تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبفلسفہ

جدیدیت کے بعد۔۔۔ علم اور معلومات —— ناصر فاروق

جدیدیت کے بعد کی اس صورت حال کا کیا حل ہے؟

by دانش ڈیسک 18/02/2023
written by دانش ڈیسک 18/02/2023
726

ہم جس دور میں جی رہے ہیں۔ اسے مغرب میں جدید دور کے بعد کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کے بڑے سوچنے والے کہتے ہیں کہ علم knowledge اب کوئی اہم اور مقدس چیز نہیں رہا۔ یہ اب انسان کے پاس بھی نہیں رہا بلکہ مشینوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ اور اب علم بڑے ڈیٹا کا کھیل بن چکا ہے۔ یہ انہوں نے اس لیے سوچا کیونکہ وہ آدمی کو مشین سمجھتے ہیں۔ اور معلومات information کو علم سمجھتے ہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ آدمی مشین نہیں اور علم معلومات نہیں۔ یہ جدید جاہلیت کا تسلسل ہے۔ ہم اسے آسان ترین لفظوں میں جدیدیت کے بعد کی جہالت کہہ سکتے ہیں۔ ہم اس جہالت میں جی رہے ہیں اور مشین کے ڈیٹا کی بنیاد پر ایک ایسی زندگی بسر کررہے ہیں۔ جس میں علم موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتشار ہی انتشار ہے۔

جدیدیت کے بعد کی صورت حال

مضمون پھیلا کراسے واضح اور آسان کرتے ہیں۔ جدیدیت کے بعد کی صورت حال سمجھنے کے لیے، یہ جاننا ضروری ہوگا کہ جدیدیت کیا ہے؟ تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں۔ صرف دوباتیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ جدیدیت میں بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں بہت اہم ہیں۔۔۔ ان باتوں اور خیالات پردنیا کے بڑے بڑے نظام بنائے گئے، تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلا کمیونزم، ہیومنزم، سرمایہ دارانہ نظام، روشن خیالی، رومانوی تحریک، اورمذاہب کی تعلیمات وغیرہ وغیرہ۔ ان نظاموں میں سے ہرایک نے یہ دعوٰی کیا کہ انسانوں کے لیے یہ بہترین نظام ہے، اوریہ وعدہ کیا کہ اب ساری دنیا کے حالات ہمیشہ کے لیے اچھے ہوجائیں گے، مگرایسا نہ ہوا۔

دوسری بات یہ کہ چند سچ ایسے ہیں جواٹل ہیں، جن سے زندگی کے سارے اصول بنائے جاسکتے ہیں، مگر یہ سچ بھی قائم نہ رہ سکے۔ جدیدیت کے بعد کے بڑوں نے یہ دونوں باتیں مسترد کردیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے بڑے بڑے نظام ناکام ہوچکے ہیں۔ تاریخ رک چکی ہے۔ کوئی سچ اٹل نہیں ہے۔ کسی چیزکے کوئی معنی نہیں۔ ہم جسے علم کہتے ہیں وہ ہمارے اندر کے ارادے اوررجحانات ہیں جو ہم نے اپنی اپنی تاریخ اور واقعات کے سیاق و سباق سے گھڑلیے ہیں۔

جدیدیت کے بعد کے بڑوں میں لیوتار کا نام سرفہرست ہے۔ فرانسیسی فلسفی ہے۔ لیوتار نے 1984 میں A REPORT ON KNOWLEDGE شایع کی۔ وہ لکھتا ہے کہ

’’جدیدیت کے بعد کے انسانوں کے لیے ڈیٹا بینک ہی انسائیکلوپیڈیا اوریہی نظام فطرت ہے۔‘‘ لیوتارکہتا ہے کہ جدیدیت کے بعد ’علم‘ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ یہ اب کمپیوٹرنالج بن چکی ہے۔ لیوتارکہتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ٹیکنالوجی کا استعمال بہت زیادہ ہوا ہے۔ علم آدمی سے مشین میں منتقل ہوچکا ہے۔ علم کی حیثیت کمرشل ہوچکی ہے۔ یہ اب منڈی کا مال بن چکا ہے، اسے خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔ ’علم‘ اپنا اصل جواز کھو چکا ہے۔ اس کا کمرشل استیصال عام ہوچکا ہے۔ یہ اب محترم نہیں رہا بلکہ محروم اور محکوم بن چکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو علم کمپیوٹر اور ڈیٹا کی تحویل میں نہیں دیا جائے گا وہ قصہ ماضی بن جائے گا۔ ایک اوربہت اہم ما بعد جدید مفکرمشل فوکو کا مشہور جملہ ہے ’’علم غیرجانب دار اور بامقصد نہیں رہا، یہ اب طاقت وروں کے تعلقات میں فقط ایک پراڈکٹ ہے‘‘۔

