تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

کیا ظفر اقبال صاحب اب بس کر دیں گے؟

by ویب ڈیسک 24/04/2017
written by ویب ڈیسک 24/04/2017
161

پاکستان بننے کے بعد اردو شاعری کے نئے لہجے سامنے آئے۔ ان توانا آوازوں میں ایک رعب دار آواز سلیم احمد کی تھی۔ یہ لہجہ کئی لوگوں نے اپنانے کی کوشش بھی کی ، ایک نام جن میں سے معروف شاعر ظفر اقبال کا بھی ہے۔ لفظ اور زبان کے ساتھ انہوں نے بہت تجربے کیے۔ ان تجربوں میں بہت سا رطب و یابس بھی ان کی شاعری میں در آیا مگر مجموعی طور پہ ان کا تجربہ کامیاب ہوا اور سراہا گیا۔ وہ بنجر زمینوں میں سے شعر نکال لاتے، انوکھی باتیں کہہ جاتے اور سبھی پڑھنے والوں کو حیران کرتے رہتے۔ حیران کرنے کا سلسلہ تو اب بھی جاری ہے اور آج کل سب سے زیادہ حیران کچھ کل کے لونڈے ہو رہے ہیں مگر کچھ عجب طرح سے، تذکرہ جس کا آخر میں ہو گا۔ پہلے ظفر اقبال صاحب کے دو چار شعر دیکھئے ۔

دل سے باہر نکل آنا مری مجبوری ہے
میں تو اس شورِ قیامت میں نہیں رہ سکتا
َـــــــ
اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں
رات بھر بارش تھی ، اس کا رات بھر پیغام تھا
ــــــ
وہ بہت چالاک ہے لیکن اگر ہمت کریں
پہلا پہلا جھوٹ ہے اس کو یقیں آ جائے گا
ـــــــ
یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تُو نہ ملا
ـــــــ
کیا خبر جس کا یہاں اتنا اڑاتے ہیں مذاق
خود ہمیں بھی کبھی اس رنگ میں ڈھلنا پڑ جائے

