو one-off جامد امر نہیں مانتے۔ ان کے مطابق جب بھی کوئی اسپیشیز اپنے خوابیدہ امکانات کو بدرجہ اتم برو ئے کارلاتی ہے after exhaustion of potentials ملا ئے اعلیٰ سے اسے نئے امکانات کا سیٹ عطا ہوتا ہے اور یہ ایک پیہم عمل ہے۔ اب خواہ ملا ئے اعلیٰ کا تصور ہمیں غیرسائنسی لگے تاہم عملاً اسپیشیز کا جاری ارتقا وترقی ایک بدیہی سچ ہے۔ یہی ارتقا وترقی شاہ صاحب کے فلسفہ تقدیر کی linchpin ہے جو آپ کو ابوالحسن الاشعری اور رازی وغزالی سمیت دیگر صوفی اور آرتھوڈاکس متکلمین سے ممتاز کرتی ہے جو ایرانی زرتشتی فلسفہ تقدیر کے زیراثر تقدیر کو کامل Preordained settled fact سمجھتے ہو ئے جو چاہو سو آپ کرو، ہم کوعبث بدنام کیا” پہ یقین رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب کے تصور تقدیر اور نظریہ ارتقا وترقی کو اقبال نہایت کنکریٹ سائنسی پیرا ئے میں بیان کرتے ہیں

“ Indeed the way in which the word ‘wahy’ (inspiration) is used in the Quran shows that the Quran regards it as a universal property of life; though its nature and character are different at different stages of the evolution of life. The plant growing freely in space, the animal developing a new organ to suit a new environment, and a human being receiving light from the inner depth of life, are all cases of inspiration varying in character according to the needs of the recipient, or the needs of the species to which recipient belongs.4”۔

یوں مظاہر فطرت میں اس امرکا اثبات ملتاہے۔ ٹھنڈے علاقوں کا اونٹ کیونکر دوسرا کوہان پیدا کر لیتا ہے اور کبوتر کیسے پنجوں کے اردگرد بال پیدا کر لیتا ہے، کھجور کا درخت اپنے ارتقائی عمل میں کس قدرایک ترقی یافتہ برین اسٹرکچر پیدا کرچکا ہے۔ یہ ارتقا لمبے عرصے پرمحیط ہے انسان نے عالم نباتات وحیوانات میں اس ارتقا کو آیسوٹوپس Isotopes کی مدد سے تیز تر بنا دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ اوراقبال نے وحی کو زندگی کی یونیورسل خاصیت تو ثابت کر دیا ہے لیکن یہ تصور بالاجمال تو وحی کا احاطہ کرتا ہے تاہم یہ تصور وحی ایک صوفی، شاعر، سائنسدان اور آرٹسٹ کے تجربے کو ایک نبی یا رسول کے مذہبی تجربے سے ممیز distinguish نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق کسی بھی نوعیت کا علم ادراکی، سائنسی یا وجدانی intellectual, scientific, or intuitive سب خدا کی طرف سے آتا ہے۔ دائود ؑ کو خود زرہ بنانے کا علم خدانے سکھایا(۲۱:۸۰) ؛ یوسف ؑ کو خوابوں کی تعبیرکا علم خدانے دیا (۱۲:۳۷)؛ کاتبین کو معاہدوں اور دیگر ڈاکیومنٹس لکھنے کا علم خدا نے دیا ہے (۲:۲۸۲)۔ قرآن کے مطابق موسیٰؑ کی والدہ کو وحی کے ذریعے بتایا گیا کہ وہ موسیٰ کوسپرد دریا کردے (۲۰:۳۸) ؛ شہد کی مکھی کوبھی وحی کی جاتی ہے (۱۶:۶۸ )۔ مائیکل اینگلو جس طرح اپنے فن مجسمہ سازی کو بیان کرتا ہے وحی ہی کی شکل ہے، اقبال اپنے شاعرانہ تجربے کو وحی کی ایک صورت قرار دیتا ہے۔ یوں علم کے کسی بھی اصل اور حقیقی ٹکڑے کی دریافت من اللہ تعالیٰ ہونے کے باوصف وحی کی ایک صورت ہے خواہ وہ نیوٹن کا Law of Gravitational Force ہو یا پروفیسرآئن اسٹائن کی Theory of Relativity ہو کیونکہ قرآن کے مطابق all inspirational phenomena and creative acts of mind وحی ہی کی شکل ہیں۔ یوں ہر نئے علم کا ماخذوصول کنندہ کی پہنچ سے باہر کہیں دور ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وحی قرآنی اسی عمومی طرز وحی کے ذیل میں آتی ہے یا اس کا کوئی Distinctive mark یا تخصص ہے جو اسے دیگر Inspirational phenomena سے ممیز کرتا ہے؟ کیا موسیٰؑ کی والدہ کویا شہدکی مکھی کو دی گئی وحی اور قرآنی وحی میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے؟ لیکن اس جوہری فرق کو بیان کرنے سے پہلے یہ سجھنا ضروری ہے کہ پیغمبرؑ کو وحی الٰہیہ صرف Inspirational form میں نہیں آئی بلکہ قرآن کے الفاظ بھی خدا کے طرف سے وحی کردہ ہیں جودائمی، الٰہیاتی اورغیرتخلیق کردہ (eternal, divine and uncreated word) ہیں۔ شاہ ولی اللہ کا نکتہ نظر ابہام پیدا کرتا ہے جس کے مطابق وحی الٰہیہ ان الفاظ، محاورات اور اسلوب کا پیرہن اوڑھتی ہے جو پہلے سے پیغمبرؑ کے ذہن میں موجود ہیں۔ اس گتھی کو اقبال بخوبی سلجھاتا ہے۔ اقبال کے مطابق ہر احساس feeling کی طرح مذہبی یا صوفیانہ احساس Mystic Feeling اپنے اندر ایک cognitive element رکھتا ہے اور ادراکی عنصر خود کو رہین خیال بناتا ہے کیونکہ احساس اپنے وجود کی حدت یا ٹھٹر سے پناہ حاصل کرنے کے لیے خیال Idea کا جامہ اوڑھنا ضروری سمجھتا ہے۔ یوں احساس اور خیال باطنی تجربے کے nontemporal aspects قرار دیے جا سکتے ہیں۔ اب اقبال پروفیسر ہاکنگ کا حوالہ دے کر content of religious consciousness کے تھیسس کو آگے بڑھاتے ہیں۔ احساس کے علاوہ آگے وہ کیا چیز ہے جس میں احساس اپنا اتمام کرتا ہے؟ ہاں یہ حامل احساس کا شعور ہے جہاں احساس کی تکمیل ہوتی ہے۔ احساس حامل احساس کی سالم خودی entire self کی بے قراری Instability کا نام ہے۔ اوروہ جوخودی کی بے قراری کو بحال کرے گا وہ خودی کے حدوداربعہ سے باہرہے۔ احساس outward pushing ہوتا ہے جس طرح تصور outward-reporting ہوتا ہے۔ یہاں اس خارجی سورس کا intervention ناگزیر ہو جاتا ہے جو integrity of everything Who is اور کہتا ہے وانہ خلق الزوجین الذکروالانثیٰ من نطفۃ اذا تمنیٰ (53:45-46)۔ احساس کی فطرت میں ہے کہ جب تک وہ شیر خوارگی اورطفل عمری کے سبب اپنے گونگے پن کو ختم نہیں کر لیتا دوہتڑ پیٹتا رہتا ہے اور اپنے حامل کو بے قرار رکھتا ہے اور توتلاہٹ haziness and Obscurrantism سے گزر کر الفاظ و بیان کے پیکر میں ڈھلتا ہے۔

Inarticulate feeling seeks to fulfil its destiny in an idea which, in turn, tends to develop out of itself its own visible garment. It is not mere metaphor to say that the idea and word both simultaneously emerge out of the womb of feeling, though logical understanding cannot but take them in a temporal order and thus create its own difficulty by regarding them as mutually isolated. There is a sense in which the word is also revealed.5”

یوں اقبال نے صراحت کردی ہے کہ نفسیاتی اعتبار سے احساس feeling تصور idea اورلفظ word ایک نامیاتی وحدت ہیں اور پیغمبرؑ کے ذہن میں یکبار ابھرتے ہیں۔ اور چونکہ feeling-idea-word complex پیغمبرؑ کے کنٹرول سے باہر ہیں اورتخلیقی عمل ہے یوں اسے کسی ایسے ذریعہ source کی جانب سے وحی سمجھا جا ئے جو خود پیغمبر کی ذات سے دور اور پرے ہے۔ کیا اسی مبنی بروحی شعورکے زورپر محمدﷺ نے ابراہیم ؑ اور دیگرانبیا سے متعلق یہودی اورعیسائی روایت کے من گھڑت بنیادی تاریخی واقعات کا ابطال نہیں کیا تھا؟ اسی source نے کسی چینل یا فیکلٹی (جبرائیل) کے ذریعے مطلق سند کےساتھ قرآن ڈکٹیٹ کرایا۔ اس امرکی تصدیق نہ صرف لفظ قرآن سے ہوتی ہے جس کا مطلب تلاوت recitation ہے بلکہ کئی مقامات پرقرآن کا متن بتاتا ہے کہ نہ صرف محض فہم و تصورکی بنیاد پر بلکہ قرآن لفظاً نازل ہوا(75:16-19)۔ قرآن نے Revelation کے لیے وحی کی اصطلاح برتی ہے جو مفہوم میں انسپایریشن کے قریب تر ہے بشرطیکہ انسپایریشن کے مفہوم سے verbal mode کو خارج نہ کیا جا ئے۔ جب قریش مکہ نے یہود مدینہ کے تعاون سے ابطال وحی کی کوشش کی تو”روح” کی حقیقت، “اصحاب کہف” کا قصہ اور خضر سے متعلق جو تین سوال کیے گئے تھے قرآن نے جواب کے لیے لمبا وقفہ لیا جو “تعطل وحی” کے نام سے مشہور ہے۔ اس دوران پیغمبرؑ بھی مضطرب رہے جو جلد جواب کے خواہاں تھے اور کفارمکہ و یہود مدینہ بھی خوش تھے کہ محمدﷺ کواس کے خدانے چھوڑدیا ہے، مفسرین کی اکثریت نے وجہ یہ بتائی کہ آپﷺ انشااللہ کہنا بھول گئے تھے اس لیے وحی کچھ عرصے کے لیے معطل ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا دیرسے جواب دینا اس لیے تھا کہ قریش ویہود کو باورکرایا جا ئے کہ اگر پیغمبرؑ خود جواب دے سکتے تو جواب بہ عجلت آجاتا۔ معاملے کوالتوامیں رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ وحی کا سورس محمد کے برعکس کہیں اور ہے اوراس کی اپنی terms and conditions ہیں یوں غیرمعمولی تعطل وتوقف کے بعد جواب میں سورۃ الکھف نازل ہوئی جس سے قرآن کی otherness اور من اللہ ہونے کا ثبوت مقصود تھا۔ ا بن خلدون نے اسی بنیاد پرقرآن کو رسول اللہ ﷺ کا یک وتنہا عظیم معجزہ قراردیا۔ ابن خلدون کے مطابق دیگر انبیا پردوران وحی ایک تصورابھرتا جسے وہ اپنے الفاظ میں پیش کیا کرتے تھے۔ چونکہ وہ الفاظ ومحاورات اوراسلوب انسانی تھے اس لیے ان میں انسانی عبارات کا راہ پانا آسان تھا یوں وہ کتب سماویہ انسانی فکروتخیل کے سبب تحریف اور افراط و تفریط کا شکار ہوئیں دوسری جانب قرآن چونکہ اپنے الفاظ ومحاورات، اسلوب اور گرامرکے اعتبار سے کاملاً من اللہ ہے۔ اس لیے اس میں انسانی حشود و زوائد کا راہ پانا ناممکن تھا اوراسی حقیقت میں قرآن کی inimitability & indelibility کا راز پنہاں ہے۔ دوسری جانب اگرچہ قرآن اپنے برعکس دیگر کتب سماویہ کو معجزہ قرارنہیں دیتا تاہم ہر نبی یا رسول کے Event of Revelation کو معجزہ کہتا ہے اور یہی کچھ نوح ؑ اور صالح ؑ اپنی قوم سے بیان کرتے نظر آتے ہیں پھر کیا ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے “بینۃ” یعنی کل یر پروف پر ہوں جبکہ تم اس باب میں اندھیرے کا شکار ہو(11:28;11:63; 11:88)۔ اور چونکہ قرآن نے انبیاء کے تجربۂ وحی کو بینات و برہان قراردیا ہے غالباً اسی امرکی بنیاد پرعبداللہ ابن عباس سابق کتب سماویہ میں تحریف لفظی کے برعکس تحریف معنوی کے قائل ہیں اور شاہ ولی اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔ یہ موقف ابن خلدون کے تھیسس میں ایک partial dent ضرور ڈالتا ہے۔

