تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
فکنگ بِچ —– افسانہ
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

گٹر کے مکین ۔۔۔ معلمہ ریاضی

by دانش ڈیسک 28/07/2017
written by دانش ڈیسک 28/07/2017
116

کراچی کے حالات انیس سو پچاسی سے خراب ہونا شروع ہوئے۔ مختلف علاقوں میں آئے دن ہونے والے فسادات کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی خبر ملتی۔ پی ٹی وی کا خبر نامہ اس وقت صدر نامہ ہوا کرتا تھا لہذا اصل خبر اگلے دن اخبارات ہی سے معلوم ہوتی۔ اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ اگر کسی علاقے میں رات گئے حالات خراب بھی ہوتے تو باقی علاقوں میں ’عدم آگہی‘ کی بناء پہ کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا۔ خصوصاً تعلیمی ادارے کھلے رہتے۔
انیس سو نواسی میں روزنامہ جنگ کے بانی میر خلیل الرحمٰن نے شام کا اخبار ’عوام‘ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ کہتے ہیں یہ خیال انکے صاحبزادے میر شکیل الرحمٰن نے پیش کیا تھا۔ گو کہ روزنامہ جنگ ایک مستحکم اخبار تھا اور شام کے اخبارات افواہ ساز سمجھے جاتے تھے مگر خلیل صاحب کے سامنے بیٹے نے ایسے ایسے نکات رکھے کہ وہ فوراً مان گئے۔ ویسے بھی منہ سے میر خلیل الرحمٰن جتنی بھی عظمتِ صحافت کی بات کرتے ہوں حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سارا صحافتی پیشہ ورانہ سفر حکمرانوں کے قدموں میں بیٹھ کر طے کیا۔
پیسہ کمانے کی ہوس میں موصوف نے اخلاقیات، روایات، مذہب اور شرم و حیا جیسی فضول چیزوں کو کبھی اپنے راہ کی دیوار نہ بننے دیا۔ جنگ کے اجراء سے اپنی وفات تک میر صاحب نے ہمیشہ اپنے اخبار کے سالانہ پروگرام کی صدارت حاکمِ وقت سے کرائی۔ جنگ کی کرسیء صدارت پہ قائدِ اعظم جیسے با اصول بھی بیٹھے اور یحیحیٰ خان جیسے آمر بھی۔ اس کرسی نے فوجی بھی بٹھائے اور سول بھی۔ شرط بس طاقت و اقتدار کی تھی۔ جس زمانے میں ضیاء الحق صاحب کے زیرِ اثر پی ٹی وی کے ڈراموں میں سوتی ہوئی اداکارہ کے سر پہ بھی دوپٹہ ہوتا تھا اس دور میں اخبارِ جہاں کے سرورق پہ بغیر آستین کی قمیض پہنے خاتون ماڈل کی تصویر چھپا کرتی تھی اور پھر بھی سرکاری اشتہارت کی بارش اس اخبار پہ ہوا کرتی۔
بہرحال جنگ میں روزانہ کی بنیاد پہ روزنامہ عوام کی تشہیر شروع کی گئی اور اس بات پہ بار بار زور دیا گیا کہ یہ پاکستان کا پہلا رنگین اخبار ہوگا۔
روزنامہ عوام کا اجراء ہوا اور پہلی بار لوگوں نے فسادات اور حادثات میں مرنے والوں کی خون آلود رنگین تصاویر دیکھیں۔ سنجیدہ علمی طبقے نے اعتراض کیا کہ یہ غیر اخلاقی عمل عام افراد میں بے حسی کو جنم دے گا۔ مگر ’نقار خانہء میر‘ میں یہ آواز سنی ہی نہیں گئی۔
اور پھر ایک دن ’روزنامہ عوام میں ایک معروف نجی اسکول پہ کچھ دہشت گردوں کے قبضے کی خبر چھاپی گئی کہ مسلح دہشت گردوں نے اسکول کے عملے، اساتذہ و طلبہ و طالبات کو یرغمال بنا لیا ہے۔ واضح رہے کہ شام کا یہ اخبار دن گیارہ/بارہ بجے تک بازار میں آجاتا تھا۔ ایک گھنٹے میں سارا اخبار ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگیا۔
والدین بھاگم بھاگ اسکول پہنچے تو معلوم ہوا خبر تو جھوٹی ہے۔ والدین نے روزنامے کے دفتر کال کرنی شروع کی اور بوڑھے میر خلیل الرحمٰن کے ہاتھ پائوں پھولنے لگے تو شاطر میر شکیل نے باپ کو تسلی دی اور کہا کہ پہلی قسط کما لی، اب دوسری قسط کمانی ہے۔
چند گھنٹوں میں وضاحت کے نام پہ ’عوام‘ کا ضمیمہ جاری کیا گیا اور سدا کی تماشہ و تجسس پسند عوام نے اس ضمیمے کو خرید کر بھی میر شکیل کی جیب بھر دی۔ کئی دن میر شکیل اس جھوٹی خبر کی وضاحت در وضاحت کی بریانی کھاتا رہا۔
