تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبکالممذہبی

احمد رضا خان – خوش اسلوب نعت گو —- راجہ بلال حسن

by Editor2 09/09/2023
written by Editor2 09/09/2023
457

“احمد رضا خان” کی شاعری دنیائے نعت میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ نظریاتی عصبیت اور معاملاتِ معترضہ سے ہمیں سروکار نہیں ہے مگر اردو نعت میں احمد رضا بریلوی کا یہ کارنامہ اہم ہے کہ اس نے نعت کو غزلیہ پیرائے سے جوڑ کر دیکھا ہے اور اس معاملے میں اسے دشتِ سخن کی تمام آزمائشوں اور آلام سے مکمل آگاہی تھی، لسانیاتی حوالے سے بات ہو تو زبان پر دسترس بھی ہے وہ صرف اردو ہی نہیں بلکہ دیگر کئی زبانوں سے بھی کمال واقفیت رکھتے ہیں اور ان کا استعمال بھی کئی جگہ ہوا ہے ان کی وسعت علمی کی پرکھ کے لیے ان کا مشہور زمانہ کلام ملاحظہ ہو یہ چار زبانوں عربی، فارسی، اردو اور ہندی میں لکھا گیا جو ان کی عالمانہ بصیرت کو عیاں کرتا ہے۔

لم یاتی نظیر ک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دو سرا جانا

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا

منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم

برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی

توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل

تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک

مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت

جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا

مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا

ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

اس کے بعد اسلامی شرعی احکامات سے آگاہی نہایت ضروری ہے ایک شاعر اور عاشق صادق کے لیے صرف یہی راستہ ہے جو اسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کر سکتا ہے سو اس معاملے میں احمد رضا ایک مستند عالم تھے اور مختلف علمی جہتوں کے پرانے آشنا اور مسافر تھے سو انہیں اس حوالے سے کوئی خدشہ نہیں تھا مگر پھر بھی وہ جا بجا احتیاط اور عاجزی دکھاتے نظر آتے ہیں۔

نعت جو ایک حساس معاملہ اور محدود میدانِ عمل ہے اس میں وسعت پیدا کرنا اور نئے نئے مضامین نکالنا اک کارِ محال ہے مگر وہ ان سب حدود و قیود کے باوجود شعری ندرت، چاشنی اور تازگی جا بجا ان کے کلام میں در آتی ہے جیسے

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

آہ کل عیش تو کیے ہم نے

آج وہ بے قرار پھرتے ہیں

اسی کلام سے ایک اور شعر ملاحظہ ہو :۔

ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں

پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں

یہ بہاری ملاحظہ ہو:۔

کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے

مجنوں کھڑے ہیں خیمہ لیلیٰ کے سامنے

احمد رضا ایک ایسا باریک بین سخن شناس ہے جس نے کئی جگہ اپنے سخن کے معجزوں سے فرعون ڈبوئے ہیں وہ صرف زبان شناس ہی نہ تھے بلکہ علم صوتیات پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔

وہ حرف و لفظ کے تانے بانے کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے ہیں مصرع بافی کے عمل وہ لفظوں کے ہئیت اور چناؤ سے لے کر صوتیات تک کا خیال رکھتے ہیں اس کی مدِ میں ایک نعت کے اشعار درج ذیل ہیں جن میں یہ اہتمام رکھا گیا ہے کہ قاری کی زبان تو گویا ہوتی ہے مگر اس کے لب حد فاصل قائم رکھتے ہیں یہ آرائی و زیبائش ملاحظہ ہو :۔

سیّدِ کونین سُلطانِ جہاں

ظِلّ ِ یَزداں شاہِ دِیں عَرشِ آستاں

کُل سے اَعلا کُل سے اَوْلیٰ کُل کی جاں

کُل کے آقا کُل کے ہادی کُل کی شاں

دِلکشا دِلکش دِل آرا دِلستاں

کانِ جان و جانِ جان و شانِ شاں

ہر حِکایَت ہر کِنایَت ہر اَدا

ہر اِشارَت دِل نَشِین و دِلنشاں

دِل دے دِل کو جانِ جاں کو نُور دے

اے جہانِ جان والے جانِ جہاں

آنکھ دے اور آنکھ کو دِیدارِ نُور

رُوح دے اَور رُوح کو راحِ جِناں

اللہ اللہ یاس اور اَیسی آس سے

اور یہ حَضرَت یہ دَر یہ آستاں

تُو ثنا کو ہے ثنا تیرے لئے

ہے ثنا تیری ہی دِیگر دَاستاں

تُو نہ تھا تو کُچھ نہ تھا گَر تُو نہ ہو

کُچھ نہ ہو تُو ہی تُو ہے جانِ جہاں

تُو ہو داتا اَور اَوروں سے رَجَا

تُو ہو آقا اَور یادِ دِیگراں

اِلتِجا اس شِرک و شَر سے دُور رَکھ

ہو رضاؔ تیرا ہی غیر اَز اِین و آں

جِس طَرَح ہونٹ اِس غزل سے دُور ہیں

دِل سے یُوں ہی دُور ہو ہر ظَن و ظاں

موسیقیت جو شاعری کی جان ہے اس کے بغیر کوئی شاعر اپنے قاری میں مقبول نہیں ہو سکتا موسیقیت  پیدا کرنا محال کام ہے اس کے لیے علم موسیقی سے شغف اور آگاہی نہایت ضروری ہے اور اگر کوئی موسیقی کا پارکھ ہو تو وہ مصرع بافی کو ایک برمحل لفظ کی تلاش میں کئی گھاٹوں کا پانی پیتا ہے اور پھر کہیں جا کر منزل کا نشان پاتا ہے یہی ایک بڑے فنکار کا خاصا ہے “حدائق بخش” سے مثال ملاحظہ ہو طوالت کے باعث چمد اشعار درج کئے جاتے ہیں

