تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
صنف/ جینڈر

:پاکستانی سماج اورعورت معاشی خود مختاری کاجھانسہ — نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 10/03/2017
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 10/03/2017
93

(۳)

ایک طرف مذہب کے نام پر عورت کا استحصال ہوتا ہے تو دوسری طرف روشن خیالی اور ترقی پسندی کے نام پر۔ اس کی ایک مثال عورت کی ملازمت ہے۔ ملازمت پیشہ عورت کے بارے میں جو سنہری خواب ہمیں دکھائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر کاملمع بہت جلد اتر جاتا ہے۔ ان میں سے ایک خواب تو یہ ہے کہ  ملازمت سے عورت معاشی طور پر خود مختار ہو جاتی ہے اور یوں مرد کے زیر تسلط نہیں رہتی۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد عورت کو معاشی خود مختاری کا جھانسا دے کر خود اپنی تمام ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتا ہے۔ جوں ہی کوئی عورت ملازمت اختیار کرتی ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے سے پہلو تہی کرنے لگتا  ہے۔

ملازمت پیشہ یا کماؤ عورت ہمارے معاشرے میں دہری اذیت کا شکار ہے۔ ایک طرف اس پر گھر داری کا بوجھ جوں کا توں ہے اور دوسری طرف کمائی کی ذمہ داری بھی لاحق ہے۔ اس کمائی سے عورت کرتی کیا ہے؟ میرا ااندازہ ہے کہ کم وبیش ننانوے فی صد عورتیں اپنی کمائی کا بیشتر حصہ اپنے بچوں اور گھر کی ضروریات پوری کرنے میں خرچ کر دیتی ہیں۔ اس دہری محنت کے باوجود وہ مسلسل زیر عتاب رہتی ہیں ۔ سسرال والوں کو شکوہ ہے کہ بہو خدمت نہیں کرتی، شوہر کو شکایت ہے کہ پوری توجہ نہیں ملتی، بچوں کو گلہ ہے کہ  امی ہر وقت مصروف رہتی ہیں۔ دوست احباب، عزیز رشتے دار بھی خوش نہیں، کوئی نہ کوئی غفلت شعاری کا الزام عائد کر ہی دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان سب شاکی طبقوں میں سے کوئی بھی دل سے یہ نہیں چاہتا کہ عورت سچ مچ کام کاج چھوڑ کر، اچھی بھلی کمائی کو لات مار کر گھر بیٹھ جائے۔ اس کے باوجود عورت کی کمائی اور اس کی آمدنی کی اہمیت کو تسلیم کرنا مردانہ انا کے لیے عار کا باعث ہے۔ جب بھی کسی محفل میں ذکر آتا ہے، شوہر حضرات بڑے دھڑلے سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ہماری بیگم صاحبہ تو اپنے شوق کے لیے نوکری کرتی ہیں، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔یہ منافقانہ روش اتنی عام ہو گئی ہے کہ کوئی اسے جھٹلانے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ عورت بھی مسکرا کر کہہ دیتی ہے، جی ہاں، یہ میرا شوق ہے۔ ملازمت پیشہ عورت خاندان کی معاشی زندگی میں توازن قائم رکھنے میں جو کردار ادا کرتی ہے، اس کی تحسین و تائید تو کجا، اس کا اعتراف بھی نہیں کیا جاتا۔

