تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری: یک چراغ آخریں — شاہد اعوان

by شاہد اعوان 24/04/2017
written by شاہد اعوان 24/04/2017
89

(24 اپریل، ڈاکٹر انصاری کی برسی کے موقع پر، ایک سال قبل لکھی گئی تحریر)


میرؔ نے کہا تھا

یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو  تو  انتظار  سا  ہے  کچھ

استاذ الاساتذہ محترم ظفر اسحق انصاری کا انتظار بھی ختم ہوا۔
چند روز قبل اپنے عزیز دوست –اور مجھے عزیز تر– ڈاکٹر ممتاز صاحب کی رحلت کے بعد ان کا یہ انتظار گویا اپنے دوست سے ملنے کا انتظار ہوگیا تھا۔
ممتاز صاحب کے انتقال کے بعد انصاری صاحب نے گفتگو کرنا تقریباً ترک کردیا تھا۔ شاید سوچتے ہوں اب دوست سے ملاقات پہ سب باتیں ہوں گی۔ انصاری صاحب! آپ نے تو محفل سجالی ہوگی، ہماری زندگی سونی ہوگئی۔
ایک دوست نے آج خبر سناکر جنازے میں جانے کو پوچھا تو لگا کہ زندگی یکلخت کسی گہرے سناٹے میں ڈوب گئی:

تو نے پوچھا، درد میرے دل کا دُونا ہوگیا

یاد پڑتا ہے کہ انتقال سے کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر ممتاز صاحب نے اپنی مرتب کردہ آخری کتاب کا انتساب انصاری صاحب کے نام کرتے ہوئے مصرعہ لکھا:

شاخ گل میں جس طرح باد صبحگاھی کا نم

مجھ سے کہنے لگے اسے جلی حروف میں لکھنا۔ پھر بہت دیر تک زیر لب یہ مصرع دُہراتے رہے اور میری جانب اپنے حسن انتخاب کے لیے داد طلب نظروں سے دیکھتے رہے۔ میں ان کی آنکھوں میں اترتے حزن اور لہجے کی گھمبیرتا کی تاب نہ لاتے ہوئے سر جھکائے داد دیتا رہا۔ اُس لمحہ یہ نم مجھے ان کی آنکھوں میں نظر آیا، ہاں! اب یہ میری چشم گریاں کا نصیب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامعلوم، زندگی کی رفتار تیز ہوگئی ہے یا میرا احساس شدید۔  چراغ ہیں کہ بجھتے جارہے ہیں۔
کیسی گھنی، چھتناور، علم و حلم کی منتہی شخصیت تھی۔ مسلم برصغیر کے قدیم و جدید کے امتزاج کی پوری تہذیبی روایت اپنے اندر سموئے ہوئے، کم آہنگ مگر بلند قامت۔ یک پیکرِ اخلاص و تلطف، یک منارہِ شفقت و انسیت۔
انصاری صاحب سے میری ملاقات تو کم کم رہی مگر تاثر گہرا۔ مولانا ظفر انصاری کے فرزند، خود بحر علم کے شناور، بلند پایہ مصنف۔ بیک وقت پانچ چھ زبانوں پر عبور اور دنیا کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں تعلیم و تعلم۔ مشرق و مغرب کے علمی سرچشموں سے فیض یابی نے –زمانے کے چلن کے برعکس، ان کے انکسار میں اضافہ ہی کیا۔
تصنیف اور مطالعہ محاورتاً نہیں، حقیقتاً ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ہمہ گیر علمی ذہن اور رچا ہوا ذوق، اس پہ حلاوت اور شیریں سخنی۔ ان خصائل کے اس امتزاج کے ساتھ ہی ایسی تہذیبی شخصیت وجود میں آسکتی تھی۔ میری خوش بختی کہ ان کے زمانہ کو پاسکا۔ بالواسطہ اور براہِ راست بھی ان سے اکتساب فیض کا کچھ موقع ملتا رہا۔
اپنے علمی مشاغل کے دوران میں آنے والے ہر قسم کے ملاقاتیوں سے یکساں خندہ پیشانی سے پیش آتے۔
گاہے قریبی دوستوں میں قہقہہ بار دیکھا تو معلوم ہوا کہ خندہء عالِم کا قرینہ کیا ہوتا ہے۔
اپنی ذات میں ادارہ، انصاری صاحب جیسی شخصیت ہی خود سے وابسطہ کسی ادارہ کو معاشرہ میں وہ مقام دیتی ہے جوہمیشہ کے لیے اس کا تعین کردیتا ہے۔ ہاں وہ بھی ایسی ہی نادر روزگار شخصیت کے مالک تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی میں قائم اور ایستادہ کوئی زیست آور شخصیت چلی جاتی ہے تو اپنے ساتھ ہماری زندگی کا کچھ حصہ بھی لے جاتی ہے۔ میرے لیے بھی ان دونوں احباب کے باب میں یہی معاملہ ہوا۔
رشید احمد صدیقی نے لکھا تھا کہ ”مدت حیات کا حساب مہ و سال کے گذرنے سے ہی نہیں کرتے، عزیزوں کی مفارقت سے بھی کرتے ہیں۔ وہ اٹھالیے جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ختم ہوگئی۔ زندگی خود اپنی زندگی سے اتنی عبارت نہیں ہوتی جتنی عزیزوں کی زندگی اور خوشی سے ہوتی ہے۔ یہ نہیں تو زندہ رہنا اور نفس کے مطالبے پورا کرتے رہنا ایک مسلسل بے غیرتی اور بڑھتی ھوئی تنہائی اور تاریکی ہے، جس کو نہ چھپاسکتے ہیں نہ اس سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسے حق بجانب بھی نہیں قرار دے سکتے۔“
انصاری صاحب اپنی نسل کے آخری چراغ تھے، اب ہماری دنیا کی تاریکی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
لیجیے پھر میر یاد آئے:

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
ساتھ اس کاررواں کے ہم بھی ہیں

 

 

Facebook Comments Box
Zafar Ishaq Ansariخاکہظفر اسحق انصاریوفیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
شاہد اعوان

previous post
پانامہ فیصلہ: کس کا یقین کیجیئے، کس کا یقیں نہ کیجیئے
next post
کیا ظفر اقبال صاحب اب بس کر دیں گے؟

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.