تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالممذہبی

شناخت کا بحران : کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں (1) — نجیبہ عارف

اس موضوع پر سلسلہ مضامین کا پہلا تعارفی مضمون

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 07/09/2023
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 07/09/2023
650

خلیل جبران نے ایک جگہ لکھا ہے:  میں کبھی لاجواب نہیں ہوا مگر اس شخص کے سامنے جس نے مجھ سے پوچھا تو کون ہے؟
میں بھی اس سوال سے خائف ہوں۔
How To Deal With An Identity Crisis When Chronically Illلیکن میرا خود سے سب سے بڑا مطالبہ بھی یہی ہے۔ یہ سوچنا اور جاننا کہ میں کون ہوں؟
ایک عورت؟
ایک پاکستانی؟
ایک مسلمان؟
یا پھرایک انسان؟
شناخت کے یہ سب پہلو مجھے سراسیمہ کر دیتے ہیں۔ جس طرف بھی جاؤں، پوری نہیں پڑتی، کچھ نہ کچھ بچ رہتا ہے۔

اکیسویں صدی کے اس انتشار انگیز ماحول میں، جب انسانی ذہن افکار و نظریات کی کثرت سے الجھن اور ابہام کا شکار ہو چکا ہے، انفرادی آزادی کے غیر متوازن استعمال نے ہر شے کی من مانی تشریح و تعبیر کرنے کی روش عام کر دی ہے اور ذاتی اور محدود مقاصد کے لیے مفاد عامہ کو قربان کرنے کا چلن عام ہو گیا ہے، اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ایک لمحے کو ٹھہرکر زندگی کے حقائق اور تقاضوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور انھیں پرانے عنوانات کی قید سے آزاد کر کے نئے اور وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے۔

جب سے جدید دنیا کی یونی ورسٹیوں میں سپیشلائزیشن کا متعدی بخار پھیلا ہے، یکایک صدیوں، قرنوں، تاریخ کے اولین دنوں سے قائم و دائم اشیا اور تصورات کی نام رکھائی کی رسم چل نکلی ہے اور ان ناموں کے ہوا بند، خوب صورت ڈبوں میں، زند ہ و متحرک، رواں دواں اور ہر لحظہ بدلتی ہوئی اقدار، تصورات اور روایات کو قید کرنے کی عادت پختہ ہو گئی ہے۔ ہر محقق اور متخصص، ایک دوسرے سے نکلتے ہوئے اور ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہوئے تصورات کو ایک دوسرے سے جدا جدا کر کے ان کی حدبندی کرنے میں شدت سے مشغول ہو گیا ہے اور تصورات کی نام رکھائی کے اس معاملے پر اختلافات، مناقشات کی صورت اختیار کرنے لگے ہیں۔

کم از کم ایک صدی سے ہم اشیا، اقدار، روایات، تصورات اور نظریات کو اصطلاحوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک تو یہ صورت حال اتنی گمبھیر ہو چکی ہے کہ ہم اپنے خوابوں کو بھی اصطلاحات کے محدب عدسے سے دیکھنے اور سمجھنے لگے ہیں۔ یہ روایت اسی رجحان کی پیداوار ہے جس کے تحت مجرد اصطلاحات پر تحقیق کر کے اصول وضع کر لیے جاتے ہیں اور پھر انھیں ہر لحظہ متحرک، بدلتے ہوئے سیال انسانی معاشروں پر منطبق کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسی کچھ اصطلاحات روز بروز عام ہوتی جا رہی ہیں، جیسے انتہاپسند، روشن خیال، جمہوریت، آمریت، لبرل، سیکولر، مغرب، مشرق، وغیرہ جن کے مفاہیم کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اب تو کچھ ایسے الفاظ بھی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو پہلے بہت واضح معانی کے حامل تھے۔ آہستہ آہستہ یہ مفاہیم دھندلاتے چلے گئے اور ان کے معانی میں ایک عجیب طرح کی توسیع ہوگئی جو مثبت نہیں، بلکہ ان کی اصل حیثیت کو مسخ کر کے رکھ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، مولوی، استاد، مسلمان، کافر، دایاں بازو، بایاں بازو۔ حالاں کہ اب دائیں اور بائیں بازو میں امتیاز کرنا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ کئی سکہ بند بائیں بازو والے اب رات کو سونے سے پہلے ساری قضا نمازیں پڑھ لیتے ہیں اور کچھ دائیں بازو والے بھی قائل نظر آتے ہیں کہ کارل مارکس کم از کم صوفی ضرور تھا۔ ادھر عالمی تنظیمیں ہر اس شخص کو مسلمان ہی گنتی ہیں جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہو اورجس نے غیر جانب داری کا وہ امتحان پاس نہ کیا ہو جو انھوں نے مقرر کر رکھا ہے۔

