تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدصنف/ جینڈرعلم و ادب

کشور ناہید: گھاس بھی مجھ جیسی ہے ——– محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 09/10/2019
written by محمد حمید شاہد 09/10/2019
134

کہتے ہیں فرانسیسی میں ’’فیمنسٹ ‘‘ پہلے پہل میڈیکل کی اصطلاح تھی اور ایسے مردوں کے حوالے سے بولی جاتی جن میں نسائی خصوصیات ثانوی سطح پر پائی جاتی تھیں۔ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ’’زنونے مرد‘‘ تو شاید اول اول اس اصطلاح کا یہی مفہوم تھا۔ خیر بعد میں یہ مفہوم اس اصطلاح سے منہا ہو گیا اور دنیا بھر میں نسائی حقوق کی ایسی فکری تحریک سے جڑ گیا جو مرد اور عورت کے رشتے کو ازسر نو مرتب کر رہی تھی؛ انسانی سطح پر اور برابری کی سطح پر۔ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں مکالمہ کشور ناہید سے تھا اور موضوع یہی فیمینزم یا تانیثیت تھا مگر ہم نے اس تحریک کا پس منظر کھنگالنے کی بہ جائے بات کشور ناہید کی ذات سے شروع کی، کہ کشور کی ہڈبیتی بھی ہمارے اپنے سماج کے تناظر میں عین مین تانیثیت کی تاریخ کے سارے اونچ نیچ کی عملی تظہیر ہو جاتی ہے۔

میں آوارہ ہوں، جیسا سلوگن عورت کا سلوگن نہیں ہو سکتا۔ یہ مرد کا نعرہ بھی نہیں ہو سکتا، ایسے سلوگن بنانے سے پہلے اپنی تہذیب، روایات اور اپنے شعور کو مدنظر رکھا کریں۔ کشور ناہید

وہ جو کہا جاتا ہے کہ تانیثیت عورت کے تبسم سے اس کے آنسووں تک سب معاملات سے متعلق ایک عالمی تحریک ہے تو اس سے کون انکار کرے گا مگر ہمارے ہاں اس باب میں بہت سے الجھاوے ہیں۔ یاد آتا ہے فاطمہ حسن کی کتاب کی تقریب چل رہی تھی۔ اس میں پروفیسر فتح محمد ملک نے انتظار حسین کے تتبع میں ایک ایسا جملہ کہہ دیا جو کشور ناہید کو اچھا نہ لگا تھا۔ انتظار حسین کہا کرتے تھے کہ انہوں نے افسانہ نگاری نانی اماں سے سیکھی، فتح محمد ملک نے کہہ دیا کہ ہم نے تانیثیت اپنی نانیوں دادیوں سے سیکھی ہے۔ کشور ناہید اسٹیج سے اتریں اور واک آوٹ کر گئیں۔ خود کشور ناہید کو اس سے بھی شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، تب جب انہوں نے عورت مارچ کے کچھ پوسٹرز اور نعروں پر پر اعتراض کیا تھا کہ ’’میں آوارہ ہوں، جیسا سلوگن عورت کا سلوگن نہیں ہو سکتا۔ یہ مرد کا نعرہ بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ اور درخواست کی تھی کہ ’’ایسے سلوگن بنانے سے پہلے اپنی تہذیب، روایات اور اپنے شعور کو مدنظر رکھا کریں۔‘‘ جی، یہ وہ کشور ناہید کہہ رہی تھیں جنہوں نے عورت کے آگے بڑھنے کے لیے تب راستے ہموار کیے جب اس باب میں کوئی بولتا نہ تھا۔ وہ بولیں اور بری عورت ہو گئی تھیں۔ ’’بری عورت کی کتھا‘‘ سے ’’ہم گناہگار عورتیں‘‘ تک سب تحریریں پڑھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی ساری جدوجہد اس مردانہ ذہنیت کے خلاف ہے جو اپنا حق مانگنے والی اپنی ہی محبوب عورت کے چہرے پر برائی کی کالک مل دیتی ہے۔ دیکھا جائے تو کشور ناہید کی زندگی بھر کے جتن اور ان کی شاعری اور نثری تحریروں کا مرکز و محور اور موضوع ہمارے سماج کے وہ کمزور طبقات رہے ہیں جن سے زندگی کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ عورت کو بھی وہ ان پسے ہوئے طبقات میں سب سے کمزور طبقہ سمجھتی ہیں یہی سبب ہے کہ وہ ہمیشہ ان کی طاقت بن کر کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ کشور ناہید کے ہاں تانیثیت محض فیشن کے طور پر نہیں آئی اپنے حقوق کے لیے عملی جدوجہدکی صورت میں آئی ہے۔ اس لیے وہ بار بار خبردار کرتی ہیں کہ ہمارے دشمن بہت ہیں سنبھل کر چلنا ہوگا۔ باہر سے ہتھیائی ہوئی فیشن والی تانیثیت اور پوری زندگی کو اس آگ میں جھونک دینے والی اپنی زمین سے اُگی ہوئی تانیثیت میں یہی فرق ہے کہ ایک آخر میں گلیمر ہو جاتی ہے یا پھر ایسا مضحک نعرہ کہ ’’میں کھانا گرم کرتی ہوں تم بستر گرم کرو‘‘ جبکہ دوسری ان سب علاقوں کو نشان زد کرتی ہے جہاں جہاں سے عورت نشانہ ہو رہی ہوتی ہے اور اس باب میں آگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی کی تشکیل پر اصرار کرتی ہے۔

