خلیل جبران نے ایک جگہ لکھا ہے: میں کبھی لاجواب نہیں ہوا مگر اس شخص کے سامنے جس نے مجھ سے پوچھا تو کون ہے؟
میں بھی اس سوال سے خائف ہوں۔
لیکن میرا خود سے سب سے بڑا مطالبہ بھی یہی ہے۔ یہ سوچنا اور جاننا کہ میں کون ہوں؟
ایک عورت؟
ایک پاکستانی؟
ایک مسلمان؟
یا پھرایک انسان؟
شناخت کے یہ سب پہلو مجھے سراسیمہ کر دیتے ہیں۔ جس طرف بھی جاؤں، پوری نہیں پڑتی، کچھ نہ کچھ بچ رہتا ہے۔
اکیسویں صدی کے اس انتشار انگیز ماحول میں، جب انسانی ذہن افکار و نظریات کی کثرت سے الجھن اور ابہام کا شکار ہو چکا ہے، انفرادی آزادی کے غیر متوازن استعمال نے ہر شے کی من مانی تشریح و تعبیر کرنے کی روش عام کر دی ہے اور ذاتی اور محدود مقاصد کے لیے مفاد عامہ کو قربان کرنے کا چلن عام ہو گیا ہے، اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ایک لمحے کو ٹھہرکر زندگی کے حقائق اور تقاضوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور انھیں پرانے عنوانات کی قید سے آزاد کر کے نئے اور وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے۔
جب سے جدید دنیا کی یونی ورسٹیوں میں سپیشلائزیشن کا متعدی بخار پھیلا ہے، یکایک صدیوں، قرنوں، تاریخ کے اولین دنوں سے قائم و دائم اشیا اور تصورات کی نام رکھائی کی رسم چل نکلی ہے اور ان ناموں کے ہوا بند، خوب صورت ڈبوں میں، زند ہ و متحرک، رواں دواں اور ہر لحظہ بدلتی ہوئی اقدار، تصورات اور روایات کو قید کرنے کی عادت پختہ ہو گئی ہے۔ ہر محقق اور متخصص، ایک دوسرے سے نکلتے ہوئے اور ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہوئے تصورات کو ایک دوسرے سے جدا جدا کر کے ان کی حدبندی کرنے میں شدت سے مشغول ہو گیا ہے اور تصورات کی نام رکھائی کے اس معاملے پر اختلافات، مناقشات کی صورت اختیار کرنے لگے ہیں۔
کم از کم ایک صدی سے ہم اشیا، اقدار، روایات، تصورات اور نظریات کو اصطلاحوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک تو یہ صورت حال اتنی گمبھیر ہو چکی ہے کہ ہم اپنے خوابوں کو بھی اصطلاحات کے محدب عدسے سے دیکھنے اور سمجھنے لگے ہیں۔ یہ روایت اسی رجحان کی پیداوار ہے جس کے تحت مجرد اصطلاحات پر تحقیق کر کے اصول وضع کر لیے جاتے ہیں اور پھر انھیں ہر لحظہ متحرک، بدلتے ہوئے سیال انسانی معاشروں پر منطبق کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسی کچھ اصطلاحات روز بروز عام ہوتی جا رہی ہیں، جیسے انتہاپسند، روشن خیال، جمہوریت، آمریت، لبرل، سیکولر، مغرب، مشرق، وغیرہ جن کے مفاہیم کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اب تو کچھ ایسے الفاظ بھی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو پہلے بہت واضح معانی کے حامل تھے۔ آہستہ آہستہ یہ مفاہیم دھندلاتے چلے گئے اور ان کے معانی میں ایک عجیب طرح کی توسیع ہوگئی جو مثبت نہیں، بلکہ ان کی اصل حیثیت کو مسخ کر کے رکھ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، مولوی، استاد، مسلمان، کافر، دایاں بازو، بایاں بازو۔ حالاں کہ اب دائیں اور بائیں بازو میں امتیاز کرنا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ کئی سکہ بند بائیں بازو والے اب رات کو سونے سے پہلے ساری قضا نمازیں پڑھ لیتے ہیں اور کچھ دائیں بازو والے بھی قائل نظر آتے ہیں کہ کارل مارکس کم از کم صوفی ضرور تھا۔ ادھر عالمی تنظیمیں ہر اس شخص کو مسلمان ہی گنتی ہیں جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہو اورجس نے غیر جانب داری کا وہ امتحان پاس نہ کیا ہو جو انھوں نے مقرر کر رکھا ہے۔
