“فیض: شاعری اور سیاست “کے ابتدائیے”برسبیل تذکرہ” میں فتح محمد ملک نے اپنی اس کتاب کو فیض کے شعری اور سیاسی مسلک کوسمجھنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فیض شناسی کے اس عمل میں انہوں نے فیض کے بارے میں ادبی اور سیاسی رائے عامہ سے کم سروکار رکھا ہے اور خود فیض کے شعری و نثری تخلیقا ت اور فیض کے اپنے بیانات و مکالمات سے زیادہ اعتنا کیا ہے۔ ملک صاحب نے قومی سوچ کے اجتماعی دھارے سے الگ تھلگ رہنے والے ترقی پسندوں کی تخلیقات کا تجزیہ کرنے کے لئے یہی سلیقہ مناسب خیال کیا ہے۔ ایسا کرنے سے غالباً انہیں یہ سہولت رہتی ہے کہ ان ادیبوں کے بارے میں عمومی رائے (جو ہمیشہ سچ پر مبنی رہی ہے) اور سماجی و قومی مسائل پر ان تخلیق کاروں کا ردعمل (جسے مجموعی طور پر سرد مہری کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا) دونوں زیرِبحث آنے سے بچ رہتے ہیں یوں ملک صاحب وہ قابل قبول علاقے عین وہاں سے تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جہاں سے بقول انتظار حسین ادب کے عام قاری کو سان گمان تک نہیں ہوتا۔ انتظار حسین کے نزدیک یہ کام مفید ہے کہ اچھے اچھے شاعر اورنثر نگار جن حوالوں سے رد ہوتے ہیں انہی حوالوں سے ملک صاحب انہیں قبول صورت بنا لیتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں اس طرز عمل سے شدید الجھن ہوتی ہے۔ ملک صاحب کے پہلے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’’تعصّبات‘‘ کا مضمون ’’فیض کی دو آوازیں‘‘ کے بہت بعد جب فیض کے ہاں انہیں صرف ایک آواز سنائی دینے لگی تھی تو ایک نو جوان جو الجھن کا شکار ہو ا صاف صاف پوچھنے لگا تھا۔ ’’ آپ کے ہاں فیض کے مقام میں اس قدر فرق کیوں نظر آتا ہے؟”
ملک صاحب کے پاس نوجوان اور خود اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لئے ایک عدد دلیل ہے۔ یہی کہ ’’دونوں کتابوں (’تعصّبات اور ’’فیض شاعری اور سیاست‘‘) کے بیچ پچیس برس کا عرصہ حائل ہے۔ اس دوران فیض صاحب میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ تعصّبات میں شامل مضمون فیض کی دو آوازیں 1961ء میں لکھا گیا تھا اس وقت فیض کے ہاں ایک آواز انقلاب کی تھی اور دوسری شباب، حسن اور غنائیت کی اور دونوں الگ الگ تھیں۔ پھر وہ تبدیل ہو گئے‘‘ ملک صاحب اس تبدیلی کے ثبوت میں عرب اسرائیل جنگ کے حوالے سے فیض کی نظم سروادی سینا کو پیش کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ فیض کا آخری تخلیقی کارنامہ نعت رسولؐ مقبول ہے جو فارسی میں لکھی گئی تھی۔ جب ملک صا حب سے یہ پو چھا گیا کہ کیا آپ اسے فیض کی مراجعت کہیں گے تو وہ کہنے لگے مراجعت نہیں بلکہ اپنی ذات کو قبول کرنا۔ وہ مسلمان تھے اور اسلام ان کے خون میں شامل تھا بعد میں دونوں آوازیں مل گئیں تو ان کی تخلیق میں بھی یہ حقیقت جھلک دینے لگی تھی۔
پہلے دونوں آوازوں کے الگ الگ نظر آنے کی بات ؛لہٰذا اس مضمون کے مندرجات کی طرف چلتے ہیں جو ’’تعصّبات‘‘ میں شامل تھا۔ انتیس صفحات پر مشتمل اس مضمون کے آخر میں 1965ء کا سال درج ہے جبکہ ملک صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں اس کے لکھے جانے کا زمانہ1961ء بتایا تھا۔