وحی قرآنی کا تخصص واعجاز؟

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ قرآنی وحی کسی صوفیانہ مذہبی تجربے، شاعرانہ کلام، سائنسدان، فلسفی یا آرٹسٹ کی علمی دریافت سے کیونکر مختلف ہے؟ یہ وہ گتھی ہے جسے مسلم حکما نے فکریونانی کی کسوٹی پرسلجھانے کی کوشش میں مذید الجھا یا ہی نہیں بلکہ pollute کیا ا ورجو صوفی متکلمین مثلاً مجددالف ثانی، شاہ ولی اللہ اورجدید عہدمیں اقبال کی فکرمیں بھی تشنہ رہی ہے اور ڈاکٹرفضل الرحمٰن نے اسے جدید اسلوب میں سلجھانے کی گراں قدرکوشش کی ہے۔ ابن سینا جومسلم حکما میں سب سے زیادہ مربوط ومنظم فکرکے حامل ہیں کہتے ہیں وہ تمام نکات جہاں مذہب اورفلسفے کے بارڈرملتے ہیں نہ تودونوں بالکل مختلف نتائج پرپہنچتے ہیں اور نہ ہی یکساں رزلٹ دیتے ہیں بلکہ دونوں باہم دگرمتوازی چلتے ہیں اوریہ کسی ایک مقام یانکتے کا معاملہ نہیں بلکہ دونوں کی پوری Trajectory سے عیاں ہیں جہاں بھی مذہب اور فلسفہ دوبدو ہیں۔ اس مفروضے کی بنیاد پرمسلم فلسفیوں نے ایک مہلک چھلانگ saltus mortalis سے یہ نتیجہ اخذ کیا گویا مذہب اورفلسفہ ایک ہی طرح کے سوالات اورایک ہی طرح کے حقائق کو بعینہ ایک ہی طریقے سے حل کرنے میں کوشاں ہیں۔ دوسرے مرحلے میں پیغمبرؑ کو بھی بنیادی طورپرفلسفی قرار دے دیا اور تیسرے مرحلے میں اس نتیجے پر پہنچے کہ کیونکہ نبی کے مخاطبین چونکہ Intellectual elite کے برعکس عوام الناس ہوتے ہیں اس لیے اسے انسطح کے مطابق انہیں ایڈریس کرنا ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ الغزالی ” تحافت الفلاسفہ” میں مسلم حکما اور سائنسدانوں کے اس موقف کی تردید میں تو کامل صرف شک دکھائی دیتے ہیں کہ وہ یونانی فکرکے زیراثر Eternity of the world پریقین رکھتے ہیں جس سے مذہب کا مقدمہ زمیں بوس ہوتا ہے مگرجو فتنہ religio-philosophy parallelism نے کھڑا کیا وہاں غزالی خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ الفارابی اور ابن سینا نے کیا غضب ڈھایا کہ “مذہب اورفلسفہ متوازی چلتے ہیں ” کوبنیاد بناکرمذہبی ادراک کو نیچرل فلاسفی اورنیچرل Truth کی ڈومین میں گھسیٹ لا ئے اورعقل محض اوراخلاقی ادراک کو گڈمڈ ہی نہیں کیا بلکہ زیرکی اورتعقل کواخلاقی ادراک کا تقریباً ہم پلہ قراردیا۔ اپنے تصورعلم Epistemology میں جب وہ مذہبی اخلاقی ادراک پربات کرتے ہیں توان کے مقدمات ودلائل جو بسا اوقات اگرچہ بہت گہرائی اور گیرائی کے حامل ہوتے ہیں تاہم یونانی فکرکے تسلط کی وجہ سے وہ Religio-moral cognition اور intellectual cognition میں صرف اس بنیاد پرفرق نہیں کرپاتے کہ مذہبی تجربہ بھی cognitive content رکھتا ہے۔ یوں وہ اخلاقی اصول کے ادراکی پہلوکو ریاضیاتی فارمولے کی طرح برتنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ اور اتنے بڑے ایشو اور عظیم پہلوسے اغماز برتتے ہیں کہ مذہبی اخلاقی تجربہ اگرچہ اپنے دامن میں ادراکی عنصرلے کر بالا ئے بام آتا ہے یہ عقل محض کے قوا ئے مدرکہ سے یکسرمختلف ہوتا ہے کیونکہ یہ اپنے ساتھ اپنے حامل کے لیے ایک منفرد سند، فہم اور سرزوری (authority, meaning and imperiousness cum majesty) لے کر طلوع ہوتا ہے جبکہ عمومی اورسادہ ادراک صرف “معلومات” دیتا ہے۔ ایک آدمی جومذہبی تجربے سے گزرتا ہے بڑی حیاتیاتی تبدیلی کے باوصف ایک یکسرتبدیل شدہ انسان ہوتا ہے اوروہ تاریخ کے توازن کی بحالی کا دم بھرتے ہو ئے hitherto terra incognita میں قدم دھرکرزلزلہ برپا کرتا ہے اورانسانیت کو نئے رویوں اوراقدارسے روشناس کراتا ہے۔ یوں مسلم حکما بالخصوص سینا وفارابی جب اخلاقی مذہبی ادراک اور عمومی قوا ئے ادراک میں فرق کرنے میں ناکام ٹھہرے تو دو جوہری طور پر مختلف ادراکات میں متوازیت کے رسیا مسلم مفکرین فطرتاًاس نتیجے پہ پہنچے کہ پیغمبرؑ کوحکما کی فہرست میں لا کھڑا کیا اور پیغمبرانہ تجربے کو مطلقاً intellectual cognition کا ہی جز جانا اور مزید یہ کہ فلاسفر کو بھی اتنا ہی موثر قرار دیا جتنا کہ ایک نبی یا رسول کا عوام الناس پر اثر ہوتا ہے جس کا تاریخ بہرحال ابطال کرتی ہے۔ متوازیت کا یہ اصول انہیں کامل یونانی تصور خدا Helinized God تک پہنچا ئے بغیررک نہیں سکتا تھا جس کے مطابق خدا دنیا کا خالق اور جہت نما یا moral imperative ہونے کے برعکس وضاحتی فارمولا ہے۔ الغزالی کی نظرسے مسلم حکما کا یہ متوازیت کا اصول خوابیدہ رہا تاہم آپ نے کمیونٹی کو نصیحت کی کہ وہ مسلم فلاسفرز جو کہ سائنسدان بھی تھے ان کی سائنسی تحریروں کے مطالعہ سے باز رہیں کیونکہ یوں ان کی فلسفیانہ تحریروں سے متاثرہونے کا خدشہ ہے اور اس نصیحت کو کمیونٹی ہنوز فراموش نہیں کرپائی یوں فلسفہ نے چھپ چھپا کرابن العربی کے کشف وعرفان میں جو گل کھلا ئے مسلم کمیونٹی آج تک اس کی جکڑبندی سے نہیں نکل پائی۔ سائنس کی رخصتی کےساتھ قرآن کا سائینٹفک بیانیہ جس نے ان الظن لایغنی من الحق شیا (۵۳:۲۸) کا صور اسرافیل پھونک کرکفار کو ان یتبعون الالظن وماتھوی الانفس (۵۳:۲۳) کا طعنہ دیاتھا ظن وتخمیں، افراط وتفریط اورقیاس آرائیوں کی نذرہوگیا۔ مذہبی علم کو زیست کے تلخ و شیریں ہنگاموں سے بے نیاز کرکے مدرسہ وخانقاہ میں Quarantine کرنا پڑگیا۔ یوں وہ جنہیں قرآن نے افلاک گردانی کا سبق دے کر کہکشاوں پر کمند ڈالنا اورستاروں کے جگر چاک کرنا سکھایا تھا آج وہ شب محکومی میں اختر شماری کرتے ہیں۔ تاہم ابن تیمیہ نے “کتاب النبوۃ” میں حکما کے bloodless & inactive خداکے برعکس ٖ Full-blooded, acting,and Commanding خدا کو ایمان وعقل دونوں کی مدد سے بیان کرکے “ان ربک لبالمرصاد” کو بدیہی حقیقت ثابت کردکھایا جوکائنات اورحیات و ممات کا خالق وجہت نما اخلاقی لازمہ ہے۔

سطور بالا میں ہم نے نشاندہی کی ہے کہ مسلم حکما نے علم وحی اور دیگرتخلیقی علوم یا قوائے مدرکہ کے درمیان متوازیت کا اصول وضع کر کے علم کے جوہری طور پر دو باہم مختلف دھاروں کو کیونکر گڈمڈ کیا۔ یوں علما اور حکما کے درمیان فکری بعدکی خلیج سے اعلی ٰ درجے کا بحران پیدا ہوا اور دونوں طبقات نے extremist positions اختیار کیں۔ علما کی rigidity کٹرپن، سختی اوردرشتی نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ احکام شریعہ کسی بھی طرح کی تعقل پسندی Rationalism کے پابند نہیں، ان میں کوئی علت ratio-legis تلاش کرنا کارعبث ہے ان پر بلا اسباب وعلل عمل لازم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس گڑھے کی کھدائی میں صرف روایت پرست علما ہی نہیں ان بڑے بڑے اصحاب الرا ئے کی کاوش ہے جو بصورت دیگر اچھے خاصے تعقل پسند بھی ہیں۔ اس روش کے امام حضرت الغزالی ہیں تاہم ان سے شکایت کیسی؟ انہیں یہ پوزیشن اس لیے اختیار کرنا پڑی کیونکہ مذہبی دانش یونانی فلسفے کی زد میں تھی اور مسلم حکما نے مذہب کے ادراکی پہلو کوتلپٹ کر دیا تھا اورغزالی نے بطور احتیاطی تدابیرعوام الناس کو تنبیہ کی کہ وہ اہل فلسفہ کی سائنسی تحریروں سے بھی حزرکریں تاکہ ان کے فلسفیانہ افکار سے متاثرہونے کے امکانات مسدود ہوں۔ گلہ توان سے بنتا ہے جو اس امرکو من وسلویٰ سمجھ کر پاوں توڑ کر بیٹھ گئے۔ گلہ تو ممکتے بزغالوں کی ناچتی اس ڈار سے ہے جوہرجھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی رہی۔ گلہ تو مدہوش غزالوں کی اس ٹولی سے ہے جو سان پر لاکھ چھری اور سیخ پر صدپارہ گوشت دیکھنے کے باوجود خط راہ سے بار بار بھٹکتی رہی۔ پھر قرآن واسوۂ رسول کے برعکس متاخرین کے لیے الغزالی ہی کیوں معیارٹھہرا۔ یونانی فلسفے سے مرعوبیت کا بخار اقبال کے مطابق دو صدیوں پر محیط تھا پھراسلامی فلسفے نے اپنی راہ نکال لی۔ مگرالغزالی کی جزوقتی پرہیز اور احتیاط ہمارے فکری فیبرک کا مستقل تانا بانا کیونکر ٹھہری کہ اس کی دھمک اور بازگشت الشاطبی اور مجدد الف ثانی سمیت بڑے بڑے صوفی متکلمین کی فکر میں سنائی دیتی ہے جن کا کام گواہ ہے کہ وہ زیرکی اور تعقل پسندی کا استعارہ تھے۔ دوسری جانب مسلم مفکرین کو دیکھیے کہ جب ان کے متوازیت کے اصول نے مذہبی اخلاقی ادراک کو دانش عام کے برابر لاکھڑا کیا تو علم وحی کا بازیچہ اطفال بننا ناگزیر ٹھہرا۔ یوں انہوں نے اپنے یونانی پیشروں کی طرح پیغمبر کو فلاسفر جانا اس امتیاز کے ساتھ کہ وہ اپنی فکر کو الٰہیاتی رنگ دے کر منوانے کا اضافی ملکہ بھی رکھتا ہے جو خوش آئند ہے۔ ابن سینا نے Duplicity کا خوب لبادہ اوڑھا عوامی تحریروں میں یوم قیامت دوبارہ جی اٹھنے کی تائید کرتا ہے جبکہ intellectual elite کے لیے لکھی تحریروں میں Eternity of the world کا قائل ہے۔ انبیا ئے سابق کے معجزات کا ابن سینا میں غالباً مصلحتاً اثبات ملتا ہے، فارابی استرداد کرتا ہے اور شارح ارسطو ابن رشد کہتا ہے کہ سابق امم کے لیے وہ معجزات اس لیے تھے کہ وہ ان کی اجتماعی دانش سے ماوراتھے مگرموجودہ ترقی یافتہ اجتماعی دانش کے نکتہ نظر سے دیکھا جا ئے تو وہ عین قدرتی اور فطرتی مناظر ہیں۔ اب علما اورحکما دونوں کی آراء کو بنظرغائر دیکھا جائے تو جہاں تھوڑا کسی نے امت کے اجتماعی ضمیر سے فکرودانش اور تعقل پسندی یعنی سائنس اورفلسفے کی چھٹی کرادی وہاں فلسفیوں نے مذہبی بصیرت وعرفان کو ایسا بازیچہ اطفال بنایا کہ خدائے ذوالجلال کو اپنے فضل، اپنی رحمتوں اور Majestic powers سے تہی دست کردیا۔ ابوالحسن الاشعری اور رازی و غزالی نے خدا کی Omniscience & omnipotence کے اثبات کے لیے ابن آدم کو Impotent ثابت کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ قرآن اگرچہ بندہ و خدا کے درمیان کسی بھی mediator یا ترجمان کے رول کا قائل نہیں ہے اور بندہ وخدا کے درمیان براہ راست معاملے پر یقین رکھتے ہو ئے مذہبی پیشوائیت یا تھیوکریسی کے وجود کو رد کرتا ہے۔ تاہم بنوامیہ کو اپنے اقتدارکے دوام کے لیے “فلسفہ جبر”، “ Predestination” اور “Pre-ordained fate” میں بڑا اسکوپ نظر آیا اور ریاست نے ہر سطح پر اس کی آبیاری کی۔ یوں مذہبی پیشوائیت کا بطور ادارہ وجود میں آنا اسلام کے برعکس ملوکانہ اقتدارکی ضرورت تھی۔ پھراسلامی ریاست جو کبھی اسلام اورکمیونٹی کے ناقابل جداً مفادات کا Reflex تھی بتدریج اسلام اور کمیونٹی ملوکیت کے مفادات کے لیے تختہ مشق بنا دیے گئے۔ ابوالحسن الاشعری اور الرازی وغیرہ نے Predestinarianism کو “آرٹیکل آف فیتھ” ثابت کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی اوپرسے انہیں صوفی متکلمین نے صوفی استدلال کی بہم کمک پہنچانے میں فیاضی اور جودوسخا کے دریا بہادیے۔ الرازی اس نتیجے پر پہنچے کہ حقیقی عامل قوت خدا ہے انسان کا وجود puppet جیسا ہے۔ فرمایا حقیقی عامل وہ ہے جو نہ صر ف عمل کا مقصودجانتا ہو بلکہ عمل کیسے وقوع پذیر ہو رہا ہے اس کی حیاتیاتی پیچیدگیوں کو بھی من وعن جانتا ہو۔ یوں انگلی اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جسے انسان جانتا ہے کہ وہ بہ رغبت وارادہ یہ فعل برو ئے کار لارہا ہے مگر اس پروسس میں برین سسٹم کے کون کون سے عوامل ہیں، نروس سسٹم میں نیوران کی موومنٹ کیسے ہورہی ہے اس پیچیدہ عمل کی تفہیم عامل (انسان) کے حیطہ ادراک سے باہر ہے اس لیے حقیقی عامل خداہے جواس پیچیدہ عمل کی حرکیات اورباریکیوں سے واقف ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا “چوں سرمہ رازی رااز دیدہ فروشستم۔ ۔ تقدیر امم دیدم دیگربہ کتاب اندر”۔ جب میں نے الرازی کی تقدیر پرستی کا سرمہ آنکھوں سے دھوڈالا تو مجھے قرآن میں تقدیرامم کے کچھ اورہی ضابطے نظر آ ئے۔ معتزلہ اور آرتھوڈوکسی کی کشمکش میں کسی درمیانی مستقیم راہ کا حاصل ہونا خارج از امکان تھا کیونکہ دونوں انتہا پسندانہ پوزیشنز کے اسیر تھے۔ معتزلہ نے Free-will کے ثبوت کے لیے خدا کو Absolute powers & Majesty سے محروم کر دیا تو مذہبی پیشوائیت نے خدا کی Omniscience & Omnipotence کی حفاظت کے لیے انسان کو ارادہ و اختیار سے تہی دست کردیا۔

