اردو میں تجدد ایک نیا لفظ ہے اور عموماً یہ انگریزی لفظ modernism کے ترجمے کے طور پر مستعمل ہے۔ ماڈرنزم کے لیے کچھ اہلِ علم نے ’جدید مشربی‘ کی ترکیب بھی استعمال کی ہے جو میری رائے میں درست نہیں۔ ہمارے ہاں اسی خاندان کے دو اور لفظ بھی خاصے مستعمل چلے آتے ہیں: ایک تجدید جس کا انگریزی متبادل revival ہے اور دوسرا مجدد، جس کا انگریزی متبادل reviver یا revivalist ہے۔ ’ماڈرنزم‘ سے ذہن انگریزی کے تین اور اہم لفظوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، ایک modernist (متجدد)، دوسرا modernization (جدید کاری) اور تیسرا modernity (جدیدیت)۔ اس طرح اردو میں یہ چھ لفظ ہیں جو باہم جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں: تجدید، مجدد، تجدد، متجدد، جدید کاری اور جدیدیت۔ بظاہر ایک ہی مادے سے بننے والے اور معنوی اشتراک رکھنے والے یہ لفظ اپنے معنوی محتویات کے اعتبار سے باہم مختلف ہیں۔ ترجمہ ہونے کی وجہ سے یہ اصطلاحات ابہام کا شکار بھی ہیں کیونکہ ابھی یہ طے شدہ نہیں ہے کہ یہ لفظ انگریزی میں موجود اپنی معنوی منڈلی کو کس حد تک اردو میں سمیٹ لائے ہیں۔ اصطلاحات اور فکر کے تراجم صرف اس وقت مفید ہوتے ہیں جب ترجمے کی زبان میں بھی برابر سطح کے علمی مباحث موجود ہوں۔ جدید یورپی زبانوں میں فکری ادراک اور علمی ابلاغ جس سطح پر کام کرتا ہے وہ اردو میں بہت حد تک نامعلوم ہے۔ ہر معاشرے میں فکری سرگرمی کی نوعیت اور سطح قومی ارادے کی فعالیت اور شعور کی حریت سے مشروط ہوتی ہے۔ جدید مغربی تہذیب اور مسلم معاشروں میں قومی ارادے اور علم میں غیرمعمولی تفاوت کے باعث فکری گفتگو میں چند در چند دشواریاں داخل ہو گئی ہیں۔
ان سارے لفظوں/اصطلاحات میں ایک اَن کہا معنوی سایہ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے، اور وہ ’ماضی‘ ہے۔ اگرچہ انگریزی میں ’تجدید‘ اور ’مجدد‘ کے لیے جو لفظ استعمال ہوئے ہیں ان کا لفظ ’modern‘ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن ’ماضی‘ کے بغیر ان کا بھی معنوی تعین نہیں ہو سکتا۔ جدیدیت ایک انتہائی ریڈیکل فکر اور پراجیکٹ ہے اور وہ اپنی ہر تعریف (definition) بھی اپنے اندر سے پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ مذہب اور معجزے کی طرح self-referential ہو سکے لیکن ماضی کا ’بھوت‘ کسی طرح اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا (یاد رہے کہ ہندی میں ’بھوت‘ کا لغوی مطلب ’ماضی‘ ہے)۔ جدیدیت، تجدد اور جدید کاری اپنی فکر اور عمل میں ماضی کے ’بھوت‘ کا کبھی اتارا نہیں کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ جدید فکر ’ماضی‘ سے مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ عہدِ جدیدیت میں ’ماضی‘ معروف نہیں بلکہ ’مجہول‘ ہے۔ جدیدیت کے پیدا کردہ علوم میں ماضی اپنی کسی شرط پر معلوم نہیں ہے۔ آج ماضی فکرِ جدیدیت کے حضور روبکاری کے بعد معلوم و معروف ہے۔ ماضی اب میوزیم ہے، آرکائیو ہے، آثاریات ہے، تاریخ کا کوئی ریکارڈ نہیں بلکہ ایسا کباڑ خانہ ہے جس سے جدید تاریخ نویسی اپنا بیانیہ جوڑتی ہے، اور یہ تاریخیت (historicism) کا خام مال ہے۔ جدیدیت میں ماضی نہ مستقل ہے، نہ مقدس ہے اور نہ مقتدر۔ جدیدیت اپنے غیرمعمولی علمی وسائل کے ذریعے اور اپنی ثقافتی اور سیاسی ضروریات کے مطابق ’ماضی‘ کو مسلسل re-present کرتی رہتی ہے۔
’تجدید‘ اور ’مجدد‘ کے معنوی محتویات میں جس فکر اور عمل کا عندیہ ملتا ہے اس کی اپنے ہم عصر زمانے سے نسبت تخالف اور تضاد کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر زمانۂ حال میں ایک ہیومن ایجنسی فعال ہوتی ہے اور وہ جس آئیڈیل کو اپنے عمل سے واقعاتی (actual) بناتی ہے وہ بھی قابل تعین ہوتا ہے۔ مذہبی معنوں میں، تجدید، ہیومن ایجنسی کے ذریعے کسی مقدس اور معیارِ حق ماضی کو ’زندہ‘ کر کے حال بنا دینے کی جدوجہد ہے، یعنی تجدید جس آئیڈیل کو actualize کرنا چاہتی ہے وہ ماضی میں ہوتا ہے۔ تجدید میں اہم تر زمانے کی تشکیل کنندہ ہیومن ایجنسی کی بازیافت ہے، یعنی ایسی ایجنسی جو اقبالؒ کے الفاظ میں مرکبِ ایام نہیں بلکہ راکبِ ایام ہو۔ یہ غور طلب بات ہے۔ مذہبی معنوں میں تجدید یا احیا کے مخالفین ایک سلوگن کے بڑے شوقین ہیں کہ ماضی کو لوٹایا نہیں جا سکتا یا یہ کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی۔ ایسے سلوگن کا منبع جدیدیت کا وہ خوف ہے جو وہ ماضی کے بارے میں رکھتی ہے، کیونکہ ’ماضی‘ اس کا بھوت ہے اور یہ بھوت آسیب (spectre) جیسا ہے، یہ وہی spectre ہے جس کا مارکس نے اپنے مینی فیسٹو میں ذکر کیا ہے۔ جدیدیت کی فکر میں ’ماضی‘ کوئی ’عہد‘ یا ’زمانہ‘ نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی ججمنٹ ہے، یعنی جو چیز ماضی ہے وہ پسماندہ ہے، ازکار رفتہ ہے، بربریت آمیز ہے، تہذیب سے گری ہوئی ہے، ترقی سے محروم ہے اور محتوائے انسانیت سے خالی ہے۔ لیکن ماضی میں کچھ کام کی چیزیں بھی ہوتی ہیں اس لیے جدیدیت ماضی کو cannibalize کرتی رہتی ہے۔ تجدید میں پنہاں تصورِ ماضی قطعی مختلف ہوتا ہے اس لیے کہ تجدید، ’ماضی‘ کو جو مستقل ہے، مقدس ہے، اور مقتدر ہے پھر سے actualize کرنے کی کوشش ہے۔ تجدید یا احیا کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ورلڈ ویو/تصورِ حیات اپنے آپ میں اتنا تونگر (rich) ہے کہ وہ ہیومن ایجنسی کو ایسے کردار کی شکل دے دے جو ایک پورائی میں تاریخ کے مقابل آ سکے۔ تاریخ اپنی حرکت میں منبعِ ہدایت سے دوری اور پستی کا میلان رکھتی ہے۔ تجدید، شعور اور ارادے کی سطح پر ہدایت سے تاریخ میں ظاہر ہونے والی اس دوری اور پستی کے ازالے کی کاوش ہے۔ تجدید، تاریخ کو مسلسل لگامیں ڈالتے رہنے کا نام ہے۔ تجدید کوئی واپسی نہیں ہے، بلکہ طبعِ زمانہ کی تازگی ہے۔ تجدید میں ہیومن ایجنسی ہدایت کی شرائط پر ’احوال‘ سے لیس ہو کر تاریخ کا سامنا کر کے نئے ’حالات‘ پیدا کرتی ہے۔ تجدید ہیومن ایجنسی کے ذریعے زمانے کی تازہ کاری ہے۔ تجدید ایک کارِ مسلسل ہے اور مومن کا مطلوب و مقصود ہے۔ تجدید میں اہم ترین نکتہ احوال اور حالات کی جدلیات کو سمجھنے کا ہے، کیونکہ آخرالامر ہر معاشرے میں انسانوں کے انفسی احوال ہی آفاقی حالات میں ظہور کرتے اور تاریخ کی تشکیل کرتے ہیں۔
جدیدیت ایک پورے ورلڈ ویو، یا تصورِ حیات کے طور پر ’دنیا‘ میں اپنے جو زمانی مظاہر رکھتی ہے انہیں تجدد کہا گیا ہے۔ یہاں دنیا سے مراد کلچر، معاشرہ اور تاریخ ہے یعنی طبائع فطرت اس سے خارج ہیں۔ یعنی ہر عہد میں جدیدیت ثقافت، علوم، تعلیم، ادب، موسیقی، پینٹنگ، فیشن اور فن تعمیر وغیرہ میں جو مظاہر سامنے لاتی ہے ان سب میں باہم کچھ نہ کچھ اشتراکات موجود ہوتے ہیں۔ ان اشتراکات کے مطالعے سے یہ اشارہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ فلاں وقت میں جدیدیت اپنے فکر اور عمل کے مظاہر میں کیا خواص رکھتی ہے۔ بنیادی طور پر بیسویں صدی کے آغاز میں نئے ادب، فن تعمیر اور چند در چند ثقافتی مظاہر کے لیے تجدد (modernism) کا لفظ استعمال کیا گیا اور اسے ایک ثقافتی تحریک بھی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے مظاہر کو مابعد تجدد (post-modernism) کہا گیا۔ اس طرح یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ تجدد اور مابعد تجدد دونوں ہی جدیدیت کے پیدا کردہ معاشرتی اور ثقافتی مظاہر ہیں۔ تجدد اور مابعد تجدد پر بے شمار ادبی اور فکری بحثیں موجود ہیں۔ تجدد کا ایک اہم پہلو علم کی تشکیل اور اس کی تنظیم کاری اور علم کے بنیادی قضایا پر مشتمل مباحث کو سامنے لانا ہے، کیونکہ جدیدیت اپنے علوم کی تنظیم نو میں مسلسل مستعد رہتی ہے۔
تجدد کے دو پہلو تو بالکل سامنے کی چیز ہیں۔ مثلاً اگر ہم دین کی کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، یا اپنی تاریخ میں ظاہر ہونے والی اسلامی تہذیب کے کلاسیکل مواقف کو سامنے لانا چاہتے ہیں تو زبان کے اسالیب و استدلال تو صرف جدید ہی ہو سکتے ہیں۔ یعنی تجدد کا ایک پہلو اس کے ابلاغ کا جدید اسالیب اور استدلال کا حامل ہونا ہے۔ ابلاغ میں یہ تبدیلی صرف مذہبی تحریروں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک ثقافت گیر مظہر ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے کا کلچر ان گنت جدید اسالیب اپنے اندر سمو چکا ہے، اور یہ ایک ایسا تاریخی عمل ہے جس کی علمی تنقیح کے بعد ان کے بارے میں موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔ ماڈرنزم کے عہد میں بھی اسلام اپنی حکمی ہیئتوں کو مکمل طور پر باقی رکھتے ہوئے اور جدید ثقافتوں پر غالب رہتے ہوئے ان کی نئی تشریط کر سکتا ہے۔
