تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

گیسٹ ہائوس کا بزنس اور اسلامی نظام —- انور عباسی

by دانش ڈیسک 19/09/2019
written by دانش ڈیسک 19/09/2019
92

تقریباََ تیس برس قبل سعودیہ سے پاکستان مستقل واپسی پہ جب دیکھا کہ یہاں ملازمت کے مواقع بہت کم تھے اور پھر سعودی عرب میں ملازمت کے بعد پاکستان میں اسی معیار کی نوکری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے مشوروں کا ڈول ڈالا گیا۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں نے تجارت کے فوائد بتائے، قرآن اور احادیث کے حوالوں سے سمجھایا تاجر تو سیدھا جنت میں جائے گا۔ ہم نے دوستوں کے مشوروں پر کان دھرا۔ دنیا کماتے کماتے اگر جنت بھی مل جائے تو اس میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہم خرما و ہم ثواب والا آئیڈیا بہت پسند آیا۔

ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اسلام آباد میں گیسٹ ہائوسز کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس میں زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک اچھی سی لوکیشن پر مکان کرائے پر لے لیا اور بس۔ ہم نے کہا کہ ہمیں کسی بھی کاروبار کا کوئی تجربہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار اور اعتماد والا ساتھی بھی ساتھ دیں گے جو ایک اسلامی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے معاہدہ وغیرہ طے ہوا۔ پانچ چھے کمروں والا ایک مکان کرائے پر لے لیا گیا۔ نئے پردے، قالین، ہر کمرے میں ٹی وی اور ائیر کنڈیشنر۔ مزید کہا گیا کہ ہر کمرے میں وی سی آر بھی ضرور ہو۔ ہمیں کوئی تجربہ نہیں تھا، لہذا سارا کام مشوروں پر آنکھ بند کرنے عمل کرنا پڑا۔

لو جی! کوئی چھے ساڑھے چھے لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعددس پندرہ دنوں میں گیسٹ ہاوس تیار ہو گیا۔ ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ اب گیسٹ کہاں سے آئیں گے۔ اس کے لیے ایک پرانے گیسٹ ہاوس کے مالک سے رابطہ کروایا گیا اور ان کی شاگردی میں دن گزرے۔ انھوں نے ایک وعدہ یہ کیا کہ ہمارے پاس جب کمرے فل ہوں گے تو ہم آپ کے پاس گاہک بھیج دیا کریں گے۔ ایک دو دنوں میں ہی کچھ کمرے لگ گئے۔ ٹیکسی ڈرائیورز سے رابطہ ہوا جو بس اڈوں، ائیر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن سے گاہک لاتے اور اپنا کمیشن کھرا کرتے۔ ہم نے ایک منیجر رکھ لیا جو عام طور پر رات کی ڈیوٹی سنبھالتا۔ صبح آٹھ نو بجے ہم چلے جاتے اور دو بجے تک وہیں رہتے۔ رجسٹر دیکھتے، مہمانوں کا حساب لگاتے، کمروں کا جائزہ لیتے کہ کتنے لگے، کتنے خالی رہ گئے وغیرہ وغیرہ۔ دو بجے کے بعد ہمارا پارٹنر ڈیوٹی سنبھالتا اور رات آٹھ بجے تک رہتا۔ حیرت انگیز طور پر ایک مہینے کے بعد تقریباً سارے کمرے ہی مصروف ملتے۔ اب سمجھ میں آیا کہ سمجھدار لوگ ٹھیک ہی تو کہتے تھے۔ پیسے الگ کمائو اور جھونگے کے طور پر جنت کے مزے الگ لوٹو!

چار پانچ مہینے گزرے۔ حساب لگایا واقعی بڑا نفع بخش کاروبار نکلا۔ حسبِ معمول ایک دن صبح ڈیوٹی سنبھالنے آئے۔ منیجر کے سامنے والی کرسی پر ایک ماڈرن سی لڑکی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ سوچا اس کی کوئی عزیزہ ہوگی۔ خیر ہم اس سے رجسٹر لے کر ساتھ والے ایک صوفے پر بیٹھ گئے تا کہ معلوم کرسکیں کہ آج کتنی آمدنی ہوئی، کون کون رہائش پذیر ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہر کمرے میں رہائش پذیر مہمانوں کے نام اور پتے وغیرہ لکھے ہوتے تھے۔ دیکھا کہ آج رات کو کوئی فیملی نہیں آئی، لیکن سارے ہی کمرے فل ہیں۔ حساب کتاب کر کے ہم منیجر سے کیش وصول کرتے تھے۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ وہ لڑکی اٹھے تو منیجر سے کیش لے سکیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ لڑکی نے گردن موڑ کرہماری طرف دیکھا اور منیجر نے سر ہلا کر کچھ کہا۔ جب بیس پچیس منٹ کے بعد بھی وہ کہیں نہیں گئی تو ہم نے منیجر کو بلا کر کہا کہ انھیں چائے وغیرہ پلا کر فارغ کریں تا کہ ہم حساب کتاب کر سکیں۔ وہ بولا صاحب، یہ گیسٹ ہیں اور اسی جگہ ٹھہری ہوئی ہیں۔ ہم نے دوبارہ رجسٹر پر نظر ڈالی۔ سب کمروں میں مرد حضرات ہی کا نام درج تھا اور کمرے بھی فل تھے۔ ہم نے کہا کہ بھئی کمرے تو فل ہیں ان کا نام تو کہیں نظر نہیں آرہا۔ وہ مردِ قلندر بولا، آج چونکہ کمرے لگ چکے تھے اس لیے ان کو سرونٹ کوارٹر میں ہی ٹھہرا لیا تھا۔ حیرت ہوئی۔ سرونٹ کوارٹر میں فالتو بستر اور دیگر سامان پڑا ہوتا تھا کسی کے ٹھہرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ پھر ان سے وصول شدہ کرایہ کہاں لکھا ہے؟ کیا مفت ٹھہرایا ہے؟ رجسٹر تو پورا لکھا ہوتا، چلو اب حساب تو دو۔
اور پھر اس نے پورے کا پورا حساب دے دیا۔

