تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

منشی نامہ: نا اہل سابقہ وزیر اعظم کی احتجاجی سیاست

by عثمان سہیل 07/08/2017
written by عثمان سہیل 07/08/2017
90

نا اہل سابقہ وزیر اعظم کی احتجاجی سیاست

نا اہل قرارد دئیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف کے سامنے ایک راستہ تو یہ تھا کہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر رائیونڈ محل کا رخ کرتے اور اٹوانٹی کھٹوانٹی لیے پڑ رہتے۔ ازبسکہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں سو انہوں نے ایک کاروان تشکیل دیکر اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور کا قصد کیا ہے۔ خبر و آثار سے ہویدا ہے کہ دوران سفر کاروان جی ٹی روڈ پر واقع مختلف شہروں میں پڑاؤ ڈالے گا۔ جلسے منعقد ہوں گے جن میں نااہل وزیر اعظم اور ان کے رفقا تقریر و خطابت کے جوہر دکھائیں گے۔ یہ سفر جسےایک مبہم احتجاجی مہم بھی کہا جا سکتا ہے کئی لحاظ سے دلچسپ و منفرد ہے۔ اول یہ کہ نوازشریف نے اس بار الٹی سمت احتجاج کی ٹھانی چنانچہ ماضی کی روایات کے برعکس کاروان الٹی سمت یعنی اسلام آباد سے لاہور کی طرف سفر کرے گا۔ لیکن اس سفر کا مقصد کیا ہے؟ بظاہر کسی مقتدر شخصیت کے استعفٰی کا مطالبہ بھی نہیں ہے۔ کسی قسم کے مطالبات بھی پیش نہیں کیے گئے۔ پرانی کارگزاریاں جتا کر اور مستقبل میں کچھ خاص کر دکھانے کے وعدہ کیساتھ ووٹ مانگنے کا فوری مرحلہ بھی ان کو درپیش نہیں ہے۔ غالب کا مصرعہ یاد آتا ہے۔ “پھر یہ ہنگامہ، اے خُدا کیا ہے”۔ فی الوقت نوازشریف یا ان کے کسی ترجمان کی جانب سے اس مہم کا کوئی واضح ہدف بیان نہیں ہوا۔ پارٹی زعماء کی طرف سے ایک مبہم سی بات کی جا رہی ہے کہ “عوام کی عدالت” نے نا اہلی کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ اسے مبہم ہی سمجھا جائے گا کہ اس نام نہاد عوامی عدالت میں بیس کڑوڑ عوام کی نمائندگی کا تعین کیسے اور کیونکر ہوگا۔ کیا جی ٹی روڈ پر ان تمام جلسوں میں شرکت کرنے والے چند لاکھ افراد کے مجموعہ کو بیس کڑوڑ عوام کا نمائندہ سمجھا جائے جبکہ پچھلے چناؤ میں بھی اٹھارہ کڑوڑ میں سے محض ڈیڑھ کڑوڑ افراد نے ان کے دعوٰی برائے حکومت سازی پر صاد کیا تھا۔ آج شام کی اخباری رپورٹ میں نا اہل وزیر اعظم نے مارشل لاء لگنے، ڈکٹیٹرز کے آنے اور کسی وزیراعظم کے مدت پوری نہ کرنے افسوس کرتے ہوئے شکایتا کہا کہ ہمارے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ملا۔ مگر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یہ سوالات کن سے کر رہے ہیں۔ کیا وہ عدالت سے کر رہے ہیں؟ مگر عدالت میں زیر بحث تو کچھ اور سوالات تھے جن کا تعلق ان کے (اور اولاد) کے بیرون ملک اثاثہ جات سے تھا۔  دو مرتبہ  بے نظیر بھٹو اور ایک بار یوسف رضا گیلانی کوقبل از وقت وزارت عظمٰی کے منصب سے  ہٹا کر اپنی راہ ہموار کرنے والے میاں نواز شریف سے زیادہ  ان معاملات کو کون جانتا ہوگا۔ غلام اسحاق خان، فاروق لغاری اور  بے نظیربھٹو تو وفات پاچکے ہیں چنانچہ ان سوالات کے بہتر جوابات بھی میاں نوازشریف ہی کے ذمہ ہیں۔ لیکن جنرل مشرف سے ڈیل کرکے سعودی عرب سٹک جانے والے میاں صاحب تو اس ڈیل کے بارے بھی قوم کو غچہ دے چکے ہیں۔