کشور ناہید کے ہاں تانیثیت محض فیشن کے طور پر نہیں آئی، اپنے حقوق کے لیے عملی جدوجہدکی صورت میں آئی ہے۔ اس لیے وہ خبردار کرتی ہیں کہ ہمارے دشمن بہت ہیں سنبھل کر چلنا ہوگا۔ باہر سے ہتھیائی ہوئی فیشن والی تانیثیت اور پوری زندگی کو اس آگ میں جھونک دینے والی اپنی زمین سے اُگی ہوئی تانیثیت میں یہی فرق ہے کہ ایک آخر میں گلیمر ہو جاتی ہے یا پھر ایسا مضحک نعرہ کہ ’’میں کھانا گرم کرتی ہوں تم بستر گرم کرو‘‘ جبکہ دوسری ان سب علاقوں کو نشان زد کرتی ہے جہاں جہاں سے عورت نشانہ ہو رہی ہوتی ہے۔

اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں کشور ناہید سے مکالمے میں وہ نانیاں، دادیاں اور مائیں کیسے لائق تحسین ہو سکتی تھیں جو بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتی آئی ہیں۔ اپنے حقوق سے دست بردار ہو کر ایک طرف پڑ رہنے والیاں اور پورے نسائی طبقے کو مردانیت کے نشے سے چور مرد کی غلامی میں دینے والیاں۔ یقینا فاطمہ حسن والے پروگرام میں پروفیسر فتح محمد ملک نے جن دادیوں، نانیوں اور مائوں کی بات کی تھی، ان کے قدموں تلے اولاد کے لیے جنت ہوتی ہے اور وہ اپنے گھر کو بھی جنت بنالیتی ہیں مگر ہم جس سماج کا حصہ ہیں اس میں فکری سطح پر اتنے رخنے ہیں کہ عورت کے وہ دُکھ سامنے ہی نہیں آپاتے جو مردوں کا یہ معاشرہ ہر روز اس کی جھولی میں ڈالتا رہتا ہے۔

ہم جس سماج کا حصہ ہیں اس میں فکری سطح پر اتنے رخنے ہیں کہ عورت کے وہ دُکھ سامنے ہی نہیں آپاتے جو مردوں کا یہ معاشرہ ہر روز اس کی جھولی میں ڈالتا رہتا ہے۔

کشور ناہید نے بتایا تھا کہ عورت کی اس نفسیاتی گرہ کو کھولنے کے لیے سیمون دی بوائر کی ’’دی سیکنڈ سیکس‘‘ کا ترجمہ و تلخیص کرنے کے بعد انہوں نے اس میں اپنے سماج کی مثالیں شامل کر دی تھی۔ ہمارا سماج مغرب سے مختلف ہے، یہاں عورت کے مسائل کو اپنی صورت حال کے اندر رکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ ’’عورت ایک نفسیاتی مطالعہ‘‘ میں اُن نفسیاتی گرہوں کو کھولا گیا ہے جن میں آج کی عورت بندھی ہوئی ہر جگہ ایکسپلائٹ ہورہی ہے۔ جی وہی عورت جو اسی دھرتی پر دیوی ہو گئی تھی۔ درگا جیسی نیکی کی علامت دیوی، جسے بدی کو ہر حال میں پچھاڑنا ہوتا ہے۔ اور وہ عورت بھی جو لکشمی اور ساوتری ہو کر محترم اور پوجا کے لائق ہو جاتی ہے۔ یہاں ان سب عورتوں کی طرف دھیان جاتا ہے جن کو فہمیدہ ریاض نے اسی سماج سے دریافت کیا اور جن کے لیے مرد بھی مودب ہو کر جھک جایا کرتے تھے۔ تین بھائیوں کی بہن اور سلطان التمش کی بیٹی رضیہ سلطانہ جو اتنی قابل تھی کہ سلطنت دہلی کی سلطان ہو گئی۔ بابر کی دوراندیش نانی احسان بیگم جس کا ذکر ’’تزک بابری‘‘ میں ہے۔ اکبر کے زمانے کی جان بیگم جو کابل کی گورنر بنائی گئی اور حکم ناموں پر اسی کے دستخط اور مہر ہوتی تھی۔ ’’ہمایوں نامہ‘‘ لکھنے والی بابر کی بیٹی اور ہمایوں کی بہن گلبدن بیگم۔ دکن کی چاند بی بی جو بیجاپور کی سلطان تھی اور جس نے مغلوں کی یلغار کا مقابلہ کیا تھا مگر کشورناہید کا کہنا تھا کہ ایسے میں اس عورت کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے جسے باپ اپنا ملکیت سمجھنے لگتا ہے اور شوہر اپنی باندی۔ جب کشور یہ کہہ رہی تھیں تو میرا دھیان عورت کو دیوی کہنے والے ان بیمار ذہنیت والے مردوں کی طرف چلا گیا تھا جن کے ہاں باپ بیٹی کا مالک ہو کر داماد کو ’کنیا دان‘ کر دیتا ہے اور خاوند اس دان کی گئی عورت کا مالک ہو کر اسے جوئے میں ہار دیتا ہے۔ جہاں بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور نکاح، طلاق وراثت ہر معاملے میں عورت ہی کے حصے میں ظلم اور محرومی آتی ہے۔

