تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تراجمسیاسیعلم و ادبعلمیکالممذہبی

از منہ وسطی میں نظریہِ تصور The Wake of Imagination ۔۔ رچرڈ کیئرنی (2) – ترجمہ: ناصر فاروق

ما بعد تصور --- تیسرا باب: ازمنہ وسطٰی کا فلسفہ ’’تصور‘‘

by دانش ڈیسک 14/10/2023
written by دانش ڈیسک 14/10/2023
318

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں


تشریحات

ہم اب ازمنہ وسطٰی میں ’تصور‘ پر چند کلیوں کے جائزے پرتوجہ دے سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ مؤرخین کی مانند ایک کے بعد ایک فلسفہ یا فلسفوں کا تسلسل یا ربط پیش کریں، ہم چند اہم ترین مفکرین کو الگ کرلیتے ہیں، کہ جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ اس عہد میں ’تصور‘ پر اسلوب تحقیق وضع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ خاص طور پر’تصور‘ کے بیان میں جو علامتیں اور استعارے استعمال ہوئے دلچسپ ہیں۔ یا اسے اگر تکنیکی اصطلاح میں بیان کیا جائے، ’توضیحی نمونہ‘ کہا جاسکتا ہے: ایک خاص طریقہ تشریح۔ یہ ازمنہ وسطٰی کے فلسفوں میں ’تصور‘ پر بین السطور بیانیہ کی نمائندگی کر رہا ہے۔

رچرڈ سینٹ آف وکٹر

ہم بارہویں صدی کے رچرڈ سینٹ آف وکٹرکے کام De Unione Corporis et Spiritus کے چند متون سے مذکورہ استعاراتی طریقہ تحقیق کی چھان پھٹک کرتے ہیں۔ پہلے متن میں، رچرڈ خبردار کرتا ہے کہ آدمی کا ’’تصور‘‘ روحانی مراقبوں سے بگاڑ پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لیے وہ ایک تمثیل پیش کرتا ہے، کہ ایک خاتون جوخود میں گُم رہتی ہے، اپنی دلیل کے خول میں بند رہتی ہے، ’تصور‘ میں جیتی ہے، اور جسم کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔ اس داخلی اور خارجی تصویر کو ارسطوئی علم نفسیات سے مستعار لیا گیا ہے۔ وہ اسے مزید تمثیلوں سے واضح کرتا ہے. رچرڈ یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ ’تصور‘ اور ’دلیل‘ دونوں زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے لیے دلیل کا جسم سے باہر کی دنیا سے رابطہ لازم ہے، کہ جسے اب تک مسلسل رکاوٹ کا سامنا رہا ہے۔ ’تخیل کی پرواز‘ نے حسیات اور سمع و بصر کی روح کو بہت آلودہ کیا ہے۔

اگر یہ سچ ہے کہ روح کو ’اشیا کے تصور‘ کی ضرورت ہے، تو پھر اُسے حسیات کی دنیا سے کلام کرنا ہوگا، کیونکہ یہ ’تخیل کی پروازیں‘ ہیں جو اُسے ’معقول غوروفکر‘ سے روک دیتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے، دل کی دلیل کا صرف ’تصور‘ پر گزارا نہیں، اور اس کے بغیر یہ چل نہیں سکتی۔

اس کا دوسرا متن ’تصور‘ کے مخمصہ کا بیان ہے۔ یہاں تصویر ایک استعاراتی پیشکش ہے۔ کہ جیسے مستعار قبا اوڑھ لی گئی ہو۔ رچرڈ، سینٹ آگسٹن کی مانند یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ معقولات کو تصویروں سے آراستہ کیا جاسکتا ہے، قابل شناخت اور قابل فہم بنایا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: دلیل تصورکو اندر اور باہر دونوں جگہ پوشاک کے طور پر استعمال کرتی ہے؛ اگر دلیل اپنے اس لباس سے بہت خوش اور مطمئن ہے، اور تصور اُس سے اس طرح منسلک ہوجاتا ہے کہ جیسے جسم کی جلد ہو؛ تو پھر الگ ہونا بہت تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔ ذہن اور جسم اس حالت میں بڑی راحت محسوس کرتے ہیں۔