جدیدیت کے بعد کی صورت حال، یعنی (ما بعد جدیدیت POST MODERNISM) میں علم اور معلومات کے درمیان فرق کیوں مٹادیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ سمجھنا آسان کردے گا، کہ یہ حضرات ایسا کیوں کہہ رہے ہیں اور ایسا کیوں سمجھ رہے ہیں۔ دو باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ لوگ انسان کوبھی ایک قسم کی مشین سمجھتے ہیں، ایک ایسی مشین جوطبیعات حیاتیات اوردیگرعوامل کے اتفاقا مل جانے سے بن گئی، یہ پہلے ایک امیبا پھرمچھلی پھرمگر مچھ اورپھربن مانس پھرنئینڈرتھل اورپھر انسان بن گئی۔ اس لیے یہ سمجھنا عین فطری ہے کہ اب بہتر میشنیں انسان کی جگہ لے لیں گی، اورانہیں ایسا کرنا چاہیے، اورانہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دوسری بات یہ کہ مغرب کے ان بڑوں کے پاس دستیاب ’’علم‘‘ کامل اور اٹل نہیں رہا۔ مذہب سے سائنس تک ان کے سارے علوم کامل اورحتمی ثابت نہیں ہوئے، اوریہ ممکن تھا بھی نہیں۔

اس صورت حال کے حل اورحل کی ضرورت پرجانے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہوگا، کہ علم انسان کے اندرہوتا ہے۔ معلومات انسان کے باہرہوتی ہے۔ آسان لفظوں میں علم آدمی کا تخلیقی تصور یا قوت تخیل ہے جبکہ معلومات عام نظرآنے والی اشیا کے بارے میں یہ سیکھ لینا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کس لیے ہیں۔ ایک جملے میں علم کی مکمل تعریف یہ ہےکہ، علم ’’شعور‘‘ انسانی ہے۔ یہ شعورمعلومات حاصل کرنے کے بعد ان کی کاٹ چھانٹ کرتا ہے، انہیں قبول کرتا ہے یا قبول نہیں کرتا، انہیں کار آمد بناتا ہے۔ علم معلومات کوقبول صورت بناتا ہے۔ معلومات خام مال ہے جسے علم خالص حالت میں ڈھالتا ہے۔

جدیدیت کے بعد کی اس صورت حال کا کیا حل ہے؟ اورحل نکالنا کیوں ضروری ہے؟

حل اس لیے ضروری ہے، کہ دونوں صورتوں میں آدمی کی تباہی ہے۔ اگر وہ مشین ہے یا مشین کا غلام اورایسا علم کے جو منڈی کا بکاؤمال بن جائے۔ حل یہ سمجھنا ہے کہ آدمی کوئی ڈیٹا بینک مشین نہیں ہے بلکہ ایک شعوری مخلوق ہے، جسے سوچنے سمجھنے اور بہترین کا انتخاب کرنے، اورراہ راست پرچلنے کا بھرپوراختیاراور اہلیت حاصل ہے۔ آدمی کوخدا نے باقاعدہ خلق کیا ہے اورعلم عطا کیا ہے۔ علم کی یہ کامل اور مستحکم صورت قول خدا ہے۔ قرآن حکیم وہ حتمی ’علم‘ ہے جسے انسانوں کی راہ راست کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ آدمی کی یہ خلقی اور علمی حیثیت جب تک قائم رہے گی، دنیا قائم رہے گی۔

Facebook Comments Box
A REPORT ON KNOWLEDGEKnowledgePost Modernismجدیدیتعلم اور معلوماتمابعد جدیدیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میرا زمانہ، میری کہانی، ایک چشم کشاخود نوشت —- نعیم الرحمٰن
next post
عمران خان پاکستان کے سِوِل ملٹری ہائبرڈ ماڈل کے لیے خطرہ — علی ملک

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.