اس فکری و ذہنی انتشار نے ہمیں مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔ ہم چاہتے کچھ اور ہیں، کہتے کچھ اور، کرتے کچھ اور ہیں۔ پاکستان ہی کو لیجیے۔ بحیثیت پاکستانی ہم اصلا ً کیا چاہتے ہیں؟ ان توقعات کے کچھ واضح مدارج ہیں۔ پہلے درجے میں ہر متوسط درجے کی ذہانت اور سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کی طرح ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ہر انسان کو بلا تفریق، رنگ و نسل و قومیت برابر کے وسائل اور مواقع ملیں۔ جینے کا عمل ہر ایک کے لیے آسان ہو۔ علم و تہذیب، خوشحالی اورحصول رزق کے دروازے اس پر کھلے ہوں، عدل و مساوات ہو، انسانیت کا احترام ہو، انسانی جان اور عزت و آبرو کے تحفظ کی یقین دہانی ہو اور انسانی عقل و فہم کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے موزوں و مناسب ماحول ہو۔ دوسرے درجے میں ہماری اکثریت کی خواہش ہے کہ یہ ساری سہولتیں اسے ملیں تو سہی لیکن ان کے حصول کی منزل دین اسلام کے راستے سے گزر کر آئے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جینا چاہتے ہیں جو خدا کے تصور سے محروم نہ ہو اور جہاں ہمیں اپنے محبوب نبیﷺ کی پیروی کرنے سے کوئی نہ روکے۔ تیسری قسم کی توقعات وہ ہیں جو اس یقین پر بنیاد رکھتی ہیں کہ مذہب انسان کی ذہنی ترقی اور آزادی کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ انسانی مستقبل کی تابناکی کا دارومدار اسی راستے کی ذہنی وفکری پیروی پر ہے جو مغرب میں چار پانچ سو سال پہلے اپنایا گیا اور جس پر چل کر وہ موجودہ روشن عہد تک پہنچے ہیں۔ وہ خواب جوپوری بنی نوع انسان کا مشترکہ سرمایہ ہیں، ان کی تعبیر کے لیے انسان کے بنائے ہوئے قانون ہی کافی و شافی ہیں۔ کسی غیبی قوت سے مدد اور استعانت طلب کرنے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ضروری نہیں۔ انسان کی فلاح کا اگر کوئی راستہ ہے تو بس یہی ہے۔

لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی امید پوری نہیں ہو رہی؟
عام آدمی کو شکوہ ہے کہ اس کی جان محفوظ ہے نہ عزت، ماضی محفوظ ہے نہ مستقبل۔
اسلام پسندوں کو شکوہ ہے کہ اسلام نافذ نہیں ہو رہا۔
روشن خیالوں کو شکوہ ہے کہ ہر طرف اندھیر نگری ہے اور کہیں ذہنی و فکری آزادی کا نام نشان نہیں ہے۔
آخر اس ملک کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
ہمارے خواب کیوں پورے نہیں ہوتے؟
اگرصرف اسی ایک سوال پر سروے کروایا جائے تو اکثریت کا ایک ہی جواب ہو گا۔

