تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عمران خان پاکستان کے سِوِل ملٹری ہائبرڈ ماڈل کے لیے خطرہ — علی ملک

عمران خان صرف موجودہ حکومت ہی کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی فوج کے استوار کردہ پورے نظامِ حکم رانی کے لیے خطرہ ہیں۔

by دانش ڈیسک 03/04/2023
written by دانش ڈیسک 03/04/2023
742

جناب علی ملک کی یہ تحریر حال ہی میں The Diplomat میں شایع ہوئی ہے۔ دانش کے قارئین کے لئے اسکا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
انگریزی کالم اس لنک پہ دیکھا جاسکتا ہے۔ https://thediplomat.com/2023/03/imran-khan-threatens-pakistans-military-civilian-hybrid-model/


سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ہاتھوں پاکستان ایک خطرناک مقام پر پہنچ گیا ہے۔ "سلامتی کے خدشات” کو جواز بنا کر انتخابات التوا میں ڈالنے کا فیصلہ بد نیتی پر مبنی ہے اور عوام نیز دنیا پر عیاں کر رہا ہے کہ پاکستان کی فوج کا وضع کردہ ہائبرڈ نظام خطرے میں ہے۔ مسئلہ یہ نہیں، آیا عمران خان نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے، یا یہ کہ پاکستان کی سلامتی کی صورتِ حال انتخابات کے لیے موزوں نہیں۔۔۔ اصل مسئلہ وہ وجودی خطرہ ہے جس سے عمران خان نے اُس ہائبرڈ نظام کو دوچار کر دیا ہے، جس کا دارومدار اساسی طور سے نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں کارفرما دو بڑی سیاسی جماعتوں کی گُپت قبولیت پر ہے۔

جیسا کہ پاکستان کے بیش تر مبصرین جانتے ہیں کہ ہائبرڈ ماڈل توازنِ اقتدار فوج کے حق میں رکھتا ہے، جو فیصلہ کرتی ہے کہ نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی کون سی سیاسی جماعت نے اقتدار سنبھالنا ہے۔ یہ اسلام آباد کا ایک غیر تحریری ضابطہ ہے کہ وہی ہو گا جو راول پنڈی کے جرنیل کہیں گے۔ موجودہ وزیرِ اعظم نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ حقیقت تسلیم کی تھی۔ عمران خان نے یہ ضابطہ نظر انداز کر دیا اور سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کر کے فوجی و سیاسی ہیئتِ حاکمہ کو بے دست و پا کر کے رکھ دیا۔

پرانی اسٹیبلشمنٹ عالمِ بے بسی میں فوج کی مدد سے عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے انتخاب میں حصہ لینے سے روکتے ہوئے اقتدار سے چمٹی ہوئی ہے۔ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو پاکستان کے متوسط طبقے اور سب سے اہم امر یہ کہ نوجوانوں کی زبردست تائید و حمایت حاصل ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلد ہوا تو پی ٹی آئی کو بھرپور حمایت حاصل ہو گی۔

پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل پرانی سیاسی ہیئتِ حاکمہ گزرے برسوں میں اپنی شان و شوکت بڑی حد تک کھو چکی ہے۔ اس کے زوال کی رفتار میں موجودہ نگران حکومت کی بے صلاحیتی نے اضافہ کر دیا ہے، جو قرض کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اس کے پھوہڑ پن سے عیاں ہو گئی ہے۔

موجودہ سیاسی صورتِ حال کا مختلف پہلو یہ ہے کہ فوج کے لیے منفی بیانیہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا وضع کردہ بیانیہ الزام لگاتا ہے کہ اپریل 2022ء میں انھیں اقتدار سے محروم کیے جانے کا سبب اگلا آرمی چیف منتخب کرنے کے عمل میں ان کا مداخلت کرنا تھا۔ پاکستان میں عمومی بیانیہ یہ ہے کہ عمران خان اگلے انتخابات میں کامیابی کی غرض سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اگلا آرمی چیف مقرر کرنا چاہتے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانے کے نتیجے میں 2021ء کے موسمِ خزاں میں عمران خان اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے مابین اس وقت بات آگے بڑھ نہیں سکی تھی جب اس وقت کے وزیرِ اعظم (عمران خان) نے آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ہائبرڈ ماڈل کی داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی عمران خان کی منفرد صلاحیت نے صورتِ حال زیادہ پیچیدہ بنا دی ہے اور ہائبرڈ ماڈل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