نا اہل وزیر اعظم کی سیاسی ہسٹری شیٹ میں ان کی کامیاب احتجاجی مہمات کا سرسری جائزہ لینے سے ان میں ایک مشترک عنصر معلوم ہوا۔ ان مہمات کے وقت وہ خود یا ان کے چھوٹے بھائی پنجاب کی وزارت اعلی کے عہدہ پرفائز تھے۔ کل سے متوقع اس مہم میں بھی ان کو سابقہ حریف بینظیر بھٹو مرحومہ اور حالیہ حریف عمران خان پر دوہرا ایڈوانٹیج یوں ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلی کی گدی پر چھوٹا بھائی جبکہ وفاق میں ان کا کٹھ پتلا وزات عظمی کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ مقامی سیاستوں کے سرد و گرم چشیدہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی مہمات کے دوران جلسوں میں بندے لانے کے کام میں پٹوار و تھانہ مقامی ممبران اسمبلی کیلیے بالترتیب حاکم خزانہ و بازوئے شمشیرزن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ان سے ذرائع آمدن کی رسیدیں مانگیں جا رہی تھیں اب ان جلسوں میں حکومتی وسائل کے اخراجات پر سوالات کھڑے ہونا شروع ہو جائیں گے۔


صحافت، گٹر اور سوشل میڈیا

چند روز ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوشل میڈیا کو صحافت کا گٹر قرار دیا۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ انہوں نے بیان دینے سے کچھ ہی پہلے سپریم کورٹ میں اپنے ادارہ کی جانب سے ایک غلط اور گمراہ کن خبر نشر کرنے پر معافی چاہی تھی۔

ان صاحب کے بیان میں باقاعدہ ذرائع ابلاغ کا سوشل میڈیا سے تقابل تھا۔ ناچیز کی رائے میں یہ تقابل ہی غلط ہے۔ باقاعدہ ذرائع ابلاغ کے ادارے تجارتی بنیادوں پر استوار ہیں اور ان میں خبر و تجزیہ کرنے والے اپنی ذمہ داریاں ملازمتی فرائض کے تحت سرانجام دیتے ہیں۔ کسی قاری یا آزاد لکھنے والے کی رائے بھی نشر و اشاعت کے لیے متعلقہ ادارہ کی ایڈیٹوریل پالیسی کے تحت ہی ہوتی ہے۔ ادارے کی پالیسی مالکان اور مدیر اعلی متعین کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا جس میں فیس بُک اور ٹوئیٹر کے علاوہ اب وٹس ایپ نامی اپلیکیشن بھی نمایاں ہے بنیاد میں ابلاغ کے ایسے فورم ہیں جو عوام کو اپنی رائے اور خیال ظاہر کرنے کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ سو ان پر ظاہر کی گئی آراء اور تبصروں کو عوام کی رائے سمجھنا چاہیے۔ یوں سمجھیے کہ عوام جو باہم گفتگودفتر، ڈرائنگ روم، تھڑے، کالج یا فیکٹری کی کینٹین، چائے خانہ اور نائی کی دکان جیسی جگہوں پرکیا کرتے تھے اورمختلف معاملات پر اپنی رائے ظاہر کرتے تھے اب ان ڈیجیٹل ذرائع کی بدولت برسرعام ہوگئی ہے۔ سو اب سیاستدان ہوں، صحافی، سیاسی اور سماجی تجزیہ کار ہوں یا کاروباری اداروں کے منتظمین ان سب کو عوام کے مذاق، ذوق اور رجحان کا بہتر اندازہ ہونے لگا ہے۔ سو آپ رہنما ہیں یا صحافتی ادارے کے مالک آپ کو چاہیے عوام کی رائے دیکھیں اور اپنے طرز عمل کو بہتر بنائیں تاکہ چند شریر عناصر کو چھوڑ کر عوام کی غالب اکثریت آپ کی عزت کریں۔

Facebook Comments Box
سوشل میڈیاسوشل میڈیا گٹرنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
عثمان سہیل

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

previous post
ابن صفی کی جاسوسی ناول نگاری: حبیبہ طلعت
next post
برانڈز اورملٹی نیشنل کمپنیاں: اعظم احمد

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.