قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہوں اوروہ اپنی رائے آزادانہ طورپر پیش کر سکے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں حکومت اورادارےعوام اور قانون کے سامنے جوابدہ ہوں۔ مگر آج کے ماحول میں جب حکومت، اداروں یا بااثر شخصیات کے کسی فیصلے یا اقدام پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو اسے فتنہ، بغاوت یا گمراہی قرار دے دیا جاتا ہے۔
آزادی اظہار کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی قدر ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں حکومت اور اداروں پر تنقید کرنا عوام کا حق ہے کیونکہ اس سے احتساب کا عمل مضبوط ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق ہر شخص کو آزادیٔ رائے اور اظہار کا حق حاصل ہے، جب تک کہ وہ دوسروں کے حقوق یا ریاستی استحکام کو نقصان نہ پہنچائے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 بھی ہر شہری کو آزادیٔ اظہار کا حق دیتا ہے، البتہ بعض قانونی حدود کے ساتھ تاکہ نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے یا ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے بیانیے کی روک تھام کی جا سکے۔
کسی بھی جمہوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری اپنےعوام کو تحفظ، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنا ہوتی ہے۔ اگر حکومت اپنے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کرے، ان کے سوالات کو فتنہ قرار دے یا اختلاف رکھنے والوں کے لیے حالات مشکل بنا دے تو یہ جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔
ریاست کے تمام ادارے، بشمول فوج، عدلیہ، اور بیوروکریسی، عوام کی خدمت کیلئے بنائے جاتے ہیں نہ کہ عوام کو دبانے کیلئے۔ جب کوئی شہری یا عوامی نمائندہ کسی پالیسی پر سوال اٹھاتا ہے تو اسےدلیل، مکالمے اوروضاحت کے ذریعے جواب دینا زیادہ موثر ہوتا ہے نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور جبر وقتی طور پر کسی آواز کو خاموش کر سکتے ہیں مگر یہ ہتھکنڈے دیرپا نہیں ہوتے۔ اگر کسی حکومت کو اپنے اقدامات پر تنقید کا سامنا ہے تو اسے عوام کی آواز دبانے کے بجائے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
وقت ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا بیانیہ حقیقت پر مبنی تھا اور کس نے قوم کے مفاد میں کام کیا۔ عوامی شعور اور مکالمے کے ذریعے ہی سچ اور جھوٹ میں تمیز کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی بیانیے کو انتشار یا گمراہی قرار دیا جا رہا ہے مگر عوام کی بڑی تعداد اسے حقائق پر مبنی سمجھتی ہے تو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اس پر مدلل بحث ہونی چاہیے تاکہ درست اور غلط میں واضح فرق کیا جا سکے۔
آج ہمیں ایک ایسے معاشرتی رویے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور اختلاف رائے کو عزت دی جائے۔ اگر حکومت اور ادارے عوام کے سوالات کا سامنا دلیل اور شفافیت کے ساتھ کریں تو اس سے نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ قومی اتحاد اور استحکام میں بھی اضافہ ہوگا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اکثر وہی قوتیں فتنے کا شور مچاتی ہیں جو خود اس کا سبب بنتی ہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں سچائی دب جاتی ہے، حقائق مسخ ہوجاتے ہیں اور ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
یہ طرز عمل صرف پاکستان ہی نہیں دیگر کئی ریاستوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جب بھی کسی قوم سے سوالات اٹھانے کی آزادی چھین کر بنیادی حقوق محدود کئے جاتے ہیں تو وہاں ترقی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ اگر کسی پالیسی یا اقدام میں شفافیت ہے تو پھر تنقید سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟
معاشرتی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہم فتنہ اور اختلاف میں فرق کریں۔ تعمیری تنقید اور مکالمہ اصلاحات کا عمل ہے۔ اصل فتنہ وہ ہوتا ہے جب طاقت کا بےدریغ استعمال کرکےکسی بھی سچ کو دبانے کی کوشش کی جائے، اختلاف کرنےوالوں پر غداری یا ملک دشمنی کے الزامات لگائے جائیں اور جب دلیل کی جگہ زور زبردستی کو فوقیت دی جائے۔
ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا اور ہر اختلاف رائے سازش نہیں ہوتی۔ زندہ قوم وہی ہوتی ہے جو مکالمے کو فروغ دیتی ہے، اپنے مسائل پر کھل کر بات کرتی ہے اور سچائی کو دبانے کے بجائے اسے قبول کرتی ہے۔
حکومت اور ادارے چاہتے ہیں کہ عوام ان پر اعتماد کرے تو انہیں سوالات اور تنقید کو کھلے دل سے سننا ہوگا۔ سوالات سے بچنے کے بجائے ان کا مدلل جواب دینا ہوگا۔ جو قومیں سچ کو تسلیم کرنے اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں وہ بالآخر زوال پذیر ہوجاتی ہیں۔
اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں؟ ایک ایسا جہاں دلیل، منطق اور مکالمے کی گنجائش ہو یا ایسا جہاں اختلاف رکھنے والے کو فوراً فتنہ گر قرار دیا جائے؟ حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم کھلے مکالمے کی فضا پیدا کریں کیونکہ اختلاف رائے ہی وہ روشنی ہے جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ (۔۔۔ جاری ہے)
آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ بیانیہ اصل میں ہے کیا ؟ جس کی اتنی مخالفت ہو رہی ہے۔ یہ بیانیہ بنیادی طور پر تین نکات پر مشتمل ہے؛حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بدعنوان اور ظالم ثابت کرنا، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانا اور عوام کو ‘حقیقی آزادی’ کے لیے متحرک کرنا۔
یہ بیانیہ پاکستان کے سیاسی اور قانونی ڈھانچے کو ایک بڑے چیلنج میں ڈال چکا ہے۔ اگر یہ بیانیہ زہریلا اور گمراہ کن ہے یا اسے پیش کرنے والے ملک و قوم سے غداری کر رہے ہیں تو حکومت اور ریاستی اداروں کو چاہیے تھا کہ قانون کے مطابق انکے خلاف کیسز کریں اور عدالت میں ان کا موقف غلط ثابت کریں۔ جہاں ان کے خلاف سینکڑوں دیگر کیس بنائے گئے ان میں ایک اور کا اضافہ کرنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ لیکن حقیقت میں، حکومت اور ادارے زیادہ تر سیاسی ہتھکنڈے، گرفتاریوں اور میڈیا بلیک آؤٹ پر انحصار کر رہے ہیں، جو ان کے موقف کو کمزور بناتا ہے۔
اگر یہ بیانیہ زہریلا نہیں تو پھرحکومتی حلقے اسے گمراہ کن کیوں قرار دیتے ہیں؟ اسکی بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ یہ بیانیہ اور اسکا خالق رہنما، عام آدمی کےجذبات اور شکایت کو زبان دیتے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے غیر مقبول اقدامات کو بھرپور انداز سے اجاگر کرتے ہیں جس سے حکومت مخالف جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس بیانیے کی زبان سخت اور نوعیت جارحانہ ہے اور یہ مخالفین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس میں فوجی قیادت اور عدلیہ پر بھی کھلے عام تنقید کی جاتی ہے جو پاکستان میں ایک غیر معمولی عمل ہے۔
حکومت، اتحادی جماعتیں اور ادارے عوام کو اپنی کارکردگی سے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ بیانیہ ان کی کاغذی کاروائی کے پول مزید کھولتا ہے اس لئے وہ اسے فتنہ اور انتشار قرار دے کر رد کرتے ہیں لیکن قانونی طریقے سے چیلنج نہیں کرتے۔ جب وہ سیاسی داؤ، پیچ، میڈیا کنٹرول اور ریاستی طاقت کا سہارا لیتے ہیں تو ان کی مقبولیت مزید کم ہوتی ہے۔
اس وقت پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں کون درست ہے اور کون غلط بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ سیاسی جماعتیں اور ادارے اپنی ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔ عوام کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کے لیے غیر جانبدار ذرائع نہیں دیے جاتے۔