ملک صاحب ’’فیض کی دو آوازیں‘‘ کے آغاز میں فیض کی شہرت کو لورکا کی شہرت کے مماثل قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ لورکا کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ محض اپنے پر اسرار ڈرامائی قتل کی وجہ سے انقلابی شاعر مشہور ہو گئے تھے اور خاص و عا م اتنی سی بات پر لورکا کی خالصتاً غنائی شاعری پر بغاوت و انقلاب کی تہمتیں تراش رہے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ اس جوان رعنا کو چند اہل حکم نے 1936ء کی سیاسی ابتری اور داروگیر کی فضا میں گولی کانشانہ بنا دیا تھا۔ موت کے بعد کئی سال تک ہسپانیہ میں لور کا کے نام تک کی اشاعت ممنوع قرار دیدی گئی تھی۔ برسوں بعد راز افشا ہوا کہ لور کا کا ظالمانہ قتل سیاسی نہیں سرا سر ذاتی رقابت کا شاخسانہ تھا تو شہرت کا طلسم ٹوٹا اور قارئین نے رفتہ رفتہ ان کی شاعری کو انقلاب کے رجز کی بجائے محبت کا نغمہ سمجھ کر پڑھا کہ اصل میں وہ یہی تھا۔ ملک صاحب لور کا کی مثال دینے کے بعد لکھتے ہیں کہ پنڈی کے مقدمہ سازش میں ماخوذ ہوتے ہی فیض انقلابی شاعر مشہور ہو گئے تھے۔ جب سے اب تک دوست دوستی کے زعم میں اور دشمن دشمنی کی خاطر ان کی شاعری کو ہوا دینے یا قارئین کی توجہ شاعری سے ہٹا کر فیض کی زندگی کے چند معمولی حادثات پر مرکوز کرنے میں مصروف ہیں وہ مزید لکھتے ہیں کہ ستم یہ ہو ا کہ خود فیض اپنی شاعری اور شخصیت کے ممکنات کھنگالنے کی بجائے اس شہرت کے جواز مہیا کرنے کی تگ ودو میں لگ گئے تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ مشق سخن کے دور ہی سے فیض نے اپنی ذات کے بنیادی تقاضوں کو سمجھنے کی بجائے اپنے آپ کو شاعری کے ’’رائج الوقت‘‘ اشترا کی عقائد کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔ دست تہ سنگ کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیاہے۔ نقش فریادی کے پہلے حصے کو طالب علمی کے دور کا کلام کہا گیا جس میں بقول ملک صاحب فیض کے ہاں رنگ رلیاں منانے کا انداز ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ زمانہ ہے جب اقبال کے ہر ہر مصرع میں ’’سنجیدہ فکرومشاہدہ‘‘ کی قندیلیں جگمگا رہی تھیں مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے فیض ان کے نام اور کام سے متعارف ہی نہ تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فیض کی طبعی مناسبت مومن، داغ اور حسرت جیسے صف دوم کے شعراء سے تھی جنہوں نے ’’سنجیدہ فکرومشاہدہ‘‘ کا بارگراں میر، غالب اور اقبال جیسے صف اوّل کے شعراء کے لئے مخصوص جان کر اور خود خالص جسمانی لذتوں سے متعلق جذباتی ترغیبات میں گھر کر شعروادب میں رنگ رلیاں منانے کا سا انداز اپنایاتھا۔
ملک صاحب لکھتے ہیں کہ فیض طبعاً غنائی شاعر ہیں اور ندرت احساس، تازگی اظہار اور رنگین تخیل سے انہوں نے اردو شاعری میں جن عناصر کا اضافہ کیا وہ سب ان کے پہلے دور کی شاعری میں موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں؛ ابتدائے شباب کی جذباتی واردات کو فیض نے سرگوشوں میں بیان کیا تو غنائی شاعری کے دلدادگان نے اس میں لذت اور سرشاری کی انوکھی کشش پائی۔ فیض کے پاس میرا جی اور ن م راشد کی جنسی الجھنوں کے برعکس نوجوانی کے سچے اور پر خلوص رومانی جذبات تھے اور انہوں نے روایتی سانچوں سے عمداَ بغاوت بھی نہ کی تھی۔ ملک صاحب لکھتے ہیں کہ جب فیض ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر بن جاتے ہیں تو محبوبہ کا انتظار انہیں فضول نظر آنے لگتا ہے۔ وہ سفاک شائستگی سے عشق کے غم سے دست بردار ہو کر جہان کا غم اپنا لیتے ہیں۔ کالج کے پرنسپل محمودالظفر کے ہاتھ مشرف بہ اشتراکیت ہونے کے بعد ان کی شاعری میں اشترا کی عقائد کا عمل دخل شروع ہو جاتا ہے۔ فیض رومانی خود پرستی پر ذاتی انکسار اور جماعتی تفخر کا پرد ہ ڈال کر یوں گویا ہوتے ہیں؛
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