علما اور حکما کی اس کشمکش کا خاتمہ بالخیر اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک کہ علم وحی اور شاعرانہ، آرٹسٹک، صوفیانہ مکاشفات اور دیگر تخلیقی علوم کے درمیان کوئی خط فاصل نہیں کھنچ جاتا۔ پہلی نسل اسلام کا عملی مزاج ان سوالوں کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا ان کے لیے اتنا کافی تھا کہ انہیں بتانے والا صادق اور امین ہے، وہ جانتے تھے کہ spiritual flights انبیا و رسل کا خاصہ ہوتا ہے۔ ان کی دلچسپیوں کا مرکزومحور اور فلکرم “عمل” تھا جس کی دعوت دی جارہی تھی ان کے تن مثل شمع اسی عمل کے سوزوگداز میں صرف اشک ہو ئے۔ تاہم ایسے سوالوں کا اٹھنا اس وقت ناگزیر ہوا جب کوفہ وبصرہ اور بغداد مختلف مذاہب، ثقافتوں اورعلمی روایات کی آماجگاہ melting pot بنے۔ یونانی فلسفے اور دیگرعلمی روایات نے جب وحی قرآنی کو یک طرفہ اورکلی طورپر Intrinsic to the Prophet قرار دیا تو علما، صوفیا اورفقہاکی توانائیوں کا غالب حصہ یا منجملہ وحی کے خارجی عنصرExternality کو ثابت کرنے میں وقف ہوئیں۔ وحی کی otherness پر اتنا زور دیا گیا کہ عمل وحی میں پیغمبرؑ کی حیثیت ایک پوسٹ مین یا ریکارڈرجیسی بنا دی گئی۔ اس امرکے ثبوت کے لیے صوفیا نے افسانہ طرازی شعارکی اورکچھ احادیث تک وضع کر ڈالیں۔ علما نے تصحیح کے لیے بڑازورمارامگرخشک فقہی استدلال، حیات قلب سے اغماز، اورحکمرانوں کے اتحادی ہونے کی وجہ سے عوامی سطح پروہ صوفیا کے مقابلے میں غیرمقبول تھے نتیجتاً ابتداءً ہلکی پھلکی مزاحمت کے بعد انہیں صوفیا کی ہاں میں ہاں ملانے کے سواکوئی چارہ کار نہیں تھا۔ یوں عیسائی ماہرین الٰہیات کومات دینے کے لیے Ascention of Jesus کے ماڈل پرواقعہ معراج کو ست رنگا کیا گیا اور Christian’s Redumption and Atonement Belief کے وزن پر عقیدہ شفاعت کی بیل منڈھے چڑھائی گئی۔ کیسا تضاد ہے کہ ہم پیٹتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارا سیاسی، عدالتی اورریاستی ڈھانچہ مجرموں اور ڈاکوؤں کے لیے سفارش کلچر کی نذر ہو چکا ہے مگر یہی کام انبیا اور اولیا کریں تووہ شفاعت کا مبارک عقیدہ ہے۔ ہم کیسا خدارکھتے ہیں جو میرٹ اورانصاف کا قاتل ہے اور مجرموں کی شفاعت کے نام پر پشت پناہی کرنے والوں کو برترواعلیٰ اور جگری دوست رکھتا ہے۔ تاہم اس دورمیں نہ توعلم نفسیات اور مشاہدات و مجاہدات تصوف جنہیں اقبال Higher Psychology کا نام دیتا ہے اتنے ترقی یافتہ تھے اورنہ ہی بقدرضرورت Intellectual tools میسر تھے کہ وحی قرآنی کو Precision, definition & formulation کی سان پر بیان کیا جاسکتا۔ یوں”یہ توہم کا کارخانہ ہے۔ ۔ جیسی جس کے گمان میں آئی ” کا اصول برتا گیا اور وہی غازی اور وہی رستم ٹھہرا جس کے تخیل کا گھوڑا جتنا زیادہ سرکش، باغی، آزادمنش اور برق رفتارتھا۔ الم نشرح لک صدرک کی تعبیرمیں واقعہ “شق صدر” کی بنت دیکھیں، ولادت رسولﷺ کے موقعے پر ایران کے آتش کدے بجھنا سنو، قیصروکسریٰ کے محلات کے کنگرے ٹوٹنا دیکھو اور صوفیا کو فکشن کی داددو کہ امام سیوطی انہیں افتراپردازی قراردیتے ہو ئے بھی لکھ کر آگے بڑھانے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب “راستی بالا ئے طاعت است” کو تحقیق و بیان کا اصول نہیں بنایا جاسکتا تھا جسے اصحاب رسول نے قرآن اور تعلیم پیغمبرﷺ کے زیراثربدرجہ اتم برتا تھا۔ یہ ظن وتخمیں اورقیاس آرائیوں conjectures کا عہد تھا اس لیے وحی قرآن کی بالمجموع کلی Externality ثابت کرنے کے لیے بہت کچھ کیا گیا۔ ابتدائی حقیقی ماخذ (قرآن وسیرہ) کو چھوڑ کر ثانوی ذرائع پر انحصار کیا گیا۔ قرآن وانہ لتنزیل رب العٰلمین، نزل بروح الامین، علیٰ قلبک لتکون من المنذرین (26:192-194) اورام یقولون افتریٰ علی اللہ کذبافان یشا اللہ یختم علیٰ قلبک ویمح اللہ الباطل ویحق الحق بکلمٰتہ(۴۲:۲۴) کی بات کرتا ہے۔ ولئن شئنالنذھبن بالذی اوحینا الیک ثم لاتجدلک بہ علینا وکیلاً(۱۷:۱۸۶) سے کیا مترشح ہورہا ہے؟ قرآن قلب مصطفوی ﷺ کو Locus of Revelation بتا رہا ہے مگرنہ جانے نام نہاد متصوفین وفقہا اورحکماکی چشم گریہ ناک کن نیندوں سوتی رہی؟ وحی قرآنی کو معتزلہ کے برعکس Eternal and uncreated قراردینے کا ا مام احمدبن حنبل نے عباسی Inquisition Board کے آگے بھاری سزاوں سے تاوان اداکیا اوراپنے موقف پراٹل رہ کرامت کے سواداعظم کواپنا نقیب بنایا تاہم اس نظریے کی Intellectual Formulation کے لیے غالباً ادراکی وسائل ہنوز میسر نہ تھے۔ “خلق قرآن” کاایشو جس طرح متکلمین کے لیے زندگی اورموت کا کلیدی معاملہ بنا رہا اقبال نے اس کا خوب تمسخر اڑایا۔ “ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم۔ ۔ امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات” کیامسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں۔ ۔ یہ الٰہیات کے ترشے ہو ئے لات ومنات”۔ اقبال کی یہ تنقید اس لیے ہے کہ قرآن میں الٰہیات کاحصہ بہت کم ہے۔ یہ بنیادی طورپراول و آخر ہدایت انسانی کا ڈاکیومنٹ ہے اور یہ عالمی نظم اخلاق کے قیام کے لیے انسان کی اخلاقی توانائیوں کومہمیزدینے کے لیے ہے۔ اس لیے یہ “مسئلہ جبروقدر” میں بھی خاص دلچسپی نہیں رکھتا۔ امام ابن تیمیہ کے قول کواسی پس منظرمیں سمجھنے کی ضرورت ہے جس کے مطابق

The goal of human life is neither the philosophic contemplation of God nor the mystic type of love for him- for each of these leads to the doctrine of the Unity of Being, of the identity of the world and God and so to the absolute inanity both of God and man- but the active concept of ‘ibada’ , a knowledge of God’s will and its fearless implementation in life. God is not something to be merely perceived, or admired and cherished but must be recognized as the One to whom alone our allegiance is due. This recognition alone is describable as Tauhid and it alone can inspire the attitude of ‘ibada6’.

تاہم جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے اقبال کوبھی وحی قرآنی کے “نفسیاتی عمل” پر حسب مقدور باریک بینی سے “خطبات ” کے پہلے لیکچر میں قلم اٹھانا پڑا کیونکہ ان کے استاذ سرآرنلڈ نے اقبال سے پوچھا تھا کہ آپ کی کمیونٹی کا کیسا اساطیری عقیدہ ہے کہ تمہارے نبیﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا اقبال نے کہا آپ قرآن کی بات کرتے ہیں مجھے اپنی شاعری پر وحی کا گمان ہوتا ہے۔ سرآرنلڈ اوردیگرمستشرقین کے وحی سے متعلق شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے اقبال نے خطبات میں “عمل وحی” کو نفسیات کے سائنسی اصولوں کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور وحی قرآنی کے نفسیاتی پہلوؤں پرشاہ ولی اللہ کے نکتہ نظر کو concretize ہی نہیں کیا بلکہ اس میں گراں قدرترمیم وتصحیح بھی کی ہے۔

علما وفقہا نے معتزلہ کے خلاف احمدبن حنبل کی رہنمائی میں قرآن کو Uncreated and eternal attribute of God پرزور اندازمیں منوالیا مگرجہاں تک statement of the case کا معاملہ ہے خاطرخواہ مقدمہ پیش نہ کیا جاسکا۔ ابوالحسن الاشعری اور دیگر متکلمین نے کہا کہ قرآن جس طرح پڑھا، سنا اور دیکھا جاتا ہے اس لحاظ سے یہ word of God نہیں ہے۔ ان کے مطابق eternal word of God is simple, eternal, indivisible mental act of God۔ قرآن اور دیگرکتب سماویہ اس کے Effects یا مظاہر ہیں۔ شیخ مجدد الف ثانی نے کہا “واللہ کلام حق کہ علی الحق یک است وبس۔ پس درنزول مختلف آثار آمدہ”۔ خدا کی قسم کلام حق در حقیقت ایک خارجی یک و تنہا سنگل (Mental act) ہے۔ اس کے مظاہرمتنوع تھے (جیسا کہ تورات انجیل اورقرآن)۔ یہاں تک دلائل کا محورومرکز صرف کلام اللہ کے الفاظ کوحادث یا قدیم ثابت کرنا ہے جو “خلق قرآن ” کی بحث سے متعلق ہے۔ مگربحث ہنوزنزول قرآن کے” نفسیاتی عمل” یعنی قرآن نے پیغمبرؑ سے راہ سخن کیسے وا کی کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئی۔ شاہ ولی اللہ غالباً پہلے مفکر اسلام ہیں جنہوں نے وحی قرآنی کی تنزیل کو نفسیات کی اقلیم پر ایڈریس کیا۔ شاہ صاحب نے “فیوض الحرمین “اور”سطحات” میں اس موضوع پر بات کی ہے۔ ولی اللہ کہتے ہیں کہ وحی قرآنی بلحاظ زبان و بیان verbal mode ان الفاظ و محاورات اور اسلوب (words, idioms & style) میں ڈھل کر نازل ہوا جو دفتر نبوت سنبھالنے سے ماقبل پیغمبرؑ کے ذہن کا حصہ تھے۔ جب ذات باری تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ہدایت انسانی کی خاطروحی بھیجنے کا ارادہ کیا تو اس نے دل پیغمبرؑ کو یوں تابع و مسخّر subdue کیا کہ کتاب الٰہیہ کا دل مصطفےٰ پر بالاجمال نزول کیا۔ یوں پیغام ربّی رسول اللہ ﷺ کے دل خالص میں بعینہ وارد اور پرنٹ ہوا جیسا کہ یہ ملا ئے اعلیٰ Supernal Realm میں موجودتھا۔ اورالفاظ ومحاورات وحی اپنے ساتھ یہ ایقان لیکر طلوع ہو ئے کہ یہ پیغام سراسر من اللہ ہے۔ پھربلحاظ سیاق وسباق اورصورت حال ۲۳ سال تک سلسلۂ نزول جاری رہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر الفاظ و محاورات اور اسٹائل واسلوب پہلے سے پیغمبرؑ کے ذہن میں موجودتھےتو پھریہ eternal, divine and uncreated word کیسے ہو ئے؟ پھریہ کیونکرمانا جا ئے کہ قرآن جو حرف الٰہیہ ہے صرف inspirational form میں ہی نہیں بلکہ بلحاظ کامل زبان وبیان من اللہ ہے؟ اس تشنۂ پہلو کو اقبال نے بخوبی نمٹایا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اقبال نے احساس، تصوراورلفظ کو ایک نامیاتی وحدت Organic unity with life of its own قرار دیا ہے۔ احساس کی بے قراری کو قرار بخشنے والا سورس خودی (Self )کے داخل کے برعکس خارج میں ہوتا ہے۔ اورخودی کے میکانزم میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ احساس تصورمیں ڈھل کر حامل احساس کے ذہن میں پہلے سے موجود الفاظ ومحاورات اوراسلوب کا میکانکی طور پرجامہ اوڑھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ الفاظ ومحاورات اوراسلوب کا سورس بھی وہی ہے جو احساس اور تصور کا مصدر Issuing box ہے۔ یوں اقبال کے وحی کے باب میں صرف احساس و خیال ہی نہیں بلکہ الفاظ و محاورات اور اسلوب کا بھی externality and otherness اثبات ملتا ہے جب کہ شاہ صاحب کے مطابق الفاظ و محاورات اور اسٹائل پہلے سے پیغمبرؑ کے ذہن کی ملکیت ہیں جس سے وحی کے verbal mode میں نزول کی بات آلودہ بہ اشتباہ ہونے لگتی ہے جس کا ازالہ اقبال نے جدید سائیکالوجی کے مکاشفاتی عمل کی بنیاد پرکردیا ہے۔ تاہم شاہ ولی اللہ کا تصوروحی ہویا اقبال کا یہ دونوں وحی کے اس عمومی نفسیاتی پراسس کو بیان کرتے ہیں جو انبیا، صوفیا، شعرا، آرٹسٹوں اور دیگرتخلیق کاروں کے درمیان مشترک قدرہے۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن کے مطابق ہرتخلیقی علم Piece of created knowledge من اللہ ہے۔ تو پھروحی قرآنی کا وہ کیا اخص الخاص ہے جو اسے آئن اسٹائن کی Theory of Relativity یا نیوٹن کے Law of Gravitational force سے ممیز کرتا ہے؟

وحی قرآنی کے تخصص واعجاز سے متعلق ڈاکٹرفضل الرحمان کا تجزیہ

اس سوال کو ڈاکٹر فضل الرحمان نے نمٹانے Tackle کی کوشش کی ہے جوکہ ایک کاوش ہی ہے حتمی سچ یا حرف آخرنہیں ہے کیونکہ علم کا سفرجاری ہے اورحتمیت کو دنیا کے آخری شخص تک مفقود رکھنا علم اورخود انسان کے حق میں نافع وشافع ہی نہیں بلکہ ناگزیر بھی ہے کیونکہ علم اپنی فطرت وہیئت میں دینامی Dynamic اور اضافہ وارتقا پذیر ہونے کے باوجود organic whole واقع ہوا ہے۔ جمود اور تکرار علم کی موت ہے۔ پیغمبرؑ کو رب زدنی علما ” اے میرے پروردگار میرے علم کو اضافہ پذیر رکھ “(۲۰:۱۱۴) کی دعا سکھائی گئی۔ قرآن کے قلزم خاموش سے یہی صدا آرہی ہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی صاحب علم کیوں نہ ہو مزیدعلمی نشوونما کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا وفوق کل ذی علم علیم (۱۲:۷۶) یعنی ہرصاحب علم سے کوئی زیادہ علم رکھنے والا ہوتا ہےہرسیرکے مقابلے میں کوئی سوا سیربھی ہوتا ہے۔ یوں فضل الرحمٰن کا وحی قرآنی سے متعلق نکتہ نظر قابل تقلید نہ سہی قابل توجہ ضرور ہے۔ جہاں تک وحی کے نفسیاتی پہلوؤں کا تعلق ہے فضل الرحمٰن نے شاہ ولی اللہ اور اقبال کے موقف کو بلا ردوکد من وعن مانا ہے تاہم انہوں نے اسے مکمل کہانی نہیں سمجھا اور کہا کہ نفسیاتی پہلو اور بیان وحی الٰہیہ کی مکمل تفہیم کے لیے ناکافی ہے ڈاکٹر صاحب نے وحی قرآنی کو شاعر، آرٹسٹ اورصوفی کے تجربے سے ممیز کرتے ہو ئے اس کے distinctive mark کو کھوجنے کی سعی کی ہے جو قابل تحسین ہے۔ شاہ صاحب اور اقبال نے وحی قرآنی کو بطور نفسیاتی پراسس Intrinsic to the Prophet مانا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ حصول وحی میں قلب مصطفوی کی کارکردگی بطورپوسٹ بکس یا ٹیپ ریکارڈر قرارنہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ عمل حامل وحی کے ذہن کا جزولاینفک ہے یوں سادہ تفہیم کے لیے الفاظ وحی وصول کنندہ کے الفاظ کہے جاسکتے ہیں اورجہاں تک وحی کے سورس کا تعلق ہے وہ چونکہ حامل وحی کی اپروچ سے باہرخارج میں ہے اس لیے اسے Revealed word کہنا عین فطری اور درست ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود وحی قرآنی کی انفرادیت اور اس کا sui generis کریکٹر ثابت نہیں ہوتا۔ اس امرکی صراحت کا بیڑا فضل الرحمان نے اٹھایا۔ ان کے مطابق قرآن کی نشاط و حیات، اس کے زیست آور ابال و اچھال اور تبحرعلمی کامنبع، اس کا بنیادی Elan تعلم اخلاق ” ہے۔ قرآن کاتوحیدباری تعالیٰ اور سوشل جسٹس پرزور اسی چشمے سے پھوٹا ہے۔ دوسری جانب قانون اخلاق امر الٰہیہ ہونے کے باوصف ناقابل تغیروتبدل Immutable ہے۔ اس کا تعین انسان کی دسترس سے باہرہے اسے بنایا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کواس کے آگے Submit کرنا ہے اس submission کا نام اسلام ہے اورزندگی پراس کے عملی نفاذکا نام عبادت ہے۔ تاہم اہم ترین بات یہ ہے کہ قانون اخلاق اوراخلاقی اقدار کے عملی نفاذ سے ماقبل ان کا جاننا ضروری ہے۔ وحی قرآنی کا distinctive mark اسی عقدے کے وا ہونے میں پنہاں ہے۔ اب دیکھیں جہاں تک ادراکی قویٰ اورصلاحیتوں cognitive perception کا تعلق ہے انسانوں میں لامتناہی درجات کا فرق ہے۔ دوسری جانب مذہبی اوراخلاقی قوائے ادراک Religio-moral perception خالص عقلی ادراکات سے بہت مختلف ہیں کیونکہ اول الذکر کا یہ فطری خاصہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ غیرمعمولی sense of gravity اور حساسیت لے کر طلوع ہوتی ہیں اوراپنے حامل میں حیاتیاتی انقلاب سے ہیئت قلب کا سبب بنتی ہیں اوروہ ایک مکمل نیا اور تبدیل شدہ شخص ہوتا ہے۔ اب ادراک عام purely intellectual cognition کی طرح اخلاقی ادراک کے بھی درجات ہیں۔ یہ فرق صرف مختلف افراد کے درمیان ہی نہیں بلکہ ایک ہی شخص کی باطنی زندگی کے مختلف فیززمیں اخلاقی ادراک کا اتارچڑھاؤ مختلف سطح کے تغیروتبدل سے ہمکناررہتا ہے۔

