تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

تھر کا صحرا: حسن اور حزن کی داستان — مدثر ظفر

by ویب ڈیسک 08/06/2017
written by ویب ڈیسک 08/06/2017
94

اگر آپ کچھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہی سہی لیکن بجلی جیسی نعمت موجود ہے، اگر آپ کو تازہ بتازہ سبزیاں اور پھل میسر ہیں، اگر آپ کے پاس اپنی سواری ہے یا عوامی سفری سہولیات تک آپ کی رسائی ہے، اگر آپ نل کھول کر شہنشاہوں کی طرح نہاتے ہیں، سلوٹوں سے عاری استری شدہ لباس پہنتے ہیں، اگر آپ کے پاس سمارٹ فون ہے اور آپ دنیا سے رابطہ میں رہتے ہیں، معیاری تعلیمی ادروں تک رسائی رکھتے ہیں ایک کال پر ایمبولینس ٹیسکی رکشہ آپ کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں الغرض بنیادی ضروریات زندگی آپ کی دہلیز پر ہیں تو یقین جانئیے آپ ایک خوش قسمت انسان ہیں۔۔۔

مصنف: مدثر ظفر

ذرا رکیئے ایک لمحہ توقف کیجئے اور تصور کیجیئے اگر آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ایسے علاقہ میں پٹی کھولی جائے جہاں پانی پینے کو بھی بوندھ بوندھ ملتا ہو، بجلی دیوانے کا خواب ہو، ہسپتال آپ سے میلوں دور ہو اور اس تک رسائی کے لیئے سڑک ناپید، جہاں زمین ریتلی نا ہموار پر خار ہو اور آپ کو اس پیدل سفر کرنا پڑے، جہاں سبزی کبھی کبھی نصیب ہو، جہاں جنگلی درختوں کی پھلیاں بطور سبزی پکائی جاتی ہوں، جہاں روزانہ سوکھی پیاز کا سالن خوراک کا حصہ ہو اور گلا چھیلتی ہوئی باجرے کی سخت روٹی کے ساتھ معدہ میں اتارنا ہو، آپ دنیا سے الگ ہوں، اپنوں سے رابطہ کا ذریعہ نہ ہو لا محالہ آپ کو لگے گا کہ آپ پتھر کے دور میں آگئے ہیں، یقیناً یہ ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہو گا جسے آپ کبھی بھی حقیقت میں بدلنا نہ چاھیں گے۔

تھرپاکر ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں زندگی خود زندگی کی تلاش میں رہتی ہے۔اپنے شب روز ممبئی ایسے بارونق اورضروریات زندگی سے آراستہ شہر میں گزارنے والے سعادت حسن منٹو نے اگر تھر پارکر کی ریت پھانکی ہو تی تو یہ کبھی نہ کہتا کہ ممبئی وہ جگہ ہے جہاں میں نے اپنے مشقت کے دن گزارے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ ماحول کے حساب سے مشقت کے معنی ضرور بدل جاتے ہیں۔
پہلی بار تھرپارکر جاتے ہوئے میرے احساسات ایسے ہی تھے جیسے میں زندگی کی رونقوں سے دور جا رہا ہوں۔ایک ایسا خطہ جہاں کا کلچر میرے کلچر سے الگ ہے وہاں کی زبان رہن سہن کھانا پینا سب الگ ہوگا، جو جو کہانیاں سن رکھیں تھیں دل دھلا دینے کو کافی تھیں۔ ڈگری شہر تا نو کوٹ کے سرسبز علاقوں کے بعد ریت کا نہ ختم ہو نے والا سمندر میلوں پر محیط سڑک کے دونوں جانب بہ رہا تھا۔ بس ایک کے بعد ایک ٹیلوں پر چڑھتی اترتی تھی۔ان ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں چند جھونپڑیوں پر مشتمل گائوں نظر آجاتے۔ ضروریات زندگی لمحہ بہ لمحہ مجھ سے بچھڑ رہی تھیں۔ موبائل کے سگنل دم توڑ رہے تھے اور دل اس ویرانے میں دل لگی کی ہمت جٹا رہا تھا۔

