کچھ برس بیت چکے ہیں ادبی مراکز سے دورڈیرہ اسمٰعیل خان میں بیٹھے ایک نوجوان افسانہ نگار نے نیر مسعود کے ایک افسانے “جانوس” کی بابت میرے خیالات جاننا چاہے تھے۔ اس باب میں جو میں نے تب انہیں لکھ بھیجا تھا وہ آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے یہ عرض بھی کرنا ہے کہ نیر مسعود محض ماجرا نویس نہ تھے۔ وہ فکشن کی طرف قدرے دیر سے ضرور آئے مگر ہماری اردو فکشن کی تاریخ میں اپنے منفرد کام کے سبب بالکل الگ اور نمایاں ترین افسانہ نگار کے طور پر شناخت کیے جاتے ہیں۔ وہ 16 نومبر 1936 میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے ہم عمر معاصر افسانہ نگاروں نے گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں خوب خوب شہرت ہتھیا لی تھی مگر سید مسعود حسن رضوی کے اس ہونہار بیٹے کو اس زمانے میں ان کے اندر کے محقق اور مترجم نے اپنی جانب متوجہ کر رکھا تھا کہ یہی شوق انہیں والد صاحب سے منتقل ہوا تھا۔ اگر چہ وہ دس بارہ برس کے رہے ہوں گے کہ انہوں نے ایک ڈرامہ بھی لکھا تھا تاہم یہ محض شوقیہ عمل تھا۔ لکھنے کا جنون ہوا وہ لکھنو، اترپردیش کی علمی ادبی فضا کا اہم جزو ہو گئے تھےاور یہ زمانہ لگ بھگ 1965 سے بھی پہلے آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔ جن دنوں شمس الرحمن فاروقی کا تبادلہ الہٰ آباد سے لکھنؤ ہوگیا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے اُن کا شہر بھی جدید ادب کا مرکز بن گیا تھا۔ رام لعل والے معروف سیمینار سمیت لکھنؤ میں کئی چھوٹے بڑے سیمینار ہوئے۔ دوسرے شہروں سے ادیب آتے اور فاروقی صاحب کے ہاں ٹھہرا کرتے۔ نیر مسعود بھی ان مجالس کا حصہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ دلچسپ بات لکھی ہے کہ کسی ایسے ہی موقع پر باتوں باتوں میں یہ طے پاگیا تھا کہ جو چالیس کے پیٹے سے نکل گئے ہیں وہ جدید نہیں ہوسکتے۔ یاد رہے فاروقی صاحب جدیدیت کے بہت بڑے پرچارک تھے۔ نیر مسعود نے اسی تحریر میں بتایا ہے کہ انہیں اس زمانے میں ہونے والے فکشن کے مباحث دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔ خیر، بہ طور فکشن نگار اُن کی شناخت ذرا آگے چل کر ہوئی۔ نیر مسعود نے بتا رکھا ہے کہ مارچ ۱۹۹۱ء میں رام لعل اور فاروقی صاحب نے افسانہ نگاروں کا ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں اور لوگوں کو تو بلایا گیا تھا مگر نیر مسعود اور عرفان صدیقی کو مدعو نہ کیا۔ ظاہر ہے دونوں کواس کا قلق تھا۔ نیر مسعود تو اپنا غصہ پی گئے مگر عرفان صدیقی نے اس پرایک نظم لکھ کر انتقام لیا تھا :
یہ ’چار سمت کا دریا‘ ہے کس طرف بہہ جائے
پڑے ہوئے ہیں عجب امتحاں میں فاروقی
یہ ’گنج سوختہ‘ کے بیچ ’سبز اندرسبز‘
یہ رام لعل، یہ ان کے مکاں میں فاروقی
ہم ایسے تشنہ لبوں کی پہنچ سے باہر ہیں
چھپے ہیں محرمِ آبِ رواں میں فاروقی
’یہاں‘ سے ہجر ہے مطلب ’وہاں‘ سے وصل مراد
’یہاں‘ میں ہم فقرا ہیں ’وہاں ‘ میں فاروقی
بتاتا چلوں اجلاس میں خواتین افسانہ نگار وں کو بلایا گیا تھا اور اس پر چوٹ کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے لکھا تھا:
رمیدہ خو تھے بہت شہر جاں میں فاروقی
