تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
صنف/ جینڈر

خواتین کا ایک سو نواں عجوبہ، سوری، عالمی دن مبارک ہو۔ لالہ صحرائی

by ویب ڈیسک 07/03/2017
written by ویب ڈیسک 07/03/2017
87

جیسے شکاگو کے مزدوروں کا مسئلہ ان کا عالمی دن منانے کا باعث بنا اسی طرح سے 1908 میں انٹرنیشنل لیڈیز گارمنٹ یونین کی بھی ایک ہڑتال ہوئی تھی، اس کے اگلے سال امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے 28 فروری 1909 کو نیویارک میں اس واقعے کی یاد میں ایک دن منایا جہاں سے خواتین کے عالمی دن منانے کا باقائدہ آغاز ہوا۔

کل 8 مارچ 2017 بروز بدھ خواتین کا 109 واں عالمی دن انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا (اس موقع پر خواتین نے خاطرخواہ “دلچسپی” لی تو امید ہے مردوں کی طرف سے جوش و خروش سے بھی منایا جائے)

اس موقع پر انٹرنیشنل کمیونیٹی کا سوشل میڈیا کے لئے رواں سال کا ہیش ٹیگ سلوگن ہے
#BeBoldForChange
یعنی کہ تبدیلی کیلئے موٹی ہو جائیں
(خواہ ڈائیٹنگ چھوڑنی پڑے)

پچھلے سال کا سلوگن تھا
“Make It Happenn”
لیکن ہوا ہواوا کچھ نہیں
امسال بھی یہی امید ہے پھر بھی اس موقع پر کچھ گزارشات بہت ضروری ہیں

خواتین کو اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا موقع بھی دینا چاہئے اور عملی زندگی میں ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک، جسمانی تشدد، جنسی ہیرسمنٹ اور ہر قسم کے متعصبانہ سلوک کی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

پاکستانی معاشرے میں مخلوط-ایجوکیشن ، مخلوط ورکنگ کلاس، بڑھتی ہوئی شرح طلاق اور اچھے رشتوں کی عدم دستیابی کی بنا پر خود خواتین جتنے بڑے پیمانے پر غیراخلاقی تعلقات میں گھرتی چلی جا رہی ہیں اسے دیکھ کر نکاح کو آسان بنانے پر سنجیدہ غور کرنا چاہئے۔

جہیز پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں بلکہ یوں کرنا چاہئے کہ جہیز دینے کی ذمے داری شوہر کے اوپر ڈال دینی چاہئے اور اس کی لسٹ بھی لڑکی کی مرضی سے بننی چاہئے، مرد ہو تو پھر مرد بنو اور مردوں والے کام کرکے بھی دکھاؤ، لڑکی والے صرف بارات کا کھانا دیں گے اور باقی پیسے جو چاہیں اپنی بیٹی کے نام فکس-ڈیپازٹ کرا دیں تاکہ لڑکی اپنے جیب خرچ کیلئے شوہر اور سسرال کی محتاج نہ رہے، لڑکے والے اپنے ولیمے میں جو جی چاہے کریں لیکن نکاح میں صرف پچیس لوگوں سے زیادہ بارات لے کے مت آئیں، خاص طور پہ “شریکہ” تو بلکل مت لائیں-

شادی شدہ مردوں کی کنواری لڑکی سے شادی پر سخت پابندی لگائیں اس کے بدلے میں اسے بیوہ یا مطلقہ کے ساتھ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت سے کلی طور پر مستثنٰی قرار دینا چاہئے، جس شخص کی آمدنی دولاکھ روپے ماہانہ یا زیادہ ہو اسے دو شادیوں کا قانونی حق بلکہ ذمے داری دی جانی چاہئے۔