تین سال کا عرصہ تھر پاکر کی ریت پھانکنے کے دوران احساس ہوا کہ میں معاشی طور پرغریب لیکن دل کے امیر لوگوں میں رہاہوں۔تھر کے لوگ تنگی حالات کے باوجود دل کشادہ رکھتے ہیں بالخصوص مہمان کے لیے دل و جان سے جو ہے جیسا ہے حاضر کرنے والے ہیں۔ مہمان کو بھگوان کا روپ سمجھ کر کھانے سے پہلے خود ہاتھ دھلا نے والے سچے لوگ۔ جہاں عورت حیاء کی مورت گھونگٹ نکالے پانی کے گھڑے سروں پر دھرے کنوؤں میں ڈول ڈال کر جب رسی کھینچتیں تو صحراء کے ویرانے میں جلترنگ بج اٹھتا، میرے لیے یہ بات ایک عرصہ تک معمہ بنی رہی کہ بعض عورتیں کلائی سے لے کندھے تک رنگ برنگی پلاسٹک کی چوڑیاں پہنے ہوئے ہیں جبکہ بعض صرف کہنی تک، ایک عرصہ بعد عقدہ کھلا لڑکی کے بالغ ہوتے ہی شلوار قمیض کی بجائے چولی گھاگرا پہنا دیا جاتا ہے۔ لڑکی جب تک کنواری ہے کہنی تک چوڑیاں پنے گی جب بیاہی جائے تب کندھے تک چوڑیوں سے لد جاتی ہے، یہ چوڑیاں اترنے کی دو ہی صورتیں ہیں ایک خاوند مر جائے دوجا موت ہی ان چوڑیوں کو تھری عورت سے جدا کرتی ہے۔ تھری عورت تھر میں صنف مخالف تو ہے صنف نازک نہیں۔ علی الصبح چکی پیسنے سے لیکر کھیتوں میں ہل چلانے جانوروں کا چارا بنانے پچے پیدا کرنے اور پالنے تک تھری عورت مجسم محنت ومشقت ہے۔ سب کو پکا کر کھلائے گی بچ گیا تو سب کے کھانے کے بعد کھائے گی۔ مر جائے گی دن کو چار پائی پر نہ بیٹھے گی گیا رہ سال کی بیاہی جائے گی پھر ہر سال بچہ جنے گی۔

میں ایسے دیس میں آ بسا تھا جہاں چوری لوٹ مار کا تصور نہ تھا لوگ اپنےجانور اور اوزار کھیتوں میں چھوڑ آتے۔ گھر کے گرد کانٹوں کی باڑ کے معمولی سے دروازے کو رسی سے باندھا ہو ا دیکھ کر آنے والا لوٹ جاتا، دروازہ رسی سے بندھا ہونا اس بات کا اشارہ ہوتاکہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔جہاں کی سبزی مصنوعی کھاد گٹر کے پانی زہریلی ادویات کے اسپرے سے پاک ہوتیں تھیں، تھر کی ان سبزیوں کا ذائقہ آج بھی میری زبان میں ہے، وہ دیس جہاں آج بھی دودھ بیچنا براسمجھا جاتا ہے۔ پرندوں کا شکار بڑا پاپ مانا جاتا ہے۔
بچوں کی شادیاں اپنے خاندان میں نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی رشتہ داریاں بہت وسیع ہو تی ہیں۔یہ لوگ بہت ذھین ہو تے ہیں تخلیقی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ تھرپارکر کی دست کاری جن میں اوڑھنے بچھونے کی اشیاء مور کے پروں سے بنائی گی مختلف اشیاء، مٹی کے برتن شامل ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پسند کیے جاتے ہیں ہنر میں اور مشقت میں یہ لوگ یکتا ہیں لیکن غربت و نامساعد حالات نیز فرسودہ معاشرتی روایات میں بندھے ان میں سے بہت کم ایسے جو زندگی میں کچھ بن جاتے ہیں ورنہ صدیوں سے تھرپاکر کی دھرتی ان گم نام لوگوں کا مدفن بنتی ہے۔

عمر رسیدہ لوگوں کے چہروں پر پڑی جھریاں بزبان حال تھر کی بے رحم زندگی کی داستان سنا رہی ہو تیں تھیں۔ تھر پارکر کی تلخ اور پر مشقت زندگی نے ان لوگوں کو بہت کچھ سکھایا ہے یہ لو گ اپنے پرائے جانوروں کے پیروں کے نشانات تک میں فرق کر سکتے ہیں، بغیر کسی گیجٹ کے ہوائوں کا رخ دیکھ کر موسم کا حال بتا دیتے ہیں، ایسے ہی ایک بزرگ سے میں نے دریافت کیا “کاکا اس سال بارش ہو گی” چند ساعتیں کو رے آسمان کو تکنے کے بعد اس نے گردن جھکالی جو مایوسی کا استعارہ تھی، گردن اٹھائی بولا اس سال ڈکال (قحط) پڑے گا ایسا ڈکال جو کئی سال پہلے پڑا تھا اس سال تھر کی دھرتی بارش کے پانی کو ترسے گی لوگ مریں گے جانور مریں گے، درخت سوکھ جائیں گے اور لوگ ہجرت کریں گے، فطرت کے میوزیم تھر کے دو گلدستے شیر خوار بچے اور مور اس قحط کی نذر ہو رہے ہیں مور تھر کا حسن ہے اور بچے تھر کا مستقبل۔ایک دن میں سات آٹھ شیر خوار تھری بچوں کے مرنے کی خبر کسی نیوز چینل کی بریکنگ نیوز بنے تو اے سے کے مصنوعی ٹھنڈے ماحول میں منرل واٹر کے گھونٹ بھرتے ارباب اختیار تھر کے قحط پر ہنگامی میٹنگ میں کیے گئے فیصلے فائلوں میں محفوظ کر کے ایسے ہی کسی اگلے سانحہ تک میٹنگ برخاست کر دیتے ہیں۔

Facebook Comments Box
تھر پارکرصحرامور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
شہر لہور اندر کنے بوہے تے کنیاں باریاں نے؟ فارینہ الماس
next post
آپ نے آکر پشیمانِ تمنا کر دیا – ذوالقرنین سرور

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.