تمہارے لئے، مکین و مکاں تمہارے لیے

چنین و چناں تمہارے لئے، بنے دو جہاں تمہارے لیے

دہن میں زباں تمہارے لئے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے

ہم آئے یہاں تمہارے لئے اٹھیں بھی وہاں تمہارے لیے

فرشتے خِدَم رسولِ حشم تمامِ اُمم غلامِ کرم

وجود و عدم حدوث و قدم جہاں میں عیاں تمہارے لیے

کلیم و نجی مسیح و صفی خلیل و رضی رسول و نبی

عتیق و وصی غنی و علی ثنا کی زباں تمہارےلیے

اصالتِ کُل امامتِ کُل سیادتِ کُل امارتِ کُل

حکومتِ کُل ولایتِ کُل خدا کے یہاں تمہارے لیے

تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہ

زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشاں تمہارے لیے

احمد رضا علم عروض کے بھی ماہر تھے مشکل اور گنجلک بحور کو بڑے احسن طریقے سے استعمال کیا ہے اسی طرح انہوں نے اساتذہ کی زمینوں کو بھی استعمال کیا ہے ایک جگہ وہ غالب کی زمین کو استعمال کرتے ہیں غالب کی غزل کا مطلع اور چند اشعار ہیں۔

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوں

بوسے کو پوچھتا ہوں میں، منہ سے مجھے بتا کہ یوں

پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہے

اُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں

رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیے

آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں

میں نے کہا کہ “ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی“

سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟

اب احمد رضا کا کلام دیکھیے کہ خیالات کو کس خوبصورت طریقے سے باندھا گیا ہے اور ہر شعر پوری آب و تاب لئے ہوئے ہے یہی ایک سخنور کا کمالِ فن ہے۔

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں

کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں

قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں

روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں

میں نے کہا کہ جلوہءاصل میں کس طرح گُمیں

صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں

ہائے رے ذوقِ بے خودی، دل جو سنبھلنے سا لگا

چہک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں

دل کو دے نور و داغِ عشق، پھر میں فدا دونیم کر

مانا ہے سن کے شقِ ماہ، آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں

دل کو ہے فکر کس طرح مُردے جلاتے ہیں حضور

اے میں فِدا لگا کر ایک ٹھوکر اسے بتا کہ یوں

باغ میں شکرِ وصال تھا، ہجر میں ہائے ہائے گل

کام ہے ان کے ذکر سے خیر وہ یوں ہوا کہ یوں

جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حسن کیونکر آئے

لا اسے پیشِ جلوۂ زمزمۂ رضا کہ یوں

احمد رضا نے اپنا بے مقطع نعتیہ کلام تصحیح کی غرض سے حضرت داغ دہلوی کو بھیجا تو پڑھ کر اش اش کر اٹھے اور اس کا مقطع خود کہا جو “حدائق بخشش” میں اسی طرح درج ہے ملاحظہ ہو

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

آخر میں چند اشعار جو محرر کے قریب شاعر کے فنی اپج اور فکری کمال و پختگی پر دلالت کرتے ہیں ملاحظہ ہوں

ان کی آنکھوں وہ سایہ افگن مژہ

ظُلہ قصرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

سر ور کہوں کہ مالک ومولیٰ کہوں تجھے

باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضا ؔنے ختم سخن اس پہ کر دیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

اے رضا خود صاحب قرآں ہے مداح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

بچا جو تلووں کا انکے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ و روغن

جنہوں نے دولہا کی پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

فرش والے تری شوکت کا علو کیا جانیں

خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب

یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی

مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا

دل اپنا بھی شیدائی ہے اُس ناخنِ پا کا

اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چَرْخِ کُہَن پُھول

مِرے غنی نے جواہِر سے بھر دیا دامن

گیا جو کاسۂ مہ لے کے شب گدائے فلک

تشبیہات و استعارات کا برجستہ استعمال دیکھیے

رخ دن ہے یا مہرِ سما؟ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

شب زلف یا مشکِ ختا؟ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر

بے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

بلبل نے گل ان کو کہا، قمری نے سرد جاں فزا

حیرت نے جھنجلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف انکی رسائی ہے

گر انکی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

اے دل یہ سگنا کیا؟ جلنا ہے تو جل بھی اٹھ

دم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رمائی ہے

مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو

منہ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے

اے عشق ترے صدقے جلنے سے چھٹے سستے

جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

Facebook Comments Box
Ahmad Raza KHan BarelviNaatاحمد رضا خاننعت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
“جانوس”: بدقسمتی کہ دُنیا اصل نہیں ہے! —— محمد حمید شاہد
next post
جو ن ایلیا کے نام ایک خط جو ڈیڈ لیٹر ثابت ہوا — محمد حمید شاہد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.