تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ہماری بوسیدہ عادات اور لیڈرشپ کا فقدان — سہیل بلخی

by Daanish Editor 07/09/2017
written by Daanish Editor 07/09/2017
136

ہم سب کا تجربہ ہے کہ کاغذ پر لکھے نوٹ، پیغامات اور احکامات کچھ عرصے بعد نئی تحریر اور نئے نوٹس کے بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ ڈھونڈنے میں وقت لگتا ہے، جگہ یاد نہیں رہتی، یہ کاغذات اٹھ کر خود نہیں کہیں گے کہ مجھے پڑھو، ان کو ہم نے خود ہی پڑھنا ہے، دوبارہ اور سہہ بار بھی دیکھنا ہوگا، ان کو ترتیب دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا زندگی گزارنا ضروری ہے۔
تو حل کیا ہو؟

حل بہت آسان ہے اور اور بہت ضروری ہے، بس ایک ای میل، ایک الیکٹرونک کیلنڈر اور اہم کاغذات کو الیکٹرونک رکھنا بے شمار فوائد دیتا ہے۔ جب چاہیں، جیسے چاہیں سرچ کریں، یاد دہانی سیٹ کریں، اسی کام یا اسی پیغام کو کسی ساتھی کو فارورڈ کردیں، فالو کرنے کو مارک کر دیں، پرانے پیغامات کو آرکائیو کر لیں، بیک اپ بنا کر محفوظ کر لیں۔ جب ضرورت ہو ریسٹور کر لیں۔ اگرآپ نے کسی کو ای میل کر کے کچھ مانگا ہے تو اسی پیغام کو دوبارہ فارورڈ کر کے پوچھیں کہ اسکا کیا ہوا ؟ اگر دفتر اور تنظیم الیکٹرونک کیلنڈر استعمال کرتی ہو تو ایک ایک سے جا کر نہیں پوچھنا ہوتا کہ فلاں وقت آپ کو میٹنگ رکھنے پر اعتراض تو نہیں؟ کب رکھوں؟ ایک نظر میں سب کی مصروفیت اور فراغت دیکھ کر الیکٹرونک میٹنگ بک کریں اور سب کو دعوت نامہ اسی لمحے چلا گیا، اور میٹنگ سے کچھ پہلے سب کو یاد دہانی بھی الیکٹرونک کیلنڈر سے ہوجائےگی۔ کوئی چائے والا جا کر نہیں بولے گا کہ صاحب چلئے سب لوگ اپکا انتظار کر رہے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ جن کا وقت ہم سے دس گنا قیمتی ہے وہ اس طرف نہیں آنا چاہتے؟ اور کوئی وجہ بھی نہیں بتاتے؟ سالوں کے تجربات کے بعد میں نے جو وجہ سمجھی ہے وہ نہ پیسہ ہے، نہ ٹریننگ کا ایشو ہے، وجہ ہے تو لیڈر شپ کا فقدان، کہ جس آدمی کے پاس گاڑی کی اسٹیئرنگ ہے اگر اس میں لیڈر شپ نہیں ہے تو وہ صرف ایک کار ڈرائیور ہی ہے، وہ آپ ہی سے پوچھتا ہے کہ صاحب کہاں جانا ہے؟ اسے تو آپ ڈرائیور ہی کہتے ہیں، لیڈر تو کبھی نہیں کہیں گے، اور ڈرائیور پر لیڈر کی طرح آپ پورا بھروسہ بھی نہیں کرتے، الرٹ رہتے ہیں، گائیڈ کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اس راستے کو سمجھ نا لے، یاد نا کر لے۔

ہمارے بیشتر پرائیویٹ اور سرکاری اداروں اور تنظیموں میں لوگوں کو ڈرائیونگ سیٹ اور اسٹیرنگ حادثاتی طور پر مل جاتی ہے، باپ مر گیا جو واقعی ایک لیڈر تھا مگر ضروری نہیں کہ بیٹا بھی لیڈر ہو مگر اب گاڑی وہی چلائے گا، وہی سیٹھ صاحب ہے، وہی کمپنی پریذیڈنٹ اور تنظیمی سربراہ ہے۔

