تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

ابن صفی کی جاسوسی ناول نگاری: حبیبہ طلعت

by دانش ڈیسک 06/08/2017
written by دانش ڈیسک 06/08/2017
159

رب تعالی نے اپنے پیارے حبیب

    1. صلی اللہ و علیہ وسلم کو لفظ اقراء سے مخاطب کیا اور اس سے بھی پہلے خالق نے آدم کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے آدم ع کو چیزوں کے بارے میں علم عطا کیا۔

حبیبہ طلعت

علم ہی مومن کی گمشدہ میراث ہے۔

قرون اولی میں جدیدیت سے پہلے جو علوم رائج تھے وہ بالخصوص انسانی،نفسیات، رویوں، مکارم الاخلاق اور اسکے معاشرتی عمل و رد عمل سے متعلق تھے۔ جو درحقیقت زمانے کے ساتھ ترقی تو پاتے گئے مگر انکی مبادیات دائمی غیر متغیر ہی رہی ہیں. اس لحاظ سے ہم کہیں مرتب و منظم اور کہیں معاشروں کے ان رویوں سے متعلق بات کرتے ہیں جو ایک طبقاتی نفی کے باوجود سماج میں اپنا ایک غیر تردید شدہ ٹھوس حقیقی وجود رکھتی ہیں۔ چنانچہ جب ہم بات ادب کی کر رہے ہیں تو ہم اسکو بھی ایک مخصوص مؤدب اور لطافتی حدود میں قید نہیں رکھ سکتے. ادب محض کسی ماسٹر پیس آف آرٹ ورک یا زبان دانی کی صرف و نحو اور لطافت سے متشکل نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی سوچ، اسکے تمدن و معاشرت اور اسکے مثبت و منفی مکمل رویوں کا عکاس ایک علمی اور تحقیقی شاخ ہے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کے ادب کی تعریف میں الفاظ کچھ اس طرح، ایک مقالے میں بحث کرتے ہیں کہ

“ادب کا کام تو زندگی میں معنی تلاش کرنا ہے اور ان کا رشتہ ماضی سے قائم کر کے مستقبل سے جوڑ دینا ہے۔ ادب کا حوالہ تو خود زندگی ہے اور وہ اسے ہی آگے بڑھاتا ہے۔ ادب تو انسانی تجربے کے مکمل علم و آگاہی کا نام ہے اور یہ علم وہ غیر معمولی مرتب و منظم صلاحیت ہے جس کے اظہار کی صلاحیت صرف با شعور و دردمند انسان کے پاس ہے۔ وہ انسان جو نہ صرف اس کے اظہار پر قدرت رکھتا ہے بلکہ جس کا اظہار سچا بھی ہے اور حسین بھی، مکمل بھی ہے اور مؤثر و مثبت بھی۔ اس لیے ادب تنقیدِ حیات ہے اور زندگی کے گہرے پانیوں میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کا نام ہے۔”

(بحوالہ: ماہنامہ ’’چشمِ بیدار‘‘ لاہور۔ مئی ۲۰۰۹ء)

صرف اسی قدر مفہوم کو بھی پیش نظر رکھیں تب ہمیں اندازہ ہوگا کہ اسرار احمد جنہیں عرف عام میں ابن صفی کہا جاتا تھا کس قدر اعلی پائے کے ادیب تھے. جنہوں نے سماج میں پھیلی انارکی کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ کہنے کو وہ جاسوسی ناول.نگار تھے مگر ان کو زبان و بیان، نفسیات، مذہبی فلاسفہ اور جدید دور کی تمام اصلاحی و انقلابی تحریکوں کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی پیش رفت سے متعلق بھی مکمل آگاہی تھی۔ اگر ان کے ناولز کو نصاب میں شامل کر دیا جائے تو نئی نسل میں انشاء پردازی کی صلاحیت پروان چڑھائی جا سکتی ہے۔

ابن صفی ایک ایسا نام جس نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا ان کے ماحول میں ہونے والے واقعات، جرائم اور ان کی تحقیقات میں پیش رفت کو اس طور سے پیش کیا کہ نوجوانوں کے اندر مایوسی کے بجائے امنگ پیدا ہو سکے۔ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی حالات کو بدلنے کی تدبیر ہو سکے۔ وہ تمام کردار جو انہوں نے پیش کیے جیتے جاگتے سماج میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔

جاسوسی ناول نگاری کی روایت کچھ اس دور میں ہی سامنے آئی جب اگاتھا کرسٹی کا طوطی بولتا تھا۔ ابتداء میں نقادوں نے ابن صفی کو ادیب تسلیم نہ کیا جب کہ ادب ہمیشہ سے دو ہی مظاہر پیش کرتا آیا ہے ایک خالص ادب جو تخیل، زبان و بیان اور ادبی محاسن پر مبنی ہو۔ لیکن اسے عوام میں مقبولیت کم ہی نصیب ہوتی ہے کیونکہ اس کے مکمل سانچے سے اعلی تعلیم یافتہ یا دانشور طبقہ ہی محفوظ ہو ہاتا ہے جب کہ کمرشل یا وعوامی ادب وہ ہوتا ہے جس میں ادبی محاسن پر ہی زور نہیں دیا جاتا ہے بلکہ عوامی انداز فکر کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ اسی کمرشل یا عوام ادب میں تجارتی، جاسوسی، سنسنی خیز،اور تحیر انگیز تحاریر شامل ہوتی ہیں۔