ہوئے اسیر کمنِد بتاں میں فاروقی
سنانے آئے ہیں خوباں انہیں فسانۂ دل
سو کیسے محو ہیں لطفِ زباں میں فاروقی
خیر پھر ایسا زمانہ بھی آیا کہ نیر مسعود کے ذکر کے بغیر افسانے پر بات تشنہ رہتی تھی۔ خود شمس الرحمن فاروقی ان سے اس باب میں مشورہ طلب کرنے لگے اور ان کے افسانوں کے مجموعے شائع ہونے لگے تھے۔ یہ مجموعے ’سیمیا ‘، ’عطر کافور‘، ’طاؤس چمن کی مینا‘ اور ’گنجفہ‘ ہیں جو بالترتیب سن 1984، 1990، 1997 اور 2008 میں شائع ہوئے۔ کہہ لیجئے تب تک ان کے بعد والی نسل اپنی شناخت بنا چکی تھی۔ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ اپنے ہم عمر معاصرین سے پچھڑنے والوں کو ادبی تاریخ بھلا دیا کرتی ہے مگر نیر مسعود اور شمس الرحمن فاروقی دو ایسے ہیں کہ جو بعد میں آئے مگر فکشن کی تاریخ میں اپنا الگ باب رقم کرکے آگے نکل گئے۔ ساگری سین گپتا سے ایک مصاحبے میں نیر مسعود نے جو کہا وہ ان کے فن کو سمجھنے کی راہ سجھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اُن کی کہانیوں میں خوابوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ بعض خواب تو اس قدر مربوط ہوا کرتے تھے جیسے وہ بنے بنائے افسانے ہوں اور کاغذ پر ویسے ہی اترے ہوں جیسے دیکھے گئے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے قسطوں میں کوئی خواب نہیں دیکھا؛ جو دیکھا پورا دیکھا اور بار بار دیکھا۔ ایسا کیوں اور کیسے ہوتا رہا اس کی توجہیہ نیر مسعود کے پاس نہ تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ ان خوابوں نے ہی ان کے افسانوں کو خوابناک فضا کے سبب بالکل مختلف کر دیا ہے۔
اب آئیے اس افسانے کی طرف جس کی گتھی میں نے اپنے تئیں ایک خط میں سلجھائی ہے۔ اُن کا یہ افسانہ “عطر کافور” کا حصہ ہوا تھا اور افسانہ شروع کرنے سے پہلے قاری کو یہ مقتبس عبارت بھی پڑھنے کو ملے گی:
“The World, unfortunately, is real.”
JORGE LUIS BORGES
خرمنے بود مرا، سو ختم، اکنون چہ کنم
(طالب علی عیشی)
جو میں نے افسانے کو جو میں نے تعبیر دی وہ میرا نقطہءِ نظر ہے۔ اگرچہ جس نوجوان کے لیے یہ تردد کیا گیا تھا اس کا کہنا تھا کہ” آپ کا یہ تبصرہ واقعی بڑا شاندار تھا جو میرے لیے افسانہ جانوس کے پوشیدہ گوشوں میں جھانکنے کا وسیلہ ثابت ہوا۔ زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ آپ نے میرے سوال کو اہمیت دیتے ہوئے جانوس سے متعلق اتنا تفصیلی تبصرہ عنایت کیا۔ ” اور ہمارے دوست معروف صحافی، محقق، عمدہ شاعر اور ادب کا اعلی ذوق رکھنے والے پیرزادہ سلمان کے مطابق:”حمید شاہد صاحب! شکریہ اس عمدہ تبصرے کے لیے۔ میں نےجتنا بھی اردو ادب پڑھا ہے، اور بہت کم پڑھا ہے، اس کی روشنی میں مجھے لگتا ہے کہ نیر مسعود سب سے منفرد لکھاری یا کہانی کار ہیں- اردو کے قاری اور بیشتر نقادوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جلد از جلد معنی کشید کرنے کے عادی ہیں، اسی لیے منٹو اور کرشن چندر وغیرہ انہیں بھاتے ہیں (اور بھانے بھی چاہییں) کیوں کہ ان کی کہانیوں سے معنی حاصل کرنے میں دقت نہیں ہوتی- نیر مسعود کہانی کا پلاٹ نہیں فضا بناتے ہیں اور زبان میں کم سے کم اضافتوں کا استعمال پڑھنے والے کو بظاہر ٹیکسٹچوئیل آسانی فراہم کرتا ہے مگر جب وہ ان کی کہانی کے ماحول میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے ذہنی ورزش درکار ہوتی ہے جس کے لیے پڑھنے والے کا خود پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں مگر اہم ہے۔ آپ نے جس عمدگی سے یونانی اساطیر کے ایک کردار کو پہچانا ہے یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں، زندہ باد- مجھے بہت اطمینان ہو گا اگر آپ نیر مسعود پر اور بھی لکھیں۔ “میں نے نیر مسعود کے فن پر اور بھی لکھا تاہم میں ابھی اس الجھن میں ہوں کہ آپ کے لیے “جانوس” کی تعبیر میں گتھی کہاں تک سلجھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک حد تک تو ضرورسلجھی ہو گی۔ اب آپ کو اس کا فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کے لیے کہاں تک سلجھی ہے۔ ممکن ہے کوئی صاحب علم اٹھے اور مجھے رد کرتے ہوئے کہے؛ “نہیں صاحب “اور اپنی تفہیم لے آئے۔ کسی بھی فن پارے کی ایک سے زائد تعبیریں بعید از قیاس نہیں ہیں اور نیر مسعود تو ایسے تھے کہ جو عام ڈگر سے ہٹ کر لکھنے والے تھے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“پیارے دوست منیر احمد فردوس!
آداب: آپ کے اس رابطہ کے لیے بہت شکریہ۔ معذرت کہ تمام رابطوں سے کٹ کر اور نور پور تھل میں جاکر کچھ دِن گزارنے کے دوران آپ کے پیغامات آتے رہے مگر میں فوری جواب نہ دے پایا۔ آپ نے نئیر مسعود کے افسانے “جانوس” کے کردار کے بارے پوچھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی فورم میں اس پر گفتگو ہوئی۔ آپ کا سوال اس پہلو سے تشنہ ہے کہ آپ نے بتایا ہی نہیں وہاں کیا گفتگو رہی اور “جانوس” کی بابت کیا کہا گیا اور کن بنیادوں پر۔ اگر آپ وہ بھی درج کر دیتے تو میں ان پہلوؤں کو دھیان میں رکھ کر بات آگے بڑھاتا۔ خیر میں اپنے تئیں اس کردار کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں:
1۔ نئیر مسعود کے افسانوں کے مجموعے “عطر کافور” میں شامل یہ افسانہ جب میں نے پہلی بار پڑھا تھا تو اپنے نام سے ہی اس نے چونکایا ضرور تھا مگر میں نے اسے حقیقی کردار کے طور پر لیا تھا اور شاید یہی میری غلطی تھی۔ میرا دھیان بہت بعد میں اس افسانے سے پہلے دیے گئے دو اقوال کی طرف گیا تھا۔ ان میں سے ایک قول طالب علی خان عیشی کا بزبان فارسی ہے “خِرمنے بود مرا، سوختم، اگنون چہ کنم” جب کہ دوسرا قول خورخے لوئیس بورخیس کا انگریزی میں ہے جس کا مطلب ہے، بدقسمتی سے یہ دنیا حقیقی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ افسانہ اس خرمنے بود مرا سوختم کے حوالے سے ایک قرض کی ادائی کا تخلیقی حیلہ ہے اور ایسے زمانے میں لکھا گیا ہے جو بدقسمتی سے حقیقی ہے۔