سلیم احمد نے جب اس نظم کے حوالے سے یہ کہا؛ آپ یہ سمجھئے کہ یہ انہوں نے کسی شدید جذباتی کرب کے عالم میں سنائی ہے بلکہ اس طرح سنائی ہے جیسے کوئی کسی کو ملازمت میں تبادلہ کی خبر سناتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب تبادلہ ترقی پر ہوا ہو تو۔ ملک صاحب نے کہا؛ سلیم احمد کیا سادہ ہیں وہ اس قماش کی انقلابی شاعری میں بھی جذباتی کرب کے متلاشی ہیں۔ فیض تو اشتراکی عقائد کے زیر اثر محبت سے دستبردار ہوئے اور انقلاب کے پرستار بنے ہیں۔ سو اس نظم میں انقلاب بہت ہے۔ ’’دوراہا‘‘ کو فیض کی نظم کے پہلو میں رکھنے اور موازنہ کرنے کے بعد ملک صاحب کہتے ہیں کہ تحریک اشتراکیت سے وابستہ ہوتے ہی فیض نے اپنی رومانی سرشت سے آنکھیں پھیر کر رائج الوقت شعری فیشن کی پیروی شروع کر دی تھی۔ یہ ضرور ہے کہ فیض کی خود پسندی نے پیروی میں بھی پیش روی کی سی شان پیدا کرنے کا اہتمام کر لیاتھا۔ اوروہ بھی یوں کہ ’’دوراہا‘‘ کے عاشق کی آواز میں جو فکر انگیز شائستگی اور کرب ناک لرزشیں ہیں وہ فیض کی نظم میں سنائی نہیں دیتیں۔
ملک صاحب فیض کی نظم سوچ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ فیض نے سطحیت زدہ یا خوش نما لفظوں میں مغربیت زدہ اجتماع کی ستائش پر قناعت کر لی اور ‘‘جماعتی طور‘‘ پر سوچنے لگے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ فیض کی زندگی اور شاعری شروع میں چند رومانی تجربات اور چندجذباتی تاثرات کا رنگین مجموعہ تھی جب انہوں نے اجتماعی تقاضوں سے آنکھیں چار کرنے کی کوشش کی تو وہ اختر شیرانی کی مبہم بے اطمینانی اور موہوم آزادی سے آگے نہ جا سکے۔ جوش کے حوالے سے فیض کے تین طویل اقتباسات درج کرنے کے بعد فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ فیض کے 1935ء کے ایک مضمون پر توجہ مرکوز کر کے میں یہ نہیں جتلانا چاہتا کہ فیض نے کس طرح ایک غیر اشتراکی شاعر کی شاعری کو بھی اشتراکی نظریہ کی لاٹھی سے ہانک کر شاعری سے انصاف کیا تھا نہ اشتراکیت سے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ فیض کا یہ مضمون کئی اعتبار سے فیض کی بعد کی شاعری کا منشور ہے۔
ملک صاحب فیض کی شاعری کے اسی منشور کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ جوش کی طرح فیض کی بھی ایک نہیں دو شخصیتیں تھیں۔ فرق صرف یہ کہ جوش اسے بغیر کسی احساس جرم کے قبول کرتے تھے اور فیض اپنی شخصیت کے اس غیر اشتراکی پہلو پر سرمشار تھے۔ فیض1935ء سے شعوری طور پر اپنی رندانہ اور انقلابی شخصیتوں میں کوئی ربط یا علاقہ پیدا کرنے میں کوشاں تھے مگر ان کی طبعی خود پسندی اور لذت پرستی اس ربط کو ہمیشہ مصنوعی بنا دیتی تھی۔
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ جوش کی رندانہ شخصیت اور انقلابی شخصیت کا اظہار اگر دو مختلف صورتوں میں ہے تو فیض کی ایک ہی نظم کے دو حصوں میں رندانہ اور انقلابی تجربات کا اظہار ہوتا ہے لیکن بخیہ گری کی مہارت کے باوجود نظم کی وحدت کا تصور موہوم رہتا ہے۔ رندانہ تشبیب اور انقلابی گریز ایک شخص کے نہیں دو مختلف اشخاص کے تجربات معلوم ہوتے ہیں۔ ملک صاحب اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ فیض کی رندانہ شخصیت فطری طور پر وسعت پذیر ہو کر انقلابی تقاضوں کو اپنا جزو نہ بنا سکی۔ فیض پیشانی، رخسار، ہونٹ وغیرہ کی جسمانی لذت کے سامنے خود کو بے دست و پا محسوس کرتے ہیں۔ عین اس وقت جب وہ غریبوں اور درد مندوں کی حمایت میں دشتِ وفا کی طرف سرگرم عمل ہونے کا ارادہ باندھ رہے ہوتے ہیں، دست صبا کا کوئی موہوم سا اشارہ انہیں وادی کاکل ولب کی سیاحت پر مائل کر دیتا ہے اور وہ گلشنِ نظر کو شاداب وحسین بنانے کی ترغیب کے سامنے بے بس ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ملک صاحب لکھتے ہیں؛ فیض نے جوش کو اشتراکی نظریے کے مطابق محنت کشوں کے طبقے سے ذہنی، جذباتی اور نظریاتی مطابقت پیدا نہ کر سکنے کی جس کمزوری کا احساس دلایا تھا وہ کمزوری خود فیض میں بدرجہ اتم موجودتھی۔ اشتراکی نظریہ قبول کرنے کے بعد فیض کی پرلتار یہ سے نظریاتی مطابقت تو قائم ہو گئی مگر یہ ذہنی مطابقت جذباتی مطابقت نہ بن سکی کیونکہ جوش کی طرح فیض بھی طبعاً نرگسیت پسندتھے۔ وہ لکھتے ہیں: سیاسی اسیری کے زمانے میں بھی فیض قیدو بند کی صعوبتوں میں گھر ے ہوئے دِل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایو س پکار پر، کان نہیں دھرتے اپنے آپ کو برحق اور اپنے سیاسی حریفوں کو ظالم ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اپنی بے گناہی کے جواز پیش کرتے کرتے جب کبھی ان پر یاس و حرماں کی کیفیت طاری ہوتی تو وہ فوراََ امیدو نشاط کی کیفیت پیدا کر کے دل کو جھوٹی تسلیاں دینے لگتے۔ ملک صاحب لکھتے ہیں: فیض کا اصل کمال ہماری شاعری کی عشق مجاز کی وہ روایت ہے جسے مصحفی سے لے کر حسرت تک صف دوم کے شعراء نے فیض تک پہنچایا ہے۔ فیض ان شعراء کے جانشین ہیں مقلد نہیں۔ فیض نے اپنے افادہ پرست عہد کے تقاضوں کے مطابق اور اپنے منفرد طرز احساس و اظہار کے سیارے عشق مجاز کے احوال و مقامات میں ماورائیت کی بجائے ارضیت کا آب و رنگ پیدا کرنے کی روایت کو تخلیقی طور پر آگے بڑھایا۔ وہ اضافہ کرتے ہیں کہ اردو اور فارسی کے علاوہ عربی اور انگریزی کی غنائی شاعری کے بہترین اجزاء کو اپنی ذات کا حصہ بنانے کے باوجود فیض ہماری غنائی شاعری میں وہ وسعت اور گہرائی، وہ نیرنگی اور نکھار پیدا نہیں کر پائے جس کی ان سے اور صر ف ان سے توقع کی جاسکتی تھی۔
تین صفحات پر مشتمل ایک مختصر سا مضمون ’’ملفوظات فیض‘‘ ملک صاحب نے اگست 1977ء میں لکھا تھا جسے بعد ازاں انہوں نے ’’انداز نظر‘‘ میں شامل کر لیا۔ اس مضمون تک پہنچتے پہنچتے ملک صاحب اپنے پہلے بھر پور موقف میں لچک پیدا کر چکے تھے۔ مضمون کی ابتداء میں انہوں نے فیض اور ندیم کو ادبی دنیا کی ایسی نامور شخصیات قرار دیا جن کی عظمت ترقی پسند تحریک کے پس منظر میں اجا گر ہوئی تھی جو ادب و تہذیب کو بہت کچھ دینے کے بعد فکری اور تنظیمی انتشار کا شکار ہو کر معدوم ہو گئی۔ وہ اس پر بھی گرفت کرتے ہیں کہ بشیر موجد نے ندیم نامہ میں فرمائشی مضامین کے انبار لگائے اور ایوب مرزا نے فیض کے ملفوظات مرتب کیے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر دو شخصیات اس قدردانی کی مستحق ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وجہ سے ان کے نظریات اورتصورات کے گرد دھندنے ایک المناک صورت پیدا کردِی ہے۔ یہاں وہ ایوب مرزا کی کتاب ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘ کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے اسلوب کو خالصتاً قدامت پسندانہ قرار دیتے ہیں۔ کتاب سے ایک طویل اقتباس کے بعد وہ لکھتے ہیں فکری انتشار کے نازک مراحل میں فیض دل برداشتہ ہو کر اپنے ساتھیوں سے کنارہ کش ہونے کی بجائے ظہور پاکستان اور ہماری دینی و تمدنی میراث کی ترقی پسند تحریک پر پاکستان کی نظریاتی اساس سے متصادم ہونے کا الزام دھرنے کی جرات نہ ہوئی۔