اس فکری و ذہنی انتشار نے ہمیں مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔ ہم چاہتے کچھ اور ہیں، کہتے کچھ اور، کرتے کچھ اور ہیں۔ پاکستان ہی کو لیجیے۔ بحیثیت پاکستانی ہم اصلا ً کیا چاہتے ہیں؟ ان توقعات کے کچھ واضح مدارج ہیں۔ پہلے درجے میں ہر متوسط درجے کی ذہانت اور سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کی طرح ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ہر انسان کو بلا تفریق، رنگ و نسل و قومیت برابر کے وسائل اور مواقع ملیں۔ جینے کا عمل ہر ایک کے لیے آسان ہو۔ علم و تہذیب، خوشحالی اورحصول رزق کے دروازے اس پر کھلے ہوں، عدل و مساوات ہو، انسانیت کا احترام ہو، انسانی جان اور عزت و آبرو کے تحفظ کی یقین دہانی ہو اور انسانی عقل و فہم کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے موزوں و مناسب ماحول ہو۔ دوسرے درجے میں ہماری اکثریت کی خواہش ہے کہ یہ ساری سہولتیں اسے ملیں تو سہی لیکن ان کے حصول کی منزل دین اسلام کے راستے سے گزر کر آئے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جینا چاہتے ہیں جو خدا کے تصور سے محروم نہ ہو اور جہاں ہمیں اپنے محبوب نبیﷺ کی پیروی کرنے سے کوئی نہ روکے۔ تیسری قسم کی توقعات وہ ہیں جو اس یقین پر بنیاد رکھتی ہیں کہ مذہب انسان کی ذہنی ترقی اور آزادی کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ انسانی مستقبل کی تابناکی کا دارومدار اسی راستے کی ذہنی وفکری پیروی پر ہے جو مغرب میں چار پانچ سو سال پہلے اپنایا گیا اور جس پر چل کر وہ موجودہ روشن عہد تک پہنچے ہیں۔ وہ خواب جوپوری بنی نوع انسان کا مشترکہ سرمایہ ہیں، ان کی تعبیر کے لیے انسان کے بنائے ہوئے قانون ہی کافی و شافی ہیں۔ کسی غیبی قوت سے مدد اور استعانت طلب کرنے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ضروری نہیں۔ انسان کی فلاح کا اگر کوئی راستہ ہے تو بس یہی ہے۔
لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی امید پوری نہیں ہو رہی؟
عام آدمی کو شکوہ ہے کہ اس کی جان محفوظ ہے نہ عزت، ماضی محفوظ ہے نہ مستقبل۔
اسلام پسندوں کو شکوہ ہے کہ اسلام نافذ نہیں ہو رہا۔
روشن خیالوں کو شکوہ ہے کہ ہر طرف اندھیر نگری ہے اور کہیں ذہنی و فکری آزادی کا نام نشان نہیں ہے۔
آخر اس ملک کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
ہمارے خواب کیوں پورے نہیں ہوتے؟
اگرصرف اسی ایک سوال پر سروے کروایا جائے تو اکثریت کا ایک ہی جواب ہو گا۔