ہم نے تانیثیت اپنی نانیوں دادیوں سے سیکھی ہے۔ فتح محمد ملک

کوئی اور سوال کرنے سے پہلے میں نے ’’فرہنگ آصفیہ‘‘ کا حوالہ دیا جس میں مرد کے جسم کے اس حصے کو عورت کہا گیا ہے جسے کھولنا موجب شرم ہے۔ کہہ لیجیے ناف سے ٹخنوں تک۔ یہ جس کی جورو، زوجہ یا بیوی ہے اس کے لیے اسی ذہنیت کے تحت موجب شرم ہے۔ یہی حال دوسری لغات کا ہے۔ ’’نور اللغات ‘‘ میں زنانہ سے ایک مراد یہ بھی لی گئی ہے ’’جو ڈھیلا ڈھالا ہو، نامرد ہو، سست ہو، زن صفت ہو۔‘‘ جب کہ ’’فیروز الغات‘‘ میں ایک محاورہ ہے: ’’عورت اور گھوڑا ران تلے۔‘‘ کشور ناہید اس باب میں ہمیں سجھا رہی تھیں کہ ان کی جنگ مردوں کی اس ذہنیت سے ہے جو عورت اور گھوڑے کی طنابیں کس کر رکھنے کو اپنی مردانگی سمجھتے ہیں۔

اردو ادب میں کشور ناہید سے قبل اپنے حقوق کے لیے جدجہد کرنے والی عورتوں کی مثالیں ہیں۔ رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر مگر نئے زمانے کی جن دو عورتوں کی دھج بالکل مختلف رہی وہ فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید ہیں۔ بلند شہر کے سید گھرانے میں جنم لینے والی کشور جو بچپن ہی سے حجاب کی پابند بنا دی گئی تھیں، گھر سے نکلیں تو بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا۔ آج کی کشور ناہید، لب گویا، بے نام مسافت، گلیاں دھوپ دروازے، ملامتوں کے درمیان، بری عورت کی کتھا والی عورت ہے۔ ایک خرابے کو آباد اور ایک آباد خرابے میں عورت کے لیے تکریم کی زندگی کی تاہنگ رکھنے والی باہمت تخلیقی عورت۔

جب کشور ناہید اپنی زندگی کی کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھیں تو میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے اپنے سماج میں اگر کوئی تانیثیت کی تاریخ ہے تو وہ یہی تو ہے۔ آخر میں کشور نے اپنی کئی نظمیں سنائیں ان میں سے ایک نظم ’’گھاس بھی مجھ جیسی ہے‘‘ سے ایک ٹکڑا آپ کے لیے:

’’گھاس بھی مجھ جیسی ہے
ذرا سر اٹھانے کے قابل ہو
تو کاٹنے والی مشین
اسے مخمل بنانے کا سودا لیے
ہموار کرتی رہتی ہے
عورت کو بھی ہموار کرنے کے لیے
تم کیسے کیسے جتن کرتے ہو‘‘

یہ بھی پڑھیں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد مدثر احمد
Facebook Comments Box
featuredFemaleHameed ShahidKishwar Naheedwomenاسلام آباد لٹریچر فیسٹولبری عورت کی کتھاتانیثیتجدجہد کرنے والی عورتحمید شاہددی سیکنڈ سیکسرشید جہاںعصمت چغتائیعورت ایک نفسیاتی مطالعہفیمنسٹقرۃ العین حیدرکشور ناہیدمرد کی غلامیہم گناہگار عورتیں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
اصلاحات کے خلاف پنجاب پولیس کی ہڑتال —- سید اعجاز گیلانی
next post
سراب زندگی —– عمارہ نصرت

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.