تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

بنتا بگڑتا کراچی: سلگتے سوال —— عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 19/11/2018
written by دانش ڈیسک 19/11/2018
120

کراچی کو بگاڑنے میں تیس برس لگے۔ اب جانے سدھانے میں کتنے دن لگیں گے؟

ہر روز ایک نیا آپریشن ہے، کل ایمپریس مارکیٹ پر مشینی بمباری جاری تھی تو آج لائٹ ہاوس کے اطراف ہاہا کار، توڑ پھوڑ، اور بھاگا دوڑی جاری ہے۔ تیس برس میں کراچی ایسا بدلا کہ خوف آتا تھا۔ روشنیوں کا شہر اندھیروں میں ڈوبتا ہی چلا گیا۔ شہر کا حلیہ بدلا، کلچر بدلا، ادب آداب بدلے، بولی بدلی، نقل وحمل کے ذرائع بدلے، رنگ بدلے ڈھنگ بدلے، ناچ گانے بدلے، جلسے، جلوس اور احتجاج کے انداز بدلے، لیڈر بدلے، پارٹیاں بدلی، عوام بدلے، یہاں تک کے گلی کوچے ہی بدل گئے۔ اور ہمارا حال مستقبل سب کچھ بدل گیا۔ اس بدلے ماحول میں نہ جانے کس کو ماضی کا تابناک اور روشن چہرہ یادآیا کہ اب کراچی کو پہلے جیسا بنانے چاہتے ہیں۔ بنانے والے کون تھے، بگاڑنے والے کون تھے، اور اب نشاط ثانیہ کو بے چین کون ہیں؟

کراچی کی بے چینی، بے ترتیبی، بے بسی کا اندازہ یہاں کے مرکز صدر سے ہوجاتا ہے۔ بے ہنگم تجاوزات، ٹریفک کا اژدھام، بسوں کے ڈرائیوروں کی من مانی، پولیس کی چشم پوشی اور رشوت کو پھیلے ہاتھ، ٹھیلے، گاڑیاں، رکشائی، پتھارے، دھینگا مستی، لوٹ مار، چھینا جھپٹی، نوسر بازی، پکڑ دھکڑ سب کچھ ہی تو یہاں موجود ہے۔ صدر کا مرکز ایمپریس مارکیٹ پورے کراچی کے موسم اور ماحول کا عکاس ہے۔ شہر کو سدھارنے کے لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیئے۔ اور پوری انتظامیہ کیل کانٹے سے لیس ہوکر کراچی کی ایمپریس مارکیٹ پر ٹوٹ پڑی۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں چھوٹی بڑی دکانیں مسمار ہی نہیں بلڈوز کردی گئی۔ تعمیر کے لیے تباہی کا ایسا منظر فلک نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ سڑکوں پر بکھرا ملبہ روشنیوں کے شہر کراچی کی بجائے، عراق، شام کے کسی ایسے شہر کا منظر پیش کر رہا ہے جو تازہ تازہ بمباری سے تباہ و برباد ہوا ہو۔

کراچی کی تعمیر کا آغاز انگریز دور میں ہوا تھا۔ سندھ کلب انگریزوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ جس کے گیٹ پر بورڈ لگا تھا۔ یہاں کالوں اور کتوں کا داخلہ منع ہے۔ کراچی پورٹ سٹی تھا، اہم چھاونی تھا، اس لیے اس پر نظر خاص ہوئی، روشنیوں کے شہرکراچی میں سب سے پہلے بجلی سندھ کلب کے لیے لائی گئی۔ ایمپریس مارکیٹ سندھ کلب سے زیادہ دور نہیں تھی۔ یہاں بھی مقامی لوگوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ انگریزوں نے سب کچھ اس کے آس پاس ہی بنایا اور بسایا، فریئر ہال، سندھ کلب، کراچی جمخانہ، ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل، گورنمنٹ ہاوس، فلیگ سٹاف ہاوس کے مقامات پیدل فاصلے پر موجود ہیں۔ تاکہ سر شام اندھیرے اور سناٹے میں ڈوب جانے والے اس ساحلی شہر میں برطانوی سرکاری کارندوںکو ضروری کام سرانجام دینے کے لیے کہیں دور نہ جانا پڑے۔ ایمپریس مارکیٹ 1895 سے 1899 کے دوران میں تعمیر ہوئی۔ جودھ پوری سرخ پتھر پنک سٹی جے پور کا نشان امتیازتھا، اس دور میں رائج ‘مغل گاتھک’ طرزِ تعمیر بہت مقبول تھا، اس لیے کراچی میں بننے والی اکثر تاریخی عمارتوں میں یہ طرز تعمیر اختیار کیا گیا۔ جہانگیر کوٹھاری پریڈ، میری ویدر ٹاور، موہٹہ پیلس، فریئر ہال، ہندو جم خانہ، اس فن تعمیر اور جودھ پوری پتھرکا عمدہ نمونہ ہیں۔ اس طرزِ تعمیر میں مغل فن عمارت سازی میں یورپی طرز کو بھی سمویا گیا۔

ایمپریس مارکیٹ کیوں بنی۔ اسے بھی انگریز کی عیاری کہا جاسکتا ہے۔ چھاونی کا یہ علاقہ پریڈ گراونڈ تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں بغاوت کرنے والے کئی فوجیوں کو یہاں توپ دم کیا گیا۔ آزادی کے متوالوں کے لیے یہ مرکزی جگہ بن گئی، رات کی تاریکی میں یہاںلوگ شہداءسے عقیدت میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے۔ انگریز نے شہدا کی یادگار سے ڈر کر سرکار انگلشیہ کے نام پر مارکیٹ تعمیر کردی۔ بمبئی کے گورنر جیمز فرگوسن نے سنگ بنیاد رکھا۔ ڈیزائن مشہور انجینیئر جیمز سٹریکن نے بنایا۔ ایمپریس مارکیٹ کے بیچوں بیچ ایک صحن بھی تھاجس کا رقبہ 100 فٹ ضرب 130 فٹ تھا۔ ہم نے تو اس صحن میں مرغی والے، گوشت والے، پرندے والے، مصالحے والے، سبزی فروش، گوشت فروش ہی دیکھے، کبھی کوئی صحن نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ میئر کراچی وسیم اخترکہتے ہیں کہ ایمپریس مارکیٹ کے چاروں کونوں پر خوبصورت پارک تعمیر ہوں گے، اگر ماضی میں بلدیہ سے غلطیاں ہوئی ہیں تو ضروری نہیں کہ ان غلطیوں پر قائم رہا جائے، غلطیوں کو درست کرنے کا وقت ہے۔

میئر کراچی ایمپریس مارکیٹ کو کراچی کی شناخت کہتے ہیں۔ اس تخریب سے تعمیر کی کونسی نئی صورت گری ہوگی۔ یہ تو وقت بتائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کراچی کی شناخت کی بحال کرنے والے کراچی کی تین نسل کی تباہی اور بگاڑ کے بعد اس کو کیسے سنواریں گے؟

Facebook Comments Box
featuredایمپریس مارکیٹعطا محمد تبسمکراچیکراچی صدر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میں نے فیضؔ کو قریب سے دیکھا، ملا اور سنا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدنی
next post
خوشبو کی تصویر: حلیہ شریف ——- شاہد اعوان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.