تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جنرل مشرف کی سیاسی غلطیاں۔ محمد خان قلندر

by Daanish Editor 11/11/2017
written by Daanish Editor 11/11/2017
60

جنرل سید پرویز مشرف لندن میں بیٹھ کر یاد ماضی سے مجبور ہو کر لگتا ہے دن میں خواب دیکھتے ہیں۔  کراچی میں ایم کیو ایم کی فطری شکست و ریخت ، جو چند سال قبل ہو جانی چاہیئے تھی لیکن زرداری اور نواز کی اپنے مفادات کی خاطر سیاسی موقعہ پرستی کی وجہ سے تاخیر سے ہو رہی ہے، دیکھ کر کسی نا مؤلود سیاسی اتحاد کی سربراہی کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ وہ بھول رہے ہیں کہ ان کے اقتدار کا اوج کمال ان کی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رو بہ زوال ہوا تھا۔  اور اب  وہ ایسا ناکارہ چلا ہوا کارتوس ہیں جس نے اپنی کار آمد معیاد میں بھی خود اپنے اور اپنے ادارے کو ہی نقصان پہنچایا، اور اب تو یہ خالی خول  ناقابل استعمال ہے۔

جو شخص ملکی عدالتوں سے مفرور ہو کر لندن مقیم ہو اسے ملکی سیاست سے دور رہنا چاہیئے وہ سابقہ صدر کے ساتھ سابقہ سپہ سالار اعظم بھی رہ چکے ہیں یہ عہدہ افواج پاکستان کی عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے جس کی آبرو حامل عہدہ پر بھی لازم اور فرض ہے، جنرل صاحب تو اپنے دور اقتدار میں اس بلند رتبے کے مقام کو بہت رسوا کر چکے تھے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا چلن نہیں بدلا تھا، پہلے تو انہیں پاکستان چھوڑنا ہی نہیں چاہیئے تھا، پھر بے وقت واپس نہ آتے وہ ایک دفعہ دوستوں کے صائب مشورے کے خلاف پاکستان آ کے دیکھ چکے ہیں کہ ان کی سوشل میڈیا پے لاکھوں کی فالونگ سے کتنے لوگ ان کے استقبال کو آئے تھے، وہ گرفتار ہوئے تو کون سے تحریک ان کے حق میں چلی تھی ؟

جرنیل صاحب ایک کھلنڈرے افسر تھے محفل کے شوقین اور اچھے خاصے گائیک اور فنکار ، دو بار فوج چھوڑنے کی نوبت آئ مقدر میں جنرل بننا لکھا تھا حادثاتی طور پے میجر جنرل بنے ، لیفٹینینٹ جنرل پروموٹ ہوئے کور کمانڈر تھے کہ جنرل جہانگیر کرامت کے جبری استعفی کے سبب آرمی چیف کا قرعہ ان کے نام نکل آیا، نواز شریف نے ان سے سینگ پھنسائے تو اسے معزول کر کے انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، سپریم کورٹ نے انہیں تین سال کے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا، اسے ان کی قسمت پہ یا حادثے پہ معمور کیا جا سکتا ہے، لیکن آسانی سے حکمران بننے والے نہ حکومت کرنا سیکھتے ہیں اور نہ اس کی قدر کرتے ہیں جنرل مشرف نے پے در پے تزویراتی غلطیاں کیں یہ ان پر قدرت کی مہربانی تھی یا مقدر کا لکھا کہ حالات ان کے موافق رہے۔

ان کو کسی شام اکیلے آئینے کے سامنے گلاس اور بوتل کے ساتھ بذات خود جنرل پرویز مشرف کا محاسبہ کرنا چاہیئے وہ اگر خود اپنے آپ سے چند سوال پوچھ کے ان کے جوابات کی روشنی میں اپنے مستقبل کے لئے لائحہ عمل طے کریں تو اس میں ان کی ذات کا انکے ادارے کا اور شائد ملک و قوم کا بھی فائدہ ہو گا۔

نواز شریف کو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کس حد تک منتقم مزاج ہے اس سے اقتدار چھین کے ان پر لازم تھا کہ اس کا کڑا احتساب کرتے، مالیاتی کرپشن کے جو کیس اب زیر سماعت ہیں تب بھی موجود تھے، بے رحم انصاف کیا جاتا تو ان جرائم کی قرار واقعی سزا دی جا سکتی تھی، طیارہ سازش ایک کمزور کیس تھا، ملک کے مفاد میں مالی بد عنوانی کا تدارک اور خاتمہ تھا جنرل صاحب کو کسی مدافعت کا سامنا بھی نہی تھا لیکن انہوں نے سعودی بادشاہ سے بقول ان کے اپنے ، سفارش اور گفٹ قبول کئے، جو ان کے سیاسی کردار کی بہت بڑی خامی ثابت ہوئی۔