تنظیم میں لیڈر مرگیا یا لوگوں کو لیڈر میں خرابی نظر آئی یا لیڈر نے معذرت کی کہ اب وہ دستیاب نہیں اور سسٹم ایسا نہیں تھا کہ لوگ لیڈر کا انتخاب کرتے، سسٹم ایسا تھا کہ جو پہلے سے آگے تھا، یعنی بس ڈرائیور کے قریب، کنڈکٹر ہو یا ہیلپر، بس اسی کو سب نے آواز لگادی کہ بھائی تو ہی سبنھال لے اسٹیرنگ، تو ڈرائیور کے ساتھ رہتا تھا تجھے زیادہ پتہ ہوگا۔

کنڈکٹر سے بس تو چلے گی مگر بہت دور نہیں جا سکے گی اور وہ کنڈکٹر اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک دن یہ ذمہ داری اس نے اٹھانی ہے، اور نا بعد میں وہ چاہے گا کہ اپنے مسافروں کو بہترین سفر دینے کے لئے اس بس کو بدلے یا جدید بس حاصل کرے۔ اسکو آگےکا سوچنا، پلان کرنا، حساب لگانا سکھایا ہی نہیں گیا وہ پیدائشی ایک اچھا ہیلپر تھا بس لیڈر کی کوئی خوبی اس میں کبھی تھی ہی نہیں نہ لیڈر نے کبھی سوچا تھا کہ اسکو بھی ایک دن لیڈر بننا ہے تو اسکو ابھی سے کچھ سیکھا دے۔

ہمارے بیشتر پرائیویٹ اور سرکاری اداروں اور تنظیموں میں لوگوں کو ڈرائیونگ سیٹ اور اسٹیرنگ حادثاتی طور پر مل جاتی ہے، باپ مر گیا جو واقعی ایک لیڈر تھا مگر ضروری نہیں کہ بیٹا بھی لیڈر ہو مگر اب گاڑی وہی چلائے گا، وہی سیٹھ صاحب ہے، وہی کمپنی پریذیڈنٹ اور تنظیمی سربراہ ہے۔

لیڈر توتیار کیے جاسکتے ہیں، پیدائشی بھی ہوتے ہیں مگر انکو بھی ٹریننگ دیکر نکھارا جاتا ہے۔ استادوں کی صحبت میں رکھا جاتا ہے کہ ان سے لیڈری کا کام لینا ہے۔

میرا دوست مانٹریال کی مشہور یونیورسٹی میک گل سے ماسٹرز کر کے نکلا تو سرکاری فون کمپنی بیل کینیڈا انکی کلاس کے کچھ فریش گریجویٹس کو اپنے ہاں جاب دیکر لے گئی۔ باقی کو مائیکرو سوفٹ اور کچھ کو کسی اور بڑی کمپنی نے اپنے ہاں رکھ لیا۔ بڑے ادارے ہمیشہ ٹاپ یونیورسٹیز سے فریش گریجویٹ کو اپنے ہاں جاب دیتے ہے کہ انکا خیال ہے کہ یہ فریش ریسورس ہوتے ہیں ان پر ابھی کسی خراب کمپنی اور خراب تنظیم کا کوئی رنگ نہیں چڑھا ہوتا ہے، یہ معصوم لوگ ہیں انکو اپنے ہاں لے جاکر ان پر اپنا رنگ چڑھانا آسان ہوتا ہے۔ وہ مختلف ٹیسٹ اور بات چیت سے دیکھ لیتے ہیں کہ ان میں سے کون اچھا پروگرامر بن سکتا ہے اور کونسے افراد مختلف شعبوں کے لیڈرز بن سکتے ہیں۔
جن کی آنکھوں میں لیڈرز بننے کی چمک ہوتی ہے انہیں الگ ٹیم میں لیڈرشپ کی پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے۔ کمپنی کے اگلے سو سال کے لیے افراد تیار کئے جاتے ہیں۔ میرے اس دوست نے بتایا کہ وہ جس ٹیم میں ہے، انہیں سرکولر بھی الگ سے دیا جاتا ہے اور سرکولر میں انہیں لیڈرز ہی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں یہ تسلیم ہی نہیں کیا جاتا کہ لیڈرز بنائے بھی جا سکتے ہیں ( اگر لیڈرشپ کی بنیادی خوبیاں موجود ہوں تو) اور کسی کو لیڈر بنانے کے بعد کسی کے باپ دادا کی جرات نہیں کہ وہ پاس جا کر ان سے کہے کہ آپ کچھ ٹریننگ لے لیں، وجہ یہ کہ “آپ کو سننے کی عادت نہیں” کوئی کچھ بولتا ہے تو آپ “اس کو روک کر بیج میں ہی جواب دینا شروع کردیتے ہیں “۔ ۔ ۔ ۔ آپ سے کوئی اختلاف کرے تو “آپکی پیشانی پر بل پڑنے لگتے ہیں” اور اگر کوئی خوشامد کرے تو “آپ مسکرا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں”