’’تصور‘‘ کے لیے لباس کا استعارہ کئی طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ یہ سمجھاتا ہے کہ تصور کو دلیل سے ذرا فاصلہ پر رکھنا چاہیے، کہ مبادا کہیں ہم تصورکے مصنوعی پن کو دلیل کے خالص پن سے مساوی سمجھنے لگیں۔ دوسرے لفظوں میں، دلیل کو تصور کی چمک دمک سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نہیں بھولنا چاہیے کہ اُس کی ’اصل‘ معصومیت اور خالصیت ہے۔ اس طرح وہ ایک اچھی ترجمان بن سکتی ہے۔ تصور کو دلیل سے کبھی خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم یہاں لباس اور جلد کے استعارے ایک اور پیغام بھی دے رہے ہیں۔ یہ اس خطرے سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ کہیں تصوری حیات جسمانی حسیات میں گندھ نہ جائے۔ اس تحریر میں، جلد کا استعارہ لغوی معنوں میں زیادہ ہے: وہ ہماری جسمانی کھال کے تجربہ کا حوالہ دیتا ہے کہ کہیں ’دلیل‘ پست خواہشات میں نہ لتھڑدی جائے۔ اس طرح دونوں صورتوں میں کہ دلیل تصور کے معاملہ میں غلطی کا ارتکاب کرے یا تصور کو جسمانی سطح پر گرادے۔

مختصرا یہ کہ تصوراس حد تک جائزہے کہ داخلی ذہن اور خارجی بدن میں مصالحانہ حالت قائم رکھ سکے۔ تصور کا کام روح کو ڈھانپنا ہے تاکہ اندر سے باہر ہمکلام ہوسکے، اور باہرسے اندرکی حفاظت کرسکے۔ رچرڈ انتباہ کرتا ہے کہ اگر ہم نے محافظت سے غفلت برتی، اور دلیل کوخیالی دنیا کی چمک دمک سے ماند کر دیا، اور اس کے لباس کی تراش خراش میں کھوگئے، اور اس طرح یہ خیالی باتیں روح میں سرایت کرگئیں؛ ہمیں لازماََ اس غیرفطری نمو کا رستہ روکنا ہوگا کہ جو فطرت کا بھیس پہنے گدرائی ہے۔

تصویر، پوشاک، اور جلد میں یکسانیت کی تعبیرات میں تخریبی تضاد سامنے آتا ہے، کہ جو شاید ہی ذہن اور جسم، دلیل اوراحساس، داخلیت اور خارجیت کا کھیل دکھا سکے۔ یہ بالآخراُس ماورالطبیعاتی نظام کو کمزور کرتا ہے کہ جس کی بنیاد ان اضداد پر اٹھائی گئی ہے۔ اس طرح کے تخریبی مطالعہ کا حاصل ظاہر کرے گا کہ کیسے ’تصور‘ روح اور مادہ میں فاصلہ پیدا کردیتا ہے۔ اس طرح ’تصور‘ پہلے سے موجود ’اصل‘ کی معمولی سی بھی نمائندگی نہیں کرے گا بلکہ یہ ایک ایسا کھیل ہوگا جو بس ’اصل‘ کی موجودگی کا عقیدہ پیش کرتا ہے۔