حکومت ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت نااہل ہے، حکومت بد عنوان ہے، حکومتی نظام ڈھیلا ہے۔ جمہوریت نہیں ہے، اگر ہے بھی تو جمہوریت کی روح نہیں ہے۔ اگر کوئی معاشرتی زوال کا نوحہ بھی لکھتا ہے تو ا س کا ذمہ دار بھی حکومت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک حکومت نیکوکار، عدل پرور اور ذہین و فطین نہیں ہو گی، معاشرہ بھی مثبت، مفید اور انسان دوست نہیں ہو سکتا۔ بس یہی سوچ کر ہر شخص حکومت کی اصلاح کے درپے ہے۔ میڈیا ہو، علما ہوں یا دانش ور، سب حکومت پرنظریں جمائے بیٹھے ہیں اور ہر اس اقدام پر تیار ہیں جوحکومت کو ان کی منشا کے مطابق چلنے پر مجبور یا آمادہ کر سکے۔ پاکستان میں عہد حاضر کا مہا بیانیہ یہی ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ حکومت تو عوام ہی کا آئینہ ہوتی ہے۔ مسئلے کی جڑ کہیں خود ہمارے اندر ہی تو نہیں؟ کہیں ہم خود من حیث القوم، اپنی تہذیب و شائستگی کی پرورش و ارتقا سے غافل تو نہیں ہو گئے؟ اپنی اجتماعی و قومی شخصیت کی تعمیر و تزئین کو کلیتاً نظرانداز تو نہیں کر دیا؟ اپنی تما م تر کاوشوں کو انفرادی و ذاتی زندگی کے محدود دائروں میں مقید تو نہیں کر بیٹھے؟

عالمی سطح پر دیکھیں تو معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، یہ تصور عام تھا کہ معاشرتی تفریق، ترقی و خوش حالی کے مواقع کے عدم حصول اور محرومی و بے بسی کے نتیجے میں افراد تشدد پسندی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے رہے کہ مدرسوں کے غریب بچے اپنے جسموں سے بم باندھ کر خوشی خوشی جنت کے حصول کے لیے پرزہ پرزہ ہوتے رہے اور سوچتے رہے کہ اگر ان بچوں کو پیٹ بھر روٹی اور اعلیٰ تعلیم میسر آتی تو شاید یہ بھی کسی ترقی یافتہ ملک سے ڈگری لے کر اسی نظام کی پرورش و حفاظت کے ذمہ دار بن جاتے جسے وہ تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر ایک عجیب بات نظر آنے لگی۔ مغربی ملکوں کے ترقی یافتہ، خوش حال معاشروں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوانوں نے یکایک ڈاڑھیاں بڑھائیں اور اپنی ہنستی بستی زندگی کو چھوڑ چھاڑ کر جہادی گروہوں کا حصہ بن گئے۔ تب محسوس ہوا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں اور نہ اتنا مقامی ہے کہ اسے صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھ لینا کافی ہوگا۔

دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ کیوں یہ ذرائع ابلاغ کی چکا چوند، یہ برین واشنگ کے نت نئے طریقے، یہ ترغیب وتحریک کے وسیلے اب بے اثر ہو رہے ہیں؟ اب انسانی ذہن کو قابو میں لانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ جدید ٹیکنالوجی؟ دوائیں؟ شعاعیں؟ لیکن اس کے نتیجے میں جو معاشرے قائم ہوں گے، کیا انھیں انسانی معاشرے کہا جا سکے گا؟ آخر زندگی کیا کھیل کھیل رہی ہے؟ دنیا اب کس رخ پر مڑنے والی ہے؟ کیا یہ کسی عالم گیر انقلاب کی آمد کا اعلامیہ ہے؟ لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ خفیہ ایجنسیاں کیوں اپنی اپنی حکومتوں سے زیادہ طاقت ور ہو گئی ہیں؟ ابھی کچھ عرصہ پہلے لگتا تھا کہ یہ ساری بساط بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کی بچھائی ہوئی ہے، لیکن اب تو انھی تجارتی کمپنیوں کے مفادات خطروں میں گھرنے لگے ہیں؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں؟ جو چاہتے ہیں ا س کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اور آخری سوال یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کون کر رہا ہے؟ حکومتیں؟ ریاستیں؟ ایجنسیاں؟ یا مسلح گروہ؟ وہی مسلح گروہ، جو پہلے پہل ہالی ووڈ کی فلموں میں جلوہ افروز ہوئے تھے، پھر رفتہ رفتہ سکرین سے نکل کر انسانی بستیوں میں پھیل گئے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان فلموں کا بجٹ کس کا مرہونِ منت تھا؟ ان کی کہانیاں کس کے مستقبل بین ذہن رسا کی تخلیق تھیں؟ یہ فلمیں خیال سے حقیقت میں کیسے بدل گئیں؟ لیکن اگر یہ محض اس خیال کی حقیقت ہے تو اپنے خالق سے باغی کیوں ہو گئی ہے؟ اگر یہ کسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے تو الٹا کیوں پڑ رہا ہے؟