اب رسالت مآب ﷺ کی حیات باطن پرغور کیجیے، جن کا اوسط مجموعی حقیقی کردار انسانیت کے عمومی کردارسے ہزارہا درجہ بلند ہے۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو عام لوگوں اوربالخصوص ان کے آئیڈیلز اور نظریہ حیات سے سخت بے چین ہے اورتاریخ کی تخلیق مکررچاہتا ہے یا تاریخ کے ترازومیں توازن کا خواہاں ہے۔ مسلم علما نے منطقاً یہ درست کہا ہے کہ پیغمبرؑ سنجیدہ خطاؤں سے مبرّا یا معصوم عن الخطا ہوتا ہے۔ محمدﷺ ایک ایسے ہی فردہیں یا وہ واحدشخص ہیں جنہیں تاریخ اس زاویے سے کامل جانتی ہے۔ اس لیے قرآن ان کے ماڈل کو اسوۂ کامل قراردیتا ہے اورامت مسلمہ ان کے مجموعی رویے کو سنت قراردیتی ہے۔ ان جملہ امورکو محلِ نظر رکھیں کیونکہ اب عقدے کی شاہ کلید ہاتھ لگنے کو ہے۔ یوں رسول اللہ ﷺ پرایسے لمحات بھی آتے کہ جب آپ اپنی ذات کو Transcend کرتے اورآپ کا اخلاقی شعور و ادراک اتنا تیز، گہرا اور شدیدوشہید اور فبصرک الیوم حدید ہو جاتا کہ آپ کا شعور اور قانون اخلاق ایک ہوجایا کرتے، دوئی ختم ہوجاتی اور دونوں کے درمیان کوئی حد فاصل نہ رہتی تھی، فاصلے کی دیوار کو آپﷺ کا اولیٰ اخلاقی استغراق ڈھا دیا کرتا، پردے اٹھ جایا کرتے مقام بشریت ممکن ترین حد تک مقام الوہیت کی حدوں تک پہنچ جایا کرتا وھو بالافق الاعلیٰ، ثم دنا فتدلیٰ، فکان قاب قوسین اوادنیٰ، فاوحیٰ ٓ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ، ماکذب الفؤادماراٰی (53:7-11) اور ما زاغ البصروماطغیٰ (۵۳:۱۷) میں اسی رمز غریب کا لطیف اشارہ ہے۔ وکذٰلک اوحینا الیک روحاًمن امرنا ما کنت تدری مالکتاب ولالایمان ولٰکن جعلنٰہ نوراًنھدی بہ من نشآ ء من عبادنا(۴۲:۵۲)۔ مگرقانون اخلاق اوراخلاقی اقدارکواگرچہ کلیتاًخداکا مترادف قرار نہیں دیاجاسکتا خدا کا eternal attribute ہونے کے باوصف یہ جزوالٰہیہ ہیں یوں قرآن خالصتاً الٰہیاتی ہے۔

اپنے مقدمے کی مذید توضیح و تصریح کے لیے فضل الرحمٰن لکھتے ہیں “جب محمدﷺ کا ادراک وفہم اخلاق بلندترین سطح پرپہنچتا تویہ فی ذاتہ قانون اخلاق کے مساوی ہیئت اختیار کرلیا کرتا تھا (یہی وہ لمحات تھے جب آپ کا اپنا کنڈکٹ بھی قرآنی تنقید میں آیا اورانہیں لمحات کے زورآورادراک کی بنیاد پرآپ ﷺ نے یہودیوں اورعیسائیوں میں ابراہیم اوردیگر انبیا سے متعلق بنیادی نوعیت کے من گھڑت واقعات کا بھی استرداد کیا) اور حرف خداآپ کو اِلقا ہوتا۔ یوں قرآن خالصتاً حرف الٰہیہ ہے، مگر چونکہ، بلاشبہ، یہ رسول اللہﷺ کے باطن الباطن کا نامیاتی جزو بھی ہے اس لیے اس کی خالصتاً خارجی نوعیت کا میکانکی تصورقابل فہم نہیں (کیونکہ ایسی صورت دل مصطفےٰ کو پوسٹ بکس یا ریکارڈر بنا دیتی ہے)۔ اگرحصول وحی میں دل کا کردارمحض پوسٹ بکس یا ریکارڈرایسا ہے تو پھردل مصطفےٰ ہی کیوں ؟ یہ کسی بھی دل پر اتر سکتا ہے اورمکہ وطائف کے کسی صاحب ثروت کا دل زیادہ موزوں ہوتا۔ کیونکہ رسول اللہ کی معاصردنیاکا پیمانہ مال وثروت ہی تھا اسی لیے انہوں لولانزل ھٰذالقرآن علیٰ رجل من القریتین عظیم (۴۳:۳۱) کہا۔ قرآن نے سوال اٹھایا اھم یقسمون رحمت ربک “کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت بانٹتے ہیں؟(۴۳:۳۲)۔ اور جواباً کہا اللہ یعلم حیث یجعل رسالتۃ (۶:۱۲۴) خداجانتا ہے کہ منصب رسالت پرفائز ہونے کا مستحق کون ہے؟ یوں نبوت اگرچہ سراسر رحمت الٰہیہ ہے کسی کونبوت دینا باری تعالیٰ کی مجبوری نہیں ہے تاہم حیث یجعل رسالتہ میں لطیف اشارہ ہے کہ نبوت کے لیے کچھ credentials ضرور ہیں۔ ماکنت تدری مالکتاب ولالایمان (۴۲:۵۲) سے متشرح ہے کہ محمدﷺ ارادتاً منصب نبوت کی تاک میں کبھی نہ تھے تاہم شعوری طور پرنہ سہی فطرتاً یا naturalistic sense میں آپﷺ انسانیت کودرپیش اخلاقی مسائل کی حساسیت لے کر پیداہو ئے تھے۔ خدیجہ کے ساتھ رشتہ ازدوج میں منسلک ہونے کی بنیادی وجہ تجارتی ایمانداری اورباہمی مفاد سے کہیں زیادہ مظلوم انسانیت کے”درد” کی وہ مشترک قدرتھی جودونوں میں یکساں تھی۔ جب میسرہ نے بتایا کہ وہ تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کا معمولی حصہ بنیادی ضرورت کے لیے رکھ کرخطیررقم مفلوک الحالوں کے لیے وقف کردیتے ہیں اسی بات نے خدیجہ کا حساس دل موہ لیا تھا۔ یتیمانہ پیدائش، پھرسلسلہ واردادا اوروالدہ کے سایہ عاطفت سے محرومی اوربے کسی کے دیگرمسائل نے محمدﷺ کے دل کو دردوالم اورحساسیت کا معمور اورطلسم پیچ وتاب کا گڑھ بنا دیا تھا یہی حساسیت critical mass point پرسزاوارنبوت ٹھہری اوردل مصطفےٰﷺ کا دریچہ مخصوص نکتہ ابال کے ذریعے “مخزن وجوہراخلاق” Moral Lawکے نفوذ کے لیے واہوگیا جسے قرآن “امر”، “کتاب المکنون”، ” لوح محفوظ” اور”ام الکتاب ” کے متنوع ناموں سے موسوم کرتا ہےجو کتب و صحائف سماویہ (تورات، انجیل اورقرآن) کا سورس ہے اوراسی کے باب میں قرآن نے کہا ہے کہ لارطب ولایابس الا فی کتاب مبین۔ اس کتاب مبین میں تکوین کائنات کا آئین اور جملہ اموروقوانین ہیں تاہم اس کاجوہرہدایت انسانی سے تعلق رکھتا ہے اوربذریعہ انبیا ورسل ان کی صلاحیتوں اورتاریخی مقتضیات کے عین مطابق انسانیت کو بہم پہنچایا جاتا رہاہے جس کا اتمام وتکملہ اصول ارتقا وترقی کے عین مطابق رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات میں ہوا۔ اورہرتخلیقی عمل کی طرح عمل وحی بھی چونکہ اپنے مخصوص Birth Pangs کے ساتھ ورود کرتا تھااس لیے اس عمل کے دوران پیغمبرؑ کا تکلیف، شدید پسینےاورتغیرقلبی سے گزرنا بھی فطری امرتھاجس حالت کو فرائیڈ اوردیگر چند مستشرقین مرگی کے Fits اورPyschological disorder قرار دیتے ہیں اور اقبال کہتے ہیں یہ کیسا نفسیاتی بحران ہے جو تاقیامت انسانیت کے المیوں اور دردوکرب کے لیے نسخہ شفا ہے۔ یوں قرآن نے اہل مکہ وطائف کو بتا دیا کہ منصب نبوت پرفائز ہونے کے لیے اہل دولت وثروت و جاہ وحشمت ہوناضروری نہیں اورنہ یہ ضروری ہے کہ کوئی چند خوبیاں اورصلاحیتیں پیدا کرلے تواسے نبوت سے سرفراز کرنا باری تعالیٰ پر فرض ہوجاتا ہے، یہ سراسررحمت الٰہیہ ہے اور رحمت ربک خیرمما یجمعون۔ تاہم یہ لطیف اشارہ ضرورملتا ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے اس کرہ آب وخاک کی قیمتی اورعزیز ترین متاع دل گداختہ وچشم تر ہے۔

گداختہ وچشم تر ہی کافی ہیں۔ ۔ فتوح مملکت مہروماہ کرنے کو”