نائن الیون کے بعد امریکہ سے معاونت ناگزیر تھی لیکن اجتماعی قومی اتفاق رائے پیدا کر کے بہتر شرائط طے کی جا سکتی تھیں اور ملک اس قدر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دست نگر نہ بنتا۔

سن دو ہزار دو میں علما و مشائخ کانفرنس میں جنرل صاحب کی کنونشن سینٹر اسلام آباد میں تقریر بہت سخت لیکن مبنی بر حقیقت تھی، اور تعجب خیز امر یہ تھا کہ اس کا کوئ ردعمل ہی نہی ہوا تھا، یہ موقعہ تھا کہ ملک سے مزہبی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے آپریشن کیا جاتا، جو اس وقت شائد آسان تھا لیکن جنرل صاحب نے اس دباؤ سے ایم ایم اے کی تشکیل اور دو صوبوں کی حکومت مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد کے حوالے کر دی جس کا نتیجہ لال مسجد کے آپریشن کی شکل میں نکلا جو اب تک جنرل صاحب کے گلے پڑا ہوا ہے۔

ملکی مفاد اور محب الوطنی کا تقاضا تو یہ تھا کہ دو ہزار دو کے الیکشن کرانے اور آئینی ترامیم میں جنرل صاحب کے سارے اقدامات کو تحفظ ملنے کے بعد نیا آرمی چیف لگایا جاتا، لیکن ریفرینڈم اور دوسرے طریقے سے اقتدار کو طوالت دی گئ، افواج پاکستان کی سیاست میں شمولیت سے انکی انتظامی اہلیت متاثر ہوتی رہی۔

پھر افتخار چوہدری کی معزولی کا ڈرامہ بہت بھونڈے طریقے سے رچایا گیا، عقل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جو چیف جسٹس اپنے خلاف کسی ماتحت جج کی شکایت کے بارے میں ایک ڈی جی کے ذریعے ملاقات کا وقت لے کے حاضری دینے گئے تھے وہ مکمل بغاوت پے کیسے اور کیوں مصر ہو گئے۔

پیپلز پارٹی سے این آر او جو درحقیقت ایم کیو ایم کے ہزاروں کیسز ختم کرنے پے منتج ہوا، ایک بہت بڑی سیاسی غلطی تھی ہی، اسی این آر او میں نواز شریف کی معائدے کی طے شدہ مدت سے پہلے واپسی کی اجازت سیاسی بلنڈر تھا

پھر بینظیر کی واپسی پر اسے مکمل سیکیورٹی نہ دیا جانا اور نتیجے میں بی بی کی شہادت، اور اس سے جڑے سوالات جنرل صاحب کی سیاسی کار گزاری پر انمٹ سوالیہ نشان ہے اور رہے گا۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد جنرل صاحب کے لئے بہترین عمل سیاست سے مکمل کنارہ کشی تھا، نواز حکومت کے کیسز فائل کرنے کی بنیادی وجہ تو انتقام تھی لیکن جرنیل صاحب نے اپنے رویئے اور سیاسی بیان بازی سے ان کو مجبور کیا کہ آ بیل مجھے مار۔

جب فوج کی مداخلت سے مشرف صاحب پہلے بیرون ملک چلے گئے تھے تو مصلحت اس میں تھی کہ واپس نہ آتے کیسز التوا میں پڑے رہتے، لیکن فوج کے ذمہ داروں کے مشورے کے برعکس وہ واپس آئے ، اور دوبارہ جنرل راحیل کی مداخلت سے وہ ملک سے نکل پائے، اس امر میں ادارے کی سبکی بھی ہوئ اور نُون لیگ کے ہاتھ فوج کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرنے کی ڈگڈگی بھی آ گئ، جنرل صاحب کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچنا چاہیئے کہ سیاست ان کے بس کا روگ تھا نہ ہے، اور کتنے ریٹائرڈ آرمی چیف اور جرنیل عزت سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں، مقرر لکھا جا رہا ہے کہ فوجی کے سابق سربراہ پر بھی اپنے عہدے کی تکریم کی حفاظت فرض ہوتی ہے، یہ ٹین ڈبہ پارٹیوں کے اتحاد کی سربراہی سید مشرف کے لئے لائق شرف ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔  جنرل مشرف کے لئے ہر گز نہیں۔

Facebook Comments Box
جنرل مشرفسیاسی غلطیاں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
فیس بکی دانشور کا طعنہ: اسرار احمد بخاری
next post
اقبال اور ترکی: ڈاکٹر خلیل طوق ار سے ایک گفتگو ۔۔۔ اعجازالحق اعجاز

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.