18 مارچ کو عمران خان کی رہائشگاہ پر بے ڈھنگے پن سے مارے گئے چھاپے کے بعد انھوں نے ٹویٹ کیا کہ "یہ لندن پلان کا حصہ ہے جس کے تحت بھگوڑے نواز شریف کو ایک تقرر پر رضامند ہونے کے بدلے اقتدار میں لانے کے وعدے کیے گئے تھے۔” عمران خان کا اشارہ اُس ملاقات کی طرف تھا جو گذشتہ نومبر میں موجودہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لندن جا کر اپنے جلاوطن بھائی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے اگلے آرمی چیف کے تقرر پر گفت و شنید کی غرض سے کی تھی۔ عمران خان کے دعوے کی حقانیت وہ عوامی ردِ عمل تھا جس کا سامنا تب کرنا پڑا تھا جب نواز شریف کے متعین کردہ چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر کو، جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے اور انھیں بعد میں ہٹا دیا گیا تھا۔

مزید بر آں عمران خان بیان دے چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے موجودہ سربراہ سکندر سلطان کی نام زدگی فوج کے حکم پر عمل میں آئی تھی۔ ای سی پی کا انتخابات کے التوا کا فیصلہ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ عمران خان کے اس دعوے کی توثیق کرتا ہے کہ عسکری اور سیاسی ہیئتِ حاکمہ عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ارادتاً اقدامات کر رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی قیادت کا یہ بیان اس تصور کی تائید کر رہا ہے کہ "اگر عمران خان جیل جاتے ہیں تو اس سے ان کے حریفوں، خاص طور سے پی ایم ایل این کو پنجاب میں انتخابات کے انتظام میں بڑی آسانی ہو جائے گی۔” اس نوع کے بیانات سیاسی راہیں مزید مسدود کرتے ہیں، عدالتوں کے احکامات نہ ماننے کے عمران خان کا عزم پختہ کرتے ہیں اور ان کے حامیوں کو ریاست کی حاکمیت کو للکارنے کی ہلہ شیری دیتے ہیں۔

ہائبرڈ ماڈل کی داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی عمران خان کی منفرد صلاحیت نے صورتِ حال زیادہ پیچیدہ بنا دی ہے اور ہائبرڈ ماڈل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی جماعتوں (پی پی پی اور پی ایم ایل این) نے تاریخی طور سے فوج کے ساتھ لازم و ملزوم والا تعلق استوار رکھا ہے جس کے نتیجے میں دونوں جماعتیں باری باری اقتدار میں آ کر مالی فوائد سے بہرہ اندوز ہوتی آئی ہیں۔ اس کے عوض فوج بحیثیت ادارہ جس شے کو اہم سمجھتی ہے وہ کرنے کے لیے خود مختاری اور لا محدود بجٹ حاصل کرتی ہے۔ فوج کی خود مختاری جائز قرار دلانے اور یہ تصور قائم رکھنے کے لیے کہ صرف فوج پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی اہلیت کا حامل واحد ادارہ ہے، اب تک اس نظام کا مدار نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی جماعتوں کی بد عنوانی اور بے اثری پر رہا ہے۔