تاہم ایک بات محل نظررہنی چاہیے جہاں قرآن کے مطابق خدا پکارنے والوں کی مناجات اوردعاوں کو Respond کرتا ہے وہاں اہل حق کو قلب منیب سے متصف قرار دیا گیا ہے یعنی جب حق کی ضرب پڑتی ہے ان کے دل respond کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ جب وہ مظاہرفطرت پرنظردوڑاتے ہو ئے کائنات کے آہنگ پر غور کرتے ہیں تو ماخلقت ھٰذاباطلا پکار اٹھتے ہیں۔ راقم کا احساس ہے کہ اہل تمنا وطلب اپنی مشکلات اوررکاوٹوں کے ہنگام دوقدرے مختلف رویوں کا اظہارکرتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جن کے احساسات میں خدا گہرا پیوست ہوتا ہے اوروہ پاکیزگی و طہارت فکروعمل کے ہنگام خداکوحقیقتاً شہ رگ سے قریب محسوس کرتے ہو ئے کا سۂ دعا و دست طلب آگے بڑھاتے ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جن کے احساس میں خدا اگرچہ ہوتا ہے مگرگہراپیوست نہیں ہوتا اس لیے گرہ کشائی کے لیے ان کا انحصار دورکے خدا کے برعکس قریب کی خردکی گتھیوں پرہوتا ہے۔ اس فرق کوواضح رکھتے ہو ئے ہرشخص اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے کہ عقل محض Natural law کی روشنی میں حل مہیا کرتی ہے اوریہ حل اخلاقی جہات سے اکثرتہی ہوتا ہے یا پھرکمزوراخلاقی دھندلکے کا حالہ لیے ہوتا ہے۔ تاہم جب احساس میں خداکوگہرامحسوس کرتے ہو ئے تمنا کی بارآوری کے لیے ہاتھ اٹھتا ہے توجواب ایک گہرے اخلاقی wrapper میں ایسا well-encapsulated ہوتا ہے کہ یہ حامل دعا کے لیے کم از معجزہ نہیں ہوتا۔ جواب و حل مشکلات میں ان گرہوں کا بھی ازالہ ہوتا ہے جو سبجیکٹ کے دست دعا وتمنا میں شامل بھی نہ تھیں۔ آئن اسٹائن اوردیگرکچھ سائنسدانوں کا مشاہدہ و تجزیہ یہ رہا ہے کہ سائنسی تحقیقات میں مذہبی احساس بمنزلہ ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے کوئی پکار اٹھا کہ معبد سائنس کے گیٹ پر جلی حروف میں لکھ دیجیے کہ “جو مذہبی احساس سے تہی مغز ہے ادھرکا رخ نہ کرے”۔ یہ اہل استغراق کا معاملہ ہے عام انسان کے احساس میں خداکی پیوستگی مختلف کیفیتوں اور حالات میں تغیرپذیر رہتی ہے اوراس تغیروتبدل کے عین مطابق خدا respond کرتا ہے۔ اسے ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ موسیٰؑ جب سن بلوغ اورپختہ خیالی کو پہنچے تو اپنے اندر صحیح وغلط کو پرکھنے کا فہم رکھتے تھے.۔ ایک دفعہ دم سحرجب وہ شہرمیں داخل ہو ئے لوگ ہنوز سورہے تھے جب موسیٰ نے دو آدمیوں کو لڑتے دیکھا ایک آپ کی اپنی کمیونٹی (بنی اسرائیل) سے تھا جبکہ دوسرا گروہ دمخالف (مقامی قبطی النسل) سے تھا۔ اپنی کمیونٹی کے شخص نے موسیٰ ؑ کومدد کے لیے پکارا۔ موسیٰ نے قبطی کو زوردار مکہ رسید کیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ موسیٰ نے اپنے کام کو من عمل الشیطان قراردیتے ہو ئے تاسف سے کہا کہ بیشک شیطان کھلا دشمن انسان کو ہکاتا ہے۔ کہا خدایا میں نے اپنی جان پرظلم کیا ہے مجھے معاف فرما اوراسے معاف کردیا گیا۔ موسیٰ نے عرض کیا مجھے تیری ساری نعمتوں کی قسم میں آئندہ کسی غرق گناہ کی اعانت نہیں کروں گا۔ جب موسیٰ نے اگلی صبح (قبطی کے قتل کیوجہ سے) ارد گرد سے ڈرتے ہو ئے خود کوشہرمیں پایا تو وہی شخص جس کی مدد کی تھی دوبارہ کسی سے جھگڑتے ہو ئے پھرموسیٰ سے مددکا خواستگارہے۔ موسیٰ نے کہا تم گناہ صریح میں مبتلا ہو۔ پھرموسیٰ اس پر زور آوری سے ہاتھ ڈالنے کوتھے کہ زیرحملہ(قبطی) نے چلا کر کہا کہ اے موسیٰ کیا آپ مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہوجیسا کہ گزشتہ روزایک شخص کوقتل کیا تھا۔ تمہارا حقیقی مدعا اس زمین پرٹیررپھیلانا ہے۔ آپ خودکو مصلحین میں نہیں شمارکروانا چاہتے جن کاکام چیزوں کی اصلاح ہو۔ پھرایک شخص شہرکے دوردراز کونے سے بھاگتا ہوا آیااورکہا موسیٰ شہرکے بڑے گزشتہ روز کے قتل کی بنیاد پر تیرے قتل کا سوچ رہے ہیں۔ لہٰذ شہرسے چلے جاؤ میں ایک بہی خواہ کی حیثیت سے تمہیں نصیحت کررہاہوں۔ پھرموسیٰ اردگرد سے خوف زدہ ہوکر نکل پڑے۔ کہاخدایا مجھے قوم الظٰلمین سے محفوظ فرما۔ ولم توجہ تلقآ ء مدین قال عسیٰ ربی ان یھدینی سوآء السبیل (۲۸:۲۲)۔ جیسے ہی موسیٰؑ نے مدین کی طرف اپنا رخ پھیرا دل ہی میں سوچا ممکن ہے میراخداوہاں (مدین) میں میرے لیے راہ مستقیم کی ہدایت کا بندوبست کردے! جب وہ مدین کے کنوؤںپرپہنچاوہاں چرواہوں کے ایک بڑے گروہ کو اپنے جانوروں کوپانی پلاتے ہو ئے پایا۔ اوردوعوتوں کو دیکھا وہ اپنے جانوروں کو پیچھے روکے کھڑی ہیں پوچھا تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ دہ بولیں جب تک چرواہے فارغ ہو کر گھروں کولوٹ نہیں جاتے ہمیں انتظارکرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم کمزور اور ہمارے والد بزرگوار ضعیف العمر ہیں۔ موسیٰؑ نے ان کے مویشیوں کوپانی پلایا اور پھر سائے کی طرف گئے اوردعاکی خدایا تیری طرف سے کسی بھی خیر کا طالب ہوں اور میری احتیاج کا بھرم رکھ! (دعا سنی گئی )اوران دومیں سے ایک عورت بصد شرم و حیا چلتی ہوئی آئی اور بولی میرے والد آپ کو آپ کے عمل کا ریوارڈ دینا چاہتے ہیں۔ موسیٰ ؑ ان کے پاس پہنچے اوراپنی حیات کی کتھا سنائی۔ بزرگ نے کہا موسیٰ خوف نہ کھاؤ اب تم قوم الظٰلمین سے محفوظ ہو۔ پھرکچھ دیر بعد بزرگوارنے کہا موسیٰ میں تمہارا اپنی بیٹی سے نکاح چاہتاہوں مگرتمہیں آٹھ سال تک ہمارے ہاں رہنا ہوگا۔ اوراگرتم دس سال تک ہماری خدمت میں رہوتویہ تمہارااحسان ہوگا میں تم پر زیادتی نہیں چاہتا۔ تم بفضل تعالیٰ ہمیں صالحین میں سے پاؤ گے۔ موسیٰ نے عرض کیا تمہارے اورہمارے درمیان یہی طے پاگیا تاہم میرے خلاف کوئی ill-will نہ ہو! پھرمعاہدہ پورا ہونے پرجب موسیٰ اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے توانہیں خدا نے کہا ثم جئت علیٰ قدریٰموسیٰ۔ اے موسیٰ اب تمہیں ہم اپنے معیارپرپاتے ہیں اورمنصب نبوت پر فائز کر دیا۔ اب موسیٰؑ کے اس قصے میں کتنے امورپنہاں ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ یہاں نبوت کے کچھ credentials بتا ئے گئے ہیں کہ مدین کی خاک چھاننے سے جاں فشانی اورصحبت شعیب سے تعلیم وتعلم نے موسیٰ کی تربیت کی پیمان باندھنے اورنبھانے کی ریاضت ہوئی تو موسیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں رحمت الٰہیہ کسی کو لائق منصب نبوت پا کر نواز دینا ضروری سمجھتی ہے۔ ان مراحل حیات نے موسیٰ ؑ کو بمقابلہ فرعون میدان میں اترنے کے لیے تیارکردیا تھا۔ تاہم غالباً اس سے بھی لطیف نکتہ یہ ہے کہ موسیٰ کے احساس واعماق میں خداکس قدرپیوست ہے۔ ہدایت جبلی کا داعیہ ان میں کس قدرسرگرم ہے۔ قبطی کا قتل قتل عمدنہیں تھا قتل بالخطا تھا پھربھی موسیٰؑ کے شعورنے فوراًاسے من عمل الشیطان قراردیااورمغفرت الٰہیہ کے خواستگار ہو ئے۔ پھراگلے روزجب دوبارہ بنی اسرائیل کے مذکورہ شخص نے انہیں مددکے لیے پکارا توموسیٰ نے اسے گناہ صریح میں مبتلا کہا۔ لیکن اس کہانی کا حساس ترین فیصلہ کن موڑ وہ ہے جب موسیٰ نے مدین کی طرف رخ کرکے عازم سفرہوتے ہی کہا شایدوہاں میری ہدایت کے لیے سواء السبیل کا سامان ہو۔ نیت عمل سے افضل ترہے کیونکہ نیت سے دل کی کیفیت فوراً بدلتی ہے۔ یہاں یہ نیت وارادہ انہیں صحبت شعیب کا مستحق بنارہا ہے۔ پھرمدین کے کنوؤں پرپہنچنے کے بعد جب موسیٰؑ نے دخترانِ شعیب ؑ کی مدد کی اور فسقیٰ لھما ثم تولیٰ الی الظل فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر(۲۸:۲۴)۔ قرآن نے اس دعا کا Panoramic scene کھینچا ہے۔ وہ شخص جو سرسبزوشاداب مصرکو چھوڑکرمدین کے لق ودق صحرا میں پہنچا ہے اورنیت وارادہ بھی دیکھیے پھرایک صالح عمل سے فارغ ہوکردعا کیا مانگ رہا ہے اس دست دعا پر ہزاروں تمنائیں اور آرزوئیں نثار! پھراذا دعان فلیستیجیبولی کا مصداق اس دعا سے اغماز کیونکر برت سکتا تھا؟ “دل سے جو بات نکلتی ہے اثررکھتی ہے۔ ۔ پر نہیں طاقت پروازمگر رکھتی ہے”۔ یہاں موسیٰ کا دست طلب بے پایاں وسعتوں کا حامل نظرآرہاہے۔ مقصود اگرصرف معاشی خودانحصاری ہوتی تو وہ کسی بھی چرواہے یا گلہ بان سے روزی روٹی کا معاہدہ کرنے کی کوشش کرتے مگروہ تو عازم سفرہوتے ہی سواء السبیل کے سامان کی توقع کررہے تھے اور مدین کے کنوؤں پر پہنچ کربھی اسی چیزکی طلب کا اظہارکر رہے ہیں پھر خداہل طلب کو طعنہ نایافت میں کیونکر مبتلا کرسکتا ہے؟ جن کے دردخمیراماورید سے شفا پاسکتے ہوں وہ موتی ومرجان کے کیونکر جویا ہوں۔ موسیٰؑ کا دردبڑاتھا طلب عظیم تھی تو پھرعظیم مقصود ومطلوب کا میسرآنا بھی یقینی تھا۔ اگردلِ موسیٰ میں خداکا احساس سطحی ہوتا اور مقصود صرف معاشی گزربسرہوتا تو وہ مدین کے صحرامیں حسب طلب پاتے اور”صحراوں میں آکر ہم توکھیت ہو ئے۔ ۔ گھر والوں نے تاج محل تعمیر کیے” کامصداق ہوتے۔ یوں موسیٰؑ کےمحوَّلَہ بالاواقعات سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ جب ہمارامقصود حیوٰۃ الدنیا ہوتا ہے توخداہم پر Natural Law کی گتھیاں واکرتا ہے اور ہمیں مال وثروت اور اقتدارکی نعمتیں عطاکرتا ہے مگرقانون اخلاق Moral Law ہماری نگاہوں سے محورہتا ہے۔ مگرجب ہمیں سواء السبیل کی طلب ہوتی ہے توحیات دنیاوی اوراخروی کے نامیاتی مرکب کا پیکج اور عشق واخلاق کے ہزارہادہ ناخوردہ دررگ تاک ہمارے منتظرہوتے ہیں۔ یوں مسئلۂ دست طلب کاہے دست عطا کا نہیں ہے۔ رسول عربی ﷺ نے زیدبن ثابت کے لیے دعا کی تھی کہ خدایا ان کی جبرائیل امین سے مددفرما۔ یوں زیدبن ثابت کے نعتیہ اشعارمیں رنگ ثبات دوام ہے۔ قرآن نے”الروح” کی اصطلاح جبرائیل امین کے لیے برتی ہے اورجبرائیل صرف انبیا پروحی ہی نہیں لاتا بلکہ مومنین پربھی نازل ہوتا ہے۔ ” مومنین جوحقیقتاً خدا اور یوم آخرت پرایمان رکھتے ہیں انہیں کبھی بھی آپ ان لوگوں سے محبت کرتا نہیں پاؤگے جوخدااوررسولﷺ کے خلاف برسرپیکاروں، خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے اور بھائی کیوں نہ ہوں، اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ (۵۸:۲۲)۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پرایمان کندہ کردیا گیا ہے اورانہیں روح الامین کی مددسے مضبوط و مستحکم بنایا جا تا ہے۔ “ہمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی۔ ۔ ہے اس کا نشیمن نہ بخارا، نہ بدخشان!”۔

طریق وعمل وحی Manner and Process of Revelation کی مقدوربھرصراحت ہم نے اس لیے ناگزیرسمجھی کہ جدیدسائنسی ذہن عقیدہ کے برعکس علت کا قائل ہے اوربقول اقبال مذہب کو سائنس سے کہیں زیادہ علت Reason کی ضرورت درپیش رہی ہے کیونکہ یہ عمل اورجان کا سوداگرہے

۔ ”Since the transformation and guidance of man’s inner and outer life is the essential aim of religion, it is obvious that the general truths which it embodies must not remain unsettled. No one would hazard action on the basis of doubtful principle of conduct. Indeed, in view of its function, religion stands in greater need of a rational foundation of its ultimate principles than even the dogmas of science.7”۔