ابن صفی کے ناولوں میں تجسس اور اسرار کے ساتھ مزاح کی حلاوت بھی ملے گی۔ تھرلر فلم کی طرح نفسیاتی گرفت لئے تمام پیشکش ہے تاہم جولیا جیسے ایک مرکزی اور نسوانی کردارکے باوجود غیر اخلاقی مواد کہیں نہیں ملے گا۔

یہ بات دہرانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک دفعہ ابن صفی اور کچھ احباب کی محفل میں ادب اور اسکے اشکالات پر شد و مد سے بحث پو رہی تھی اور کچھ کا خیال تھا کہ فحش نگاری کے بغیر ادبی نگارش مقبولیت حاصل نہیں کر سکتی ہے یہ بات اپنے طور پر خود ادیب کا مقام منوانے کے لئے بھی اہم ہے کہ مقبول عام ادیب اور معیاری ادیب میں کیا بنیادی فرق ہو گا۔ جیسا کہ ہم کو فیس بک پر بھی اس بات کا تجربہ ہے کہ جو لکھتے وقت عوام کی پسند کو سامنے رکھے۔ جنسی اور سنسنی خیز مواد پیش کرنے کی سوچے وہی پبلک کی توجہ لے جاتا ہے بجائے اس دوسرے ادیب کے جو اعلی زبان و بیان پر دسترس رکھتا ہو، عمدہ تخیل تراشے۔

چنانچہ اسی چیلنج کو مد نظر رکھتے ہوئے ابن صفی نے جاسوسی ناول نگاری کا بیڑہ اٹھایا۔ اور اردو جاسوسی ناولز اور جاسوسی میگزین کو انگریزی جاسوسی ادب کے برابر لا کھڑا کیا. ابن صفی نے اپنے ناولز میں اپنی دانش سے نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ بیدار کیا یا یوں کہیئے کہ وہ خواب دیکھتے اور دکھاتے تھے۔ اس معاشرے میں جہاں تعفن پھل پھول رہا تھا، اس سماج میں جہاں جبر تھا، جہاں نا انصافی تھیِ جہاں حق اور انصاف کی راہ پر چلنا از حد دشوار تھا۔ وہ نوجواںوں کو فرشتوں کی آمد کا منتظر رہنے اور معجزوں کے انتظار میں سوکھتے رہنے کے بجائے ان کے ناولز خود حالات کو بدلنے کی منظم جدوجہد پر ابھارتے تھے۔ سارجنٹ حمید جیسا ڈھلمل کردار تھا، یا نٹ کھٹ سا عمران ہویا فولادی عزم کے مالک کرنل فریدی ان سب نے بلند ہمتی، ذہانت اور جدید اسلحہ و ساز و سامان کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

یہ جاسوسی ادب جو انہوں نے عوام الناس کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے تخلیق کیا کہ برس یا برس بیت گئے تب بھی ان ناولوں کا سحر قائم و دائم ہے۔

ابن صفی چھبیس جولائی 1928کو ضلع الہ اباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام صفی اللہ اور والدہ کا نام نضیراء بی بی تھا۔ معروف شاعر نوح ناروی ان کے ماموں تھے۔ تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ ایک علی و ادبی گھرانے سے تعلق تھا چنانچہ قدرتی طور پر مطالعے سے رغبت اور تصنیف و تالیف کی طرف توجہ رہی۔ چھبیس جولائی ہی کے دن 1980 میں وفات پائی اور پاپوش نگر کراچی میں مدفون ہوئے۔

اپنی باون سالہ زندگی میں بے حد متحرک رہے ہیں۔ ایک کلاسیکی اسلوب بیان شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار اور مزاح نگار بھی تھے مگر شہرت دوام جاسوسی ادب کی وجہ سے ملی۔

تقریبا ڈھائی سو کے قریب ناولز شائع ہوئے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرنے والوں میں متعدد ملکی اورغیر ملکی شخصیات مثلا خواجہ ناظم الدین، ڈاکٹر ابو الخیر کشفی، کرسٹینا اوسٹر ییلڈ اور پروفیسر فن تھیسن شامل ہیں۔
ناول نگاری کو جو جہت ابن صفی نے دی وہ اب تک منفرد ہے۔ سماج کے حالات پر ان کی جو گہری نظر تھی۔ اسی بنیاد پر ان کے جاسوسی ناولز مقبولیت کی جس سطح تک پہنچے وہ ہر کسی ادیب کو نہیں مل پاتی ہے.ـ

جو خوش آئند بات محسوس ہوتی ہے. وہ یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر اردو لکھنے اور پڑھنے کی تحریک نے ایک نیا جنم لیا ہے۔ اس فورم پر ایسے ایسے انشائیہ اور ادبی فن پارے پڑھنے کو مل رہے ہیں جو ہمیں کسی کل وقتی نامور دانشور و ادیب کے فن سے کسی طرح بھی کم محسوس نہیں ہوتے۔ البتہ اہم بات کہ لکھنا بہت اچھا ہے مگر اس بھی زیادہ اہم ہمارے لئے مطالعہ اور مشاہدہ ہے۔ عام اور بازاری موضوعات ہو سکتا ہے کسی نا معلوم تحریک کا سبب بنتے ہوں مگر ضرورت تعمیری اور مثبت علمی تفاھیم اور ان کی ترقیم کی ہے.

Facebook Comments Box
ابن صفیاردو ناولجاسوسی ادبجاسوسی ناول
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گیم آف تھرونز: ایک تعارف ۔۔۔۔ عاطف حسین
next post
منشی نامہ: نا اہل سابقہ وزیر اعظم کی احتجاجی سیاست

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.