تجدد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جونہی جدید اسالیب اور استدلال اختیار کیا جاتا ہے جدیدیت کے پیدا کردہ اساسی افکار بھی ساتھ چلے آتے ہیں۔ ایک ثقہ مذہبی آدمی جدید اسالیب اور استدلال سے تو سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن اگر یہ اسالیب و استدلال جدیدیت کی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں یا جدیدیت کو مکمل طور پر اپنے اندر accommodate کرتے ہیں یا جدیدیت کی توسیط کا ذریعہ بنتے ہیں تو یہ اُس کے لیے قابل قبول نہیں۔ یہ کہ جدید اسالیب میں لکھی گئی تحریریں افکار جدیدیت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں صرف اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ جدید اسالیب اور جدیدیت کی اساسی فکر سے تعارف نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں نعرے بازی زیادہ ہے اور خالص علمی کام بہت کم ہے۔
تجدد / ماڈرنزم پر مغربی دنیا میں بے شمار مباحث موجود ہیں، اور ادب، ادبی تنقید، ادبی اور ثقافتی تھیوری، کلچر، فن تعمیر، موسیقی، آرٹ، تصویر سازی، فلم وغیرہ جیسے شعبوں میں اس پر معرکۃ الآرا بحثیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ میرے نزدیک ان کی نوعیت اب اکیڈیمک ہے، اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے مفید موضوعات ہیں۔ مغرب کے حوالے سے میں نے مذہب کا نام اس لیے نہیں لیا کہ بیسیوں صدی کے اوائل میں تجدد/ ماڈرنزم کے ظہور سے بہت پہلے مذہب اپنے تمام پہلوؤں میں مکمل شکست کھا کر تہذیب کے کونوں کھدروں میں پناہ لے چکا تھا۔ مذہبی تجدد (religious modernism) ایک بڑے مبحث کے طور پر استعمار سے مغلوب قوموں میں ظاہر ہوا ہے اور ان کی تہذیبی موت کا کتبہ ہے۔ مسلم معاشروں میں سب سے بڑا مبحث مذہبی تجدد ہی ہے۔ ابھی تک ان معاشروں میں اس پر کام کی کوئی بات نہیں کہی جا سکی اور اب مذہب کا یہ غالب ڈسکورس بن چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ جو اہل علم بزعم خویش تجدد کے خلاف جنگ آزما ہیں وہ خود بھی متجددین ہی ہیں، اور روایت وغیرہ کا لفظ محض آڑ کے لیے برتا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں مغربی تہذیب میں ظاہر ہونے والے تجدد/ماڈرنزم پر گفتگو بہت کم ہوتی ہے لیکن دیسی مذہبی تجدد کا غلغلہ بہت ہے۔ تجدد/ماڈرنزم پر گفتگو صرف اسی وقت مفید ہو سکتی ہے جب آدمی جدیدیت/ماڈرنٹی سے بھی ضروری واقفیت رکھتا ہو اور ان کی باہمی نسبتیں بھی اسے معلوم ہوں۔ زیادہ تفصیل کا یہ موقع نہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ جدیدیت/ماڈرنٹی ایک تصور (concept) ہے یعنی ایک بہت بڑا تصور، ایک تہذیبی کل بنانے والا تصور، اور تجدد/ماڈرنزم تاریخ میں تدریجاً سامنے آنے والے اس تصور کے سماجی اور ثقافتی مظاہر کا مجموعہ ہے، یعنی جدیدیت ایک تصور ہے اور تجدد ’دنیا‘ میں ظاہر ہونے والی ایک واقعیت۔ علم کی گفتگو جدیدیت کے عنوان سے شروع ہو گی اور تجدد تک آئے گی۔ زمان و مکان میں موجود انسان اور انسانی معاشروں پر جدیدیت جو اپنے نقوش ثبت کرتی چلی جاتی ہے وہ تجدد/ماڈرنزم کے تحت ہی زیر بحث آئیں گے۔ اس وقت میں اپنی گفتگو کو مذہبی تجدد تک محدود رکھنا چاہوں گا۔
پہلا مسئلہ تو مذہبی تجدد کو define کرنے کا ہے۔ دین کا براہِ راست مخاطب، اس کا exclusive focus انسان ہے، فرد کی حیثیت سے اور اجتماع کی حیثیت سے بھی۔ جب دین کا یہ خطاب منقلب ہو جائے اور جدیدیت کے پیدا کردہ نظریات کے تتبع میں معاشرہ، تاریخ اور طبائع فطرت دین کے مخاطب بن جائیں تو نتیجہ مذہبی تجدد ہوتا ہے۔ اس امر کی تفصیل ضروری ہے:
(۱) عقیدے کا انہدام