اور سائنس کا مذہب سے کیا تقابل؟ مذہبی تجربہ تو ان وقتوں میں بھی اپنے جسد سے مفروضہ و سراب کے ملمع کو خودتنقیدی کے بے رحم ریگ مارسے رفع کرنے میں صیقل تھا جب سائنس پردہ عدم میں بال عنقا تھی۔ المیہ یہ ہے کہ ملوکیت، تصوف اور مذہبی پیشوائیت کے اتحاد ثلاثہ کی کوکھ سے کچھ دیگر المیوں کی طرح برہمن طرز کی اس اپروچ نے بھی جنم لیا تھا کہ کچھ مذہبی ایشوز عوام کالانعام کے لیے نہیں ہیں انہیں خواص کا موضوع رہنا چاہیے۔ امام غزالی نے کچھ تحریریں اخص الخاص کے لیے لکھیں۔ ابن سینا کی تحریریں اہل فلسفہ و سائنس کے لیے الگ ہیں، عوام الناس کے لیے الگ موقف پر مبنی ہیں۔ یہ دوہرا معیار اقبال کے ہاں بھی ملتا ہے۔ شاعرانہ کلام اور اردو نثر کے موضوعات میں پاپولزم کا عنصرغالب ہے سنجیدہ موضوعات کی تانیں”خطبات” میں انگریزی دان طبقے کے لیے فلسفہ جدید کے مضراب پر چھیڑی گئی ہیں۔ بہانہ یہ کہ اردو دان سادہ تعلیم یافتہ طبقہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگرعوام الناس کی سادہ دلی اور رسمی تعلیم و دانش کا کسی رعایت کا مستحق ہونا بنتا تو قرآن جو سراسر انقلابی پیغام پر مبنی تھا اسے صدیوں تک عوامی شعور کے رسا ہونے کا انتظارکرنا پڑتا۔ قرآن نے توصدیوں کی حاصل روایتی دانش کو جھنجھوڑا ہی نہیں مکالمے کی اقلیم پر اور رزم حق و باطل کے ہنگام اسے بھنبھوڑ بھنبھوڑ کراس کی بیساکھیاں توڑیں، اس کے پاؤں سے زمین چھینی۔ قرآن نے رسالت مآبﷺ کو without reservation and with no holds and barred کلمہ حق بلند کرنے کی تاکید کی۔ جمود کی فطرت میں مزاحمت کا داعیہ ہے تو کیا رعایتاً اس کے ہاتھ میں ادھ موا، کٹا پٹا غیرسالم اور نامکمل سچ تھما دیا جا ئے۔ یہ ہندی برہمنوں اور یونانی فلسفیوں کا طریق ہوسکتا ہے اور ہرچند کہ یہ آسان ٹوٹکہ ہے اسے اختیار کرنے سے سروں پر آرے نہیں چلتے، یہ وحی الٰہیہ اور رسول ہدایت کا شیوہ کبھی نہیں رہا۔ تاہم عالم اسلام میں عوام کالانعام اگر آج ان موضوعات کے متحمل نہیں ہوسکتے تو انہیں صدیوں کی کاوش سے اس مقام پر لاکھڑا کرنے میں کلیدی کردارکس کا ہے؟ وہ جوہری طور پر بونے تھے یا ان کے سروں کو کچے چمڑے کی روایت سے باندھ کر انہیں دولے شاہ کا چوہا بنایا گیا اور کیا اس کچے چمڑے کو کھولنے کا وقت ہنوزنہیں پہنچا؟ کیا اس ڈیموکریٹک سائنسی عہد میں بھی انہیں اس بنیادی حق سے محروم رکھنا ضروری ہے؟ اگر ان موضوعات کے لیے صرف ونحو، درس نظامی، عظیم الجثہ ظنی اور قیاسی سرمایہ فقہ سے واقفیت ضروری ہے تو معاف کیجے گا پھر اس معیار پر شاید اصحاب کبار اور دیگر نامی گرامی عظیم ذہن بھی پورے نہ اتریں۔ اقبال نے خطبات کے پہلے تین چارابواب میں اجتہاد کی نوعیت اور ضرورت سے متعلق سرتوڑ کوشش کی ہے کہ خواہ ہمیں اسلاف سے راہیں جدا کرنا پڑیں ہمیں ایسا کرنا ہوگا کیونکہ پیش آمدہ مسائل ہمارے ہیں ان سے اسلاف کو پالا نہیں پڑا تھا چھٹے باب پر پہنچتے ہی احتیاط دامن گیر ہوتے ہیں کہ جب تک معاشرے کے سماجی فیبرک اور وحدت کے مجروح ہونے کا خدشہ ہے اجتہاد کو مؤخرکیا جا ئے کیونکہ unity of social fabric بہرحال ضروری ہے۔ اگروحدت فی ذات مطلوب ہوتی تو انسانی معاشرت میں اتحاد بہ باطل کا داعیہ زیادہ سہل اورتگڑا ہے کیونکہ یہ ڈھلوان کا سفرہے، اتحاد بہ حق چوٹی کی چڑھائی ہے۔ یہ ضعیف الاعتقادی کا کھیل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس سفرمیں سرگشتہ خمار رسوم وقیود ہوکر تیشے سے سر پھوڑنا بزدلی اور مکروہ عمل ہے۔ “کاردوناں حیلہ و بے شرمی است۔ ۔ کارمرداں روشنی و گرمی است”۔ حق کا جوہر نتھرتا ہی مکالمے اور رزم آرائیوں سے ہے انبیا و رسل اور اہل عزیمت کا قافلہ سخت جاں اسی لیے طوفاں خیز رہا ہے تو پھر فہم کے کچھ گوشوں کو کیوں زیرقالیں ڈالا جا ئے اور عافیت جاں ہی اول و آخراصول و مقصود کیوں ہو؟ “پس قیامت شو قیامت رابہ بیں۔ ۔ دیدن ہر چیز را شرط است ایں”۔ کیونکہ خیریت جاں، راحت تن اور صحت داماں اہل ہوس کی مصلحتیں ہیں۔ کمیونٹیز کے شیرازوں کو ادھیڑ کر دوبارہ بننا انبیا کی سنت رہی ہے تو پھر اس راہ سے حذر کیسا؟ کیا سوشل فیبرک کی سلامتی کے لیے حساس موضوعات کے مکالمے اور جہاد کی جہدپیہم کو لامتناہی مدت کے لیے موقوف کر دینا عین اسلام ہے؟ جب مکالمہ اور جہاد بیمارمعاشرت کے لیے صحت مندی کے ضامن وٹامن ہیں پھر یہ انتظار کرنا کہ معاشرہ پہلے صحت مند ہو پھر وٹامن دیں گے کیا یہ عقل مندی ہے؟ جدید دنیا نے جب بحری افواج کی بنا ڈالی تو Scurvy کی بیماری کا سامنا ہوا، شدید کمزوری، خون کی کمی، مسوڑھوں سے خون آنے اور جلدی بیماریوں سے اموات ہونے لگیں، یہ بحری افواج کا سب سے بڑا چیلنج بنی۔ اس وجہ سے باقی دنیا نے بحری امور سے دستکش ہونا شروع کر دیا برطانیہ نے چیلنج قبول کیا اور1747 میں جیمز لنڈبارہ نے سمندری تیراکوں پر ریسرچ سے ثابت کیا کہ سبب وٹامن سی کی شدید کمی ہے اورعلاج لیمن اور اورنج جوس ہے۔ یہ چھوٹی سی دریافت بڑے واقعات کا سبب بنی اور برطانیہ نے تقریباََ پوری دنیا پر اپنے اقتدارکا جھنڈا لہرایا۔ اسکندراعظم اور جولیس سیزر کے قد کا سپہ سالار اور صاحب عزیمت سپہ سالار اور جدید دنیا کا بانی نپولین بوناپاٹ بھی برطانیہ کی بحری برتری کا مقابلہ نہ کرسکا۔ یوں تحقیق کے ایک بظاہر ادنیٰ گوشے سے اغماز کی دنیا نے کیا قیمت چکائی اور برطانیہ کو اس دریافت نے کتنی بڑی عظمت سے ہمکنار کیا۔ قرآن کے مطابق عروج و زوال خواہ فوجی نوعیت کا ہویا ثقافتی تہذیبی اور سیاسی طرز کا اس کی جڑیں Intellectual foundations میں ہوتی ہیں۔ قرآن نے ایک چھوٹی سی کمیونٹی کو توحید کا ایمان میں گندھا علم عطا کیا اور اس دعوے سے میدان جنگ میں اتارا کہ تم ہی غالب رہو گے کیونکہ تمہارا واسطہ قوم لایعقلون سے ہے اور تمہارا ایک دس پر، دو بیس پر، بیس سو پر اور سو ہزار پر غالب رہیں گے۔ یوں یہ برتری دراصل مشکوک اور اشتباہ بھرے علم پر dead-certain knowledge کا تفوق ہے۔ ایسے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس عہد جدید میں جب مذہب کا مقدمہ سائنسی دریافات کے آگے آخری ہچکیاں لے رہا ہو وہاں مذہب کے وحی جیسے کلیدی ایشو اور دیگر چند حساس پہلوؤں کو معاشرے کے fake social fabric کے ادھڑنے کے محض امکانی خطرے کی بنیاد پر شجرممنوعہ قرار دینا کیونکر روا ہوسکتا ہے؟

وحی ہمیشہ انبیا ورسل کے اذہان وقلوب کے ذریعے تاریخ سے کیونکرتعامل کرتی ہے اوراس تعامل میں Sitz im leben کو کیونکر کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ہر رسول کی شریعت دراصل اپنے عہد کے کسی مخصوص رجحان یا Dominant feature کا Response کیونکر ہوتی ہے؟ قرآن نے اس امرکی بتکرارصراحت کی ہے جیسا کہ ۷:۱۷۲ میں ہے کہ خداکے وجودکا احساس، اس کی یکتائی اور اس کے قادر مطلق ہونے کا داعیہ اور فہم انسان کی جبلت میں رکھ دیا گیا ہے جس سے انحراف صرف بنیادی جبلی جذبوں سے فرارکی صورت ممکن ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وما کان الناس الا امۃًواحدہ فاختلفو، ولولا کلمۃً سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون (۱۰:۱۹)۔ انسان کبھی امت واحدہ تھے مختلف نظریات رکھنے کا چلن بعد میں شروع ہوا اوراگر پہلے سےیہ خداکا طے شدہ امریا اسکیم decree نہ ہوتی ان کے تمام اختلافات کو قول فیصل سے نمٹایا جا چکا ہوتا۔ یہ اس دور کی بات ہورہی ہے جسے جدید ماہرین سماجیات وبشریات کی Rigged scholarship اپنے Preconceived notions کی بنیاد پر Golden Mythical Age کا نام دیتی ہے یعنی ابتدائی عہد کا سادہ انسان اساطیری داستانوں کے سنہرے دورکا باشندہ تھا۔ اس نے سائنسی نکتہ نظر سے بے بہرہ ہونے کے باوصف مذہبی اساطیری خیالوں کی دنیا بسار کھی تھی۔ جدید مادہ پرستانہ اور ملحدانہ میٹا فزکس کا ہیولیٰ چونکہ اس کے اپنے مخصوص Sitz im leben اور ذاتی تجربات و مشاہدات کی وجہ سے مذہب کی نفی اوراسترداد پراٹھا ہے اس لیے مذہب کا بہرصورت رداس کا اپنامذہب بن چکا ہے۔ اس لیے ابتدا ئے آفرینش کا انسان جس کے جبلی جذبے پاکیزہ تھے اور وہ توحید خالص کا پرچارک تھا اور ابھی ہواوہوس نے اپنے بال و پرنہیں کھولے تھے اور انسانیت سادہ فکروفہم کے باوصف امت واحدہ تھی، نہ نظریاتی جھگڑے اور نہ باہمی مفادات کی جنگیں تھیں انسان اپنی فطرت سلیم پرگامزن تھا۔ اس دورکو کیونکرسنہرا اساطیری دور کہا جا سکتا ہے۔ مذہبیات کے اسکالرزاس عہد کو خالص توحید کا عہد کہتے ہیں۔ ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ ہرچیز اپنے ارتقا میں پھلتی پھولتی اور نشوونما پاتی ہے مگر نظریہ توحید کا معاملہ دگر ہے۔ یہ ابتدا میں زیادہ خالص اورمستحکم تھا ارتقا کے لحاظ سے یہ پنپنے کے برعکس گرد آلود ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ابتدا کی ہندو Scriptures میں توحید کا بیان ایک Mathematical proposition جیسا ہے۔ اورہندوازم کی موجودہ صورت حال بھی دیکھ لو۔ Early Judaism & Christianity کا تصور توحید کیا تھا اوراب کیا ہے فرق دیکھ لیجیے ابتداً اسلام کا تصور توحید کیا تھا اور پھر تاریخ نے اس سے کیا کھلواڑکیا؟ ہاں اسلام کا یہ امتیاز ضرور ہے کہ امت کا حال جو بھی ہوصحیفۂ قرآن تاریخ کی دست بردسے محفوظ ہے۔ تصورتوحید اپنے ارتقائی عمل میں بگڑتا بکھرتا کیوں ہے اس کا بھی ایک اپنا تناظر ہے۔ تصور توحید دراصل انسان کے سماجی معاشی اور سیاسی و ثقافتی معاملات سے تعامل کرتا ہے انہیں صراط مستوی یعنی Even path پر رکھنے کا بالاصرار مطالبہ کرتا ہے مگر داد دیجیے انسان کےحرص ،ہوا اور ہوس کو کہ تاریخ انسانی میں صراط مستوی کے وقفے بہت قلیل ہیں۔ اس لیے توحید خالص کا طویل مدتوں off-track رہنا انسان کے ضعیف، قطور، عجول اور ھلوعاًوجزوعاًو منوعاً ہونے کے باوصف عین فطری ہے۔ اور ستم بالا ئے ستم یہ کہ وہ ان بشری کمزوریوں اور بیماریوں کو اپنے نفس کی sudden inflations and deflations کے ہنگام لاعلاج سمجھ بیٹھتا ہے۔

انسان آج بھی فطرت سلیم پر ہی پیدا ہو رہا ہے بقول ٹیگور ہر بچہ یہ پیغام لیکر پیدا ہوتا ہے کہ خدا اکا انسان سے ہنوز اعتبار نہیں اٹھا۔ اس کا آغاز حیات معصومانہ ہوتا ہے پیوستہ مفادات کی شاخ بہت دیر بعد مادہ پرستی کے مسابقتی ماحول کے زیر اثر پھوٹتی ہے اور اس کی وقت پر کانٹ چھانٹ نہ کی جا ئے تو تکاثر کا دلفریب جنگل اگا دیتی ہے۔ یہی معاملہ انسان کے اجتماعی سفر حیات کا ہے ابتداءً انسان جب تک سادہ فکری اور سادہ ضروریات کے باوصف فطرت حنیف پر تھا سرکش خواہشات کا صید زبوں نہ ہوا تھا۔ اس کی فطرت حنیف کے شریف داعیات کو سبک سر تمناؤں نے ایک لمبے اور طویل عہد کے بعد جب تاش کے پتوں کی طرح آپس میں بانٹنا شروع کیا تورحمت الٰہیہ سے اس کی ہدایت کے لیے سلسلہ وحی شروع ہوا۔ وحی انسان کے ا حساس و دانش کی دوئی کے زخموں کو مندمل Heal and cure کرتی آئی ہے۔ یہ اعماق انسانی کے تاریک حجرے میں چمکتی روشن سونے کی ڈلک ہی نہیں ہے بلکہ باہم جداومجروح احساس اور تعقل کی نامیاتی وحدت کی ضامن بھی ہے۔ ہواوہوس، زرپرستی اور خواہشات کا ریلہ تعقل کا ناتا گہرے احساس سے توڑ کر ایک ہی انسان کو دو باہم متضاد حصوں یعنی ایک محروم احساس اوردوسرے اسیر تمنا انسانوں میں بانٹ دیتا ہے اور زیرکی سوچ کو احساس، جبلت اور وجدان کی مخالف راہ پر ڈال دیتی ہے نتیجہ نیم خوابیدہ ونیم بیدار، ادھ زندہ و ادھ موا اور ٹکڑوں میں بٹے مجروح تار تار اور پارہ پارہ تارنفس کا ظہور ہے۔ وحی نفس کی عظمت وحالت رفتہ کی بحالی کا مینڈیٹ لیکر آتی رہی ہے گہرےاحساس اور ادراک کا رشتہ بحال کرتی آئی ہے۔ یہ دونیم کو سالم بناتی رہی ہے۔ اس لیے پروفیسر وائٹ ہیڈنے عقل محض کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کرتے ہو ئے کہا The ages of faith are the ages of rationalism. “۔ ناوک وحی سے دل و جگر دونوں چھدتے چلے آئے ہیں اور یہ کاویہ وحی احساس اور تعقل کو جوڑ کر دونوں کی نامیاتی وحدت کا ذریعہ چلآ رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو نسل آدم میں ابتدا ئے آفرینش کے سادہ خیالات اور رویوں کی ہم آہنگی مقصود بالذات تھی؟ قرآن کا جواب نفی میں ہے۔ یہ ہم آہنگی اور یکساں خیالی انسان کے ادراکی، اخلاقی اورسماجی ارتقا و نشوونما کی راہ کا سنگ گراں ثابت ہوسکتی تھی۔ کان الناس امۃ واحدہ، فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین (۲:۲۱۳) انسان ابتداءً امت واحدہ تھے (جب اختلافات نے آلیا) تورحمت الٰہیہ نے ان اختلافات کو نمٹانے کے لیے انبیا مبشرین اور منذرین کو بھیجنا شروع کیا۔ یہاں اشارہ کیریر حیات کے ابتدائی زمانے میں انسان کےجبلی احساسات ورجحانات کی ہم آہنگی اوریکساں فہمی کی طرف ہے جب وہ ایک سادہ سماجی نظم کا خوگر تھا۔ یہ یکساں خیالی چونکہ اس کے ادراکی اوراحساساتی عدم اجزاپذیری undifferentiation کی عطیدہ وبخشیدہ تھی اس Homogenity کا بہ ہنگام ارتقا differentiate and disintegrate ہونا مقدرتھا۔ جیسے جیسے فکری حیات زیادہ سے زیادہ پیچیدہ ترہوتی گئی اس کی قوا ئے احساس اورانفرادی ضروریات میں بھی پیچیدگی درآئی۔ خیالات اورمفادات کی کشمکش نے سراٹھایا اور انسانیت امت واحدہ کا اسٹیٹس کھوبیٹھی جس کا کھونا طے شدہ تھا۔ اختلاف فکروعمل قدرت کو اتنا عزیز ہے کہ بعثت انبیا کے بعد بھی اس شریف داعیے کو جاری رکھنا مشیت الٰہیہ ہے۔ جدلیاتی فلسفے کی بنیاد یہی ہے کہ فکرانسانی کا ارتقا تھیسس، انٹی تھیسس اور سنتھسس کی بحرپیہم رواں میں پنہاں ہے۔ ولو شاء اللہ ماقتتل الذین من بعدھم ماجآتھم البینٰت ولٰکن اختلفوا فمنھم من اٰمن ومنھم من کفر ولو شا ءاللہ ماقتتلوا ولٰکن اللہ مایرید(۲:۲۵۳)۔ “اگرخداچاہتا کہ وہ جو(انبیا ورسل کے) بعدآ ئے بینات (وحی کےصریح سچ) کے بعدان میں اختلاف فکروعمل نہ ہوتا مگرمتنوع، مختلف، رنگا رنگ نظریات فکرکی اقلیم پرابھرتے رہے کچھ سچ پرایمان لا ئے اور کچھ نے جھٹلایا، خدا چاہتا تو ان میں کبھی نزاع واختلاف جنم ہی نہ لے سکتا (یہ مشیت الٰہیہ کا حصہ ہے) مگر خدا جو چاہے کرسکتا ہے” Here, “the Quran alludes to the inevitability of dissention among human beings in other words, it is the will of God that their way to the truth should be marked by conflicts and trial by error.8”۔ یوں دیکھا جا ئے تو اختلاف فکروعمل ہی نہیں بلکہ ان اختلافات کی بنیاد پر جنگوں کا برپا ہونا بھی عین فطری اورناگزیرعمل ہے ایک طرف راہ حق مشکلات اور چیلنجز سے اٹی ہوئی ہے تودوسری طرف راہ حرص وہوس بھی کم پرکشش نہیں ہے۔ یوں تاریخ کے ہر حساس موڑ پرتصادم ناگزیرچلا آیا ہے۔ جنگ کی آتشیں بھٹی میں ہی تباہ کاریوں کے ہنگام دل گدازہوتے آ ئے ہیں، اہل حق حق سے مزید ایلاف ہوتے رہے، اہل باطل کی سرکش جبلتوں میں ٹھہراو اورتوازن آتا رہا اور انسانی فکر پکتی اور نکھرتی رہی ہے۔ تاریخ کی شہادت یہی ہے کہ ہربڑے تخلیقی عہد کا ہیولیٰ عظیم انسانی المیوں کی کوکھ سے اٹھا اور ہر تہذیب کا ٹائٹینک اپنی ہی موج طرب میں ڈوبا۔ سلسلہ روزوشب نقش گرحادثات، اصل حیات ممات اور صیرفی کائنات ہے، “تو ہواگرکم عیار، میں ہوں اگر کم عیار۔ ۔ موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات”۔ ” رنگ پوردے ہن پنتھ نیارے، ، ہک نوں بوڑے ہک نوں تارے، ہک پیا جتے ہک پیا ہارے، تلدے ماسے تولے”۔ تہذیبوں کی کارکردگی تولوں، ماشوں اور رتیوں میں تلتی ہے۔ تہذیبیں خون آلود پنجوں کےساتھ زینہ ایام (تاریخ ) چڑھتی ہیں اورخون میں لت پت ایڑیوںکے ساتھ عصا ٹیکتی اترتی ہیں۔ صعود ہوکہ نزول اکثر بہ راہ خوں ہوتا ہے۔ مشاہدہ یہی ہے کہ جوہرتخلیق مرنے کے بعد بھی تہذیبیں مورل لا کی لچکیلے پن کی وجہ سے ایک مخصوص عرصے تک scientifically calculated respite سے لطف اندوز ہوتی رہتی ہیں تاآنکہ وہ اقتدارکو بغیرکارکردگی کے اپنا حق سمجھنے لگتی ہیں یہ خلاف فطرت چلن اجل مسمیٰ کی گھڑی میں ڈھلتا ہے اور اس کا تاریخ کے اسٹیرنگ ویل سے اترنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسے نئی ابھرتی صحت مند تہذیب کے لیے پلیٹ فارم خالی کرنا ہوتا ہے مگر loss of moral vision اسے Thucydides’ trap کا شکار کرتا ہے تصادم ناگزیر ہوا اور وہی تہذیب جو کبھی زخمی سینہ وسر کے باوصف خون سے تر پنجوں کیساتھ ہمکنار صعود ہوئی تھی زخمی پیٹھ سے ایڑیوں پر خون ملے وداع ہوتی ہے