اتنا کہنا کافی ہوگا کہ ازمنہ وسطٰی فلسفہ کے لبادے میں یہ ایک طرح کا تخریبی متنی کھیل ہے۔ ’تصور‘ پر رچرڈ کا عدم اعتماد درحقیقت اُس کے وجودیاتی الٰہیاتی ’نظریہ سچ‘ میں پایا جاتا ہے۔ رچرڈ پوری قوت سے ازمنہ وسطٰی کے اُس فلسفیانہ عزم کا مظاہرہ کرتا ہے، جو ازمنہ وسطٰی میں کلاسیکی علم الوجود سے عیسائی الٰہیات میں مصالحت چاہتا ہے۔ وہ فلسفہ کا مقصد اس دلیل کو قرار دیتا ہے کہ جو احساس اور تقلید ’وجود مطلق‘ کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ وہ صحیح معنی میں وجودیاتی الٰہیاتی طرزفکر کا اظہار کرتا ہے، کہ خدا ہی ’وجود مطلق‘ ہے جوعلت اولٰی ہے۔

سینٹ بونا وینچیو

ازمنہ وسطٰی کا مقبول فلسفی، جو رچرڈ کے اسلوب سے متاثر ہوا، سینٹ بونا وینچیو تھا۔ بونا وینچیو نے ’تصور‘ کے لیے جو استعارہ استعمال کیا، وہ mirroring آئینہ کا انعکاس ہے۔ بونا وینچیو نمایاں طورپر imitando سے imago کی اصطلاح ماخوذ کرتا ہے، جس کا مطلب ’نقل‘ یا ’انعکاس‘ ہے۔ آدمی کے نظام میں تصویریں ہمیشہ ’نقل‘ کی ثانوی حیثیت میں مثال کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔ کہ جسے بونا وینچیو ’’تشبیہ‘‘ پکارتا ہے۔ وہ کہتا ہے نقل کا سچا نمونہ خدا اور اُس کا بیٹا مسیح ہے۔ یہاں، صرف یہاں ’’صورت‘‘ بہ مطابق ’’اصل‘‘ ہے۔ تمام فانی صورتیں محض یسوع مسیح کی نقلیں ہیں۔ یسوع مسیح (علیہ السلام) ’’ابدی ہستی‘‘ کا کامل عکس ہیں۔ یعنی، آدمی کا ’تصور‘ الوہی خلاقیت کا فقط عکس ہے۔ آدمی کی تخلیق فقط الوہی تخلیق کی نقل ہے، اور اس کی بہترین حالت یہ ہے کہ دیانت داری سے خالق کائنات کی تخلیقات منعکس کرے۔ بوناوینچیو نوفلاطونی نظریہ مثالیت پر انتہائی زور دیتا ہے۔ وہ Sentences کے تبصرہ میں کہتا ہے کہ انسان کی تخلیق کاری سے سچی شناسائی یہ ہے کہ وہ بول اٹھے: ’میں بس ایک نقل ہوں‘۔

عالم مخلوقات کی تشریح محقق ذہن کے ذمہ ہے، آئینوں کے ایسے سلسلے کی مانند کہ جس کا ہر آئینہ خدا کی سمت رہنمائی کرتا ہو۔ آئینہ کے انعکاس کا استعارہ بونا وینچیو نے Itinerarium کے ابتدائی باب میں بیان کیا ہے۔ وہ نور اور سایہ خدا کی بات کرتا ہے، کہ جو اُس کی مخلوقات سے تعلق انعکاس کرتے ہیں۔ خدا کی یہ تصویر خارجی دنیا، فطری خودی، اور مافوق الفطرت میں منعکس ہوتی ہے۔ خارجی دنیا میں خدا کا یہ عکس اندھے آئینہ میں نظر آتا ہے۔ محسوسات کی دنیا میں اشیا مشابہتوں اور مماثلتوں میں کام کرتی ہیں، ماورا ذریعہ انہیں متصور کرتا ہے۔ خودی کے داخلی نطام میں آدمی اپنی خلقی صفت سے آشنا ہوتا ہے۔ خود بینی کی اس سطح پر، خودی کائنات کبیر’حافظہ‘ سے’تصور‘ کی کائنات صغیر میں ڈھل جاتی ہے۔ اور پھر یہں ڈھلنے والا ہر عکس خدا کے کاموں سے مشابہ ہوتا ہے۔

