تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینعلم و ادب

ترقی پسندی جدیدیت اور مابعدجدیدیت ــــ عزیز ابن الحسن

by دانش ڈیسک 29/04/2018
written by دانش ڈیسک 29/04/2018
314

سن 36 کے بعد اردو ادبی تحریکوں یا رححانات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ وہ ابتداً ترقی پسندی و جدیدیت کے دو متوازی دھاروں میں بٹے ہوئے تھے۔ ترقی پسندی زندگی اور اسکے اظہارات کی تمام اوضاع کا مطالعہ مارکسی نظریے کی روشنی میں کرتی تھی۔ ادب کی جمالیاتی و فنی اقدار کی حیثیت اسکے نزدیک ثانوی تھی۔ اسکا مسئلہ اجتماعی آشوب تھا جس کی تعبیر و تشریح وہ اشتراکی آدرشوں کے مطابق کرتی تھی۔

ترقی پسندی انسانی اظہار کی تمام صورتوں اور ادب کو بطور آلۂ انقلاب کے استعمال کرنے کی قائل تھی۔ وہ ادب جو انقلاب (اور وہ بھی صرف مارکسی انقلاب) کا راستہ ہموار نہیں کرتا وہ زوال پزیر اور بیمار ذہنیت کی پیداوار تھا۔ ماضی کا تمام ادب چونکہ بادشاہی اور جاگیرداری دور کا جنما تھا لہذا ترقی پسندوں کے ہراول دستے کے نزدیک وہ گردن زدنی تھا۔ اسکے برعکس جدیدیت (ادبی معنی میں) کا اصل رخ فرد اور اسکی تنہائی اور فرد کے شخصی آشوب کی طرف تھا۔ اسکے اظہار کیلیے وہ ادب و فن کے جمالیاتی اور فنی پہلوؤں پر زیادہ زور دیتی تھی، ادب کو کسی نظریے کے تابع کرنے کے وہ خلاف تھی۔ گردوپیش کی سماجی صورتحال کا اظہار ادب میں ہو اسے جدیدیت ضروری نہیں جانتی تھی۔ ترقی پسندی کا مسئلہ جہاں اجتماعی آشوب تھا وہاں جدیدیت کا سروکار آشوبِ ذات سے تھا۔ ایک طویل عرصے تک ہمارے ادب میں ترقی پسندی اور جدیدیت دو متوازی دھاروں کی صورت میں چلتی رہی تھیں۔ اور اردو کے بڑے بڑے نقادوں کے نزدیک یہ دو طرز فکر اردو ادب کے دو بڑے متخالف اور باہم آویزاں رجحانات کے طور پر جانے جاتے تھے تاآنکہ محمد حسن عسکری نے ۱۹۷۵ کے قریب یہ لکھا کہ ترقی پسندی ہو یا جدیدیت، مذہبی اقدار سے بیگانگی برتنے کے اعتبار سے یہ دونوں جدیدیت ہی کی دو صورتیں ہیں۔ باہمی طور پر یہ جتنی بھی متحارب ہوں، مذہبی شعور کی مخالفت میں یہ دونوں متفق ہیں۔

داد دیجئے اردو کے ایک بے چارے نقاد محمد حسن عسکری کی بصیرت کو، جس نے ترقی پسندی اور جدیدیت کو متخالف رجحانات سمجھے جانے کے عین دور عروج میں اور مابعدجدیدیت کے ظہور اور داخلِ فیشن ہونے سے کہیں پہلے ترقی پسندی اور جدیدیت کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیکر مستقبل کے مشترک ہدف ـــ سیکولرازم اور لبرلزم ـــ کا پتہ دے دیا تھا۔

۹۰ کے عشرے میں سوویت روس کے سقوط کے بعد ہمارے ترقی پسند طبقوں میں جو نظریاتی افسردگی پیدا ہوئ وہ ابھی ڈھلان کے سفر پر ہی تھی کہ ۹/۱۱ ہوگیا اور امریکہ کی سربراہی میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام دنیا کا نیا اور اکلوتا ورلڈ آرڈر بن گیا۔ سابقہ ترقی پسندوں کی اکثریت جو پہلے ہی سوویت نظام کی تباہی کے صدمے سے نکل نہیں پارہی تھی بتدیج نہایت خاموشی کے ساتھ نیوورلڈآرڈر کی حامی بنتی چلی گئ۔ جدیدیت پسندوں کو تو پہلے ہی مغرب کے زرپرستانہ نظام سے کوئی مسئلہ نہ تھا۔ لہٰذا دیکھتی آنکھوں کو جلد ہی ان سابقہ حریفوں میں ایک غیر رسمی اور غیر اعلانیہ “اتفاقِ رائے” نظر آنے لگا اور یہ میثاق اس دفعہ سیکولرازم اور لبرلزم کے پھریرے تلے ہوا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ مابعد جدیدیت کے نام سے جو ایک نیا طبقہ پیدا ہوا تھا اسکے اکثر و پشتر ہیوی ویٹ چمپین سابقہ لفٹسٹ و مارکسٹ تھے۔ بایں اعتبار بھی جدیدیت و مابعد جدیدیت پسندوں(سابقہ مارکسی) میں یک گونہ بنائے اتفاق بن گیا۔ ان سب میں اختلافات کی جو بھی ظاہری صورتیں کہی جائیں درست ہیں مگر مذہب کو ایک حاوی و کلی و حاکم (Binding) تصورِ حیات کے طور پر رد کرنے میں ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعدجدیدیت تینوں متفق ہیں۔ آئیے داد دیجئے اردو کے ایک بے چارے نقاد محمد حسن عسکری کی بصیرت کو، جس نے ترقی پسندی اور جدیدیت کو متخالف رجحانات سمجھے جانے کے عین دور عروج میں اور مابعدجدیدیت کے ظہور اور داخلِ فیشن ہونے سے کہیں پہلے ترقی پسندی اور جدیدیت کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیکر مستقبل کے مشترک ہدف ـــ سیکولرازم اور لبرلزم ـــ کا پتہ دے دیا تھا۔

Facebook Comments Box
ترقی پسندیجدیدیتعسکریمابعدجدیدیتمحمد حسن عسکری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلام کی تعبیر نو : کرنے کا اصل کام —- محمد رفیق شنواری
next post
شوہر: چھوٹے خداوں میں سے بڑا خدا ؟ —- رقیہ اکبر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.