تحسین و تردید میں شامل ’’فیض احمد فیض برہم نوجوان کا المیہ‘‘ نامی مضمون تک پہنچتے پہنچتے ملک صاحب مکمل طور پر فیض کو تسلیم کر چکے ہیں۔ جولائی 1979ء میں لکھے گئے نو صفحات پر مشتمل اس مضمون میں وہ انیس ناگی سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ انیس ناگی نے ایک مضمون ’’بوڑھے شاعر کا المیہ‘‘ میں فیض کو بقول ملک صاحب جس طر ح تختہ مشق بنایا تھا، اسے انہوں نے نو آموز شاعر انیس ناگی کا المیہ قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں: انیس ناگی ’’ہذیاں کی را ت کا اینگری ینگ شاعر ہے اور حکومت پنجاب کی تابعدار افسر شاہی کی دنیا کا سکہ رائج الوقت بھی ہے۔ اس لیے خوشامد کو وہ شعروادب کی دنیا میں ساتھ لئے چلتا ہے اور افسر شاہی کی دنیا کا روزمرہ ادبی تنقید میں استعمال کرتا ہے حالانکہ افسر شاہی اور شعروادب دو مختلف دنیائیں ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’اگر انیس ناگی دنیا کے شعروادب کی رسم وراہ سے نا بلد نہ ہوتا تووہ فیض کے لئے صاحب صدق و صفا کے حامل پرستاروں کو خوشامدی ہرگز نہ کہتا۔ فیض تو ان خستہ تنوں میں سے ایک ہیں جن پر سنگ باری کرنے والے لوگ ہمارے ارباب اقتدار کے ہاں ہمیشہ انعام و کرم کے مستحق رہے ہیں۔
یاد رہے یہ وہی فتح محمد ملک ہیں جنہوں نے ’’فیض کی دو آوازیں‘‘ کا متذکرہ بالا مضمون لکھا تھا۔ آئیے اب ان سوالات کی طرف آتے ہیں جو انیس ناگی نے اُٹھائے تھے اور وہ جن کا جواب دینے چلے تھے۔ انیس ناگی کے سوال یہ تھے:
1۔ فیض جو کچھ کہنا چاہتے ہیں کہہ چکے ہیں اور اب صرف اپنے ہی بنائے ہوئے فارمولوں کی تکرار سے اپنے آپ کو دہرا رہے ہیں۔
2۔ فیض کا لسانی لب و لہجہ اور استعاراتی تشکیل کا عمل ژولیدہ ہے اور لسانی اسلوب اپنے عہد کے لسانی اسلوب سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
3۔ فیض کی شاعری کا بنیادی لحن ایک شہید کی صدا ہے جو ہر طرح کے جوروستم سہہ رہا ہے۔
ملک صاحب پہلے آخری سوال کا جواب دیتے ہیں اور جذباتی انداز میں یوں گویا ہوتے ہیں کہ ’’فیض نے چونکہ غازی اور مجاہد کی سی زندگی بسر کی ہے اس لئے ان کی شاعری کابنیادی لحن شہید کی صدا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں، ’’نقش فریادی‘‘ سے’’شام شہر یاراں‘‘ تک کہا ں ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہرا رہے ہیں؟ آنے والی سطروں میں ملک صاحب کا غصہ بدستور عروج پر رہتا ہے حتی کہ وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں: ’’(انیس ناگی کے) اس استدلال کی رو سے تو سید امام حسینؑ کے عہد سے لے کر منصور حلاج کے عہد تک اور حلاج کے عہد سے لے کر آج تک ہمارے ہر عظیم شاعر نے نہ صرف خود کو دہرایا ہے بلکہ تمام دوسرے عظیم شاعروں کو بھی دہرایا ہے۔ نہیں برہم نوجوانو! ایسا نہیں ہے اپنے عہد میں سنت شبیر اور سنت منصور کو زندہ کرنا فنی انحطاط نہیں بلکہ اپنی فکری روایت کی اعلیٰ ترین قدروں کے مطابق زندگی بسر کرے ہوئے فن کی کھیتی کو اپنے لہو سے سیراب کرنا ہے۔ “
ملک صاحب باقی رہ جانے والے سوال کی بابت الٹا یہ پوچھنے لگتے ہیں کہ ہمارے عہد کا لسانی اور استعاراتی اسلوب ہے کون سا؟ وہ جسے مغرب کے زوال پسند شاعر اس عہد کا اسلوب کہتے ہیں۔ یا وہ جو اپنی تہذیب اورہماری مخصوص جہدحیات سے پھوٹا ہے۔ پھر فیصلہ سنا دیتے ہیں…کہ ’’برہم نوجوان کو مغرب کے زوال پسندوں کی تقلید مبارک۔ ہمیں تو فیض ہی کا لسانی اسلوب اور استعاراتی عمل اپنے عہد سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ ‘‘ وہ فیض کا مکمل طور پر دفاع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’آج شہید کی صدا کا یہ لحن ہماری شاعری ہی کا نہیں بلکہ ہماری زندگی کا بنیادی لحن بن چکا ہے۔ فیض اپنے آپ کو دہرا نہیں رہے بلکہ آزادی امن اور انسانیت کی قدروں سے اپنی گہری اور عملی وابستگی سے اس لحن کو زندہ اور سر سبزو شاداب رکھنے میں کوشاں ہیں تاکہ تخلیق کا یہ سرکش شعلہ جس میں گرمی بھی ہے، حرکت بھی، توانائی بھی ہے نوجوان لکھنے والوں کی برہمی کا رخ صحیح سمت میں پھیر سکے۔