مذہبی تجدد کے ظہور کی سب سے بڑی وجہ نئی وہابی توحید کا ظہور اور مسلم عقیدے کا انہدام ہے۔ جدید عہد میں مسلم عقیدہ اپنی تنزیہہ باقی نہیں رکھ سکا، اور جدید تشبیہی اور مادی علوم کے سانچے میں ڈھل کر discursive knowledge کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جیسا کہ اسماعیل راجعی فاروقی شہید نے اپنی انگریزی کتاب ”التوحید“ میں اس کا اعتراف کیا ہے، جو بقولِ مصنف سلفی توحید کا بیان ہے۔ جدید عہد میں مسلم عقیدے اور جدید علوم کے مابین امتیازات کے خاتمے سے مسلم عقیدے کی معنویت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس کا اگلا مرحلہ غیب و شہود کے امتیازات کو باقی نہ رکھ سکنے کا تھا اور تمام کے تمام مذہبی علوم تشبیہی اور positivist وجودیات پر قرار پکڑتے چلے گئے۔ اس سطح وجود پر مغربی علوم اور ٹکنالوجی کے سامنے کھڑے ہونے کا سوال ہی ختم ہو گیا۔ گزشتہ دو سو سال میں مسلمانوں نے جو علمی داد سخن دی ہے جدیدیت اس کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئی لیکن ہم اپنی دانست میں احیا کے منزل کے قریب آتے چلے گئے ہیں۔
(۲) علمیات (epistemology) کا خاتمہ اور ہرمینیات (heremeneutics) کا عروج
مذہبی تجدد ہر طرح کے علم کی نوع، موضوع اور منہج کے بارے میں بنیادی سوالات سے مکمل اعراض سے پیدا ہوتا ہے۔ علم میں بنیادی ترین سوال یہ ہوتا ہے کہ ’عقل کیا ہے؟‘ مذہبی تجدد جدید علم کی تشکیل میں کام آنے والے تمام وسائل سے مکمل ترین بے خبری میں جنم لیتا ہے۔ عقل کا معروض یہ دنیا ہے، اور جن کو نظری علوم کہا جاتا ہے ان کا موضوع صرف یہ دنیا ہے۔ مذہبی تجدد میں کسی بھی قسم کا کوئی معروض باقی ہی نہیں رہتا اور عقل کے ہر معروف تصور کے خاتمے سے ایک صوابدیدی ہرمینیات جنم لیتی ہے۔ مسلمانوں کو ایک بہت بڑی خوش فہمی یہ ہے کہ ان کا تصورِ عقل exclusive ہے اور یہی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عقل ایک انسانی ملکہ ہے اور علی الاطلاق، معروف اور دنیا کے سارے انسانوں میں مشترک ہے۔ ہر تہذیب عقلی ملکات سے اپنے ورلڈ ویو کی علمی اور فکری توثیقات کا کام لیتی ہے، اور ہمارے ذمے بھی یہی کام ہے لیکن اس کام کو کرنے کے لیے universal reason پر کھڑے ہونا ضروری ہے۔ ہماری یہ خوش فہمی ہے کہ ہمارا تصورِ عقل exclusive ہے۔ اگر اسے مان بھی لیا جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن گزشتہ دو سو سال میں اس کے حاصلات پر ایک نظر ڈال لینا ضروری ہے۔ ہمارے مذہبی اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ عقلِ سلیم، عقل تسلیم ہے وغیرہ۔ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اس کے پیدا کردہ سب علوم حد درجہ عقیم ہیں نہ دنیا میں مفید نہ آخرت میں کام کے۔ یہ عقل سلیم کوئی مسلم کردار بھی سامنے نہیں لا سکی۔ یہ ہماری moral self کو برقرار رکھ سکی ہے اور نہ اس کا دفاع کر سکی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس عقل سلیم کو اپنے اسلاف کے ورثے کی بھی کوئی خبر نہیں اور نہ یہ عقل جدید دنیا کو سمجھنے میں کوئی پیشرفت کر سکی ہے۔ یہی وہ نام نہاد عقل ہے جو مذہبی تجدد میں بھی کارفرما اور فعال ہے، اور اس کا بس ایک ہی کام ہے کہ جدیدیت کے پیدا کردہ کفر کو دینی اصطلاحات میں بیان کرتی چلی جائے۔
(۳) مذہب اور استعمار کے پیدا کردہ اداروں کے درمیان متوازیت
ایک امر میں اختلاف شاید کم ہو کہ مذہبی تجدد مسلم ممالک میں استعمار کے عملی قیام کے بعد شروع ہوا۔ استعمار میدان جنگ سے شروع ہوتا ہے یعنی وہ اول اول ہمارے اجتماعی سیاسی اور معاشی ادارے فنا کرتا ہے۔ اس کا دوسرا پڑاؤ گھر آنگن ہے، یعنی ہماری معاشرت ہوتی ہے۔ اس کی آخری منزل مستعمرین کا شعور، ارادہ اور نفس ہے۔ استعمار طاقت اور معاش کی نئی ہیئتوں اور تعلیم اور علم کی نئی اوضاع سے مستعمرین کی پوری داخلیت کو بھی مکمل بدل دینے کی پوری استعداد رکھتا ہے۔ یعنی استعمار محکوم قوموں اور معاشروں کے آفاق اور انفس کی نئی تشکیل کرتا ہے۔ جب استعمار نے برصغیر میں نئے ادارے قائم کیے تو ان کے پیچھے استعماری جدیدیت کی بہت بڑی اور توانا فکر کام کر رہی تھی، اور ہمارے اہل علم کی نظر وہاں تک کبھی نہیں پہنچی، اور آج بھی وہ افکار اہل علم کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ اور ہمارے اہل علم نے مذہب اور استعماری اداروں میں براہ راست متوازیت پیدا کر کے ان کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ ہم نے مثلاً یہ سوال تو اٹھایا کہ کیا جمہوریت اسلامی ہے یا نہیں، لیکن اس تہذیبی فکر پر ڈھنگ کا کوئی ایک سوال بھی نہیں اٹھایا جا سکا جو ایک تہذیبی مظہر کے طور پر جمہوریت کی تشکیل کنندہ تھی۔ اسی طرح جدید ریاست اور ساورنٹی کا تصور ہے۔ اس پر ہمارے اہلِ علم نے جو دادِ سخن دی وہ محض لطیفہ ہے۔ ترقی کا تصور بھی برصغیر میں ایک بہت بڑا علمی اور ثقافتی مظہر تھا۔ یہ کس بلا کا نام ہے ہمارے اہل علم کو اس کی ہوا تک نہیں لگی اور اس پر رائے زنی بڑھ چڑھ کر کرنے کا شوق بھی دیدنی ہے۔ ان تمام تہذیبی مظاہر پر مذہب کی ججمنٹ ازحد ضروری ہے، لیکن ان کا تجزیہ عقلی علوم اور ان میں کارفرما نظام استدلال سے ہو گا۔ مذہبی ججمنٹ یا فتویٰ ان علمی نتائج پر مرتب ہو گا۔ عقل اور علم کی مطلق عدم موجودگی میں جب ہم نے جدید استعماری اداروں پر مذہبی بحث شروع کی تو اس کا لازمی نتیجہ تجدد کی صورت میں برآمد ہوا۔ مثلاً جدید تعلیم ہی کو دیکھ لیں۔ اس پر ہر مذہبی بحث کا نتیجہ تجدد ہے۔ دو ڈھائی سو سال گزر چکے لیکن مجال ہے جو ذرہ بھر عقل بھی آئی ہو۔ بستے کو آگے پیچھے کرنے سے تعلیمی نظام پیدا نہیں ہوتے۔ ہر جدید موضوع پر مذہبی بحث کا نتیجہ تجدد ہو گا، اور اب تو یہ حال ہے کہ جدیدیت کا اونٹ خیمے میں قرار پکڑ چکا ہے اور بدو باہر اپنے علم کا ڈھول پیٹ رہا ہے۔ اس میں مولانا وحید الدین خان کی تحریریں مذہبی تجدد کے تناظر میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے مہلت دی تو ان کو بھی واضح کروں گا۔ جدید اداروں کو نظری اور عقلی علم کا موضوع بنانے کی بجائے مذہبی بحث کا موضوع بنانا جدیدیت کو مکمل طور پر accommodate کرنے کا کام ہے، اور مذہبی تجدید اسی عمل کا نام ہے۔
(۵) ضروری فکری سوالات اٹھانے سے مکمل گریز
اگر ہم گزشتہ دو سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ استعماری جدیدیت جن تہذیبی مظاہر کے ساتھ برصغیر میں متمکن ہوئی اس پر کوئی علمی سوال نہیں اٹھایا جا سکا۔ روایتی علم الکلام بھی اس سے خالی ہے۔ لیکن ایک چیز کا جائز شوق بہت رہا کہ مذہب سے رہنمائی لی جائے۔ مثلاً لاؤڈ اسپیکر کا لطیفہ تو ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ مذہب انسان اور اس کے افعال و احوال پر ججمنٹ دیتا ہے وہ لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں کچھ بتانے نہیں آیا، یا یہ کہ زمین گول ہے یا چپٹی ہے، یہ گھومتی ہے یا ساکن ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان چیزوں کی اول علمی تنقیح ہو گی اور نتائج پر مذہبی فتویٰ مرتب ہو گا۔ مجھے تو دارالحرب اور دارالاسلام کے موضوع پر جو بحثیں ہوئیں ان کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ علمی حالات کس حد تک تنزلی کا شکار ہو چکے تھے۔ اب تو حالات یہ ہیں کہ یہ قضیہ بھی ختم ہو گیا ہے کہ کوئی علمی، فکری اور نظری سوالات بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا کی پنہاں نسبتوں کو سامنے لاتے اور مذہب کے سامنے ججمنٹ کے لیے پیش کرتے ہیں۔ فقہ جس پر ہماری پوری تہذیب کھڑی تھی اس کا تصور محض عدالتی قانون تک محدود ہو کر رہ گیا اور اس کے وسیع تر تناظر بالکل ہی ختم ہو گئے۔ فقہ کی کلاسیکل کتابوں میں علم اور عمل کی نسبتیں قائم کرنے کی منہج میں جو زبردست گہرائی اور پیچیدگی نظر آتی ہے وہ اعلیٰ ترین سطح پر مذہبی اور تہذیبی کارفرمائی کو ظاہر کرتی ہے اور اب تو فقہ صحافت سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
(۶) استعمار اور استشراق کی تہذیبی معنویت سے مکمل بے خبری
یہ امر کہ تاریخ اور اس کے مؤثرات انسانی شعور اور اس کی نفسی ساختوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ انسان کی ثقافت میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اور جدید تاریخ جن سائنسی اور ٹکنالوجیائی مؤثرات کے ساتھ ظاہر ہوئی اس کے پیچھے جو نئے علوم کارفرما تھے ان سے ہمارا تعارف استعمار اور استشراق کی صورت میں ہوا۔ اگر محکوم قومیں اور مستعمرین ان مباحث کی ابجد سے واقف ہوتے تو مذہبی تجدد جنم ہی نہیں لے سکتا تھا۔ ہمارے ہاں مذہبی تجدد ان تمام ضروری سوالات سے خالی ہے جو ہم عصر دنیا اور اس میں علوم کی نئی تشکیل پر اٹھائے جانے چاہئیں تھے۔ مذہبی اصطلاحیں باقی رہ گئیں اور ان کے بطون استعمار اور استشراق کے پیدا کردہ معانی سے بھر گئے۔ تجدد مذہب کو جدیدیت کے سانچے پر ڈھالنے کی طویل ثقافتی سرگرمی ہے جو تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مختلف اہل علم میں ایک ہی منہج پر ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں ظاہر ہونے والے مذہبی تجدد کا مسئلہ یہ ہے کہ جدیدیت سے عدم واقفیت کی وجہ سے اسے مسلسل دین کے اندرون میں سمویا جا رہا ہے اور ثقہ دینی مواقف تیزی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی تجدد نہ صرف اپنے اسالیب و استدلال میں جدید ادائیگی رکھتا ہے بلکہ جدید فکر کا حمال بھی ہے۔ ہمارا مسئلہ ادا سے نہیں، تحمل سے ہے۔ یعنی یہ کہ دین کی نمائندہ تحریریں تحمل اور ادا دونوں میں ثقہ ہوں۔ تجدد کی گفتگو میں اس امر کو پیش نظر رکھنا ازحد ضروری ہے کہ جدید اسالیب و استدلال ناگزیر ہیں جبکہ جدیدیت کی فکر پر روک لگانا ممکن اور ضروری ہے۔ اگر ہمیں جدیدیت کے پیدا کردہ افکار کی تہذیبی تفہیم حاصل ہوتی تو تجدد پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ ہمارے ہاں تجدد افکار جدیدیت کو مذہبی لبادے میں پیش کرنے کا نام ہے۔
جدید کاری یا ماڈرنائزیشن اصلاً ایک معاشرہ گیر سیاسی، معاشی اور طبعی عمل ہے جس کے پیچھے کارفرما بنیادی فکری موقف یہ ہے کہ انسان ماحول کی پیداوار ہے اور اگر انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا طبعی ماحول بدل دیا جائے تو انسان بھی بدل جائے گا۔ ماڈرنائزیشن تھیوری اور عمل، تاریخ کے مطلق مادی تصور سے پیدا ہوئے ہیں، یعنی یہ کہ انسان تاریخ کے مطلق مادی مؤثرات کا پیدائیہ (product) ہے، اور اس تھیوری کی اساس میں تاریخیت (historicism) کا نظریہ پوری قوت سے موجود ہے۔ جدید کاری کا موقف ہے کہ اگر جدید تعلیم، جدید طرزِ زندگی، جدید شہری سہولیات کی فراہمی، جدید میڈیا کی توسیع، اور نئی معاشی سرگرمیوں وغیرہ کے ذریعے روایتی رہن سہن کو تبدیل کر دیا جائے تو انسان کے تصورات، عقائد اور رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ اس تصور کا تناظر مکمل طور پر مادی ہے۔ اہم تر نکتہ یہ ہے کہ انسانی رشتوں میں فیصلہ کن چیز جدید معاشی رشتے ہیں۔ اگر جدید پیداواری عمل اور آرگنائزیشن سے نئے انسانی رشتوں کو معاشرے میں واقعاتی طور پر قائم کر دیا جائے تو انسانی رشتوں کی مادی تشکیل مکمل ہو جاتی ہے اور مذہب کے پیدا کردہ انسانی رشتوں کی اخلاقی اور روحانی ہیئتوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں Daniel Lerner کی کتاب The Passing of the Traditional Society: Modernizing Middle East دیکھی جا سکتی ہے جس میں مصنف نے جدیدکاری کی اپنی تھیوری کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جدیدیت تاریخ اور نیچر میں جو نئے سیاسی، معاشی اور ثقافتی مظاہر واقعاتی طور پر پیدا کرتی ہے وہ ایک نئے انسان پر مشتمل ایک نئے معاشرے کو سامنے لے آتے ہیں، یعنی اگر کسی پرانے معاشرے کے طبعی ’حالات‘ کو تبدیل کر دیا جائے تو اس میں رہائش پذیر انسان کے انفسی ’احوال‘ بھی مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں، اور وہ نئی خودی کا حامل جدید انسان بن جاتا ہے۔
جدید کاری کا عمل کسی حکومت کے منظم سیاسی اور معاشی ایجنڈے کے تحت ہی واقع ہو سکتا ہے جیسے کہ جاپان، چین اور جنوبی کوریا وغیرہ میں ہوا اور غیرمنظم انداز میں بھی واقع ہو سکتا ہے جیسے کہ تیسری دنیا یا عالمی جنوب (Global South) کے معاشروں میں سامنے آ رہا ہے۔ ماڈرنائزیشن میں عملی پہلوؤں کو اولیت دی جاتی ہے اور خیال یہ ہے کہ انسان کا عمل اور رویے بدلنے سے ایک دن انسان کا ذہن بھی بدل جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جدید معاشی پیداواری عمل اور آرگنائزیشن آخرکار جس سسٹم کو واقعاتی طور پر قائم کرتے ہیں وہ انسان کی تشکیل نو کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مذہبی معاشرے کا انسان اس خوش فہمی میں رہتا ہے کہ وہ ابھی مذہبی ہی ہے، لیکن واقعتاً اس کی پوری تشکیل سسٹم کے دباؤ میں اور اس کے ساتھ سازباز میں مکمل طور پر سیکولر ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ عام ہے کہ مذہبی شکل رکھنے والا انسان عبادات میں پورا ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ گھر، گلی، بازار، دکان، دفتر، سکول، مدرسے اور مسجد میں کسی مذہبی کردار کا پرتو بھی اس میں نطر نہیں آتا۔ نئی خودی کا حامل یہ نیا انسان ہے جو مستعمَر معاشروں میں سامنے آیا، اور اس نئے انسان کے حقیقی کردار، مذہبی اعمال اور ذہنی خیالات میں کوئی نامیاتی ربط باقی نہیں رہتا۔ اپنے مزاج اور مفاد سے آگے یہ فرد اس دنیا کو اور اپنے آپ کو دیکھنے کی کوئی استعداد ہی سرے سے پیدا نہیں کر پاتا۔ برصغیر میں جدید کاری/ماڈرنائزیشن استعمار کے تحت واقع ہوئی ہے، اور اولین ماڈرنائزیشن عسکری، معاشی اور فرمانروائی کے اداروں میں سامنے آئی یعنی معاشرے کے اجتماعی اداروں میں۔ مابعد، جدید تعلیم اور جدید معاشی عمل کے تحت جدید کاری/ماڈرنائزیشن پورے معاشرے میں پھیلتی چلی گئی۔ جدید کاری کے حوالے سے یہ امر طے کرنا ضروری ہے کہ ماڈرنائزیشن کے پراسث میں انسانی ایجنسی معروف (active) ہے یا مجہول (passive)۔ دنیا بھر کے مستعمَر معاشروں میں جدیدکاری کا عمل ان کی مجہولیت (passivity) سے مشروط ہے۔
مارکسی فکر نام نہاد ’سائنسی مادیت پرستی‘ (Scientific Materialism) اور تاریخی جدلیات میں نئے معاشی رشتوں اور ان کی مطلق اولیت اور اہمیت پر بہت زور دیتی ہے۔ یہاں ایک اہم نکتے کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ جدید معاشی رشتے اپنے ظہور میں اصلاً صنعتی ہیں، اور صنعتی معاشی رشتے تنظیم (organization) کے بغیر قائم ہی نہیں ہو سکتے۔ تنظیم/آرگنائزیشن کی درست تعریف یہ ہے:
Organization, an entity set up by the force of law, is a principle of power and production.
اس لیے یہ کہنا کہ جدید معاشی رشتے نئے انسان کی مکمل تشکیل کرتے ہیں درست نہیں ہے۔ تنظیم /آرگنائزیشن اپنے قائم کردہ ڈسپلن کے ذریعے طاقت اور اتھارٹی کی deployment پہلے ہے اور باقی سب کچھ بعد میں ہے۔ اگر ذرا گہرائی میں دیکھا جائے تو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نئے انسان کی تشکیل معاشی ضرورت سے کہیں زیادہ تنظیم /آرگنائزیشن کے قائم کردہ داخلی ضوابط اور ڈسپلن کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہ کہنا قرین حقیقت ہے کہ نئی خودی کے حامل نئے انسان کی تشکیل میں جدیدیت کی پیداکردہ طاقت کی نئی ہیئتوں کا دخل بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
آگے چلنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ تجدد (Modernism) اور جدید کاری (modernization)، جدیدیت (Modernity) کے بڑےمظاہر میں سے ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں جدیدیت کی ایک بڑے تہذیبی مظہر اور علمی مبحث کے طور پر تفہیم ابھی شدید فکری پسماندگی کا شکار چلی آتی ہے، اس لیے تجدد اور جدید کاری کے تصورات بھی بہت حد تک غیر واضح ہیں۔ تصور اور عمل دونوں سطح پر تجدد اور جدید کاری، جدیدیت کی ہی کوکھ سے پیدا ہونے والے مظاہر ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جدیدیت ایک بہت بڑا تصور ہے اور تجدد اور جدید کاری اس کے عملی پہلو ہیں۔ یعنی جدیدیت باہم مربوط لیکن دو دھاروں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ اس پہلو کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ تجدد ’دنیا‘ یعنی معاشرے، کلچر اور تاریخ میں اپنے مظاہر سامنے لاتا ہے جبکہ جدیدکاری/ماڈرنائزیشن طبائعِ فطرت میں بڑی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے جو بالآخر ایک سسٹم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
جدید کاری/ماڈرنائزیشن کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ ایک واقعاتی اور عملی صورت حال ہے اور کہیں زیادہ گہرائی سے تفہیم کا تقاضا کرتی ہے۔ مغرب میں جدیدیت کے ساتھ ہی جدید کاری/ماڈرنائزیشن دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوئی اور اس میں اہم ترین عوامل استعمار اور نوآبادیاتی توسیع تھی۔ استعمار کے پیدا کردہ سیاسی، معاشی اور طبعی مؤثرات نہایت شدت کے ساتھ ظاہر ہو کر دنیا بھر میں پھیلتے چلے گئے۔ میں بارہا یہ عرض کر چکا ہوں کہ جدیدیت انسانیت کے احوال ہستی (human condition) میں تبدیلی سے عبارت ہے، اور جدیدیت احوال ہستی میں جو تبدیلی پیدا کرتی ہے وہ جدید کاری/ماڈرنائزیشن کے ذریعے سے سامنے آتی ہے۔ اس طرح جدید کاری/ماڈرنائزیشن اب احوالِ ہستی (human condition) کا اٹوٹ حصہ ہے جسے undo نہیں کیا سکتا۔ تجدد کے روبرو انسانی اختیار کا مسئلہ جوں کا توں باقی رہتا ہے لیکن جدیدکاری میں انسانی اختیار کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔ تجدد کا سامنا کرنا ہماری اولین دینی اور تہذیبی ضرورت ہے ورنہ کچھ بچنے کا نہیں ہے، اور جدید کاری/ماڈرنائزیشن کی مخالفت کرنا نری حماقت ہے۔ مثلاً ریل گاڑی میں سفر کرنا جدید کاری/ماڈرنائزیشن ہے۔ تو کیا ریل گاڑی میں سفر کرنے سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے؟ دوسری طرف انکار وحی اور عقل کا خود مختار و خود مکتفی ہونا جدیدیت کا بنیادی تصور ہے اور وہ تجدد میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور اسے مانتے ہی مسلمان کافر ہو جاتا ہے۔ human condition میں ظاہر ہونے والی جدید کاری/ماڈرنائزیشن سے انکار خود کشی ہے۔ تجدد کا سامنا کرنا اور جدید کاری/ماڈرنائزیشن کو ممکن بنانا وقت کی دینی ضرورت ہے۔
ماڈرنائزیشن کے حوالے سے دو سوالوں کو زیربحث لانا اور ان کو حل کرنا ہمارے مسلمان رہنے کے لیے ضروری ہے۔ ایک، جدید کاری/ماڈرنائزیشن کی اساس آرگنائزیشن ہے۔ ایک ایسی آرگنائزیشن جو ہمارے تصور حیات اور دینی ضروریات سے توافق رکھتی ہو، اس کی ہیئت کو دریافت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ دوم، نئے احوال ہستی میں ایسی ثقافت کی تشکیل کرنا جو دین کی حکمی ہیئتوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم اپنی انسانی ایجنسی کو بروئے کار لائے بغیر ایک مجہول (passive) انداز میں جدید کاری کے عمل سے گزر رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ نہایت احمقانہ طور پر جدیدیت کے خلاف شور بھی مچاتے جا رہے ہیں۔
ماڈرنائزیشن اپنی اصل میں معیشت میں ایک پیداواری عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے اور اس سے real economy اور اس کے سپر اسٹرکچر یعنی financial system میں ایک بہت بنیادی نوعیت کا تفاوت پیدا ہو جاتا ہے۔ سود کا مسئلہ بنیادی طور پر مالیاتی نظام سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے پیداواری عمل میں نہایت سنگین نوعیت کے مسائل ہیں جن کا شرعی حل سامنے لانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس میں سب بڑا اور بنیادی مسئلہ فرد کی alienation اور dehumanization ہے۔ اگر ہم پیداواری عمل کی آرگنائزیشن کو سمجھتے ہوں اور اس کے انسانی اور دینی مضمرات سے واقف ہوں تو ان نتائج سے بآسانی بچا جا سکتا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ قدرِ زائد کا ہے۔ پیداواری عمل کے دیگر پہلوؤں کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے لیکن یہ دو بڑے مسئلے ہیں۔ اول مسئلہ شرعی طور پر شرفِ انسانیت کے منافی ہے، اور دوسرا شرعی عدل کی نفی کرتا ہے۔ صرف سود کے حرمت کی بات کر کے آج کی دنیا میں کوئی بھی اسلامی معاشی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پیداواری عمل کا مسئلہ کہیں زیادہ اساسی ہے اور اس کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا ایک اسلامی معاشی نظام کے قیام کے لیے ضروری ہے۔
یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ماڈرنائزیشن کا مسئلہ تقدیری نوعیت کا ہے، اور اس کی مخالفت کرنا سخت نادانی اور جہالت ہے۔ ماڈرنائزیشن کے عمل کو بطور مسلم تھیورائز کر کے ہم ایک عادلانہ مذہبی معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اپنی موجودہ ہیئت میں تجدد ہمارے عقیدے اور عمل دونوں کو متاثر کر رہا ہے اور ماڈرنائزیشن مسلم معاشروں کو بتدریج سیکولر بناتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری بےخبری ہے۔ مجھے اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ اسلام ہمیں وہ مکمل انسانی اور ہدایتی وسائل فراہم کرتا ہے کہ ہم ان دونوں کا سامنا کر سکیں۔ میری خواہش اور کوشش ہے کہ تجدد اور جدیدکاری کو ان پوری جزیات کے ساتھ بیان کیا جائے اور ان کی ضروری پہلوؤں کی نشاندہی کی جائے جن کو تبدیل کر کے ہم جدید دنیا میں باعزت امت کی حیثیت پھر سے حاصل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی پسندی جدیدیت اور مابعدجدیدیت ــــ عزیز ابن الحسن