اس طرح بونا وینچیو ’تصور‘ کا مقام دوسرے مرحلے پرعالم حسیات اور عالم تفکر کے بین متعین کرتا ہے۔ یوں، تصویریں تصورات پاتال میں گرا سکتے ہیں اورآفاقی سچ کی بلندی پر بھی پہنچا سکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ’عقل‘ رہنما نہ ہو تو ’تصور‘ شر میں دھکیل سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو ’شر‘ پھوٹتا ہے غلط ’تصور‘ سے۔ مختصراََ، جب ’تصور‘ الوہی تخلیقات کو بطور عکس شناخت نہیں کر پاتا، کہ جو خدائی سے منعکس ہوتا ہے، تو پھر بُت تراشے جاتے ہیں، اٹھائے جاتے ہیں۔ بونا وینچیو ارسطوئی نظریہ ’مصالحت‘ کا تذکرہ بھی کرتا ہے۔

اکوئینس

آخرمیں، ہم ایک مختصر نظر سینٹ تھامس اکوئینس کے نظریہ تصور پر کرتے ہیں، اکوئینس ازمنہ وسطٰی متکلمین کے فلسفہ پر فیصلہ کن اثر مرتب کرنے والی اہم شخصیت ہے۔ اکوئینس نے جو پیش کیا اکثرنے اُسے ازمنہ وسطٰی کے یونانی اور اناجیلی مرکب مقالے کے ضمن میں بڑی کامیابی شمار کیا، اُس نے مغربی وجودیات اور الٰہیات کی ازسرنو تشکیل کی، ایک شاندار نظام فکروفلسفہ summa مستحکم کیا۔

تیرہویں صدی کے دوسرے نصف میں، اکوئینس نے Summa Theologiae لکھی۔ اس شاہکار میں ’’تصور‘‘ پرازمنہ وسطٰی کا نظریہ ’مصالحت‘ پیش کیا، کہ جو بدن اور ذہن کے درمیان کام کرتا ہے۔ اکوئینس نفسیاتی کارگزاری میں تکثیریت کے ارسطوئی دعوے کی تائید کرتا ہے۔ وہ نفسیات کی کئی قوتوں کا شمار کرتا ہے۔ انہیں تصور، عام سوجھ بوجھ، ذہانت، عقل، وغیرہ میں درجہ بند کرتا ہے۔ اکوئینس اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ نفسیات کی ان ساری قوتوں کو کسی بھی ایک اصول تک محدود نہیں کیا جاسکتا، انہیں لازما مختلف کام تفویض کیے گئے ہیں۔ یہاں اکوئینس کا منشا ذہن کی مادی یا روحانی کیفیات کی وحدت کا انکار ہے۔ ادراک کی مختلف کارگزاریاں ہمارے ذہن کی قوتوں میں تنوع کا اظہار ہیں، اوران میں پیچیدہ تعاملات کی گواہ ہیں۔

تھامس کسی صورت ’تصور‘ کو خودمختار قرار نہیں دیتا، کہ جسے یہ دوہم معنی اصطلاحوں imaginatio اور phantasia میں واضح کرتا ہے۔

درحقیقت، بہت سے متون میں ہم یہاں تک دیکھتے ہیں کہ آدمی کے ’’تصور‘‘ کا کردار ہماری حسیاتی تجربات کی عکاسی تک محدود کیا گیا ہے۔ اکوئینس لکھتا ہے، حسیاتی کیفیت عام اور خاص سوجھ بوجھ میں طے شدہ ہے: مگراس کیفیت یا صورت کے حفظ یا حفاظت کے لیے تخیل یا تصور مقرر ہے، یہ یکساں ہیں، ’’تخیل‘‘ ان صورتوں کا گودام ہے کہ جنہیں حسیات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ’گودام‘ کا یہ استعارہ شاید تھامس کے فلسفہ میں اسلوب تحقیق کا ایک سانچا ہے، اور اس پرعیسائی متکلمین کے مابین بحث کی گنجائش ہے۔ تصور کے اس گودام کو اکوئینس کے نظام ’خواب‘ میں بھی خط کشیدہ کیا گیا ہے۔ یہ افلاطون کے ’آسمانی خوابوں‘ کے کلیہ سے صاف تقابل میں ہے۔

