تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

سجا اینڈ کھبا – دایاں اور بایاں: ثاقب ملک

by ثاقب ملک 08/09/2017
written by ثاقب ملک 08/09/2017
149

کھبا : میں ایک دیسی لبرل کا ضمیر بات کر رہا ہوں۔
سجا: میں ایک روایتی مذہبی آدمی کا ضمیر آپ سے مخاطب ہوں۔

کھبا : میرے مالک پر جب دیسی لبرل ازم “طاری” ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے اسلام کا نام سن کر ابکائی آتی ہے۔اسے اپنے اردگرد ہاتھ کٹے لوگ، پگڑیاں پہنے آدمی، چوراہے میں لٹکتی لاشیں، کوڑے پڑنے کا شور اور برقع میں پوشیدہ خواتین گھومتی نظر آتی ہیں.
آپکے مالک کو کب ابکائی آتی ہے؟

سجا : میرا مالک تو اسلام کا نام سن کر جھوم اٹھتا ہے۔ اسے لونڈیوں، غلاموں، ثوابوں کی گنتی، یہودیوں اور کفار کو بد دعاؤں، گھوڑے کی پیٹھ پر جھنڈے لہراتے جوان، آدھ درجن بیویاں نظر آتی ہیں۔ اسے سور کا نام سن کر ابکائی آتی ہے۔
تمھارا مالک کب جھومتا ہے؟

کھبا : اکثر رات گئے جھومتا ہے۔ لیکن جمہوریت، سیکولر ازم، لبرل ازم، پب کلب، وائن وہسکی، بئیر، اسکرٹ، نیکر، بکنی پہنے لڑکیاں، ہم جنسوں کے حقوق، سیکس کی آزادی، بھارت اور سرحدوں کے نہ ہونے کا ذکر سن کر بہت انجوائے کرتا ہے۔
تمھارے مالک کو غصہ کب آتا ہے؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان، قرارداد مقاصد، پاک فوج، ایٹم بم انکی دکھتی رگ ہیں۔ جوں ہی انکا ذکر ہو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔

سجا: انھیں اکثر برما، فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں پر ظلم کرنے والے ممالک اور امریکہ پر طیش آتا رہتا ہے۔ بغیر “برینڈ” کی داڑھی، مخالف مسلک کے رنگ کی ٹوپی، ٹخنے سے نیچے کپڑے، کھلے بالوں والی عورتوں، مغرب کی ترقی کے ذکر پر منہ غصے سے سرخ ہوجاتا ہے۔
تمھارا مالک کب ہیجان میں مبتلا ہوتا ہے؟

کھبا : اسلامی جمہوریہ پاکستان، قرارداد مقاصد، پاک فوج، ایٹم بم انکی دکھتی رگ ہیں۔ جوں ہی انکا ذکر ہو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ انکا بس نہیں چلتا کہ فوجیوں کی وردی پھاڑ کر کنڈم بنا لیں۔ اسلامی جمہوریہ اور قرارداد مقاصد پر انکا اتنا غصہ آتا ہے کہ اسے کالعدم لفظ سمجھتے ہیں۔ ایٹم بم انکا ہندوستان کو تحفے میں دینے کا من کرتا ہے۔
تمھارا مالک سوتا کب ہے؟

سجا : اکثر اوقات خواب خرگوش کے مزے ہی لیتا رہتا ہے۔خاص کر دوسرے مسالک کے لوگ مرنے پر سو جاتا ہے، دنیا میں کہیں مسلمان دہشت گرد پکڑا جائے تو انھیں نیند آجاتی ہے، مسلکی کتب، اپنے مطلب کی احادیث اور قرآنی آیات کے علاوہ ہر علمی چیز پر آنکھ اور دماغ موند لیتا ہے۔ کاروکاری، غیرت پر قتل، بچوں سے زیادتی، جہالت، غربت، ظلم وغیرہ پر بھی بس نیند میں بڑبڑا کر اوندھے منہ لیٹ جاتا ہے۔ اپنے اردگرد مسلمانوں پر ہونے والے ظلم، توہین رسالت میں جھوٹے الزامات پر مرنے والوں پر اسے تھپڑ مار مار کر جگانا پڑتا ہے، لیکن فقط چند لمحے اٹھ کر پھر محو استراحت ہوجاتا ہے۔
اور تمھارا مالک؟

کھبا : ایک جیسی ہی عادتیں ہیں۔ اسلام کے ہر مثبت پہلو پر اگر مگر کرکے چادر اوپر کرکے کان بند کر کے سو جاتا ہے۔ پاکستان کی کسی کامیابی یا قوم کی خوشی پر اسے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ پورا وقت بار بار بیدار ہوتا اور سوتا ہے۔ ہذیان بکتا رہتا ہے۔ کسی مولوی پر ظلم ہو تو اسے بہت پر سکون نیند آتی ہے۔ ترکی، سعودی عرب، چین، اور دیگر ممالک کے اچھے فیصلے اسے “کنٹری بلائنڈ” ہونے کے باعث نظر نہیں آتے تو اونگھتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کے لاکھوں قتل اسکے لئے نیند کی گولیاں ہیں۔ فوج، آئی ایس آئی، مسلمانوں کے بہتر اقدامات پر اسے گہری نیند آجاتی ہے۔

 کاروکاری، غیرت پر قتل، بچوں سے زیادتی، غربت، ظلم وغیرہ پر بھی بس نیند میں بڑبڑا کر اوندھے منہ لیٹ جاتا ہے۔

اچھا تو یہ لبرل، سیکولر کھبا صاحب اور مذہبی دائیں بازو سجا دونوں کن باتوں پر اکٹھے مل کر سوتے ہیں؟

سجا اینڈ کھبا: جمہوریت کی جعل سازی اور فراڈ، عمران خان، آئی ایس آئی، سیاستدانوں کی کرپشن اور نااہلیت، قوم کے حقیقی مسائل جیسے پانی کی کمیابی اور زہریلے پن، نفسیاتی مسائل، صحت، بچوں کی تربیت، بیروزگاری، بزرگوں اور نوجوانوں کے ایشوز، خوراک کی کمی، منافقانہ نمائشی کلچر، نقال پن، وغیرہ پر ہم دونوں کے مالک ایک ہی بیڈ پر سوتے ہیں۔

چلو آجاؤ، ہمارے سونے کا وقت ہوگیا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredبائیں بازو کی سیاستبایاں بازودائیں بازو کیس سیاستدایاں بازودقیانوسیلبرللیفٹلیفٹ رائٹماڈرنمسٹرملامولوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ثاقب ملک

previous post
ہماری بوسیدہ عادات اور لیڈرشپ کا فقدان — سہیل بلخی
next post
اشفاق احمد – داستان گوسے من چلے کا سودا تک: یگانہ نجمی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.