تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

پانامہ فیصلہ: کس کا یقین کیجیئے، کس کا یقیں نہ کیجیئے

by ویب ڈیسک 23/04/2017
written by ویب ڈیسک 23/04/2017
69

کس کا یقین کیجیئے، کس کا یقیں نہ کیجیئے

لائے ہیں اس کی بزم سے یا ر خبر الگ الگ
فیصلہ آگیا۔۔میڈیا نے اس طرح شور مچایا جیسے شیر آیا شیر آیا ( یہاں نون والے شیر کا ذکر نہیں حالانکہ اس کیس میں نون بھی ایک فریق ہے)۔اللہ ہی جانتا ہے ، کیا میڈیا والوں کی فیملی انہیں ان کے بھانڈ پن پر نہیں ٹوکتی۔۔فیصلے آتے رہتے ہیں لیکن اس طرح کائونٹ ڈائون !!! دو بجے سے پہلے اس طرح الٹی گنتی دکھائی۔پانچ، چار ، تین ، دو، ایک۔ صفر۔۔۔ جیسے راکٹ داغا جا رہا ہے یا خلائی شٹل کی روانگی ہو رہی ہے۔۔عدالت نے بھی کمال کردیا کہ دو دن پہلے سے پبلسٹی شروع کردی’ ’فیصلہ سالہا سال یاد رکھا جائے گا‘‘۔۔ یہ بالکل اس طرح تھا جیسا فلموں کو کامیاب کرنے کے لیئے اشتہار بازی۔۔انتظامیہ نے بھی نمبر بنانے شروع کردیے۔۔ اتنے پولس والے ہونگے۔۔ کون کونسی شاہراہ بند ہو گی۔۔ خاردار تار۔ریڈ زون۔ ریڈ الرٹ۔۔داخلہ پاس۔۔شناختی کارڈ۔۔کون سے عدالتی کمرے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔۔ ہال میں کتنی گنجائش۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔
بس یہ صورت تھی ؎ انوکھی کا تیتر، اندر باندھوں کہ بھیتر
ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی انوکھا کام ہونے جا رہا ہے ۔پہلی بار کوئی فیصلہ ہو رہا ہے۔۔فریقین نے بھی کہنا شروع کردیا کہ عدالتی فیصلے کو من و عن مانیں گے۔
لو جی فیصلہ آگیا۔۔ دونوں فریق جیت گئے۔۔پتہ ہی نہیں چل رہا ، ہارا کون؟ ۔۔ من و عن ماننے کی بجائے ،سب اپنے اپنے طور پر تشریح کر رہے ہیں۔دونوں فریق مٹھائی کھا رہے ہیں۔ مبارک بادیاں وصول کر رہے ہیں۔عوام کیا؟۔ہماری خود سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون سرخرو ہوا کون رسوا۔نہ دودھ کا پتہ چل رہا ہے نہ پانی کا۔ اس لیئے سوچا خود فیصلہ پڑھ لیں۔۔ فیصلے کی ’’PDF‘‘ فائل سامنے رکھی ہے لیکن ’’549‘‘ صفحات کو کھولنا بھِڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔۔کیوں کہ ان کو پڑھنے کے بعد ہماری بے لاگ رائے کا احترام کون کرے گا۔۔ پھرزیادہ سے زیادہ ایک کالم لکھ دیں گے جو پتہ نہیں شائع ہو گا یا ضائع۔۔ تو کیوں وقت ضائع کریں۔
فیصلے سے پہلے اور بعد۔کوئی فرق نہیں نظر نہیں آرہا ۔سب کچھ ویسا ہی ہے۔صرف میڈیا کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا ہے۔۔کئی روز کا دال دلیا ہو گیا بلکہ مٹن پلائو ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے جغادری مبصرنئی نئی چھوڑ رہے ہیں۔۔ پیشن گوئیوں میں کچھ خرچ نہیں ہوتا۔۔اگر تکّا لگ گیا تو رکارڈڈ وڈیو دکھا کر اپنی ساکھ بنائیں گے۔۔ورنہ ذکر ہی گول کردیں گے۔
ہماری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا کہ آنکھوں والے تو تصویر کے دو رخوں میں سے اپنی اپنی طرف کا رخ دیکھ لیتے ہیںلیکن یہ اندھا قانون دو رخ کیسے دیکھتا ہے۔پانچ میں سے تین کو جو دکھائی دیا وہ دوسرے دو کو نہیں دکھا۔۔کہیں یہ بھی ہاتھی کو ٹٹول کر تو نہیں پہچانتے ہیں۔
قانون ایک ۔استغاثہ کا موقف بھی وہی،صفائی کے وکلا کے ثبوت بھی وہی تو سننے والے ججو ںمیں اختلاف کیوں؟
ہماری حد تک ہمیں ایسے فیصلوں سے بڑا فائدہ ہو تا ہے۔ ماضی میں بھی ایک ججمنٹ میں فاضل جج نے لبنان کے خلیل جبران کی ایک نظم کا زکر کیا تھا اور ہمیں شرمندہ کردیا تھا کہ خلیل جبران کو ہم نے اتنی گہرائی سے کیوں نہیں پڑھا اور اس نظم نے ہمیں کیوں متاثر نہیں کیا جبکہ جج صاحب کے بتانے پرنظم نے اتنا متاثر کیا کہ ہم نے نہ صرف ایک کالم ، ’’جبران، جسٹس اور قابل ر حم قوم‘‘ لکھ مارا بلکہ اس کالم میں قابل رحم قوم کے حوالے سے کچھ اضافے بھی کر دئے تھے۔
آج کے اس فیصلے میں بھی ہمارے لیئے شرمندگی کا سامان اور اس ’’زیر تحریرکالم ‘‘کے لیئے مواد موجود ہے۔ ہم نے ماریو پیوزو کی گاڈ فادر(MARIO PUZO’s GOD FATHER) کئی بار پڑھی لیکن اس کوٹ (Quote)“Behind every successful fortune there is a crime.” ۔ پر توجہ نہیں دی جس کا زکر فاضل جج نے اپنے فیصلے میں کیا ہے۔ہمیں اپنی کوتاہ بینی پر افسوس ہو رہا تھا کہ ہم نے اس جملے کو کیوں نظر انداز کیئے رکھا جس کو فاضل جج نے نہ صرف فیصلے کا حصہ بنا دیا بلکہ اس جملے کے اصل فرینچ خالق’’Honoré de Balzac‘‘ کا بھی ذکر کرکے اپنی علم دوستی کی دھاک بٹھادی۔لیکن غور کرنے پر سمجھ آئی کہ ہم نے کیوں اسے قابل توجہ نہیں سمجھا تھا۔ دراصل ہمیں اس کہاوت سے اختلاف تھا کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ ہر کامیابی کے پیچھے کوئی ’جرم‘ ہوتا ہے۔۔اگر کوئی کامیاب جج ، ڈاکٹر، انجینئریا بزنس میں ہے تو کیا اس کی کامیابی کسی جرم کی مرہون منت ہو تی ہے۔
اگر فیصلے میں کچھ کوٹ کرنا ضروری تھا تو ہماری نظر میں گاڈ فادر سے یہ کوٹ زیادہ بہتر ہوتا
’’“The lawyer with the briefcase can steal more money than the man with the gun.”

Facebook Comments Box
پانام لیکسپانامہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
اگر تم نہ ہوتے: رشتہ دار ۔۔۔ شکور پٹھان
next post
ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری: یک چراغ آخریں — شاہد اعوان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.