تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹتازہ ترینجمالیاتفنونکالمکلچر، آرٹمذہبی

خوشبو کی تصویر: حلیہ شریف ——- شاہد اعوان

by شاہد اعوان 19/11/2018
written by شاہد اعوان 19/11/2018
303

ایسا تصور جسکی تصویر کشی نہ کی جا سکتی ہو کیسے احاطئہ خیال میں آسکتا ہے؟ کیا خوشبو کو مصور کیا جا سکتا ہے؟ حلیہ شریف اس سوال کا جواب ہے۔ بقول نبیل سفوات “خطاطی، خیال کو تصور یا تصویر کی بنیاد کے طور پر پیش کرتی ہے نہ کہ تصور کو خیال کی بنیاد پر۔”

شاندار اور پُرشکوہ تاریخ کی حامل ترک قوم بلاشبہ دور حاضر میں بھی اقوام اسلام کے لیے کئی حوالوں سے قابل تقلید ہے۔ عثمانی ترکوں کی ایک خوبصورت روایت حلیہ شریف کے نام سے آنحضرتؐ کے حلیہ کی اشاعت اور فروغ کی ہے۔ اس روایت کی ترویج میں ترک قوم کے عوام اور خواص، علماء اور خلفاء نے بھر پور حصہ لیا۔ ایک جانب اپنے وقت کے عظیم خطاطوں نے اس کو کمال فن کے اس درجے پہ پہنچا دیا کہ کسی خطاط کا حلیہ شریف کو جملہ فنی مہارت کے ساتھ لکھنا ہی اس کے لیے مستند ہونے کا ثبوت ٹھہرا، تو دوسری جانب عوام الناس نے خوبصورت تحفہ دینے کے لیے اسے اولین انتخاب بنا کر گویا اس روایت کو دوام عطا کر دیا۔ آج بھی ترک گھروں میں حلیہ شریف کی موجودگی اسکا ثبوت ہے۔ ترک معاشرہ میں حلیہ شریف کی گھر، دفتر اور مسجد میں موجودگی باعث رحمت سمجھی جاتی ہے۔

عجمی مسلمانوں میں موجود مصوری کی اس روایت سے قطع نظر کہ جس کے تحت حضرت علیؑ اور دیگر آئمہ کی تصویر کشی کی جاتی ہے، ترک مسلمانوں کے یہاں حلیہ شریف کی صورت میں آنحضرتؐ کی لفظی تصویر کشی کی روایت کی بنیاد بالعموم آنحضرتؐ کے داماد حضرت علیؐ کی روایات اور بیان کردہ الفاظ پر ہے اور یہ ہی اسکے مستند اور معتبر ہونے کی دلیل ہے۔

لغوی طور پر سنگھار، سج دھج، جیسے معنوں میں آنے والا لفظ حلیہ مجازی لحاظ سے پیدائش، شکل و صورت اور اچھے اوصاف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ کو رسول اکرمؐ کی پیدائش آپؐ کے جسد مبارک کی ظاہری صورت اور ان کے اہم اوصاف کو بیان کرنے والی کتاب، لوح یا تختی کے مفہوم کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ سیرت کی بے شمار کتابوں کے باوجود حلیہ شریف کی لوح خاص طرز پر آپؐ کا تذکرہ کرنے والا کامل ترین اسلوب بیان ہے۔

حلیہ نبویؐ کے عوام میں مقبول ہونے کی سب سے اہم وجہ وہ حدیث شریف ہے جس کے مطابق حضرت محمدؐ کو خواب میں دیکھنے والا کوئی مسلمان ان کو حقیقت میں دیکھنے کے برابر درجہ رکھتا ہے۔ اور پیغمبر کی محبت کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے والی روایت عثمانی نے اس محبت کو بے مثال جانفشانی سے علمی و ادبی جامہ پہناتے ہوئے دوسری قوموں تک پہنچانے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

حلیہ شریف کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس جگہ یہ موجود ہو گا اس جگہ برکت اور امن ہو گا اور خصوصاً آگ کی طرح کی طبعی آفات سے بچائو ہو گا۔ جو اسے پڑھے گا خواب میں اسے زیارتِ رسولؐ اور رسولؐ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ ان وجوہات کی وجہ سے حلیہ پہلے پہل سامنے والی جیب میں رکھنے کے لیے خطِ نسخ میں لکھا گیا۔ بعد کے ادوار میں مزید بہتر شکل دیتے ہوئے عثمانی تاریخ میں پہلی بار حلیہ خطاط حافظ عثمان آفندی نے ۱۷ویں صدی میں لوح کی شکل میں تحریر کیا اور موجودہ شکل میں لکھا جانا جاری رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ۱۹ویں صدی میں جو حلیہ کی شکلیں ہمارے سامنے آئی ہیں یہ خطاطوں کے لیے بھی فنونِ خطاطی کے عظیم فن پاروں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلامی خطاطی کی پوری روایت میں حلیہ شریف سے زیادہ نمایاں کوئی اور چیز نہیں رہی حلیہ کی خطاطی اس کے پیچیدہ طرز اور مشکل لے آوٹ کی وجہ سے ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔

بلاشبہ یہ حلیہ ترکوں کی اسلامی ثقافت کے لیے کی گئی خدمات میں سے بڑی خدمت ہے کیونکہ یہ عادت صرف عثمانی روایت نہیں بلکہ ان روایات میں ایک مقبول اضافہ ہے۔

طرز تحریر اور ترتیب کے لحاظ سے سینکڑوں قسم کے حلیے موجود ہیں۔ بناوٹ کے لحاظ سے یہ جیسے بھی ہوں ایک حلیہ میں مندر جہ ذیل حصے موجود ہوتے ہیں۔
1۔ سر والا حصہ
2۔ درمیان والا حصہ
3۔ بلال
4۔ حضرت ابو بکر
5۔ حضرت عمر
6۔ حضرت عثمان
7۔ حضرت علی
آیت

پاکستان میں میری معلومات کے مطابق پہلی بار ۲۰۰۸ میں ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر حلیہ شریف کو ترک روایت کے مکمل اعادہ کے ساتھ اردو زبان میں قومی سیرت کانفرنس کے موقع پر تقسیم کے لئے میں نے شایع کیا۔ حلیہ کے حاشیہ میں موجود اسمائے نبیؐ کو اس روایت میں پاکستانی اضافہ سمجھا جا سکتا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے احباب اسکی کاپی حاصل کرنے کے لئے دانش کے فیس بک پیج پہ پیغام چھوڑ سکتے ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredHeliya SherifHuliya Sharifحلیہ شریفحلیہ نبیخطاطیسیرتسیرت النبیشاہد اعوان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
شاہد اعوان

previous post
بنتا بگڑتا کراچی: سلگتے سوال —— عطا محمد تبسم
next post
چڑیا، چڑے کی کہانی اور جدید زندگی کا المیہ —— ڈاکٹر مریم عرفان

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.