آپ ہمیشہ سڑکوں پر، گاڑیوں میں، ٹرینوں پر، جہازوں پر ہی رہتے ہیں۔ آپ ٹرک ڈرائیور تھوڑی ہیں کہ دنیا سے کٹ کر سڑکوں پر رہیں؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ملک و قوم اور ادارے کا فائدہ کم اور اپنے قریبی ساتھیوں کی خوشی اور انکو آگے بڑھاتے ہیں؟ کون ہے جو کسی سیٹھ صاحب اور کسی سربراہ ادارہ سے یہ کہنے کی جرات کرے ؟ اور کیوں کہے؟ ہماری تو سوچ یہاں تک محدود ہے کہ اگر وہ لیڈرز ہیں تو انکو زیادہ فکر ہونی چاہہے یہ جاننے کی کہ میں کیسا چل رہا ہوں، ہمیں کیا۔۔۔۔۔۔؟

اگرٹرین کے کچھ ڈبے درست ہوں، اور دس ڈبے خراب ہو جائیں، اتنے کہ انکی چھتیں ٹوٹ جائیں، دروازے بوسیدہ ہو جائیں تب بھی وہ ٹرین سفر جاری رکھے گی اورمنزل پر پہنچے گی۔ ۔ ۔ لیکن اگر انجن میں خرابی ہو، اگر انجن بوسیدہ ہو تو وہ ٹرین جگہ جگہ رکے گی، یا مکمل خراب ہو کر راستے میں ہی رکی رہے گی، دوسری ٹرینیں آگے نکل جائیں گی۔۔۔
بات ہورہی تھی کہ سن دو ہزار سترہ میں جب ہر کسی کے جیب میں اینڈرائڈ اور ایپل پروڈکٹس فون کی شکل میں موجود ہیں، پھر بھی دفتری معاملات الیکٹرونک کیوں نہیں کئے جاتے ہیں؟ کیا چیز ان کو زندگی میں آسانیاں لانے سے روک رہی ہے؟ وجہ صرف ایک ہے۔۔۔۔۔

لیڈر شپ کلرکوں کے پاس ہے تو انہوں نے جب سے آنکھ کھولی اپنے بزرگوں کو فائلیں دبائے، ہاتھوں میں کلکولیٹر لئے اور کان پر بال پوائینٹ پھنسائے دیکھا اورانہیں وہی حلیہ اور وہی انداز بھاتا ہے۔ نیچے کے لوگ کچھ بھی چاہیں انکے چاہنے سے کیا ہوگا؟ بس جو ہو رہا ہے وہی چلے گا۔ ایسے ہی کاغذات، سرکولرز، نوٹسز، کاغذی پلانز اور کاغذی اعلانات کے نیچے سب دبے رہیں گے۔

Facebook Comments Box
featuredOfficeبوسیدہ نظامتبدیلیجدید نظامدفتردفتری نظامقیادتلیڈرشپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
آنگ سانگ سوچی کا گھناونا چہرہ ____ میاں ارشد فاروق
next post
سجا اینڈ کھبا – دایاں اور بایاں: ثاقب ملک

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.