حکومت ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت نااہل ہے، حکومت بد عنوان ہے، حکومتی نظام ڈھیلا ہے۔ جمہوریت نہیں ہے، اگر ہے بھی تو جمہوریت کی روح نہیں ہے۔ اگر کوئی معاشرتی زوال کا نوحہ بھی لکھتا ہے تو ا س کا ذمہ دار بھی حکومت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک حکومت نیکوکار، عدل پرور اور ذہین و فطین نہیں ہو گی، معاشرہ بھی مثبت، مفید اور انسان دوست نہیں ہو سکتا۔ بس یہی سوچ کر ہر شخص حکومت کی اصلاح کے درپے ہے۔ میڈیا ہو، علما ہوں یا دانش ور، سب حکومت پرنظریں جمائے بیٹھے ہیں اور ہر اس اقدام پر تیار ہیں جوحکومت کو ان کی منشا کے مطابق چلنے پر مجبور یا آمادہ کر سکے۔ پاکستان میں عہد حاضر کا مہا بیانیہ یہی ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ حکومت تو عوام ہی کا آئینہ ہوتی ہے۔ مسئلے کی جڑ کہیں خود ہمارے اندر ہی تو نہیں؟ کہیں ہم خود من حیث القوم، اپنی تہذیب و شائستگی کی پرورش و ارتقا سے غافل تو نہیں ہو گئے؟ اپنی اجتماعی و قومی شخصیت کی تعمیر و تزئین کو کلیتاً نظرانداز تو نہیں کر دیا؟ اپنی تما م تر کاوشوں کو انفرادی و ذاتی زندگی کے محدود دائروں میں مقید تو نہیں کر بیٹھے؟
عالمی سطح پر دیکھیں تو معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، یہ تصور عام تھا کہ معاشرتی تفریق، ترقی و خوش حالی کے مواقع کے عدم حصول اور محرومی و بے بسی کے نتیجے میں افراد تشدد پسندی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے رہے کہ مدرسوں کے غریب بچے اپنے جسموں سے بم باندھ کر خوشی خوشی جنت کے حصول کے لیے پرزہ پرزہ ہوتے رہے اور سوچتے رہے کہ اگر ان بچوں کو پیٹ بھر روٹی اور اعلیٰ تعلیم میسر آتی تو شاید یہ بھی کسی ترقی یافتہ ملک سے ڈگری لے کر اسی نظام کی پرورش و حفاظت کے ذمہ دار بن جاتے جسے وہ تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر ایک عجیب بات نظر آنے لگی۔ مغربی ملکوں کے ترقی یافتہ، خوش حال معاشروں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوانوں نے یکایک ڈاڑھیاں بڑھائیں اور اپنی ہنستی بستی زندگی کو چھوڑ چھاڑ کر جہادی گروہوں کا حصہ بن گئے۔ تب محسوس ہوا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں اور نہ اتنا مقامی ہے کہ اسے صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھ لینا کافی ہوگا۔
دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ کیوں یہ ذرائع ابلاغ کی چکا چوند، یہ برین واشنگ کے نت نئے طریقے، یہ ترغیب وتحریک کے وسیلے اب بے اثر ہو رہے ہیں؟ اب انسانی ذہن کو قابو میں لانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ جدید ٹیکنالوجی؟ دوائیں؟ شعاعیں؟ لیکن اس کے نتیجے میں جو معاشرے قائم ہوں گے، کیا انھیں انسانی معاشرے کہا جا سکے گا؟ آخر زندگی کیا کھیل کھیل رہی ہے؟ دنیا اب کس رخ پر مڑنے والی ہے؟ کیا یہ کسی عالم گیر انقلاب کی آمد کا اعلامیہ ہے؟ لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ خفیہ ایجنسیاں کیوں اپنی اپنی حکومتوں سے زیادہ طاقت ور ہو گئی ہیں؟ ابھی کچھ عرصہ پہلے لگتا تھا کہ یہ ساری بساط بڑی بڑی تجارتی کمپنیوں کی بچھائی ہوئی ہے، لیکن اب تو انھی تجارتی کمپنیوں کے مفادات خطروں میں گھرنے لگے ہیں؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں؟ جو چاہتے ہیں ا س کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اور آخری سوال یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کون کر رہا ہے؟ حکومتیں؟ ریاستیں؟ ایجنسیاں؟ یا مسلح گروہ؟ وہی مسلح گروہ، جو پہلے پہل ہالی ووڈ کی فلموں میں جلوہ افروز ہوئے تھے، پھر رفتہ رفتہ سکرین سے نکل کر انسانی بستیوں میں پھیل گئے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان فلموں کا بجٹ کس کا مرہونِ منت تھا؟ ان کی کہانیاں کس کے مستقبل بین ذہن رسا کی تخلیق تھیں؟ یہ فلمیں خیال سے حقیقت میں کیسے بدل گئیں؟ لیکن اگر یہ محض اس خیال کی حقیقت ہے تو اپنے خالق سے باغی کیوں ہو گئی ہے؟ اگر یہ کسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے تو الٹا کیوں پڑ رہا ہے؟