جناب میں باز آیا اس طرح کے کاروبار سے۔ جب اسلامی نظام آجائے گا تو دوبارہ آجائوں گا۔۔۔

پتا چلا کہ وہ عفیفہ فلاں دو کمروں میں ٹھہرے ہوئے ’بڑے‘ لوگوں کی ’خاص‘ مہمان ہے۔ چونکہ وہ دونوں کی ’مہمان‘ ہے اس لیے دونوں ہی اس کے کمرے ہوئے، ان سے الگ کوئی کرایہ وصول نہیں کیا گیا۔ یہ ’حساب کتاب‘ فوراً ہماری سمجھ میں آگیا۔ سختی سے اس کی باز پرس کی کہ یہ حرکت تم نے کی کس طرح۔ بولا ’’صاحب میری کیا مجال، آپ تو رات کو چلے جاتے ہیں، آپ کے پارٹنر ہی کا حکم چلتا ہے۔ ان ہی کے ایما پر یہ سب کچھ ہوا ہے۔ آپ ان سے بات کر لیں‘‘۔ خیر ان سے تو بعد میں بات کریں گے، فی الحال تو ان ’شریف‘ مہمانوں سے کچھ عرض کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کہ ٹھہرے اپنے ہی وطن میں اجنبی، ان سے بات کی تو طبیعت ہری ہو گئی۔ ہماری تبلیغ کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’او بھائی! نہ جانے تم کس دنیا میں رہتے ہو؟ ہم اس شہر میں کوئی نئے ہیں نہ اس گیسٹ ہائوس میں ہماری پہلی آمد ہے۔ اگر ہماری خاطر تواضع اور ’دیگر سہولیات‘ کا خاص خیال نہ رکھا گیا ہوتا تو یہاں اتنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ یہاں کے گیسٹ ہائوس ان ’سہولیات‘ کے بغیر ہی چلتے ہیں‘‘؟ یہ کہتے ہوئے انھوں نے دور کسی طرف اشارہ کیا اور پھر پاس پڑی ہوئی ایک بوتل کی طرف اشارہ کیا، جو تقریباً خالی ہو چکی تھی۔

ہم خرما تو ملا مگر ہم ثواب؟ ہم مذہبی جماعت کے ان ذمہ دار کے پاس اسی دن چلے گئے کہ یہ کیا مصیبت آپ نے ہمارے گلے میں ڈال دی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں تھاکہ اس کاروبار میں یہ گند بھی پایا جاتا ہے۔ کل کلاں اخبار میں چھاپے کی خبر بھی آ سکتی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ بولے یہ غیر اسلامی نظامِ حکومت کے شاخسانے ہیں۔ اسلامی نظامِ حکومت کے آنے تک یہی سب کچھ چلتا رہے گا۔ ہر طرف آپ کو یہی کچھ ملے گا۔ آپ اس کو اِس نظامِ حکومت کا ہرجانہ سمجھ کر اس کاروبار کو قبول کر لیں۔ ہمیں ایسی کوئی مجبوری لاحق نہیں تھی اس لیے اٹھے اور یہ کہہ کرچلے آئے کہ ’’جناب میں باز آیا اس طرح کے کاروبار سے۔ جب اسلامی نظام آ جائے گا تو دوبارہ آجائوں گا، میں کل ہی بند کر رہا ہوں یہ سب کچھ‘‘۔ واپس آئے، پارٹنر سے کہہ کر ساڑھے چھے لاکھ کا سامان اونے پونے بیچ کرجلدی سے ’ثواب‘ کو عاقبت پر رکھ کر ڈیڑھ لاکھ کا خرما سمیٹا، پانچھ لاکھ کا ثواب کمایا بلکہ کھایا، اور گھر آ کر ’اسلامی نظام‘ کا انتظار کرنے لگا۔

آجا کہ انتظار میں، جانے کو ہے بہار بھی
تیرے بغیر زندگی، درد بن کے رہ گئی
ارمان لیے بیٹھے ہیں ہم، سینے میں ہے تیرا ہی غم

ابھی تک انتظار کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ آپ بھی منتظر رہیں۔ امید واثق ہے کہ دریں حالات اس قسم کی کوئی چیز ادھر کا رخ نہیں کرے گی۔

—- مصنف کی حال ہی میں شایع ہونے والی سوانح حیات ’متاع شام سفر‘ سے ماخوذ —-

Facebook Comments Box
featuredاسلامی نظامانور عباسیگیسٹ ہاوس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہم سب ٹی بیگ ہی تو ہیں — اظہر عزمی
next post
کیا ہم ایک اور آئینی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ——– محمد خان قلندر

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.