تاہم آگے چل کر ملک صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ ’’شام شہر یاراں‘‘ کی نظموں میں خود فیض کی پرانی نظموں کی گونج سنائی دیتی ہے اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اول تو یہ فیض ہی کا مجموعہ ہے اور دوم نئی نظموں کے موضوع اور پرانی نظموں کے موضوع میں مماثلت ناگزیر ہو گئی تھی۔ یہاں تک آتے آتے ملک صاحب کا تندوتیز لہجہ مدہم پڑ جاتاہے۔ تاہم اپنے ممدوح کے حق میں وہ بھرپور دلائل دیتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فیض کی آزادی کے نصب العین سے اٹوٹ انگ وابستگی تھی جو ان نظموں سے جھلک رہی ہے۔
اس سے پہلے کہ ملک صاحب کی فیض پر مستقل تصنیف ’’فیض: شاعر اور سیاستدان‘‘ کے مندرجات پر بات کی جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایک اور مضمون کا ذکر بھی ہو جائے۔ یہ مضمون ’’اپنی آگ کی تلاش‘‘ میں شامل ہے۔ ’’شاعر اور سیاستدان: فیض کی دونظمیں‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کا آغاز وہ علامہ اقبال کے اس قول سے کرتے ہیں ’’قومیں شاعروں کے دل میں پیدا ہوتی ہیں اور سیاستدان کے ہاتھوں پروان چڑھتی اور مرتی ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ قول کسی اور پرصادق آتا ہو نہ آتا ہو پاکستانی قوم پر ضرور صادق آتا ہے کیونکہ پاکستانی قوم اقبال کے دل میں پیدا ہوئی، قائداعظم کے ہاتھوں پروان چڑھی اور پھر جب شاعر اور سیاستدان کا یہ اتحاد فکروعمل باقی نہ رہا تو نتیجہ تاریخ کی سب سے بڑی ذلت کی صورت میں برآمد ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب مشرقی پاکستا ن کی عوامی امنگوں کے رخ بدلنے کے مشورے ہو رہے تھے عین اس وقت فیض نے خبردار کیا تھا:
خذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے
حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے
ٍ ملک صاحب کہتے ہیں: شاعر نے اپنی ذات کو قومی خواب و خیال اور عوامی رنج و غم کا استعارہ بنا کر اہل حکم کے نئے خیالات کو پرانے ٹینکوں سے کچلنے کی خوفناک حکمت عملی کے بھیانک نتائج سے خبردار کیا تھا۔ مگر سیاستدانوں نے شاعر کے انتباہ پر کان دھرنے کی بجائے فوجی کارروائی کو قومی سلامتی کا راز جانا تو مشرقی پاکستان کی نس نس میں بھرے ہوئے زہر ہلال کا دریا بہہ نکلا۔ وہ لکھتے ہیں شاعر نے جس سفاک حکمت عملی کو ’’قتل عام کا میلہ‘‘ قرار دیا تھا سیاست دان نے اسے سامراجی منطق سے سراہا اور کہا ’’الحمداللہ پاکستان بچ گیا‘‘ اور پھر جب اسی سیا ستدان نے زمام اقتدار سنبھالا تو کراچی میں لسانی فسادا ت کا خونیں باب رقم ہوا۔ شہریوں اور دیہاتوں کے کوٹے سے سندھ کو نفسیاتی طور پر تقسیم کیا گیا اور ایسے فیصلے کیے گئے جن سے کراچی کا ہمہ جہت بحران ہمارے ادب کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ اور فہمیدہ ریاض کے ناولوں سے لے کر زہرہ نگاہ اور ذیشا ن ساحل کی نظموں اور آصف فرخی کی کہانیوں تک کراچی کی صورتحال سے پھوٹتے ہوئے اخلاقی و معاشرتی اور تہذیبی و سیاسی سوالات مشرقی پاکستان کے دم آخر کی یادوں کو ایک کربناک آگہی کے ساتھ جگا دیتے ہیں۔ فتح محمد ملک یہاں عباس تابش کے ایک شعر کا حوالہ د یتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنکھ میں پانی بھر کر لانے کی بجائے ناخدا گولیوں سے شہر کو بچانے کی لاحاصل کوشش میں مصروف ہو گئے ہیں۔ وہ کراچی کی صورتحال کا موازنہ مشرقی پاکستان کے المیے سے کرتے ہوئے فیض کی طرف پلٹتے ہیں اور فیض کی وہ نظم درج کرتے ہیں جو 8 اپریل 1971ء کو شاعر نے مشرقی پاکستان کی صورتحال کو سامنے رکھ کر لکھی تھی اور جو کراچی کی صورتحال پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ عباس تابش اور فیض احمد فیض کی شاعرانہ بصیرت سے وہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاعر کی بصارت اور بصیرت یہیں دل سے اٹھ کر آنکھوں میں اٹھنے والی نفرت سے نجات کی خاطر اپنی آنکھوں کو لہو سے دھونے کی بجائے آنسوں کے سیلاب میں وضو دینے کے عمل کی تلقین کرتی ہے، غیض وغضب اور طنز وتشنیع روشنی کا وتیرا چھوڑ کر دردمندی و دلسوزی کا شعار اپنانے کا درس دیتی ہے۔ ہوس پرستی کو چھوڑ کر سیاسی اور قومی معاملات میں بھی عاشقان مرضی اختیارکرنے کی دعوت دیتی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد مہرومروت کی بجائے جبرو تشدد کو اپنے اقتدار کا سرچشمہ اور منزل مقصود ٹھہراتے ہیں۔
اب ہم فیض کے حوالے سے ملک صاحب کی اہم کتاب کی جانب چلتے ہیں۔ فیض شاعری اور سیاست ایک سو ستاسی صفحات پر مشتمل کتاب سنگ میل پبلی کیشنز نے 1988 ء میں لاہور سے شائع کی۔ نظیر صدیقی نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات کہی تھی کہ ملک صاحب فیض کی مسلم عظمت کو خود مانتے ہیں اور ندیم قاسمی کی عظمت کو دوسروں سے منوانا چاہتے ہیں۔ باالفاظ دیگر فیض کی عظمت پر وہ ایمان رکھتے ہیں اور ندیم قاسمی کی عظمت پر اصرار کرتے ہیں۔ اصرار ایمان سے خالی نہیں ہوتا پھربھی جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ مذکورہ کتاب میں فیض کی شاعری کا مطالعہ ایک نئے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کے دیباچہ برسبیل تذکر میں اپنے مضمون ملفوظات فیض کا ذکر کرتے ہوئے ملک صاحب بتاتے ہیں کہ یہ مضمون ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘ کی تقریب میں پڑھا گیا تھا اور جب تقریب ختم ہوئی تھی تو سیدعابد علی نے بتایا تھا کہ فیض یاد کرتے ہیں۔ ملک صاحب کو خدشہ تھا کہ شاید وہ فیض صاحب کی دل آزاری کے مرتکب ہو گئے ہیں۔ تاہم فیض سے سرسری ملاقات میں گفتگو اگلی ملا قات پر ٹل گئی کہ احمد ندیم قاسمی موجود نہ تھے اور فیض نے کہا تھا ندیم صاحب کی عدم موجودگی میں بات مناسب نہیں کہ اس طرح تو غیبت ہو جاتی تھی۔
بس ملک صاحب کو فیض کی یہی ادا پسند آگئی ’’اس طرح تو غیبت ہوتی ہے‘‘ کا جملہ انہیں ان تخلیقی علاقوں کی تلاش کی طرف لے گیا جو خود ملک صاحب کو مرغوب تھے۔ ایک اور موقع آیا کہ ملک صاحب مزید فیض کے قریب سرک گئے۔ ہوا یوں کہ فیض افریشیائی ادیبوں کی تنظیم کی شاخ قائم کرنا چاہتے تھے۔ لاہور میں صفدر میر کو کنونئیر بنایا گیا اور راولپنڈی میں ملک صاحب کو بنانا چاہتے تھے۔ وہ اتنی جلدی میں تھے کہ بین الاقوامی سے پہلے قومی تنظیم کی تجویز کو رد کر دیا کیونکہ چند ہفتے بعد ماسکو اجلاس میں پاکستان کو اس تنظیم کا رکن بنوا کر وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرانا چاہتے تھے۔
فیض کی اس خواہش کا سننا تھا کہ ملک صاحب پکار اٹھے ہے ’’یہ ہے وہ سچی اور رچی ہوئی پاکستانیت جو فیض صاحب کی جہد حیات اور مجاہدہ فن ہردو کا جلی عنوان ہے اور جس کو سامراج اور اس کے مقامی حلیفوں نے ہمیشہ ہدف طعن بنائے رکھا‘‘۔ ملک صاحب کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ایسا انقلاب دیکھنے کے آرزو مند تھے جس کے نتیجے میں پاکستان کی مفلس و نادار اور بے زبان و بے کس مخلوق تاجدار جہاں ہی نہیں والی ماسوا بھی بن سکے۔ پاکستان کے صحیح معنوں میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کہلا سکے اور پاکستانی ایک روشن خیال اور غیرت مند قوم کا نام پا سکیں۔ انہی حوالوں سے ملک صاحب فیض کو ایک آفاقی شاعر ہی نہیں قومی ہیرو بھی قرار دیتے ہیں۔