۔ “This phenomenon, which has a certain inevitability about it (judging from the Quran), is on the whole good, although it involves a certain loss for mankind, since the very struggle brings fresh blood to the veins of an aging humanity- it is as though dead earth has quickened and blossomed once again. This struggle between good and evil, fresh and stale, new and decrepit, between the vigor of moral youth and dotage of senility, is of positive benefit, for it keeps the perennial moral values alive.9”

.۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض ولٰکن اللہ ذوفضل علی العالمین (22:40-44; cf 2:251) میں اسی مظہرکی ناگزیریت اورحکمت بیان ہوئی ہے۔

الغرض انسان کا فکری، روحانی اورثقافتی ارتقا اورارتفاق واقتراب ) ( social and spiritual evolution درحقیقت ادراکی مناقشات اورکمیونل جنگ وجدل intellectual dissentions & conflicts کے مسابقتی ماحول سے عبارت ہے۔ فکری ہم رنگی کا نتیجہ یک رنگی تھا اوریک رنگی منظر کو پھیکا اور باسی بناتی ہے، رنگ رنگ کے رنگ جو جامد نہ ہوں بلکہ جو منظرکو پردہ سیمیں پر متحرک اور مائل بہ تبدل و تغیر رکھیں وہی معتبر اور دلکش ہوتے ہیں۔ کائنات کا حسن اس کی ناتمامی اور دمادم صدا ئے کن فیکوں کے ساز ازل میں پنہاں ہے۔ یوں جامد انسانی معاشرت اور تہذیب خواہ کتنی ہی جاذب نظر ہو فطرت کی عکاس نہیں ہوسکتی ٹوائن بی نے سچ کہا ہے Civilization is a movement and not a condition; a voyage and not a harbor.۔ حرکت زندگی اور جمود اجل ہے۔ جس طرح باہم متحارب و متجاذب موجیں سمندر کو جوبن اور خروش ذات عطا کرتی ہیں بعینہ کثیرالمذہبی اورکثیرالقطبی دنیا Multi-Religion or Multi-community world تہذیب انسانی کا حسن اور ارتقائی ضرورت ہے۔ کوئی ایک شریعہ کاروان انسانیت کی کفیل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ ہر شریعہ اپنے عہد کے مخصوص Sitz im leben کو ایڈریس کرتی ہے جبکہ کارواں کی فطرت میں ہے کہ نئے زمانے اور تہذیبیں اس کے سفرارتقا کی عطیدہ و بخشیدہ ہوتی ہیں اوروہ Sitz em leben کو عبور کرتا رہتا ہے۔ قرآن کا نظریہ ناسخ ومنسوخ اسی امرکا غماز ہے کہ نئے نفسیاتی، سماجیاتی اورمعاشی وسیاسی حالات کی شریعہ سابق Sitz em leben سے مشروط وپیوستہ شریعہ کی جگہ لے لیتی ہے۔ جبکہ زمانہ وسطیٰ کے مفسرین نے اس سے کچھ آیات کی دیگرآیات سے substitution مراد لی جس سے ملوکیت، ملائیت اور پیری کے کچھ دیرینہ مسئلے توحل ہو ئے ہوں گے مگر قیمت قرآن چکا رہا ہے۔ یہ کتاب الٰہیہ نہ ہوئی کسی صحافی کا مونواسکرپٹ ہوا جس میں دوران ایڈیٹنگ نئے جملے پرانے جملوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آیت ۲:۱۰۶ بہ اعتبار سیاق وسباق Biblical dispensation کے قرآن سے تبدل supersession کی بات کر رہی ہے کیونکہ یہاں آیۃ سے مراد آیت قرآنی کے برعکس پیغام الٰہیہ یا مخصوص شریعہ ہے۔ لیکن کنفیوژن کے شکارمفسرین نے یہاں آیات قرآنی کا دیگرآیات سے تبدل مراد لے کر پسماندگان کے لیے ایسا دام خوش نما بچھایا جو ہنوزانڈے بچے دے رہا ہے۔ سنقرئک فلا تنسیٰ، الا ما شا اللہ (۸۷:۶) اورکچھ دیگرآیات پربھی اسی تناسخ آیات کی ملمع کاری کی گئی۔ محمد اسد کا موقف زیادہ قرین قیاس ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ کو مخاطب بناکر انسان سے عمومی خطاب ہے کہ ہرعلم خداکا عطیدہ و بخشیدہ ہے۔ مگر جب کوئی شاخ علم یا مہارت Redundant ہو جاتی ہے اس کا بہترمتبادل میسرآجانےسے انسانی عقل سے محوہوجانا بھی من اللہ ہے۔ کتنے بڑے بڑے فلسفوں کی قندیلیں بجھی ہیں کتنے بڑے بڑے ادب خاک کا پندارہو ئے ہیں اورانسان کی بساط ذہن پر کسی ایک نئی شاخ کے نکلنے سے کتنی فصیلیں ہٹی ہیں کتنے حصار کٹے ہیں اورکتنے نئے نئے علوم، ادب اورفلسفے طلوع ہو ئے ہیں اورہوتے رہیں گے یہ ایک بدیہی سچ ہے۔ ہرنئی تہذیب کا سورج نئے اخلاق وعلوم میں ڈوب کر طلوع ہوتا ہے ہرکُہنہ تہذیب اپنے اطوار و نقش کہن کے ساتھ دفن ہوتی ہے اورقدیم صالح اورجدید نافع کے امتزاج وانصباغ سے تاریخ کا سفرجاری رہتا ہے۔ یہی معاملہ شریعتوں کا ہے۔ پیغمبرؑ انی رسول اللہ الیکم جمیعا کے علمبردار تھے۔ یوں قرآن نے مکی عہد میں یہودونصاریٰ کو ان کے کمیونل تشخص کو نظرانداز کرکے اہل کتاب کے نام سے مخاطب کیا، احزاب، گروہوں اور فرقوں سے موسوم کرکے واعتصمو بحبل اللہ جمیعاًولا تفرقوٓا کہا کہ تم قافلہ توحید کے بچھڑے گروہ ہو آؤ اسی پلیٹ فارم پر مجتمع ہو کر مبنی بر توحید عالمی نظم اخلاق کی بنیاد ڈالتے ہیں تاکہ ایک خدا ایک انسانیت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ مگر مشیت الٰہیہ کے تحت when it was not going to be it sets the Prophet with problem of first theological order.۔ مکی عہد کے آخر اور مدنی عہد کا ابتدائی مرحلہ اسی کشمکش میں گزرا۔ قرآن نے بتدریج کتاب موسیٰ و عیسیٰ یعنی تورات اورانجیل کا ذکرشروع کیا یہودونصاریٰ کا تشخص ابھرنا شروع ہواورہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد قرآن نے یہودونصاریٰ اوراہل اسلام کو بطور الگ الگ کمیونٹیز مان لیا۔ اس اجمال کی تفصیل آگے آئے گی۔ قرآن نے دوٹوک کہا لکل جعلنا منکم شرعۃً ومنھاجا ولو شا اللہ لجعلکم امۃً واحدۃ ًولٰکن لیبلوکم فی ماً آتٰکم فاستبقوالخیرات (۵:۴۸)۔ تم میں سے ہرایک کے لیے ہم نے مختلف شریعتوں اورطرزحیات کا تعین کردیا ہے خدا چاہتا توتم سب کو امت واحدہ بنا دیتا (مگر بتقاضا ئے مشیت اس نے ایسا نہیں کیا) وہ چاہتا تھا کہ تمہیں (ان شرعی ضابطوں) سے آزما ئے جو اس نے تمہیں عطا کیے ہیں۔ پس (یہودونصاریٰ، اہل اسلام اور دیگر مذہبی کمیونٹیز) ایک دوسرے سے نیکی اور تعمیر تاریخ میں برتر یلے جانے کے لیے مقابلے اور مسابقت کا میدان گرم رکھیں!”۔ چونکہ تمام شریعتوں کا منبع ومرجع دین اسلام ہے جو آدم تا محمد ایک ہی ہے جو توحیدالٰہیہ اور یوم آخرت پرایمان کے باوصف عمل صالح کی دعوت دیتا ہے اس لیے یہ تین بنیادی امورتمام شریعتوں کا مشترک ہیں اس لیے یہودیت، عیسائیت وغیرہ کو مذاہب اسلام ہی کہا جاتا ہے۔ جدید اسلامی اسکالرز کے ہاں اسی بنیاد پر Universal good کا تصور پایا جاتا ہے اوروہ ان الذین آمنو ا والذین ھادو والصٰبئون والنصٰریٰ من آمن باللہ والیوم الآخر وعمل صالحاً فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون (۵:۶۹ ) کی بنیاد اپنے مقدمے کو مضبوط تربناتے ہیں اگرچہ قدامت پسند اس آیت سے وہ یہودی، عیسائی اور صابی قرارلیتے ہیں جو مسلمان ہوگئے مگراہل ایمان توچارمیں سے پہلا گروہ ہیں۔ پھرکہاجاتا ہے کہ وہ یہودی عیسائی اور صابی مرادہیں جو بعثت رسولﷺ سے پہلے گزرچکے ہیں۔ یہ بھی دلیل کی زیاں کاری ہی ہے۔ جب یہودیوں اورعیسائیوں نے دعویٰ کیا کہ آخرت پرصرف انہیں کا حق ہے تو قرآن نے کہا بلیٰ من اسلم وجھہ لللہ وھومحسن فلہ اجرہ عند ربہ ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (۲:۱۱۲) وہ جوخداکے سامنے سرنڈرکرتا ہے اوراس بنیاد پر عمل صالح سرانجام دے تواس کا رب کے حضور اجر ہے اورایسے فردکوکسی حزن وملال کا سامنا نہیں ہوگا۔ نجات پر کسی مخصوص کمیونٹی کی اجارہ داری ہرگز نہیں ہے۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔ سوال یہ ہے کہ حیات اخروی پر اگر یہودونصاریٰ کی اجارہ داری نہیں ہے تومسلمانوں کی کیونکر ہوسکتی ہے۔ قرآن نے سیلف سرنڈر کو ہی بہترین دین قراردیا ہے ہم نے صفت کو اسم بنا دیا۔ قرآن نے لفط “اسلام” کو بطور صفت برتا ہے بطور مذہب مستعمل ہونا تاریخ کی پیداوار ہے۔ قرآن نے اولیا ء اللہ کی اصطلاح عالمی نظم اخلاق کے قیام کے لیے سرگرم اصحاب رسولﷺ کے لیے برتی ہے مگرتاریخی اعتبار سے اس کا اطلاق متصوفین کے لیے اس قدربتکرار ہوا ہے کہ جب اولیا ءاللہ کا ذکر آئے چشم تخیل ابوبکروعمریا دیگراصحاب کے برعکس سبزخرقہ پوشوں کا جم غفیر سامنے پاتی ہے۔ قرآن اپنی حقیقی تفہیم کے لیے پہلے قدم کے طور پر تاریخی بگاڑ کی درستگی کا خواستگار ہے اور یہ کام علما کا تھا مگر وہ تاریخ کے شعور سے نا بلد ہونے کے باوصف پارٹ آف پرابلم ثابت ہو ئے تو یہ بیڑا جدت پسندوں کو اٹھانا پڑا اوردشنام طرازی کے سزاوار بھی وہی ٹھہرے۔ سیدامیرعلی نے اسلام کے سوشل پہلوؤں پربڑی عرق ریزی سے کام کیا جو سید مودودی کے کام سے زیادہ لائق توجہ تھا مگر “تاریخ اسلام ” کی رسیا قوم نے اسے کتنی توجہ دی؟ تاریخ کے اس موڑپرمعذرت خواہانہ انداز کا در آنا فطری تھا مگر اس بنیاد پران کے کام کو استشراقیت کے کھاتے میں ڈالنا کتنی بڑ ی ناانصافی ہے؟ وہ بہرحال سرسید، سیدچراغ علی اورپرویز صاحب سے الگ ہے مگرشمار انہیں میں ہے۔