Artist Michael Reeder Explores Identity And Sense Of Selfایسے کتنے ہی سوال ہیں جو ذہن کو الجھائے رکھتے ہیں۔ زندگی کے معمولات کو جاری رکھنے کے لیے ان سوالوں کو ذہن سے جھٹک دینا اب اتنا آسان نہیں رہا۔ اب زبان و ادب کو محض زبان و ادب سمجھنا بھی کافی معلوم نہیں ہوتا۔ ادبی تقاضوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر ادب اپنے عہد کی غیر رسمی تاریخ بھی ہوتا ہے۔ تاریخ، سماج اور زندگی کے دوسرے مظاہر ادبی متون میں بھی اسی طرح راہ پاجاتے ہیں جس طرح زندگی میں۔ ان مظاہر کا مطالعہ میری دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے۔

ان مقالات کا بنیادی موضوع زبان و ادب کے مسائل، متون اور موضوعات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنا اور ان کے ذریعے تاریخی عمل کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ مقالات، زیرِ بحث متون کے ادبی محاسن و معائب سے بحث نہیں کرتے بلکہ معاصر عہد کے فکری و سماجی سوالوں سے نبرد آزما ہونے کی اپنی سی کوشش ہیں۔ کچھ مقالات میں اسلام اور پاکستان سے متعلق مسائل و نکات کا مغربی فکری رجحانات اور اثرات کے تحت مطالعہ کیا گیا ہے اور اسلام، پاکستان اور مغربی دنیا کے باہمی فکری، نظریاتی اور سماجی و سیاسی رشتوں کو سمجھنے کی بساط بھر کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ان کا بنیادی حوالہ علمی و ادبی ہے۔ زیادہ تر مقالات اردوزبان و ادب اور اس کے تاریخی، سیاسی و سماجی تناظر سے بحث کرتے ہیں۔ یہ مباحث ادبی تنقید کے دائرے میں نہیں آتے بلکہ ادبی متون کے بین العلومی مطالعے کا دریچہ کھولتے ہیں اور معاصر فکری و علمی تناظر سے بحث کرتے ہیں۔

کوئی بھی کوشش حرف آخر نہیں ہوتی۔ ہر خیال محض ایک امکان کی نشان دہی کرتا ہے۔ لامحدود امکانات کی اس دنیا میں وہی امکان حقیقت بنتے ہیں، جنھیں کوئی نہ کوئی چن لیتا ہے، اختیار کر لیتا ہے۔ ہر لحظہ بدلتی ہوئی صورت ِحال، خواہ وہ خارجی دنیا سے متعلق ہو یا باطنی کائنات سے رشتہ گیر، اس بات کی متقاضی ہے کہ نئے امکانات، نئے خیالات، نئے نظریات کی قبولیت کی استعداد مرنے نہ پائے۔ کائنات کے روزافزوں پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اپنی ذات اور اپنے امکانات کو بھی پر پھیلانے کا موقع ضرور دینا چاہیے۔ یہی کشادگی، مجھے اپنے لیے بھی درکار ہے، اپنے بچوں کے لیے بھی اور اپنے طالب علموں کے لیے بھی۔ اسی لیے میں نے گویا یہ لفظ مستقبل کے حوالے کیے ہیں۔ دیوانے کا خواب ہی سہی، لیکن مجھے یقین ہے کہ آنے والی نسل پیکار ِ حیات میں ہم سے زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔  

اس سلسلہ مضامین کا دوسرا مضمون اس لنک پہ پڑھنے کے لئے کلک کریں:

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ—-خالد بلغاری

Facebook Comments Box
Identity CrisisMuslim IdentitiyNajeeba Arifشناخت کا بحرانفکری و ذہنی انتشارمسلمان شناخت کا بحران
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
فاطمہ حسن: فاصلوں سے ماورا — محمد حمید شاہد
next post
“جانوس”: بدقسمتی کہ دُنیا اصل نہیں ہے! —— محمد حمید شاہد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

1 comment

ادم عباس 10/10/2023 - 6:36 pm

عام ادمی کے لٸیے اپکی سوچ , استدلال بھاری بھرکم الفاظوں تلے دب کر اپنی معنویت سمیت خاک میں مل کر دفن ہوچکا ہے۔

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.