پوچھنے والا کون تھا؟ بے نظیر صاحبہ کا پہلا دورِ حکومت تھا اور وہ تن دہی سے اپنے ’سر تاج‘ کو ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ کا ایوارڈ دلانے میں کوشاں تھیں۔
مشرف نے نجی ٹی وی چینلز کو لائنسس دینا شروع کیا تو نا ممکن تھا کہ جنگ گروپ اس بہتی گنگا میں ’اشنان‘ نہ کرتا۔
اور اب ایک نئی مصیبت شروع ہوگئی۔ بریکنگ نیوز کی مصیبت۔ اب یہ ہوتا کہ شہر کی کسی گلی میں پٹاخہ بھی پھوٹ جاتا تو اسے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا کہ جیسے جنگِ عظیم سوئم شاید کراچی کے علاقے ’لیاقت آباد المعروف لالو کھیت‘ میں لڑی جارہی ہے۔
اور ساتھ ہی صوبائی وزیرِ تعلیم سے رابطہ کر کے اور شہر کی ’دگرگوں‘ حالت کا نقشہ کھینچ کر انہیں آگاہ کیا جاتا کہ شہر کے حالات سے گھبرائے ہوئے والدین میں کل اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بارے میں ’خاصی تشویش‘ پائی جاتی ہے۔ نفسیاتی طور عقل سے پیدل وزیرِ تعلیم کھَٹ سے اگلے دن کی تعطیل کا اعلان فرمادیتے
اور چینلز کو ایک ’پٹاخہ نیوز‘ کے ساتھ ’تازہ دم‘ تعطیل نیوز بھی مل جاتی۔
سلائیڈ چلنا شروع ہو جاتی، ’شہر کے حالات کی وجہ سے کل تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، وزیرِ تعلیم‘
جن بچوں کے امتحانات ہوتے وہ گومگو کی کیفیت میں کبھی کسی دوست کو فون کریں تو کبھی کسی دوست کو۔۔۔ ’جیو پہ سلائیڈ چل رہی ہے، چھٹی تو ہے، امتحان بھی ملتوی ہوگئے کیا؟‘
’پتہ نہیں۔ کسی اور چینل پہ چیک کرو، امتحان کا بھی آرہا ہے یا نہیں‘
’اچھا دیکھتا ہوں/دیکھتی ہوں‘
لیجئے سب پڑھائی چھوڑ چھاڑ ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے۔
ـــــــــــــــــــــ
باپ نے کاروبار کو مقدم رکھ کر اخلاقیات و اصول کی دھجیاں اڑائیں تھیں مگر زبان سے مان کر نہیں دیا۔ بیٹا چار ہاتھ آگے نکلا اور ببانگِ دہل حب الوطنی اور مذہب کو بھی فروخت کرنے کا اعلان کردیا کہ ’کاروبار فرسٹ باقی بھرشٹ‘
ــــــــــــــــــــــ
۔۔۔‘
مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔۔۔
ہم جلتے کڑھتے ہی رہ گئے
اسی دوران ’امن کی آشا‘ جیسے ’میٹھے زہر‘ کا آغاز کر دیا گیا۔ غالباً اپنے ادارے میں ہم واحد تھے جو پہلے دن سے ’امن کی آشا‘ کے چولے میں چھپے زہر سے واقف تھے۔ ریاضی کے ساتھ ساتھ ہم نے جتنا جنگ جیو اور امن کی آشا کے خلاف طلبہ وطالبات کو لیکچر دیے ہیں شاید ہی کسی اور موضوع پہ دیے ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــ
آج سے تقریباً چالیس برس پہلے ایک امریکی مصنف نے ایک ناول لکھا تھا جس میں ایک ٹی وی چینل کا مالک اپنے اسٹاف سے تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے، ’ہمیں خبر کی صداقت سے زیادہ یہ دیکھنا ہے کہ سنسنی کیسے پھیلائی جائے تاکہ ناظر کرسی کے ہتھے سختی سے دبوچے ہوئے ٹی وی سے نظریں نا ہٹا سکے۔ جتنی سنسنی اتنی ہائی ریٹنگ، اور جتنی ہائی ریٹنگ اتنا زیادہ پیسہ‘
دیکھا جائے تو امریکی مصنف کا یہ چالیس سال پہلے کا منظر نامہ امریکی چینلز کے لئے تھا مگر آج ہمارے تمام چینلز نے اسے من و عن اپنایا ہوا ہے۔ اور جیو اس دوڑ میں صفِ اول پہ ہے۔
سنسنی خیزی وہ غلاظت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی ریٹنگ ابلتی ہے اور جتنی ابلتی ہے اتنی بدبو یعنی پیسہ دلاتی ہے۔
ایسے میں کوئی اس غلاظت پہ انگلی اٹھائے تو برا تو لگتا ہے نا۔۔۔۔ کیا ہوا اگر میر شکیل الرحمٰن نے سوشل میڈیا کو ’گٹر‘ کہہ دیا۔ بھیؔا! ’کانے‘ کو ساری دنیا ’کانی‘ ہی دکھائی دیتی ہے

Facebook Comments Box
سوشل میڈیاگٹر سوشل میڈیامیر شکیل الرحمان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آئی کیوز کی داستان (2) : لالہ صحرائی
next post
مضبوط فیصلے کیوں ضروری ہوتے ہیں۔ میاں ارشد فاروق

Related Posts

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.