تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

اشفاق احمد – داستان گوسے من چلے کا سودا تک: یگانہ نجمی

by دانش ڈیسک 08/09/2017
written by دانش ڈیسک 08/09/2017
142

اردو کے نابغہ افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اشفاق احمد ۲۲ اگست ۱۹۲۵ کو ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج سے ایم اے کیا اٹلی کی روم یونی ورسٹی اور گرین نوبل یونی ورسٹی فرانس سے اٹلی اور فرانسسی زبان میں ڈپلومہ حاصل کیانیو یارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ ریڈیائی پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ ان کی شخصیت کے اس پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ کہ وہ ایک مخصوص حس مزاح رکھتے تھے۔ اور اس ہی حس مزاح سے لوگو ں کی اصلاح کا کام لیا کر تلقین شاہ اس دور میں ایک ایسا ریڈیائی پروگرام تھا جو ہر خاص عام میںمقبول ہوا۔ اور اس کی اس مقبولیت کے پیش نظر اسے کتابی شکل دی گئی۔

ان کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ گڈریہ سے ہواجو کہ ایک ایوارڈ یافتہ افسانہ ہے۔ اس افسانے میں آپ نے اپنے استاد کے کردار اور ان کی اعلی صفات کاذکربڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ وہ انسان دوستی کے خواہاں تھے۔ انھوں نے ہمیشہ انسان کی عظمت اور اس کی خوداری کو اپنے تحریرکا موضوع بنایا۔ مذہب سے بالا تر ہوکر لوگوں کے دکھ د رد بانٹنے والے اور اس کی ترغیب دینے والے۔

اشفاق احمد کا ایک انداز داستان گو ئی جس پر انھیں کمال حاصل تھا۔ پروگرام ذاویہ میں اسی داستان گوئی کے انداز کو اپنا یا۔ جس نے ان کی شہرت کوا دبی حلقہ سے اٹھا کر عام لوگوں تک پہنچادیا۔ وہ مذہبی شخصیت نہ تھے۔ مگر پھر بھی انھوں نے ایک مبلغ کے کردار کو ادا کرتے ہوئے اس پروگرام کی وساطت سے ان اخلاقی قدروں کی اہمیت کا احساس دلوایا جو ایک کامیاب معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا نداز نہایت سادہ ومشفقانہ تھا۔ جس کے باعث وہ لوگ بھی جو ان باتوں کو مذہبی گفتگو سمجھتے تھے وہ بھی بڑے ذوق وشوق سے یہ پروگرام دیکھتے تھے۔

ان کے افسانوں کا مجموعہ’’ ایک محبت سو افسانے‘‘جس کی ڈرامائی تشکیل بھی کی گئ۔ ایک محبت سو افسانے کے توسط سے انھوں نے کا ئنات میں موجودمحبت کے مختلف رنگوں کو کہانی کا موضوع بنایا قرۃالعین، دادا و دلدادہ، بندر جاتی اور مامتا یہ کہانیاں ایسی تھیںکہ جن میں انھوں نے محبت ہی کو سرخرو کیا کیوں کہ کوئی بھی معاشرہ محبت کے بغیر پھل پھول نہیں سکتا اور ان کی یہ ہی انسان دوستی انھیں صوفیاء تک لے گئی اور بعد کے افسانوں میں یہ ہی رنگ نمایاں رہا۔ توتا کہانی ان کی ایسی ڈرامائی سیریل تھی جس میں انھوں نے معاشرتی ذمہ داری کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا جو ایک انسان اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہرفرد پرعائد ہوتی ہے اور جس کی ادائیگی حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہے جس سے پہلو تہی دہشت گردی اور مختلف جرائم کو جنم دیتی ہے۔ وہ نہ صرف معاشرہ بلکہ وطن کے لئے بھی ایسے ہی پرخلوص جذبات رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں۔ پاکستان نور ہے، اور نور کو زوال نہیں ان کی ایک اور تصنیف’’ بابا صاحبا‘‘ ان کے ذاتی تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس ضمن میں’’ بانو قدسیہ کہتی ہیں میں تو ان کے قریب رہنے کے ناطے آپ کو تھوڑا سا جھانک کر اندازے سے بتاسکتی ہوں۔ سالم اشفاق احمد کا سرا شاید آپ کو ’’بابا صاحبا‘‘ سے حاصل ہو۔

بابا صاحبا میں وہ اقبال کے اس شعر پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔

پنے من ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

کیونکہ انسان اپنی ذات کے ادراک سے ہی اپنی خامیوں کو خوبیوں میںبدل سکتاہے اور ذات کی اسی کھوج نے انھیں بستی بستی قریہ قریہ بابوں کے ڈیروں کا سفر اختیار کروایا۔ ڈرامہ ’’من چلے کا سودا‘‘ اسی سلسلے کی ایک پیش رفت ہے جس میں علم کی قدرو قیمت کو پیش کیا گیا ہے۔ یعنی علم اگر نافع ہو اورانسانیت کی بھلائی کا ذریعہ ہو تو وہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہے ورنہ ضرر رساں ہو کرسماج کوبرائیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ کیوں کہ صحیح علم کی پیاس اپنی ذات کو جانے بغیر نہیں بجھتی۔ انھیں علم کی اس خواہش نے مختلف کلچر، اور مذہب کو نہ صرف دیکھنے کا بلکہ جانچنے کا موقعہ بھی فراہم کیا۔ اشفاق احمد زندگی کے مفہوم کی تلاش میں اپنے تخلیقی عمل میںبھی کئی مقامت سے گزرے۔ کہانی۔۔۔ کہانی سے ڈرامہ اور بالآخر ڈرامہ۔

ایسے ہی کبھی ایک باباکبھی دوسرے۔۔۔ کبھی ایک روحانی علم کبھی دوسرا۔ حجاب کے پردے۔۔۔ لیکن اتنی بات طے ہے کہ جب وہ واپس بشری زندگی میں لوگوں کے درمیان آئے تو انھیں علم ہو چکا تھا۔ کہ اللہ سے اصل وابستگی خلق کی خدمت میں پنہاںہے جس کا عکس ان کی تحریروں سے عیاںہے وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ایک انسٹیٹوٹ بھی تھے ایسی انجمن اور اداراہ کہ جس شامل ہونا ہر شخص کے لیے باعث افتخار تھا۔

اشفاق بمعنی مہر بان وشفیق وہ اسمِ بہ مسمیٰ تھے۔ اپنی تحریروں میں ایک شفیق مہربان انسان کی طرح نہ صرف لوگو ں کی رہنمائی کی بلکہ آسانیاں عطا ہونے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی دعا دیتے رہے۔ اشفاق احمد نے اپنے تحریری سفر کا آغاز گڈریہ سے منتہی کی حیثت سے کیا اور من چلے کا سودا تک صاحبِ ارشاد ہو گئے کیوں کہ ایک منتہی ہی صاحبِ ارشادہوتا ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

Facebook Comments Box
اشفاق احمدمن چلے کا سودا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سجا اینڈ کھبا – دایاں اور بایاں: ثاقب ملک
next post
یونیورسٹی طلبہ میں انتہا پسندی کا رحجان: فارینہ الماس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.