تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ہم سب ٹی بیگ ہی تو ہیں — اظہر عزمی

by دانش ڈیسک 19/09/2019
written by دانش ڈیسک 19/09/2019
80

تلخ تجربات، مشکل حالات آپ کو بنا دیتے ہیں۔

(ایک اشتہاری کی باتیں)

کچھ عرصہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی ٹی بیگ والی چائے کا رواج چل پڑا ہے جسے عرف عام میں لوگ تعویز والی چائے بھی کہتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا تو ٹی بیگ والی چائے میرے سامنے رکھ دی گئی۔ میں نے ٹی بیگ سے رنگ،خوشبو اور ذائقہ کشید کرنےکے لئے اسے بار بار گرم پانی میں ذبکیاں دینے لگا۔ اس کا رنگ کھلتا چلا گیا اور خوشبو نے بھی اپنا رنگ جما دیا۔ پہلے ہی گھونٹ میں ذائقہ بھی بہتر لگا۔ ایک دم خیال آیا کہ ہم سب بھی تو ٹی بیگ ہی ہیں۔ انگریزی میں Hot Water سے مراد مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اگر آپ اردو میں اسی معنی کے ساتھ بات سمجھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب تک آپ مشکل حالات کا سامنا نہیں کریں گے آپ خود کو پرکھ نہیں پائیں گے۔ اپنے آپ کو دریافت نہیں کر پائیں گے۔

بات تو دل کو لگی مگر پھر ذہن میں آیا کہ میرے اپنے پاس اس کے لئے کوئی حوالہ بھی ہے۔ ذہن کو ٹٹولا۔ تو پھر وہی 1988 نکل کر سامنے آگیا۔ پھر میں سوچنے لگا کہ اس سال نے میرے سوچ کے زاوئیے بدل دیئے۔ زندگی کو بند گلی سے نکال کر عملیت پسندی کی شاہراہ کا مسافر بنا دیا۔ جذباتیت کی جگہ عملیت نے لے لی۔ عزت کے نام پر قائم نام نہاد خیالات اپنی موت آپ مرنے لگے۔ پھر اور بھی بہت کچھ سمجھ میں آنے لگا۔ منافقت اور مصلحت، سیاست اور حکمت، قناعت اور کاہلی، انا اور عزت نفس کے درمیان کا بال برابر کا فرق شعور کے Magnifying Glass لگا کر بہت بڑا لگنے لگا۔

آئیے! taylor swift nude ٹی بیگ کے حوالے کے لئے چلتے ہیں ایک ہفتے چلنے والی اپنی پہلی ملازمت کے بعد اپنی دوسری جائے ملازمت پر۔ ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا سب سے بڑا کلائنٹ چلا گیا۔ اب پتہ نہیں یہ ہمارے نیک قدموں کا کیا دھرا تھا یا ایجنسی کا برا وقت ہی شروع ہوچکا تھا۔ ایک بڑے کلائنٹ پر چلنے والی ایجنسیز ایک دم ہی نیچے آتی ہیں۔ کاسٹ کٹنگ کی باتیں شروع ہوتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مشورہ وہ ملازمین دیتے ہیں کہ جو بڑی بڑی تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں۔ چھری چلتی ہے تو کم تنخواہ والے نئے ملازمین یا نچلے درجے کے اسٹاف پر جو کئی سالوں سے کم آمدن پر گھر کا راشن پورا کر رہے ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہم یہاں پہلے نمبر پر آگئے۔ تذلیل کا سنہرا موقع ہاتھ دکھانے کو تیار تھا۔ مسئلہ یہ رہا کہ جو صاحب لائے تھے ان کی وجہ سے براہ راست تو کچھ نہ کہا گیا لیکن اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کیا گیا یعنی کہ ہمیں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ٹین والی چھت کے استقبالیہ (ریسیپشن) پر ریسیشنسٹ کم ٹیلی فون آپریٹر کی جگہ پر بیٹھنے کا کہہ دیا گیا گو کہ اس کام کے لئے پہلے سے خاتون موجود تھیں ۔ اب اللہ جانے اس خاتون کو حالات کا اندازہ ہوگیا تھا۔ اس نے تنخواہ لی اور پھر آفس کا منہ نہ دیکھا اور ہمیں اس عہدہ جلیلہ پر ہونق افروز کر دیا گیا۔ مانا کہ ہم شعبہ تخلیق میں نووارد تھے مگر اس تکلیف کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ تخلیق کاری میں ہمارے لیے یہ تخریب کاری چھپی ہو گی کبھی نہ سوچا تھا۔ سوچتے بھی کیسے؟ ہمیں تو تخلیق میں سوچ کے نئے دروازے وا کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔

اب تک تو لکھتے ہوئے مجھے بھی لطف آرہا ہے۔ قلم اپنا ہی مذاق اڑاتے ہوئے بہت چہچہا رہا ہے لیکن اس کے بعد اذیت، شرمندگی، خجالت اور نہ جانے کون کون سے لفظوں نے دماغ کو ماوف کرنا شروع کردیا۔ 8 گھنٹے کی ملازمت کیا تھی کوئے ملامت تھی۔ اب افتخار عارف کا مصرعہ یاد آرہا ہے۔

رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

ہم محفل گریز، تنہائی پسند، اکھڑ پیدائشی ہیں اس لئے اس کام کے لئے انتہائی ناموزوں تھے۔ آفس کے لوگ آتے جاتے عجیب نظروں سے دیکھتے تو خود سے بڑی شرمندگی ہوتی۔ وزیٹرز کا آنا زہر لگتا۔ بھائی جب ایجنسی میں کام نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے تو آتے کیوں ہو؟ مگر ہماری سنتا کون؟

میں دو تین دن میں ہی اس صورت حال سے بہت کبیدہ خاطر ہو گیا۔ ہمت جواب دینے لگی۔ ایک دن مصمم ارادہ کیا کہ بس آج آخری دن ہے۔ کل سے پھر گھر گھسنے ہوجائیں گے۔ میرے پاس ملازمت چھوڑنے کی بہت واضح وجہ موجود تھی۔ گھر والوں کو بتاتا اور اپنی اور اپنے خاندان کی اعلی نسبی کا رونا روتا تو والدین کہتے کہ کل سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ تو سیدھی سیدھی بے عزتی ہے۔ سب کچھ میری موافقت میں تھا لیکن پھر ذہن نے پلٹ کھایا۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ جب میں نے حالات اور مستقبل کا دور رس جائزہ لیا اور یہ طے کیا کہ یہاں سے بھاگ جانا اس وقت فرار پسندی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر میں آج بھاگ گیا تو زندگی بھر نامساعد حالات دیکھنے ہی راہ فرار اختیار کروں گا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے زندگی بھر کے لئے تو ریسپشن کی سیٹ پر نہیں بٹھایا گیا۔ یہ صورت حال وقتی ہے مگر یہی کل وقتی تجربہ بھی دے رہی ہے جو زندگی میں میرے بہت کام آئے گا۔ اب میں اسی سیٹ پر ایک بالکل بدلا ہوا انسان تھا۔

میں نے طے کر لیا تھا کہ اس سیٹ پر نئی ملازمت تلاش کرنا آسان رہے گا۔ اس زمانے میں (1988) میں ٹیلی فون ہی سب کچھ تھا۔ کون تھا مجھے روکنے والا اب میں فارغ وقت میں ٹیلی فون ڈائریکٹری میں سے مختلف ایڈورٹائزنگ ایجنسیز میں بے دھڑک فون ملا دیا کرتا اور وہاں ملازمت سے متعلق پوچھتا۔ موقع ملتا تو وہاں کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں بھی کسی سے بات کر لیا کرتا۔ ملازمت ملے نہ ملے مگر ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں میرا نام پڑا رہ جاتا۔ فریڈرک صاحب سے بھی رابطہ اسی طرح ہوا تھا۔ انڈسٹری میں کافی افراد ایسے ہیں جن سے بعد میں میری بہت اچھی رفاقت رہی اور آج بھی ہے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ میری ان سے پہلے بات ٹیلی فون پر ہوئی جب میں ملازمت کی تلاش میں تھا۔

خیر ایک دن ندیم فاروق پراچہ کو فون ملا دیا۔ اس کہا کہ تم نے بڑے موقع سے فون کیا۔ ہمارے ہاں جگہ خالی ہے۔ کل سیکنڈ ہاف میں آباد۔ میں تمہارا انٹرویو کرا دیتا ہوں۔ اندھا کیا چائے دو آنکھیں۔ ہم دوسرے دن وہاں پہنچے، انٹرویو ہوا اور اسی وقت چھ سو روپے اوپر ملازمت کی پیشکش کر دی گئی مگر شرط یہ رکھی گئی کہ فورا آنا ہے۔

انکار کی گنجائش کہاں سے ہوتی۔ پہلی والی ایجنسی میں تو ہمارے بیٹھنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی۔ انٹرویو 14 تاریخ کو ہوا اور 15 سے ہم نے نئی ایجنسی جوان کر لی۔ پرانی ایجنسی سے 14 دن کی تنخواہ لینے بھی نہیں گئے۔ نہ انہوں نے پلٹ کر پوچھا اور نہ ہی ہم نے کبھی کوئی رابطہ کیا۔

اگر میں حالات کے زیر اثر آکر فرار اختیار کرتا تو ممکن ہے یہ سب نہ لکھ رہا ہوتا۔ واقعی ہم سب ٹی بیگ ہیں جنہیں ایک نہ ایک دن زندگی کے گرم پانی میں ٹی بیگ کی طرح اتر کر ڈبکیاں کھانی ہوتی ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جو شخص زندگی میں برا وقت نہیں دیکھتا وہ اچھا وقت بھی نہیں۔ زندگی بس روٹین میں ہی چلتی رہتی ہے۔

مصنف

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredHardships of lifeLife in hot watersself helpSuccess in lifeاظہر عزمیسیلف ہیلپکامیاب زندگیمشکلات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اخبار، لاشیں اور اذیت —– سحرش عثمان
next post
گیسٹ ہائوس کا بزنس اور اسلامی نظام —- انور عباسی

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.