تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزصنف/ جینڈر

پاکستانی سماج اور عورت: کیا پسند کی شادی گناہ ہے؟ نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 19/02/2017
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 19/02/2017
138

(۱) حصہ اول

پاکستانی سماج عورت کے معاملے میں ایک عجیب سی دورخی اور تضاد کا شکار ہے۔ یہ تضاد مذہب بالخصوص اسلام کے نام پر عورت کی زندگی کالائحہ عمل طے کرنے سے لے کر ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام پر عورت کا استحصال کرنے تک ہزاروں طرح سے رو بہ عمل آتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ عورت ہر دو قسم کے استحصال سے نجات حاصل کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔  اس تحریری سلسلے میں پاکستانی عورت کو درپیش ان مسائل کا ذکر کیا جائے گا جنھیں ٹیبو یا ممنوعہ موضوع سمجھا جانے لگا ہے۔

پہلی قسم کا استحصال تو وہ ہے جو مذہب کے نام پر کلچر سے حاصل شدہ تصورات کے ذریعے رو بہ عمل لایا جاتا ہے۔شادی اور اس کے متعلقات ہی کی مثال لے  لیجیے۔ اسلامی شادی کی بنیاد نکاح ہے اور نکاح کی بنیاد ایجاب و قبول ہے۔ اسلام میں ایجاب و قبول کی شرط محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہےبلکہ نکاح کی اصل روح ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی سماج میں یہ رسم محض خانہ پری بن کر رہ گئی ہے۔ شادی کے بھرے پنڈال میں سجی سنوری لڑکی کا سر پکڑ کر ہلا دینا ہی ایجاب و قبول کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ نکاح کے لیے مرد و زن دونوں کی رضامندی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ اگر فریقین رضامند نہ ہوں تو پورا خاندان کیا، پوری خدائی بھی رضامند ہوجائے، نکاح کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ یہ انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ حقیقت ہےکہ پاکستان میں شادی کے معاملے میں اپنی پسند یا مرضی کا اظہار لڑکیوں کے لیے ایک تہمت بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شادی کے لیے اپنی پسند کااظہار کرنے والی لڑکیاں سماج کو للکار رہی ہیں اور پورا سماج ان کے خلاف صف آرا ہونے پر متفق ہے۔ پسند کی شادی ایک ایسا الزام  بن جاتی ہے جس سے ہر کوئی انکار کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ جو لڑکیاں کسی نہ کسی طور پسند کی شادی کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں، وہ  بھی اس بات کو چھپانے پر مجبور ہوتی ہیں اور یہی ظاہر کرنے میں اپنی عزت اور عافیت سمجھتی ہیں کہ  شادی خاندان والوں کی پسند سے ہوئی ہے۔یہ  طرزِ عمل  صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

پسند کی شادی کے خلاف جو دلیل ہمارے معاشرے میں بہت مقبول ہے وہ یہ ہے کہ نوجوانی میں انسان خود اپنے برے بھلے سے واقف نہیں ہوتا اور والدین یا خاندان کے بزرگوں کی عقل و دانش سے استفادہ کرنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ اس دلیل میں کچھ وزن  ضرور ہے۔ زندگی کے تجربے سے حاصل ہونے والی دانش یقیناً قابلِ قدر اور قابلِ احترام ہوتی ہے مگر شادی ایک ایسا معاملہ ہے جو ایک طرف تو خاندان اور سماج کی بنیادی اکائی کو تشکیل دیتا ہے تو دوسری طرف دو افراد کی قلبی و روحانی مسرت کا ضامن یا اس کا قاتل بھی بن سکتا ہے۔ شادی محض معاشرتی عمل نہیں ہے، انسان کی نجی  جذباتی و نفسیاتی  کیفیات سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ بزرگوں کی عقل و دانش پہلے معاملے میں تو رہنمائی کر سکتی ہے لیکن دوسرے پہلو تک رسائی نہیں رکھتی۔یعنی شادی کے سماجی و معاشرتی پہلو تو شاید بزرگوں کی رہنمائی میں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں لیکن شخصی وجذباتی پہلوؤں کاٹھیک ٹھیک  اندازہ کرنا بزرگوں کے لیے ممکن نہیں۔ یہ کام اس عمل کے متاثرین کو خود کرنا چاہیے۔والدین کا فرض صرف اتنا ہے کہ وہ مجوزہ رشتے کے سماجی و معاشرتی مضمرات کو ان کے سامنے واضح کر دیں اور پھر انھیں اپنی مرضی کی راہ چننے کے لیے آزاد چھوڑ دیں۔ فیصلہ کرنے کا بار اٹھانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ تجربہ اور مشاہدہ دونوں شاہد ہیں کہ جب نوجوان اپنی زندگی کا ساتھی خود اپنی مرضی سے چنتے ہیں تو اس رشتے کو نبھانے اور کامیاب بنانے کے لیے کوشش بھی زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کوشش میں انھیں خود سے جنگ نہیں کرنی پڑتی کیوں کہ  انھیں اپنے جذبے  کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔

 بدقسمتی سےشادی کے معاملے میں لڑکیوں پر جبر کرنا ایک مقبول سماجی روایت  اور نام نہاد شرافت کا نشان بن چکا ہے جس کانتیجہ ایک طرف بے جوڑ اور زبردستی کی شادیوں کے منفی معاشرتی اثرات کی صورت میں سامنے آتاہے تو دوسری طرف بغاوت اور سرکشی پیدا ہوتی ہے جو نہ صرف لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی کی توڑ پھوڑ کا باعث بھی  بنتی ہے۔  میرے خیال میں اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اور والدین اپنے بچوں کو برے بھلے کی تمیز سکھائیں، اپنی تہذیبی اقدار سے آشنا کریں، علم و عقل سے بہرہ ور کریں اور جسمانی بلوغت کے ساتھ ساتھ  ان کی ذہنی و فکری بلوغت کا بھی اہتمام کریں۔ اس کے بعد انھیں اپنی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے کر نے کا پورا موقع دیں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب والدین یا بزرگوں کے مرتبے تک پہنچ جانے والے افراد خود ذہنی و فکری بلوغت کے حامل ہوں گے۔

Facebook Comments Box
Love marriageMarriage of WomenNajiba ArifPakistani SocietyWomen in PakistanWomen Liberatinآزادی نسواںپاکستانی سماجپاکستانی عورتپسند کی شادینجیبہ عارف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
سیاسی پیش گوئیاں: احسان اخوندزادہ
next post
وہ کمر جو کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔ کاشف نصیر

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار —-...

26/02/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.