عمران خان کی سیاسی جماعت اُس غیر تحریری معاہدے کو توڑ رہی ہے، جس سے نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی سیاسی جماعتیں متفق رہی ہیں، اور اس نے فوج کے تقدس خطرے میں ڈال دی ہے۔ ہائبرڈ نظام مسائل سے دوچار رہا ہے، تاہم موجودہ صورتِ حال کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی کو پاکستان کے تین صوبوں (پنجاب، خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان) میں زبردست تائید و حمایت حاصل ہے اور وہ نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی سیاسی جماعتوں کو حاصل علاقائی حمایت کے باوصف زبردست حمایت کی حامل ملک گیر طاقت بن چکی ہے۔ عمران خان کی تقاریر و بیانات اور سوشل میڈیا کے ماہرانہ استعمال نے فوج کا تقدس بتدریج گھٹا دیا ہے۔

عمران خان اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہیں حتیٰ کہ انھوں نے بحیثیت ادارہ فوج کے اندر تفرقیں پیدا کر دی ہیں۔ عمران خان نے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد بہت سارے ریٹائرڈ فوجی افسروں اور نچلے رینک کے فوجیوں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ سب سے اہم امر یہ ہے کہ انھیں آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام کی حمایت حاصل ہو گئی ہے جنھوں نے ان کی حمایت کرنے اور انھیں دوبارہ منتخب کرانے کا عہد کیا ہے۔ داخلی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے فوج گزشتہ برس اُن پانچ ریٹائرڈ فوجی افسروں کی ہینشن منسوخ کرنے پر مجبور ہوئی، جو مبینہ طور سے پی ٹی آئی کی "فوج مخالف مہم” میں شامل تھے۔ پاکستان میں پھیلی افواہوں کے مطابق میجر سے میجر جنرل کے عہدوں تک کے لگ بھگ ڈیڑھ سو سابق فوجیوں کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے کہ انھوں نے فوج کی سرخ لکیر عبور کی تھی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

پرانی ہیئتِ حاکمہ لرزاں و ترساں ہے اور موجودہ پریشان کن صورتِ حال سے نکلنے کی راہ تلاش نہیں کر پا رہی۔ وہ عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے نہیں دے سکتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں بھرپور انتخابی مینڈیٹ حاصل ہو جائے گا جو فوج اور نسل در نسل ایک ہی خاندان کی قیادت میں چلائی جانے والی سیاسی جماعتوں کو اقتدار چھوڑنے اور گزشتہ عشرے میں پاکستان کی سیاست پر مسلط ہائبرڈ نظام کو توڑنے پر مجبور کر دے گا۔

عمران خان کا حقیقی جمہوریت کا مطالبہ، پاکستان کے نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کا سوشل میڈیا کا استعمال اور پاکستان کے عوام کو ان کا یہ مستقل پیغام کہ صرف وہی پاکستان کی سیاست کی محور و مرکز بن جانے والی رشوت خوری ختم کر سکتے ہیں، پرانی ہیئتِ حاکمہ کے سامنے تین راستے چھوڑے ہیں۔ فوج مداخلت کر کے حکم رانی میں بڑا کردار حاصل کر سکتی ہے، عمران خان کو زنداں میں ڈال سکتی ہے، یا عمران خان کا مسئلہ سرے سے ختم کر سکتی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پاکستان یا پرانی ہیئتِ حاکمہ کے لیے سود مند نہیں ہو گا۔

سیاسی شطرنج کے اس کھیل میں عمران خان اور پرانی ہیئتِ حاکمہ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے۔ پاکستان اور اس کے عوام کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ دونوں متحارب فریقوں کو دانش مندی سے کام لیتے ہوئے جمہوریت کو اپنا راستہ لینے اور عوام کی رضا کا عکاس بننے دینا ہو گا۔

نوٹ: ادارہ کا کالم نگارکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Facebook Comments Box
IKImran KhanPakistan Regime ChangePakistani EstablishmentPDMRegime Changeامریکی رجیم چینجپاکستانی اسٹیبلشمنٹتحریک انصافرجیم چینجعلی ملکعمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جدیدیت کے بعد۔۔۔ علم اور معلومات —— ناصر فاروق
next post
قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.