معاشرہ میں تساہل و بد عملی تو تھی ہی اب ایک نیا عذاب دیکھنے میں آ رہا ہے اور وہ ہے نوجوان نسل کی جانب سے معاشرتی زندگی میں موقع بے موقع شور و غوغا اور ہلڑ بازی۔ میرے بہت سارے سنجیدہ دوستوں کی آج کی نوجوان نسل بارے سوچی سمجھی رائے ہے کہ ان میں اکثریت بد تمیز و بد تہذیب ہیں۔ بڑوں (بہ شمول والدین و اساتذہ) کی بات سنتے ہیں نہ انکا لحاظ کرتے ہیں۔ سیاسی و ادبی حوالہ سے بات کرتے ہوئے کچھ دوست ایک سیاسی پارٹی اور کچھ ادبی گروپوں کو اسکا قصور وار گردانتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مذکورہ سیاسی پارٹی اور ادبی گروہ اس کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں کہ سامنے تو یہی نظر آ رہے ہیں۔ کون کتنا قصور وار ہے یہ بحث لاحاصل رہے گی کہ خرابی کسی ایک دن، سال، عشرہ یا دور کی نہیں اسکی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
میں غلط بھی ہو سکتا ہوں تاہم میں اس سارے منظر نامہ کو کسی اور پس منظر میں دیکھتا ہوں۔ مجھے آج کے نوجوانوں میں یہ اضطراب و بدنظمی معاشرہ میں روا جبر و منافقت کا لاشعوری ردعمل لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے معاشرہ کی طاقتور قوتوں کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کمزور طبقات پر روا ظلم و نا انصافی روکنے میں ریاست کی ناکامی اور اس پر ہمارے دانشور و ادیب کی جانب سے منافقانہ خاموشی اور عدم مزاحمت نے انرجی سے بھرپور مگر بے سمت نوجوان نسل کو اس بہ ظاہر سمجھ نہ آنے والے ردعمل پر اکسایا ہے۔
علامہ اقبال نے جس نوجوان سے شکوہ کیا تھا کہ “تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں” وہ شاید آج کا پاکستانی نوجوان ہے۔ اور شاید علامہ صاحب کی ہی بد دعا نما دعا “خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے” لگی ہے کہ آج کا نوجوان مضطرب اور صدیوں سے جاری نظام سے بغاوت پر آمادہ ہے۔ وہ گھسی پٹی اور رٹی رٹائی دانش سے بیزار ہے سو وہ ان تمام آوازوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ اس بیزاری میں ہمیں لگتا ہے کہ ہم جو ان کے خیر خواہ ہیں وہ ہماری خیر خواہی میں کی گئی بہت سی درست باتوں کو بھی نہ سن کر بدتہذیبی و جہالت کا مرتکب ہو رہا ہے۔
آج جب جدید ذرائع مواصلات کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے کسی ایک خطہ میں آفاقی سچائیوں سے مختلف بیانیہ و طریق حکومت ممکن نہیں رہا۔ کسی بھی انسانی معاشرہ کی بقا و ارتقاء کے لئے بقاء کو لاحق خطرات (ظلم و نا انصافی) کے خلاف مزاحمت ایک فطری و لازم امر ہے۔ اگر اسکے لفظی و عملی اظہار پر لمبے عرصے قدغنیں لگا دی جائیں یا جبر کے ذریعے مزاحمت کے فطری اظہار کو دبا دیا جائے تو اور پھر وہ غیر فطری اشکال (ہلڑ بازی، بغاوت اور دہشت گردی) میں ظاہر ہوتا ہے۔
میری تمام دوستوں سے گزارش ہوتی ہے کہ ان نوجوانوں (جو ہمارا مستقبل ہیں اور جنہوں نے کل کو اس ملک و معاشرہ کی باگ ڈور سنبھالنا ہے) کو جہالت، بدتمیزی و بدتہذیبی کے طعنے دینے کی بجائے ان کے مسائل کو سمجھیں اور انکی توانائیوں کو چینلائز کریں، انکی راہنمائی کریں۔ ہمیں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر سوچنا ہوگا کہ اگر ہماری فصل اچھی تیار نہیں ہو رہی تو ہم شاید ٹھیک سے فصل بو نہیں رہے۔ ہمیں معاشرہ میں در آئے اس بگاڑ کی فوری بہتری کے لئے نظام عدل میں اور دائمی بہتری کے لئے اپنے نظام تعلیم و تربیت بڑے پیمانے پر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
