تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
نئے لکھاری

سماجی امراض کی اصل وجہ: صادق رضا مصباحی

by Daanish Editor 26/08/2017
written by Daanish Editor 26/08/2017
119

ہماری عمومی زندگی میں ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے تمام رابطوں کو ہی مستند جان کر اسی سرکل میں وہی عام رویئے، خیالات اور آرا سن کر انہی کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاشتے ہیں. مزید تحقیق اور سوچ بچار کی ہمیں عادت ہی نہیں چاہے کتنی بار سراب منزلوں کا دھوکہ کھا چکے ہوں. لیکن کچھ امور توجہ طلب اور تجزیہ طلب ہوتے ہیں.

جیسا کہ اگر ہم اپنے کسی مرض کے علاج کے لئے کسی ایسے ڈاکٹرکے پاس چلے جائیں جس کی بڑی شہرت ہو، اس کا بڑا سا اسپتال ہو مگروہ حقیقی طور پر مرض کا ماہر نہ ہو توکیا ہم صحت یاب ہوسکتے ہیں؟ اسی طرح جو ڈاکٹر صرف کھانسی بخارکا علاج کرنا جانتا ہو. اس کے پاس اگر ہم آپریشن کے لئے چلے جائیں تو کیا وہ ہمارا علاج کرسکتاہے . ہمارا آپریشن کرسکتاہے؟ کیوںکہ بڑے مرض کے سامنے چھوٹے ڈاکٹر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن اگر ہم بضد ہوں کہ ہم اسی چھوٹے ڈاکٹر سے علاج کرائیں گے کیوں کہ وہ مشہور بھی ہے اور بجٹ میں بھی ممکن ہے تو یقینا ہم. اپنے ہاتھوں مزید بگاڑ لائیں گے مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ ہم نے اپنی قومی وملی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے ایسے ہی ’’چھوٹے ڈاکٹروں‘‘ کو’’بڑا ڈاکٹر‘‘ سمجھ لیا ہے اوراس کی ’’اونچی دوکان دیکھ کراس سے اپنا ’’آپریشن‘‘ کرانے پربضدہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملی اورقومی مسائل جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں. اب تک تو ان کوحل نہیں کیاجاسکا ہے بلکہ ان ’’چھوٹے ڈاکٹروں‘‘کی وجہ سے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی

مجھ جیسا طفل مکتب کیسے بتائے کہ کسی بھی مسئلے کاحل اسی وقت نکلتا ہے جب کوئی ماہراورحقیقی ذمے دار اس کے متعلق اپنی قیمتی رائے دیتا اوراس کا’’علاج ‘‘کرتا ہے کیوں کہ وہ بیمارمعاشرے کا ’’ڈاکٹر‘‘ ہوتاہے۔ اسے. معلوم ہوتا ہے کہ مرض کی جڑیں کتنی گہری ہیں اوراس کاعلاج کیاہے . ہم نے دراصل انہیں ذمے دار سمجھ لیا ہے جوحقیقی ذمے دارنہیں ہیں بلکہ ہم توشہرت ، دولت اور اپنے تعلقات کے پیچھے سرپٹ بھاگنے والے لوگ ہیں ۔ ہم شہرت سے دھوکہ کھانے کے عادی ہیں۔ ہم اپنے پیروں پرکلہاڑی نہیں مارتے بلکہ اپنے پیروں کو کلہاڑی پرمارتے ہیں۔ کسی نہ کسی درجے کی سادگی ہے کہ ہم ازخود غیرحقیقی ، سطحی اور پرلے درجے کے لوگوں کو اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر ان کی ’’ذمے داری ‘‘پر ایک مہرتصدیق ثبت کردیتے ہیں۔ مسلمانوں میں شخصیت پرستی کی وبا دوسری کمیونٹی کے لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے اوراس وبا نے ہماری پوری کمیونٹی کونگل لیا ہے ۔ اکثر ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں اکثر دیکھتے ہیں کہ ہماری کمیونٹی کی نمائندگی وہ لوگ کررہے ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں. جزوی طور پر یا تیسرے چوتھے درجے کا اہل قرار دیا جاسکتا ہے مگر یہ دنیاچوں کہ دولت کی ہے، شہرت کی ہے، تعلقات کی ہے اور طاقت کی ہے اسی لیے یہ سب انہی طے شدہ اصولوں کے تحت چل رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب یہ سب گٹھ جوڑ آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے۔

اس حقیقت سے کسے مفر ہے کہ میڈیا پر جو اشتہار شائع ہوتے ہیں ان میں اکثر وبیشتر بلکہ اس سے بھی زیادہ ، یہ جھوٹ پرمشتمل ہوتے ہیں۔ سمجھ دار لوگ ان اشتہاری باتوں پرکبھی نہیں آتے مگر متواتر اشاعت اور دہرائی سے یہ ہماری نفسیات پر چھائے رہتے ہیں اسی لیے ہماری زبانوں پر ان کے نام چڑھ جاتے ہیں ۔ ٹھیک یہی مثال حقیقی ذمے داروں اورغیرحقیقی ذمے داروں پرصادق آتی ہے . اس ’’اونچی دوکان‘‘کے قبورڈ، بینر یا اشتہارات پریقین نہیں رکھتا بلکہ اسے دیکھ کرہی آگے بڑھ جاتا ہے توپھر ہم دینی زندگی، ملی زندگی اورقومی زندگی میں ان ’’اشتہارات‘‘ کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے عادی کیوں ہوگئے ہیں؟ یہ اتنا بڑا سوال ہے جس کا جواب عوام کو نہیں بلکہ خواص کو تلاش کرناچاہیے اوربالخصوص ان لوگوں کو جو کھوکھلی شہرت،تعلقات اور’’اونچی دوکان‘‘سے سامان خریدنے کے عادی ہیں۔ اپنے دماغ کی ڈائری میں بات نوٹ کرلیجیے کہ ایسا کرکے ہم مرض پر مرض بڑھاتے ہی جا رہے ہیں، اس کی سنگینی میں اضافہ کررہے ہیں . اسے مزیدپیچیدہ تر بنارہے ہیں۔ اس لیے ہم ببانگ دہل یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے مسائل میں اضافہ کی اصل وجہ ہم خود اور ہمارا غیر حقیقی ذمہ دارافراد پر اندھا دھند یقین کر لینا یے.

Facebook Comments Box
سماجسماجی رویےسماجی زندگیسماجی مسائل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
عمیرہ احمد کی مخالفت کیوں؟ امجد جاوید
next post
گونگی، بہری نرس یا بیوی —- عینی خان

Related Posts

استانی جی —– محمد اویس حیدر کا افسانہ

24/11/2019

کتاب ’’ہجر کی تمہید‘‘ ——– راحیلہ خان

23/11/2019

ایڈونچر ——– محمد اویس حیدر

15/11/2019

میرے علامہ اقبال:ایک بچے کا خراج — محمد...

08/11/2019

بند گلی ——- احمد حامدی کا افسانہ

01/11/2019

میڈیکل کالج کی لڑائیاں —– محمد شافع صابر

16/10/2019

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.