تھامس اکوئینس کا نظریہ علم تصورات کے مابین مصالحت کار ہے، یہ انسان کے فہم کی حدود واضح کرتا ہے۔ حقیقت کی سچی صورتیں، خواہ یہ جوہری نظریات ہوں یا بذات خود اشیا، تصورسے ماورا ہوتی ہیں، البتہ تمثیلات کے لیے تصویریں آدمی کی ضرورت ہیں، کہ جن سے معقولیت اور حسیاتی تجربہ میں تعلق کا فہم حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح اکوئینس بڑی مہارت سے افلاطون کے تصویروں سے پاک خیال کو ارسطوئی نظریہ سے جوڑ دیتا ہے کہ جن کی پیشکش تمثیلی تصویروں کے بغیرممکن نہیں۔ وہ واضح کرتا ہے کہ غیرمجسم اشیا کہ جن کا کوئی خیال پیکر ہمیں میسرنہ ہو، انہیں مجسم اشیا کی تمثیلات سے سمجھا جاسکتا ہے۔

لہٰذا، جب ہم ایسی اشیا کے بارے میں کچھ سمجھتے ہیں، ہمیں خیال پیکرکومجسم شے میں ڈھالنا ہوتا ہے، اگرچہ وہ اشیا کے کوئی واقعی خیال پیکر نہیں ہوتے۔ یہاں اکوئینس کی پوزیشن متکلمانہ حقیقت پسند آرتھوڈکس نظریہ ساز کی ہے۔ یہ حقیقت پسندی خاص نوعیت کی معقولیت پسندی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھتی ہے۔ ’’تصور‘‘ کے سارے استعمالات یہاں ’حقیقت‘ اور ’عقل‘‘ کے تابع ہیں۔ اکوئینس یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے کہ الوہی پیغام پراسرارہیں، جیسے تثلیث یا پیغمبری کہ جو انسانی فہم کی حدوں سے ماورا ہوسکتے ہیں۔ مگر وہ اس کے ساتھ ساتھ اصرار کرتا ہے کہ ان اسرارکو ’’تصور‘‘ کی نامعقولیت سے مخلوط نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ’ذہانت‘ ساتھ نہ دے، نامعقولیت غلطیوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اکوئینس اس نقطہ پربالکل واضح ہے: کچھ ذہانت آمیزعادتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو’’تصور‘‘ کی درست جانچ کرسکتی ہیں، مگرجب یہ عادتیں معطل ہوجاتی ہیں بے سروپا تصورات سر اٹھاتے ہیں۔ اس طرح آدمی کے لیے صحیح رائے پر رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ کتاب مقدس میں انبیا کے خوابوں کی بابت ہے کہ انہیں عام آدمی کے ہذیان پن یا خواہش نفسانی سے گڈمڈ نہیں کیا جاسکتا۔ تصور عام طور پر ’موجود‘ اور ’غیر موجود‘ کے درمیان فرق دھندلا دیتا ہے۔ اصل اشیا کونقول کے برابر لاکھڑا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھامس اکوئینس بونا وینچیوکے اس خیال پر معترض نہیں کہ ’تصور‘ شیطان کا ہتھیار ہوسکتا ہے۔ شبیہیں، نقلیں، اور تصوراتی اشیا کا ایک مقام ہے، اورانہیں اُس مقام سے ادھر اُدھرنہیں ہونا چاہیے۔ اگریہ ماتحت حالتوں سے نکل کر راہ نما بنیں گے تباہی لائیں گے، اور شیطان کا ’فخر‘ بن جائیں گے۔