اس کا دوسرا اہم پہلو، جسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے،  یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جو معاشی خود مختاری دی ہے اس کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ایک طرف تو باپ کی جائیداد میں بیٹی کو حصہ دینے سے کھلم کھلا گریز کیا جاتا ہے اور دوسری طرف شوہر پر اپنی معاشی حیثیت کے مطابق عورت کو، نان نفقے کے علاوہ،  جیب خرچ دینے کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے وہ سرے سے بھلا دی گئی ہے۔ یہاں جیب خرچ سے مراد وہ رقم ہے جو عورت خود اپنی مرضی سے، کہیں بھی، کبھی بھی خرچ کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو  حالت یہ ہے کہ  بیوی کوحق مہر کی رقم ادا کرنا بھی بوجھ محسوس ہوتا ہے اور عموماً اچھے بھلے صاحبِ حیثیت افراد مہر مقرر کرتے ہوئے اپنی مالی حیثیت کے بجائے ’’شرعی مہر‘‘ کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ حالانکہ شرعی مہر بھی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ بتیس روپے چھے آنے۔ اگر یہ دونوں حقوق عورت کو مل جائیں تو بہت سی عورتیں ملازمت کے جھمیلوں کو ترک کرکے، اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنی خدمات وقف کر سکتی ہیں جو عورت کی ذمہ داری ہی نہیں، اس کی جذباتی ضرورت اور دلی مسرت بھی ہے۔

ہر عورت ماں بن کر خوشی محسوس کرتی ہے اور مادرانہ کردار ادا کر کے اپنی ذات کی توسیع و تجلیل کرتی ہے۔ مغرب میں بھی معاشی جد و جہد کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد بالآخر عورت نے اپنے مادرانہ کردار کے اثبات کا ارادہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ماں بننے والی عورت کو ایک اور بعض صورتوں میں دو سال تک تمام مراعات اور تنخواہ سمیت ملازمت سے چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ بچے کی، جو صرف ایک فرد یا جوڑے کی اولاد نہیں، ایک قوم کا نووارد فرد بھی ہوتا ہے، مناسب اور مکمل دیکھ بھال کر سکے۔ ہمارے ہاں یہ دستور الٹا ہے۔ ماں بننے والی ملازمت پیشہ عورت کو مراعات تو کجا، الٹا مسلسل طعن و تشنیع اور کڑی نگرانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے کہ کہیں وہ اپنے بچے کی محبت میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے غفلت تو نہیں برت رہی۔ یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور ایسا سلوک ماں اور بچے کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کے لیے میٹرنٹی لیوصرف نوے دن تک محدود ہوتی ہے جس پر یہ شرط بھی لاگو ہوتی ہے کہ  بچے کی ولادت سے ۴۵ دن پہلے شروع ہو جائے اور ۴۵ دن بعدختم ہو ۔  عام طور پر ممتا کی ماری مائیں ڈاکٹروں سے غلط سرٹیفکیٹ بنوا کر حمل کے آخری دن تک  نوکری پر حاضر رہتی ہیں تاکہ اس مختصر چھٹی کے زیادہ سے زیادہ دن اپنے بچے کے ساتھ گزار سکیں۔  نوے دن کی چھٹی دے کر عورت پر احسان نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک معاشرتی فریضہ ادا کرنے کی مہلت دی جاتی ہے۔ یہ فریضہ بذاتہ اتنا عظیم ہے کہ اس مقصد کے لیے کم از کم ایک سال کی چھٹی دی جانی چاہیے۔ ہم ہر معاملے میں مغرب کی تقلید کرتے ہیں تو اس معاملے میں بھی ان کی روش اختیارکرلی جائے۔ وہاں تو باپ کو بھی بچے کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی مل سکتی ہے۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں اوردوسری کے لیے یہاں کلک کریں۔

Facebook Comments Box
آزادی نسواںسماج
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ۔۔۔ کمائی کامستقل ذریعہ
next post
صنم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جویریہ سعید

Related Posts

خواتین اور پدر سری سماج : کچھ مثبت...

07/03/2024

لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —–...

21/07/2023

طوائف کا ادارہ ———– قاسم یعقوب

08/03/2022

تانیثیت کے بنیادی مباحث اور ” ہوا سے...

02/02/2022

فیمنسٹ لکھاریوں کا اصل مقدمہ کیا ہونا چاہیے...

26/01/2022

کیا خواتین گھریلو کام کے معاوضے کی مستحق...

10/12/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.