یہ اشعار تو کچھ پرانی یادیں ہیں ان دنوں مگر ظفر صاحب کا کام کالم لکھنا رہ گیا ہے۔ کالم میں روز ایک نیا مقطع یا مطلع ضرور شائع کرتے ہیں۔ معنی وغیرہ کی زیادہ فکر نہیں کرتے۔ بحر کوپاٹنے کے لیے جو الفاظ بھی مل جائیں لے آتے ہیں اور جوڑ جوڑ کر ایک عدد مقطع یا مطلع لکھ لیتے ہیں۔ کبھی کبھار جس غزل کا مطلع وہ شائع کرتے ہیں اس کا مقطع اگلے دن کے کالم میں شائع کر دیتے ہیں۔ جس سے یہ خوش گمانی پیدا ہوتی ہے کہ باقی غزل بھی وہ ضرور کہتے ہوں گے۔ کالم میں مقطع یا مطلع سے پہلے جو شے وہ لکھتے ہیں اس میں یکجائی ضروری نہیں۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ کسی شریر لونڈے کے ہاتھ ریڈیو پکڑا دیا ہے جو سٹیشن پہ سٹیشن بدل رہا ہے اور کسی بھی سٹیشن سے کوئی مکمل بات سننے کو نہیں ملتی۔ (ٹیلی ویژن کے ریموٹ کی مثال بھی دی جاسکتی تھی مگر وہاں مسئلہ یہ ہے کہ سارا پروگرام سن کے بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ بات دراصل کیا تھی پس مجبوری میں ریڈیو کی مثال دی ہے) ۔ نئے شعراء کو متعارف کروانے ، ابھرتے ہوئے شاعروں کو مزید ابھارنے کی ذمہ داری وہ مستقل نبھارہے ہیں۔
ان کے ہاں کالم لکھنے کی دو ترکیبیں ہیں۔
پہلی ترکیب: اس ترکیب کے تحت لکھے گئے کالم کے عنوان میں ظفر صاحب سرخیاں اور متن کا عنوان اکثر اختیار کرتے ہیں اور “ٹوٹے” تو ان کا پسندیدہ لفظ ہے جو اس ترکیب کے تحت لکھے گئے کالم کے عنوان میں جگہ پانے کے ساتھ ساتھ کالم کی ترتیب میں بھی ہاتھ بٹاتا ہے۔ ایسے کالم کی ترتیب کچھ یوں ہوتی ہے۔ تین یا چار سیاسی خبریں مع عنوانات۔ کسی شاعر/ادیب کی کتاب کا تذکرہ ، جو شاعر نے اسی مقصد کے لیے بھیجی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادب نوازی کی جو داد ظفر صاحب پاتے ہیں وہ الگ۔
دوسری ترکیب: کبھی کبھی اپنی قدرتِ تحریر کا مظاہرہ کرنے کے لیے وہ کالم کے عنوان سے لے کر مطلع/مقطع تک ایک ہی تحریر بھی عنایت کر دیا کرتے ہیں۔ یعنی اس میں ٹوٹوں کی بجائے ایک ہی موضوع پر تحریر ہوا کرتی ہے۔ یہ موضوع سیاسی بھی ہو سکتا ہے مگر زیادہ تر یہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی شاعر اپنی نئی چھپنے والی کتاب انہیں بھیجتا ہے۔ ظاہری بات ہے اس نوعیت کی کتب کاکالم میں تذکرہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے دینا یا اپنے قلم سے کوئی جملہ لکھنا مناسب نہیں سمجھتے۔ مثال کے طور پہ 23 اپریل 2017 کو انہوں نے علی اکبر ناطق کی نظموں کی کتاب پہ کالم لکھا ہے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بتایا ہے کہ یہ کتاب کس شاعر کی ہے اور اس کی کیا قیمت ہے نیز کس ادارے نے چھاپی ہے۔ اس کے بعد بیک ٹائٹل پہ چھپی شمس الرحمان فاروقی اور زیف سید کی آراء من و عن نقل کر دی ہیں۔ پھر اسی کتاب سے ایک مکمل نظم نقل کر کے کالم ختم کر دیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بعض قارئین یہ سوال کریں گے آخر اس کالم میں ظفر صاحب نے خود کیا لکھا ہے تو جناب! بات یہ ہے کہ اپنی طرف سے کوئی بھی جملہ نہ لکھنے کا باعث یہ ہے کہ ظفر اقبال صاحب ایک نقاد بھی ہیں اور کتاب کے بارے میں ناقدانہ رائے تو کسی ادبی رسالے ہی میں شائع کروائی جا سکتی ہے۔ بغیر کوئی ذاتی جملہ لکھے، کالم لکھ دینے کے دو فائدے ہوئے ۔ ایک تو نئی کتاب کا تذکرہ اور اردو ادب کو فروغ ہو گیا اور دوسرا یہ کہ ظفر اقبال جیسے نقاد کی ذاتی رائے محفوظ رہی۔ اسی قبیل کی اور بہت سی خوبیاں ہیں جو ان کا کالم پڑھے بغیر تصور بھی نہیں کی جا سکتیں۔ مثال کے طور پہ ظفر صاحب ایک انتہائی دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں۔ ایک روز کیا ہوا کہ ان کے بیٹے یعنی آفتاب اقبال کے ملازم قاسم عرف لڈو نے ان سے فرمائش کر ڈالی کہ آپ ہر ایرے غیرے ادیب پہ کالم لکھ ڈالتے ہیں مگر مجھ غریب پر ایک کالم بھی نہیں لکھا۔ یہ سن کر ظفر صاحب جیسے حساس انسان کا دل بھر آیا اور انہوں نے جس خوبصورتی کے ساتھ اپنے گھریلو ملازم کا دل ٹوٹنے سے بچایا وہ کچھ انہی کا حصہ ہے ،آئیے انہی کی زبانی سنیے:
” ۔۔۔کئی دن سے موصوف (یعنی ملازم) کا اصرار تھا کہ آپ ہر روز کالم لکھتے ہیں، میں جو اتنی خدمت کر رہا ہوں تو چند سطریں مجھ پر لکھ دیں۔ چند ماہ پہلے موصوف کی شادی ہوئی ہے شاید اسی لیے وہ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی لاڈلا بنا کر پیش کر رہے ہیں جب کہ موصوف میں کوئی ایسی صفت نہیں ہے کہ ان کو کالم کا موضوع بنایا جا سکے۔ تاہم ان کی دلیل یہ ہے کہ آپ جو شاعروں ادیبوں پر اتنے صفحے کالے کرتے رہتے ہیں اس کا کیا فائدہ اور مجھ پر ایک کالم لکھنے میں کیا نقصان ، وغیرہ وغیرہ۔ آپ میرے بھی چھوٹے موٹے مسئلے حل کرتے رہتے ہیں اس لیے وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کم از کم کالم میں ان کا ذکرِ خیر تو ہو جائے۔ چنانچہ میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں اور یہ معلوم کرنے میں ناکام رہا ہوں کہ آیا ان میں واقعی کوئی خوبی ایسی بھی ہے کہ ان کا ذکرِ خیر کا کوئی جواز ہو سکے۔ اس لیے فی الحال معذرت۔ ” دیکھا آپ نے ظفر صاحب کا حسنِ معذرت۔
لیجئے جناب ! ظفر صاحب کی کالم نگاری کا ادھورا سا تذکرہ تو ہو گیا مگر اب بات ہو جائے کچھ نکتہ چینوں کی جو سارے کے سارے کل کے لونڈے ہیں۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال صاحب تخلیقی طور پر برسوں قبل ریٹائر ہو گئے تھے مگر مان کے نہیں دے رہے۔ خانہ پری کی شاعری اور خالی خولی بزرگی کے زور پہ لکھے بلکہ جوڑے گئے کالم سے وہ سوائے اپنا نام خراب کرنے کے کچھ نہیں کر رہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ظفر صاحب کے تخلیقی عہدِ شباب کی شاعری یہ نوجوان ملاحظہ کر چکے ہیں اور اس کے مداح بھی ہیں۔ مگر ان نوجوانوں کا ایک مشترکہ سوال ہے کہ اب آرام کے دنوں میں بھی کالم نگاری و قطعہ نگاری کی ضد باندھ کے آخر ظفر صاحب کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اپنی ضد چھوڑ کر وہ کالم نگاری سے توبہ کر لیں گے؟ شاید کبھی ظفر صاحب کے ذہن میں بھی یہ سوال آتا ہو گا۔

Facebook Comments Box
شاعرکالم نگار
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری: یک چراغ آخریں — شاہد اعوان
next post
پہچان: لاجواب اور چنے ہوئے لوگ

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.