لبرل خواتین کو خوش کرنے اور بیوی کا پلڑا بھاری کرنے کی کوشش میں معاشرے کے سر پہ ایسی تلواریں نہ لٹکائیں جس سے بیویوں کے ڈر سے لوگ بیک ڈیٹ میں دوسری شادی، چوری چھپے ناجائیز تعلقات، دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر گھریلو جھگڑوں کی نمود حتٰی کہ نہ ماننے کی صورت میں پہلی بیوی کو طلاق کا خدشہ بھی بڑھ جائے۔

خواتین کو آلتو فالتو حقوق کیلئے لڑنے کی بجائے آسان نکاح اور ازدواجی زندگی کی مصیبتیں کم کرنے کیلئے ایک ایسے رول آف ہوم بزنس یا میٹریمونیل چارٹر آف ڈیمانڈ پر سوسائیٹی کو قائل کرنے کی مہم چلانی چاہئے جس میں خانگی زندگی کے ان-رٹن-لاء کی چکی میں پسنے سے بچ رہے۔

روشن خیالی کے ذوق میں گرفتار خواتین کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ شادی کے بعد گھر کی رونق اور خاندان کا ادارہ صرف انہی کے دم قدم سے آباد اور قائم و دائم ہے لہذا روشن خیالی کے چکر میں اتنا بھی باہر نہ نکل جائیں کہ گھر جانا مشکل ہو جائے یا خاندان کا ادارہ آپ کی دسترس سے باہر ہو جائے، دوسری طرف مردوں سے بھی گزارش ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں مناسب حد تک ہر ضروری رعائیت، سہولت اور آزادی دیں جس میں انہیں گھر کے اندر قیدی اور حبس بیجا کا احساس نہ ہو بلکہ آپ کے گھر میں انہیں تحفظ اور اپنائیت کا احساس کسی طور بھی مجروح نہ ہو۔

یہ مضمون کافی حد تک چونکہ مردوں کے خلاف جا رہا تو طاقت کا توازن درست رکھنے اور مرد حضرات کی دلجوئی کے لئے عرض ھے کہ ناامید ہونے کی ضرورت نہیں، جیسے پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے ایسے ہمیں بھی اپنی راہیں آسان کرنے کی کوششیں شروع کر دینی چاہئے، اس سلسلے میں معروف روحانی اسکالر عامل جنید بنگالی صاحب نے مردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ خواتین اگر دوسری شادی والے مطالبات پر ناک منہ چڑھانے سے باز نہ آئیں تو پھر بہت جلد بذریعہ مؤکلات پہلی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت دلوانے کا طریقہء کار وضع کرلیا جائے گا کیونکہ یہ سب مردوں کا مشترکہ مسئلہ ہے بلکہ ان کا اپنا ذاتی مسئلہ بھی یہی ہے۔

امید ہے کہ “محبوب آپ کے قدموں میں” کے مصداق عنقریب یہ سلوگن بھی جلد ہی مارکیٹ میں آ جائے گا “دوسری شادی کا اجازت نامہ آپ کی ہتھیلی پر”۔

جب تک بنگالی بابا سہولت کی کوئی راہ نہیں نکال لیتے تب تک “خواتین کا عالمی دن مبارک ہو”۔

#BeBoldForChange
تبدیلی کیلئے موٹی ہو جائیں

Facebook Comments Box
آزادی نسواںخواتین کا عالمی دن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
سیاسی معاشیات: راؤ جاوید اقبال
next post
ایم کیو ایم کا ماضی حال اور مستقبل— عمار یاسر زیدی

Related Posts

خواتین اور پدر سری سماج : کچھ مثبت...

07/03/2024

لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —–...

21/07/2023

طوائف کا ادارہ ———– قاسم یعقوب

08/03/2022

تانیثیت کے بنیادی مباحث اور ” ہوا سے...

02/02/2022

فیمنسٹ لکھاریوں کا اصل مقدمہ کیا ہونا چاہیے...

26/01/2022

کیا خواتین گھریلو کام کے معاوضے کی مستحق...

10/12/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.