ازمنہ وسطٰی میں ’’تصور‘‘ کے استعاراتی اسالیبِ تحقیق میں کیا یکسانیت ہے؟

ان بیانیوں اور متون میں نظریہ علم کی ترجیح کیا ہے؟ رچرڈ کے ’بدن اور کھال‘، بونا وینچیو کا ’آئینہ در آئینہ‘، یا اکوئینس کا ’گودام تشبیہات‘؟ ان سب کی وجودیاتی الٰہیاتی نوعیت بنیادی طورپر یونانی اور اناجیلی ’’نقالی‘‘ کے نمونہ سے مطابقت میں ہے۔ ان میں سے ہر فلسفہ کا جائزہ لیا گیا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ تصور کو ایک ’نقل‘ کے طور پرسمجھا اورسمجھایا گیا ہے۔ یہ نقل، ترجمان، ماتحت، متبادل، سراب، یادداشت، خیالی وغیرہ ہے۔ اسے اس کی اصل میں کبھی ’اصل‘ نہیں سمجھا گیا۔ یہ محض ایک ایسا مصالحت کار ہے جو ’فہم‘ اور ’حقیقت‘ میں رابطہ کار کا کام دے سکتا ہے۔ ’تصور‘ کے بارے میں یہ نظریہ علم ارسطوکے زیراثر ہے۔ ازمنہ وسطٰی کے مفکرین چند ایک کو چھوڑ کر، یہ قبول کرنے کے لیے تیار تھے کہ ’تصور‘ کا یہ مصالحانہ کردار ’صحیح‘ اور ’غلط‘ دونوں ہوسکتا ہے۔ مثبت ان معنوں میں کہ آدمی کی داخلی دنیا سے خارجی دنیا میں بہتری آسکے۔ منفی ان معنوں میں کہ معقولیت میں نامعقولیت کی ملاوٹ کردے، روح کوحسیات میں الجھادے، اور موجود کو غیر موجود سے خلط ملط کردے۔

یہاں ’تصور‘ پر ’شک‘ عام ہے۔ مقدس کتابوں میں اس کی ’اخلاقی مذمت‘ بیان کی گئی ہے۔ اس طرح یونانی وجودیات اور عیسائی الٰہیات ’تصور‘ کے بارے میں مخاصمانہ رویہ رکھتے ہیں۔

ازمنہ وسطٰی میں رائج فکر ایک ہی ’’سچ‘‘ پر مبنی تھی: خدا یا وجود مطلق۔ یہی ’’حقیقت‘‘ کا واحد اصل الاصول تھا۔ اس سے روگردانی کا مطلب بت پرستی یا توہین مذہب تھا۔ تاہم ہم جب مرکزی دھارے کے کلیے سے ہٹ کر زندگی کے قلب میں جھانکتے ہیں، جہاں بقول Jacques le Goff اور دیگر کئی ایسے ثقافتی گروہ تھے جن میں ’’بے خدا تصور‘‘ موجود تھا۔ ان میں ’’تصور‘‘ کے بارے میں کئی جادوئی رسوم وعقائد موجود تھے، تہوار رائج تھے۔ یہ طبقہ رائج آرتھوڈکسی فکر کے سامنے معمولی اقلیت جیسا تھا۔ ازمنہ وسطٰی کا نقال ’’تصور‘‘ مغربی فکرپر صدیوں چھایا رہا۔ جرمن مثالیت پسندی اور یورپین رومانویت کی آمد کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ ’’مغربی فکر‘‘ کی مرکزی سیج پر’’productive imagination‘‘ نے ماضی کا نظریہ ’’تصور‘‘ الٹ دیا۔

اس سلسلہ کا اگلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

Facebook Comments Box
De Unione Corporis et SpiritusJacques le GoffTHE WAKE OF IMAGINATIONاکوئینسسینٹ بونا وینچیونظریہِ تصور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میر صاحب کو کیسے پڑھیں! — محمد حمید شاہد
next post
فیض احمد فیض: دو آوازوں سے ندائے غیب تک —- محمد حمید شاہد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.