کیامحض وفاقی محکمہ تعلیم کو بند کردینا تعلیمی زوال کاحل ہے؟
ٹرمپ کا فیصلہ اور جدید دنیا کی تعلیمی سمت۔ ۔ ۔ ۔ وحید مراد
تعلیم ہمیشہ سے ترقی اور قوموں کی فکری بلندی کا ذریعہ رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت(AI)کے اس دور میں جہاں دنیا بھر کےممالک اپنی تعلیمی پالیسیوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں وہیں امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کو ختم کر نے کا اعلان کیا ہے۔ ان کےبقول، تعلیم میں وفاقی مداخلت کی وجہ سے کمزوریاں پیداہوئیں اور خاص طورپر ریاضی کے مضمون میں طلبہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔
یہ فیصلہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا کسی ادارے کو مکمل طورپر ختم کردینا تعلیمی نظام میں بہتری لا سکتا ہے؟ کیا اس سے بد انتطامی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟ اصلاحات کیلئے ضروری ہے کہ مسائل کی جڑ تک پہنچا جائے اور سیکھنے کے عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیاجائے لیکن ٹرمپ کے اعلان میں وفاقی محکمہ تعلیم کو بند کرنے کےسوا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ کیا یہ واقعی تعلیمی انقلاب کی سمت میں ایک قدم ہے یا پسپائی کی علامت؟
اگر اس فیصلے کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ضروری ہے کہ ہم ان ممالک پر نظر ڈالیں جہاں تعلیمی اصلاحات کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
ایسٹونیا(Estonia) میں رواں سال بیس ہزار طلبہ اور تین ہزار اساتذہ کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی ٹولز متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ تدریس کو زیادہ موثر اور دلچسپ بنایا جا سکے۔ اس سے قبل Tiger Leap پروگرام کے ذریعے بھی تعلیمی ٹیکنالوجی میں جدت لائی گئی تھی اور اب اس روایت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
چین کے شہر بیجنگ میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو پرائمری سے ہائی اسکول تک لازمی قرار دیاجا چکا ہے۔ اس اقدام کا مقصدٹیکنالوجی میں چین کی بالادستی کو برقرار رکھنا اور طلبہ کو ڈیجیٹل مہارتوں میں عالمی مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
برطانیہ میں تدریسی انقلاب کے لیے مصنوعی ذہانت کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ Content Store کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جہاں مصنوعی ذہا نت سے ہم آہنگ تعلیمی مواد موجود ہوگا۔ وہاں اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے اساتذہ کے غیر تدریسی کاموں کو خود کار بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ تدریس پر مکمل توجہ دےسکیں۔
اگرٹرمپ واقعی تعلیمی انقلاب کا ارادہ رکھتے تو وہ صرف اختیارات کی منتقلی کے بجائے ایک جامع حکمت عملی پیش کرتے۔ ان کے فیصلے میں جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، AIاورتدریسی اصلاحات کے کسی موثر ماڈل کا ذکر نہیں۔ نہ ہی اساتذہ کی بہتری یا تدریسی مواد کو جدید بنانے پر کوئی توجہ دی گئی۔ صرف ریاستی کنٹرول کی تبدیلی، بجٹ میں کٹوتی اور وفاقی فنڈز کی تقسیم جیسے انتظامی معاملات زیر بحث آئے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں غریب اور پسماندہ طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ریاستوں کے پاس محدود وسائل کے باعث تعلیمی ناہمواری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کا تعلیمی نظام ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے۔
ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور تعلیمی کارکردگی کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں؛ روایتی تدریسی طریقے، رٹا سسٹم اور امتحانات پر غیر ضروری زور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے۔ تمام طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت یکساں نہیں ہوتی مگر نصاب اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے جس کی وجہ سےکئی طلبہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ریاضی کی تعلیم کو روزمرہ زندگی سے جوڑنے کے بجائے محض فارمولے رٹوانے کا رجحان عام ہے جس سے طلبہ کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ تعلیم میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ سیکھنے کے طریقے زیادہ موثر اور دلچسپ بن سکیں۔ ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی ضرورت ہےجہاں اساتذہ، طلبہ اوروالدین کے لیے انٹرایکٹو سوالات، وضاحتی ویڈیوز، اینیمیٹڈ خاکےاور خودکار تجزیاتی رپورٹس دستیاب ہوں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا تعلیمی ماڈل بنایا جاسکتا ہے جو ہر طالب علم کی سیکھنے کی رفتار، غلطیوں کے تجزیے اور والدین و اساتذہ کو خودکار رپورٹس بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ریاضی کو دلچسپ بنانے کےلیے اسے حقیقی زندگی کے مسائل سے جوڑنا ضروری ہے۔ مالیاتی منصوبہ بندی، کاروباری حکمت عملی، کھیل اور دیگر روزمرہ سرگرمیوں میں طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر تعلیمی مواد کو ڈیجیٹلائز کیا جائے اور کم لاگت میں معیاری سوالات، مشقیں اور وضاحتی ویڈیوز آن لائن دستیاب ہوں تو طلبہ اپنی تعلیم کہیں بھی اور کسی بھی وقت جاری رکھ سکتے ہیں۔
ریاضی کے استاد ہونے کے ناطے، میں نے کراچی کے مختلف اسکولوں میں تدریسی کمزوریوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ زیادہ تر طلبہ ریاضی کو صرف امتحانات کےلیے رٹنے پر مجبور ہیں جبکہ سیکھنے کا جوش و خروش کم نظر آتا ہے۔ اس کا بنیادی سبب تدریسی طریقوں میں جدت کی کمی اور جدید تعلیمی وسائل کا فقدان ہے۔
اسی احساس کے تحت، میں نے ریاضی کی تدریس میں اصلاحات کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرایکٹو لرننگ، اور طلبہ کی انفرادی ضروریات پر مبنی تدریسی ماڈلز شامل ہیں۔ میں نے اس سلسلے کا آغاز تعلیمی اصلاحات پر تحقیقی مضامین لکھنے سے کیا تاکہ اس مسئلے پر شعور اجاگر کیا جا سکے۔ اگلےمرحلے میں اپنے ادارے میں ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے اور دیگر تعلیمی اداروں کو بھی اس جانب متوجہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ ہمارا تعلیمی نظام زیادہ موثر، دلچسپ اور حقیقی زندگی سےمربوط بنایا جا سکے۔
تعلیم کسی فرد یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم اور دنیا کا مسئلہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتی ہے اور اس میں بہتری کےلیے جدید اور موثر تدریسی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ تعلیمی ادروں کے وجود کا نہیں بلکہ تدریسی طریقہ کارکا ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انٹرایکٹو لرننگ کے مواقع پیدا کئے جائیں تو یہی حقیقی تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یہ وہ پہلو ہے جو ٹرمپ کے فیصلے میں نظر نہیں آتا۔ محض انتظامی تبدیلیاں کافی نہیں ہوتیں، ایک جامع اور مربوط تعلیمی ماڈل کی تشکیل وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تصاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ جب تک پورے ملک میں ایسا تعلیمی ماڈل نافذ نہیں ہوجاتا کسی ادارے کو بند کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہاں اگر جدید اصلاحات مکمل ہوجائیں اور تعلیم ایک نئی سمت اختیار کر لے تو وہ وقت ضرور آسکتا ہےجب روایتی اسکول، کالج، جامعات اور تعلیمی بورڈز کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تب شاید تعلیمی محکمے کو ختم کرنا منطقی فیصلہ ہو کیونکہ تعلیم انڈسٹری کے بجائے ایک سماجی اور حقیقی سیکھنے کے عمل میں تبدیل ہو چکی ہوگی- جہاں بچے مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود سیکھیں گے اور اساتذہ اور والدین محض رہنمائی فراہم کریں گے۔ یہی حقیقی تعلیمی انقلاب ہو گا، جب تعلیم صرف ڈگریوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن جائے گی۔