تفہیم وحی میں جدت پسندوں اور قدامت واحیا پرستوں کا کردار

حقیقی جدت پسندوں نے اسلام کوفکروثقافت وسیاست مغرب اورخاص کرسیکولرازم کی یلغار سے بچایا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے کوافغانی، اقبال، شریعتی اورفضل الرحمان وغیرہ کے افکارمیں پناہ ملتی ہے۔ جدت پسند وں کے ہاں نیکی وخیرکا آفاقی تصورقرآن سے ماخوذ ہے اور اس کے clues انہیں فکر ولی اللٰہ سے بھی ملے ہیں۔ پیغمبرؑ نے زرتشتیوں کو کمثل اہل کتاب کیوں کہا تھا؟ علما کا سارا زور بلحاظ عقیدہ تمیز و تفرق وتفرد اسلام پراس لیے ہے کہ وہ قرآن وسیرہ کے حقیقی مدعیٰ کو جوعالمی نظم اخلاق کے قیام کی جدوجہد moral initiative سے عبارت تھا اسے تاریخ کی گرد میں بھول آئے ہیں۔ یوں وہ اپنے سارے stakes عیسائیت کے نقش پر Faith by affirmation or Justification by Faith میں مجتمع نہ کریں تو کیا کریں۔ ان کے ہاں اسلام کی برتری کا راز عمل سے زیادہ عقیدے میں پنہاں ہے یوں وہ عیسائیت، یہودیت، زرتشتیت وغیرہ میں نیکوکار” اور”صاحبان تقویٰ”، ” کا استحقاق نجات ” مان لیں توان کے پاس کیا رہ جا ئے گا؟ تاہم جدید مسلم اسکالرز کا معاملہ دگرہے وہ نجات اخروی پر یہودونصاریٰ کی طرح مسلمانوں کی ایکسلوز و اجارہ داری کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا افتخار تعلیمات قرآنی کی آفاقیت اور incorruptibility and indelibility میں پنہاں ہے۔ خاتم الانبیا کا صحیفہ قرآن وحی الٰہیہ کا تتمہ و تکملہ culminating point of revelation ہے اور بااعتبار ارتقا وحی کی آخری منزل ہونے کے سبب روحانی کمال کا حتمی نسخہ ہے۔ تاہم ان کے نزدیک

“This uniqueness of the Quranic message does not, however, precludes all adherents of earlier faiths from attaining to Go’s grace- as the Quran so often points out- those among them who believe uncompromisingly in the One God and the Day of Judgement (i.e., in individual moral responsibility) and live righteously “need have no fear, and neither shall they grieve10”.۔

کیا اہل اسلام کے لیے یہ طرّۂ وامتیازکافی نہیں کہ جہاں دیگرتمام مذاہب اپنی نقدی کا گراں قدرحصہ تاریخ کی رہزن قوتوں کے ہاتھوں لٹوا چکے ہیں اوران کی زنبیل میں بجز چند نجی رسوم وروایات کچھ نہیں بچا اوروہ سیکولرازم کی تیغ جگردار کے آگے ڈھیر ہوچکے ہیں وہاں اسلام قرآن اوراسوۂ رسولﷺ کے زور پر سیکولرازم کی تمام تر حشرسامانیوں کے خلاف زخمی شیرکی طرح خم ٹھونک کر کھڑا ہے۔ جدت پسند اسکالرکس تیقن اوروثوق سے کہہ رہا ہے کہ اگراسلام کا مستقبل مخدوش ہے تو خود انسانیت کا مستقبل بھی مخدوش ومعدوم ہے۔ اسلام اور انسانیت کا مستقبل باہم مشروط ہے۔ مداوا نہ تو اہل مدرسہ کی ماضی پرستی میں ہے اور نہ ہی ویسٹرن اورینٹلزم کی خاک چاٹنے میں ہے جیسا کہ سیکولر اہل اسلام کا منشور ہے۔

The only remedy for this sterile scholarship is to try to replace orientalism with genuine Islamic studies that would be constructive and purposeful both for Islam and for Western scholarship. If Islam should have only a past and not future, Muslims, as such, will have little to live for, but Western scholars of Islam might also have little to live by.11”۔

مادہ پرستانہ میٹافزکس پر استوار دنیا کی موجودہ سیکولرازم خوردہ انسانیت آج کائنات کی روحانی تعبیر، انسان کی روحانی آزادی اورزندگی کے روحانی ارتقا کی جہت نمائی کے لیے کارآمد آفاقی اصولوں کی تلاش میں بلک رہی ہے۔ ممکن ہے ابھی ارتقا کے کچھ پڑاؤ باقی ہوں تاہم Final integration of humanity on the grand principle of the Oneness of God is an ultimate destiny of mankind.۔ قرآن کے دامن میں کتنے اعصارودہورلوریاں لے رہے ہیں اورکہاں آکے ملنے ہیں قافلے اقبال بچشم سر دیکھ رہا تھا ” گماں مبرکہ باپایاں رسیدکارمغاں۔ ۔ ہزاربادہ ناخوردہ دررگ تاک است” (یہ گماں نہ کرکہ پیرمغاں کاکام اتمام کوپہنچا، ابھی تو انگور کی شاخ پر ہزاروں ناخوردہ جام لٹک رہے ہیں)۔ پس اسلام کی حقیقی قوت اہل اسلام کا موجودہ ہیومن ریسورس نہیں ہے وہ قرآن واسوۂ رسول کا تصور خدا اور حیات و کائنات ہے جسے جب جب حقیقی علمبردار میسر آتے رہیں گے نئے زمانوں اور اعصارودہور کی پرورش ہوتی رہے گی۔

تفصیل بالا کا اجمال یہ ہے کہ وحی اگرچہ باعتبارنوعیت ایک تخلیقی عمل ہونے کے سبب cognitive element رکھتی ہے یہ جوہری طور پر عقل محض کی قوائے مدرکہ (شاعرانہ، سائنسی اورحتیٰ کہ صوفیانہ تخلیق جو وحی سے قریب ترہے) سے مختلف ہے کیونکہ یہ اپنے حامل کو حیاتیاتی تبدیلیوں کا شکار کرتی ہے جو دھرتی پر دائم نقش چھوڑتا ہے اورفلسفیانہ علم ایسے جوہر سے محروم ہوتا ہے۔ یہ جڑ یا اصلِ حیات سے سائنسی زبان میں مکالمہ ہے۔ یہ بحرِاخلاق سے نظام حیات کے موتیوں کی منضبط اوردینا می طور پر باہم مربوط مالا سینچنے کا عمل ہے۔ جس کا یقیناً میرٹ بھی ہے تاہم یہ سراسرفضل ورحمت الٰہیہ کا معاملہ ہے۔ تاہم اس وادی میں اترنے کے لیے انسانی قویٰ ناکافی ہیں۔ یہ اس وادی کا سفر ہے جہاں خضرکے پاؤں اورعصا دونوں تھک کرٹوٹ جاتے ہیں اگلا سفراپنےوفور ذوق وشوق اورسینے کے زور پر بلا تمنا جاری رکھنا پڑتا ہے تا آنکہ رحمت الٰہیہ خوداپنا باب واکردے۔ اس لیے دفتر نبوت کو خالصتاً انسان کا کسبی جوہرنہیں کہا جاسکتا۔ دوسرا نہایت ضروری امر یہ ہے کہ وحی بہ ذہن انبیا تاریخ سے تعامل کرتی ہے۔ وحی افلاطون کی Utopian Schemes جو زمینی حقائق اورانسانی فطرت و فکر کے ارتقا کو نظرانداز کریں، ان سے کلی طور پر مختلف معاملہ ہے۔ تاریخ کے ہرموڑپروحی نے اس عہد کے نفسیاتی، سماجیاتی اور تاریخی پس منظر سے یوں تعامل کیا جس طرح ٹرانسپلانٹ میں نہ صرف دو پودوں کے جینیاتی پیکیج اور ساختیات کو ملحوظ رکھاجاتا ہے بلکہ ٹرانسپلانٹ کی اس زمین کے اجزاوعناصر کیساتھ ہم آہنگی و وارفتگی congeniality بھی دیکھی جاتی ہے جس میں اس کی بارآوری مقصود ہوتی ہے۔ وحی دراصل سماجی اصلاحات کے لیے ایک ایسے سوشل ٹرانسپلانٹ کا مقدمہ پیش کرتی ہے جس میں نئے عنصر کا پرانے عنصرسے متماثل ہونا ازحد ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف انسانی فطرت اورسماج کا تقاضا ہوتا ہے بلکہ وحی فی ذاتہ ایک روایت کاتسلسل ہے جو توحید باری تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان اورعمل صالح سے عبارت ہے اور چونکہ مختلف نفسیاتی سماجیاتی، معاشی اورسیاسی حالات میں عمل صالح کی نوعیت سبجیکٹ ٹو چینج رہتی ہے یوں مختلف شریعتیں فکروعمل کے ارتقا کا response ہیں۔ یہ حقیقت بھی محل نظررہے کہ وحی کا آنا باری تعالیٰ کی ضرورت نہیں ہے یہ سسکتی بلکتی انسانیت کے زخموں کا مرہم ہونے کے باوصف سراسر انسانی ڈیمانڈ اورضرورت کے لیے الٰہیاتی بونس ہے ورنہ انسان میں جبلی ہدایت instinctive guidance کا داعیہ موجود ہے جو انسان خود صرف ہوا و ہوس کرتا ہے اور وحی انسان کی فطرت ضعیف پرترس اورسراسر رحمت الٰہیہ ہے۔ صحیح العقیدہ معاشرت بھی خدا کی ضرورت ہرگز نہیں ہے بشرطیکہ افرادِمعاشرہ باہم انجذاب واتحاد mutual cooperation اور عمل صالح constructive deeds کا مرقعہ ہوں۔ قرآن کے مطابق کوئی بستی، قریہ یا تہذیب محض غلط العقیدہ ہونے کی بنیاد پر تباہ نہیں ہوئی۔ تباہی ہمیشہ ظلم و نفاق اور اعلیٰ درجے کے mutual discord کا نتجہ رہی ہے۔ وما کان ربک لیھلک القریٰ بظلم واھلھا مصلحون (۱۱:۱۱۷)۔ ” یہ تمہارے رب کی کبھی سنت یا روش نہیں رہی کہ وہ محض غلط عقیدتی (کفروشرک ) کی بنیاد پر تہذیبوں کو تباہ کرے اورافرادمعاشرہ باہم دیگر تعمیری عمل کی مالا میں پروئی صالحیت کا مظہرہوں”۔ اورایسا بھی نہیں کہ کسی تہذیب پربعثت انبیا سے اتمام حجت کے بغیر تباہی آئی ہو وماکان ربک مھلک القریٰ حتیٰ یبعث فی امھا رسولاًیتلو علیھم آیٰتنا، وماکنا مھلکی القریٰ الا واھلھا ظٰلمون (۲۸:۵۹)۔ علی ؑ کا یہ قول کہ “معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں ظلم پر نہیں” انہیں آیاتِ قرآنی کا لب ِلباب ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں چرچل کا یہ قول کہ اگرہماری عدالتیں انصاف مہیاکررہی ہیں ہٹلرکا نازی فتنہ ہمیں تہہ تیغ نہیں کرسکتا اسی حقیقت کا ترجمان ہے۔ ہاں قرآن بالصراحت کہتا ہے کہ اخروی حیات دنیوی حیات کا organic extension ہوگی ومن کان فی ھٰذہ اعمیٰ فھوفی الآخرۃ اعمیٰ واضل سبیلاً (۱۷:۷۲)۔ اسد لکھتے ہیں

“ Man’s life in the hereafter is not merely conditioned by the manner of his life on the earth, but is also an organic extension of the latter, manifested in a natural development and intensification of previously-existing tendencies.12”۔

یعنی حیات اخروی دنیوی حیات کے sum-total کا جامد نتیجہ نہیں ہوگا بلکہ وہ قویٰ وادراک اخلاق جنہیں فکری اورعملی تعبیربخشی گئی تھی وہ حیات اخروی میں ایک نامیاتی رجحان کی طرح پھلتی پھولتی اور ارتقا پذیر رہیں گی۔ یوم تری المومنین والمومنات یسعیٰ نورھم بین ایدیھم و بایمانھم (۵۷:۱۲)۔ اس روز تم مومنین ومومنات کے آگے اوردائیں جانب دوڑتا نور دیکھوگے”۔ یہ دراصل اہل جنت کی اخلاقی بصیرتوں کا زیرارتقا ونشوونما رہنے کا بیان ہے۔ “جنت ملا م ئے وحور و غلام۔ ۔ جنت آزادگاں سیردوام”، جنت ملا خور و خواب وسرود۔ ۔ جنت عاشق تماشا ئے وجود”۔ قرآن دراصل وحی الٰہیہ کے زیراثرچشم اخلاق کے بیدارہونےسے شروع ہونے والی زندگی کو حقیقی حیات اورجبلی جذبوں کی اسیرزندگی کو عدم حیات سے تعبیرکرتا ہے۔ اور اس اصول پربلا رعایت اتنا کاربند ہے کہ وہ پیغمبرؑ کی نزول وحی سے پہلے کی حیات کو تلاش حق کی سرگردانیاں اور حیات اصلی (روحانی) سےمحرومی جب کہ بعدازوحی کی زندگی کو حقیقی حیات قراردیتا ہے۔ ووجدک ضالاً فھدیٰ میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے اور اومن کان میتا ً فاحیینٰہ وجعلنا لہ نوراًیمشی بہ فی الناس (۶:۱۲۲) میں یہی وضاحت ہے۔ جب صاحب وحی کی قبل ازوحی حیات کو یوں بیان کیا ہے جس کا کردار قبل ازوحی بھی مثالی اورملقب بہ ” صادق اورامین ” تھا۔ وہاں عمومی حیات کا پوچھنا کیا؟ کردہ گناہوں کی صد سزاوں کا بیان بجا مگر کیا Sins of omission بھی کبھی ہمارا موضوع بنے؟ من اعرض عن ذکری فان لہ معیشتاً ضنکاًو نحشرہ یوم القیامۃ اعمیٰ، قال رب لماحشرتنی اعمیٰ وقدکنت بصیرا، قال کذالک اتتک آیٰتنا فنیسیتھا وکذالک الیوم تنسیٰ (20:124-126) میں ساری سزا ناکردگی کی ہے Moral life & initiative سے محرومی ہے۔ چشم اخلاق کا وانہ ہونا ہے۔ scope of life کی تنگی کا اشارہ ہے، لم یرد الالحیوٰہ الدنیا وذالک مبلغھم من العلم اورضل سعیھم فی الحیوٰہ الدنیا کی رمزبیان ہورہی ہے۔ وہ سمع وبصرجو Empirical sciences کی پردہ کشائی کریں مگر اخلاقی حیات کے اصولوں کی دریافت سے بے بہرہ رہیں توگویاان کاتعلق بند Processing unit یعنی مردہ دل سے ہے۔ کیونکہ ایشو ان پٹ کے avenues میں نہیں ہے وہ توصحیح ڈیٹا دے رہے ہیں مسئلہ Interpreter کی پروسسنگ میں ہے۔ وحی اسی پروسسنگ یونٹ سے تعامل کرتی ہے اسی لیے قرآن خودکو” شفا ء الما فی صدور” کہتا ہے۔ یہ اخلاقی بیماریوں کا مداوا ہی نہیں بلکہ نئی اخلاقی توانائیوں کا پروڈکشن ہاؤس ، انجن اورانرجی یونٹ بھی ہے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران کی انتخابی مہم اور مانسہرہ کا پاگل — حبیب اکرم
next post
پنجیری : عرفان شہود کے سفرانچوں کادوسرا مجموعہ — نعیم الرحمٰن

Related Posts

دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...

15/09/2026

شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...

16/07/2026

30/03/2025

“Just You and Me” – Digital Intimacy ——- Dr....

08/12/2024

The Silent Struggle — Bubbly Shaikh

19/06/2024

لیاقت علی خان اور ۱۹۳۷ کے انتخابات –...

19/08/2022

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.