ایسے کتنے ہی سوال ہیں جو ذہن کو الجھائے رکھتے ہیں۔ زندگی کے معمولات کو جاری رکھنے کے لیے ان سوالوں کو ذہن سے جھٹک دینا اب اتنا آسان نہیں رہا۔ اب زبان و ادب کو محض زبان و ادب سمجھنا بھی کافی معلوم نہیں ہوتا۔ ادبی تقاضوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر ادب اپنے عہد کی غیر رسمی تاریخ بھی ہوتا ہے۔ تاریخ، سماج اور زندگی کے دوسرے مظاہر ادبی متون میں بھی اسی طرح راہ پاجاتے ہیں جس طرح زندگی میں۔ ان مظاہر کا مطالعہ میری دلچسپی کا خاص موضوع رہا ہے۔
ان مقالات کا بنیادی موضوع زبان و ادب کے مسائل، متون اور موضوعات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنا اور ان کے ذریعے تاریخی عمل کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ مقالات، زیرِ بحث متون کے ادبی محاسن و معائب سے بحث نہیں کرتے بلکہ معاصر عہد کے فکری و سماجی سوالوں سے نبرد آزما ہونے کی اپنی سی کوشش ہیں۔ کچھ مقالات میں اسلام اور پاکستان سے متعلق مسائل و نکات کا مغربی فکری رجحانات اور اثرات کے تحت مطالعہ کیا گیا ہے اور اسلام، پاکستان اور مغربی دنیا کے باہمی فکری، نظریاتی اور سماجی و سیاسی رشتوں کو سمجھنے کی بساط بھر کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ان کا بنیادی حوالہ علمی و ادبی ہے۔ زیادہ تر مقالات اردوزبان و ادب اور اس کے تاریخی، سیاسی و سماجی تناظر سے بحث کرتے ہیں۔ یہ مباحث ادبی تنقید کے دائرے میں نہیں آتے بلکہ ادبی متون کے بین العلومی مطالعے کا دریچہ کھولتے ہیں اور معاصر فکری و علمی تناظر سے بحث کرتے ہیں۔
کوئی بھی کوشش حرف آخر نہیں ہوتی۔ ہر خیال محض ایک امکان کی نشان دہی کرتا ہے۔ لامحدود امکانات کی اس دنیا میں وہی امکان حقیقت بنتے ہیں، جنھیں کوئی نہ کوئی چن لیتا ہے، اختیار کر لیتا ہے۔ ہر لحظہ بدلتی ہوئی صورت ِحال، خواہ وہ خارجی دنیا سے متعلق ہو یا باطنی کائنات سے رشتہ گیر، اس بات کی متقاضی ہے کہ نئے امکانات، نئے خیالات، نئے نظریات کی قبولیت کی استعداد مرنے نہ پائے۔ کائنات کے روزافزوں پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اپنی ذات اور اپنے امکانات کو بھی پر پھیلانے کا موقع ضرور دینا چاہیے۔ یہی کشادگی، مجھے اپنے لیے بھی درکار ہے، اپنے بچوں کے لیے بھی اور اپنے طالب علموں کے لیے بھی۔ اسی لیے میں نے گویا یہ لفظ مستقبل کے حوالے کیے ہیں۔ دیوانے کا خواب ہی سہی، لیکن مجھے یقین ہے کہ آنے والی نسل پیکار ِ حیات میں ہم سے زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔
اس سلسلہ مضامین کا دوسرا مضمون اس لنک پہ پڑھنے کے لئے کلک کریں:
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ—-خالد بلغاری

1 comment
عام ادمی کے لٸیے اپکی سوچ , استدلال بھاری بھرکم الفاظوں تلے دب کر اپنی معنویت سمیت خاک میں مل کر دفن ہوچکا ہے۔