2۔ ایک سے زیادہ بار پڑھنے اور اس افسانے کے نام پر غور کرنے سے کھلا کہ اسے ایک اور طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ “جانوس”اس افسانے کے ایک کردار کا نام ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ایسے نام کا اُس وسیب میں رواج نہیں تھاجہاں سے یہ کردار اٹھایا گیا ہے۔ یہ ہندی نام ہے نہ اردو کا۔ یہ عربی اور فارسی سے لے کر مقامی لوگوں میں رواج پانے والا نام بھی نہیں ہے۔ “جانوس” رومن میتھالوجی میں ایک دیوتا تھا۔ مقامی دیوتا ہوتا تو شاید میں اس طرح نہ سوچنا جیسے اب سوچ رہا ہوں۔ یونانیوں کے اس دیوتا کے دو چہرے ہوتے ہیں ایک پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور دوسرا سامنے یعنی مستقبل میں۔ اب اگر آپ اس حد تک متفق ہو جاتے ہیں کہ ایسا نام مقامی افراد کا نہیں ہو سکتا تھا اور نئیر مسعود نے اپنے افسانے میں ایک کردار کا نام جان بوجھ کر رکھ دیا تھا تو مجھے اپنی بات کہنے میں سہولت ہوگی۔
3۔ افسانے میں یہ کردار بہت ڈرامائی انداز میں داخل ہوتا ہے۔ آندھی ہے، فضا میں ہلکی سی سنسناہٹ ہے، اور ڈاکٹر صاحب ہیں جو گھر میں آرام فرما رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس افسانے میں راوی بھی ہیں اور اس کا مرکزی کردار بھی۔ ڈاکٹر صاحب پہلو بدل رہے ہیں اور انہیں نیند نہیں آرہی۔ ان کا منھ چوتھی کروٹ پر مشرقی دروازے کی طرف ہو جاتا ہے جہاں دروازے کے باہر کھلے آسمان تلےاُن کا کتا بت بنا کھڑا ہے۔ محافظ کتے کو چوکس پاکر ڈاکٹر کی آنکھوں پر نیند کی پہلی باریک جھلی سی منڈھ جاتی ہے اور ڈاکٹر صاحب کے خیالات بے ربط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ بے ربطی مہملیت تک پہنچ جاتی ہے۔ اب یہاں میں عین مین افسانے سے مقتبس کرتا ہوں:
“اور یہ مہمل خیال بھی مجھے اپنے ذہن کے اندھیرے میں ڈوبتے معلوم ہو رہے تھے، اس وقت مجھ کو آندھی کی آواز بہت قریب سنائی دی۔”
لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ دراصل ڈاکٹر صاحب کے ذہن کے اندھیرے میں ہوتا ہے۔
4۔ اچھا، کچھ اور آگے چلیں اور افسانہ وہاں تک پڑھتے جائیں جہاں کتا بھونکتے ہوئے زینے اترتا ہے۔ اس دوران کتے کا بھونکناغرانا اور ہونکنا، ہوا کا تیز شور، دروازے کے اوپر والے روشن دان کا کھلنا، سوکھے پتوں کا روشن دان کے اندر داخل ہو کر کمرے کی جنوبی دیوار سے ٹکرانا اور ان کی کھڑکھڑاہٹ یہ سب مل کر ایک خواب کی سی کیفیت پیدا کر تے ہیں۔
5۔ اس منظر نامے میں ایک گھٹی گھٹی سی آواز داخل ہوتی ہے اور تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بستر سے کود پڑتے ہیں اور افسانے کے متن کے مطابق وہ بھی زینہ اترتے ہیں۔ نیچے برآمدے میں پہنچ کر کتے کو آوازدیتے ہیں۔ پھاٹک سامنے ہے۔ پھاٹک کے باہر فضا بہت روشن ہے کہ سامنے والی کوٹھی کے احاطے کا روشن بلب تیز دودھیا روشنی پھینک رہا ہے جس سے پھاٹک کی سلاخوں کے سائے لمبے ہوکر برآمدے کی سیڑھیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ کتا مسلسل بھونک رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بر آمدے اور پھاٹک کےدرمیان رک کر پکارتے ہیں کہ باہر کون ہے؟ باہر کوئی ہوتا تو جواب بھی آتا۔
6۔ جو باہر نہیں تھا پہلےاُس کا سایہ دودھیا روشنی اور پھاٹک کی سلاخوں کے دھاریوں سے نمودار ہوتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جسے افسانے کے سارے متن میں نووارد اور آخر میں “جانوس” کہہ کر پکارا گیا ہے۔ جانوس کا لفظ افسانے کا نام ہوا ہے یا بالکل آخری سطر میں اور وہ بھی یوں:
“پھر بھی جانوس، تم نے انتظار نہیں کیا”میں نے کہا اور سو گیا۔ “
جی، یہی سب ہے کہ میرا دھیان اس جانوس کی طرف گیا جو وقت کا ایسا ایسا دیوتا تھا جس کے دوچہرے تھے؛ ایک ماضی کی طرف اور دوسرا مستقبل کی جانب۔ وہ دیوتا لمحہ موجود میں جس زمین پر کھڑا ہے، ڈاکٹر صاحب اس کی بابت پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ وہ “مہمل خیال” کی زمین تھی۔ ایسی زمین جو ان کے ذہن کے اندھیرے میں کہیں ڈوب چکی تھی۔
7۔ افسانے میں “جانوس” کو بہت خستہ حال دکھایا گیا ہے تاہم “جانوس” کی بتائی ہوئی کہانی یہ بھید کھول رہی ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ لکھنو کی وہ تہذیب جسے دیکھتے ہی دیکھتے زوال آگیا تھا ہمیشہ سے نئیر مسعود کا محبوب موضوع رہی ہے یہی تہذیبی زوال “جانوس” جیسا کردار تخلیق کرنے کا سبب بنا۔ ماضی جو کبھی شاندار تھا وہ اس کردار کے اجداد کا بھی ماضی ہے۔ افسانہ بتاتا ہے کہ اس کردار کے والد کا انتقال نواب سہراب کی حویلی میں ہوا تھا جو کسی تاجر منظور شاہ کی ملکیت ہو گئی تھی۔ نواب سہراب کوئی اور نہیں اسی جانوس کا باپ تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کے باپ کا وقت بگڑ گیا تھا۔ نئیر مسعود نے اسی بگڑے ہوئے وقت کی کہانی کہی ہے۔
8۔ آندھی کا شور، اس کردار کی حرکات، ڈاکٹر صاحب کا ردعمل، نووارد کے سائے کا برآمدے سے غائب ہونا اور دھماکے سے اس کا زمین پر گرنا وغیرہ اگر ایک طرف کردار کے حقیقی ہونے کا یقین دلا رہے ہیں تو دوسری طرف ایک خوابناک فضا بھی بنا رہے ہیں جس میں سوفے پر پڑے بے حس و حرکت کردار کے داہنے ہاتھ کی مٹھی سے مٹی کا نکل کر جوٹ کی چٹائی پر گرنا بھی ہے۔ افسانے کی یہ سطور بھی غور طلب ہیں:
“میں کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ پھر اوپر آگیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کرمیں نے سوچنے کی کوشش کی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے اپنے بستر پربیٹھ کر تکیے سے ٹیک لگالی اور ذہن پر زور دینے لگا۔ مجھے چپلیں اپنے پیروں سے نکلتی محسوس ہوئیں۔ “
جی یہ اسی ڈاکٹر راوی کا بیان ہے جس کی بابت اوپر اشارہ ہو چکا کہ اس کی آنکھوں پر نیند کی جھلی سی مڑھ چکی تھی۔
9۔ اس ڈاکٹر کی آنکھ شمالی روشن دان میں سے گرتے ہوئے سوکھے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ سے کھلتی ہے تو وہ اٹھ بیٹھتا ہے۔ چپلیں پہنتا ہوا نیچے اترتا ہے۔ ڈرائنگ روم کا بند دروازہ دیکھتا ہے۔ برآمدے کے کھلے ہوئے دروازے سے نیچے اترتاہے۔ سلاخوں دار پھاٹک بھی کھلا ہوا ہے وہ اسے بند کرتا ہے اور کمرے میں واپس جاکر بستر پر لیٹ جاتا ہے۔ یہ سارا عمل خواب میں نہیں ہے۔ تاہم بستر پر لیٹتے ہی اس کے خیالات بے ربط ہو جاتے ہیں۔ اب اس افسانے کی آخری سطور مقتبس کرتا ہوں جو اس سوتے جاگتےخواب سے جاکر جڑ جاتی ہیں جس کا سلسلہ بیچ میں کہیں ٹوٹ گیا تھا:
“ایک خیال میری زبان پر آیا: وہ بھی عناصر سے مرعوب نہیں تھا، پھریہ خیال طرح طرح کی مہمل مشکلیں اختیار کرنے لگا۔ “پھر بھی جانوس، تم نے انتظار نہیں کیا۔ “میں نےکہا اور سو گیا۔ “
آپ نے اس افسانے کی جانب متوجہ کیا آپ کا بہت شکریہ