کتاب کے پہلے باب میں وہ صوفی مومن اور اشتراکی مسلم کی بحث چھیڑ تے ہیں اور فیض کے لئے یہ دونوں اصطلاحیں بیک وقت درست سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں اصطلاحیں مولانا حسرت موہانی نے اپنے لئے استعمال کی تھیں۔ فیض کی ساخت پرداخت اور ان کی فکری تشکیل پراثر انداز ہونے والے ماحول کی تصویر کشی کرنے کے بعد وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ بعض اکابرین کی صحبت کا اثر تھا کہ فیض الحاد کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ ملک صاحب نے راولپنڈی سازش کیس کے حوالے سے بھی فیض کی خوب خوب وکالت کی ہے اور ان لوگوں کو قومی مجرم قرار دیا ہے جنہوں نے ایک غلط الزام میں انہیں ملوث کیا۔ ملک صاحب نے شاعری اور سیاست کے تعلق پر بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ فیض نے سیاسی معاملات کو شاعرانہ طرز احساس سے یوں سرانجام دیا کہ ان کی شاعری کی تفہیم عصری سیاست کو سامنے رکھ کر ہی بہتر طور پر ممکن ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فیض انصاف، جمہوری اقدار اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے عمر بھر جاری رہے انہوں نے کبھی اسلام اور مملکت کی مخالفت نہیں کی اور اپنے نقطہ نظر کے بیان کے لئے غزل کو بہتر پیرایہ اظہار جانا۔
کتاب میں آٹھ ابواب ہیں جو فیض کی شاعری اور سیاست کے مختلف پہلوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ کتاب کے پہلے باب کا عنوان ہے۔ صوفی، مومن اشتراقی مسلم، جبکہ دوسرا باب ہے قصہ سازش اغیار۔ یہ عنوان فیض ہی کے ایک مصرعے سے لیا گیا ہے۔
مصنف نے اس باب میں راولپنڈی سازش کیس کے بارے میں مفصل بحث کی ہے اس مضمون میں وہ سجاد ظہیر اور فیض کے حوالے بھی دیتے ہیں۔ تیسرا اور چوتھا باب ’’لیلائے وطن‘‘ وطن اور اہل وطن سے فیض کی بے پناہ محبت کے گرد گھومتا ہے۔ ’’لیلائے وطن‘‘ کے باب کا دوسرا حصہ در جواب آں غزل قسم کی وہ تحریر ہے جو انیس ناگی کے ایک مضمون کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ مصنف نے لیلائے وطن کے باب میں دوسروں کے نقطہ نظر کو رد کرنے اور اپنے نقط نظر کو واضح کرنے کے لئے فیض کی شاعری سے بہت سے اشعار اور نظمیں درج کی ہیں۔ اگلے تین ابواب ’’رزمی آہنگ‘‘ ’’دشت تنہائی‘‘ اور ’’ایک ہتھیلی پہ حنا، ایک ہتھیلی پہ لہو‘‘ میں فیض کی شاعری کی دوسری جہت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آخری باب حمد باری ہے۔ جس میں ملک صاحب اصرار کرتے ہیں کہ فیض ذات باری کی حمد وثنا اور اپنی انقلابی جدوجہد میں کوئی تضاد نہیں دیکھتے بلکہ آخر آخران کے ہاں حمد باری تعالیٰ اور ترانہ انقلاب ایک ہی حقیقت کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ کتاب کے آخر میں ملک صاحب نقطۂ نظر اپناتے ہیں کہ دست صبا کی ’’دو آوازیں‘‘ ’’میرے دل میرے مسافر‘‘ میں تین آوازیں بن جاتی ہیں۔ اب ظالموں اورظلم کے خلاف سینہ سپر خلق خدا کی آوازوں کے ساتھ ساتھ ایک تیسری آواز ’’ندائے غیب‘‘ بھی سنائی دینے لگتی ہے اور بقول ملک صاحب اس تیسری آواز سے فیض کی شاعری میں طلسمات کا ایک نیا در کھلتا ہے۔ ملک صاحب اپنی بات اس اطلاع اور بشارت پر تمام کرتے ہیں کہ ’’ہم ابھی ان طلسمات کی ایک کی جھلک دیکھ پائے تھے کہ رحمت حق کا بلاوا آ گیا اور فیض خون بہاراں کا نذرانہ لئے ہوئے جنت روانہ ہوگئے‘‘۔
