تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

الطاف حسین حالی اور مقدمہ شعر و شاعری  — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 25/09/2023
written by محمد حمید شاہد 25/09/2023
264

الطاف حسین حالی کا نام آتے ہی ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ اور ’’مدوجزر اسلام‘‘ کا یاد آجانا یقینی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں کے حوالے سے طنز کے تیر چلائے جاتے ہیں مگر دونوں کا معاملہ ایسا ہے کہ انہیں سو سوا سو سال ہو چلے ہیں طاق نسیان کے حوالے کرنا ممکن نہیں ہوا۔ یوں تو حالی کو یاد کرنے کے اور بھی حوالے ہیں مگر ہمیں حالی کی ان دو جہتوں نے ہی یوں اُلجھا رکھا ہے کہ ادھر دھیان کم کم جاتا ہے۔ مثلاً ہمیں حالی کی غزل دشمنی یاد رہ جاتی ہے مگر غزل سے حالی کی اولیں محبت ہم بھول جاتے ہیں۔ جی غزل سے محبت کرنے والے حالی کا کہنا ہے:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

اور۔۔۔۔۔۔

سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ
حوصلہ کیا ہے تماشائی کا

اور یہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وصل کا اس کے دلِ زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے

            یہ جو خوب سے خوب تر کی تلاش تھی جو الطاف حسین حالی کو شاعری کا مقدمہ لکھنے کی طرف لے گئی ہے۔ حالی اس طرف گئے اور اپنے سارے مخمصوں کے ساتھ گئے۔ شیفتہ اور غالب کی صحبت میں اپنی شاعری کے ذوق کو نکھارنے والے حالی کا تصور شعر خام نہیں تھا، وہ جو بعد میں اعتراضات کی دھول اس باب میں اڑائی گئی یوں لگتا ہے، بہت عرصہ تک اس میں حالی جو بات کہنا چاہتے تھے وہ نظروں سے اوجھل رہی۔ مگر اب شاید ایسا وقت آگیا ہے، ہم جان سکیں کہ حالی کی نظر سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی تھی تو وہ پردے کون سے تھے اور اگر وہ شعر کے اندر ایک اور سطح پر ایسے اوصاف کے وصل کی تمنائی ہوگئے تھے، جو شعر کو نیا اور تازہ کر سکتے تھے تو کیا ان اوصاف کو یکسر جھٹلایا جا سکتا ہے۔

            یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حالی کا دیوان ۱۸۹۳ء میں چھپا تھا اور ’’مقدمہ شعروشاعری‘‘ پہلی بار اس دیوان کا ہی حصہ تھا تاہم تب سے اب تک یہ الگ ہو کر لگ بھگ ساٹھ ستر مرتبہ چھپ چکا ہے۔ یہ جتنی بار چھپا اتنی بار ہی بہ قول محمد حسن عسکری اس کی تعریفیں ہوئیں اور اسے گالیاں پڑیں اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔

            چلیں، مان لیا کہ حالی نے مقدمہ کی صورت جو اصول لکھے، مغرب سے مستعار تھے تاہم ایسا کہتے ہوئے ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ نئی تنقید تک آتے آتے اس باب میں ہم بہت کچھ مغرب سے ہتھیا چکے ہیں۔ کیا یہ حالی کی عطا نہیں ہے کہ عین ایسے زمانے میں؛ جب تذکرہ نگاری کو تنقید سمجھا جا رہا تھا، مقدمہ کی وجہ سے اردو ادب پر حقیقی تنقید کا در باز ہو جاتا ہے۔ کیا یہ اس باب کی پہلی کتاب نہ تھی جس نے تنقید کو ایک فن کی طرح برتا کچھ اصول وضع کیے اور ان اصولوں کو بروئے کار لا کر کچھ نتائج اخذ کئے۔ اور یہ بھی ماننا ہوگا ہے حالی محض اور نرے ناقد نہ تھے، ایک تخلیق کار ناقد تھے۔ ظاہر ہے وہ تخلیقی عمل کی نزاکتوں کے مقابل ہوتے رہتے تھے اور انہیں سمجھتے تھے۔ ایسے میں اگر انہوں نے ایسے عوامل کو نشان زد کیا جو تخلیقی عمل کا ناس مار دیتے تھے یاایسے عوامل کا نمایاں کیا جو تقلید پرستی کے سبب لکھنے والوں کے لیے اہم نہ رہتے تھے تو کیا برا کیا۔ اور ہاں ہم ایسا کیوں نتیجہ اخذ کر یں کہ جن امور پر وہ زور دے رہے صرف اور محض انہیں ہی شاعری میں اہم جان رہے تھے۔

            حالی کے تنقیدی نظریات کو محض کرنل ہالرائیڈ کے مشورے سے حالی کی طرف سے منعقد کرائے جانے والے موضوعاتی مشاعروں کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا اتنا ہی غلط ہو گا جتنا کہ سرسید کے مطالبے پر لکھی گئی “مدوجزر اسلام”، جو بعد میں “مسدس حالی” کہلائی، سے کسی قومیت کے کسی متضاد تصور کو برآمد کرنا۔ بات حالی کے تصور قومیت کی چل نکلی ہے تو کہتا چلوں کہ اس تصور میں اگر پہلے یہ اصرار تھا:

“تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر
نہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر”

حالی کے اس “کسی” میں مسلمان، ہندو، بودھ، برہمن سب شامل تھے مگر اسی حالی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ محض جغرافیائی سطح کے زمینی تعلق سے نہ قوم کو برآمد ہوتا دیکھ سکتے تھے نہ اس سے وطن کا تصور مکمل ہوتا تھا:

“کہیے حبِ وطن اسی کو اگر
ہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ بدتر”

زمین سے کچھ اور سا تعلق اور کسی اور سے کسی اور سطح کا تعلق کی تلاش کی جستجو حالی کو صحیح یا غلط اس مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ شکوہ کناں ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں:

“حال اپنا سخت عبرت ناک تو نے کر دیا
آگ تھے اے ہند ہم کو خاک تو نے کردیا
ہم کو ہر جوہر سے یوں بالکل معرا کردیا
تو نے اے آب و ہوائے ہند یہ کیا کردیا”

            یہ لگ بھگ وہی طرزِ احساس ہے جس سے اقبال والا دو قومی نظریہ پھوٹا تھا اور اسی سے قومیت کا وہ تصور بھی پھوٹتے دیکھا جاسکتا ہے جس میں فقط زمینی شراکت کام نہیں کر رہی ہوتی، فکریات اور ایمانیات کو بھی داخل ہو جانا تھا۔ خیر یہ الگ بحث ہے کہ اس طرح کے طرز فکر سے ابھرنے والا قومی تصور درست تھا یا ناقص، تاہم یہ واقعہ ہے کہ آگے چل کر یہی کام کر رہا تھا۔ بالکل ایسے ہی تنقید کے معاملے میں بھی حالی نے جو طرزِ عمل اختیار کیا وہ ہماری تنقید کے لیے بنیاد بن گیا۔ یہ بنیاد ٹیڑھی تھی یا درست، یہ الگ قضیہ ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہماری روایت کا آغاز اسی سے ہوتا ہے۔

            عین ایسے زمانے میں کہ جب شاعری امراء کے تقرب کا وسیلہ تھی؛حالی اگر تخلیقی عمل کی آزادی پر زور دے رہے تھے تو اس کا سبب یہ تھا کہ مدحیہ مضامین میں ممدوحین کے لیے جن جھوٹے جذبوں کو شعر کا حصہ بنایا جا رہا تھا وہ تخلیقی عمل کو آزادی سے کام نہیں کرنے دے رہے تھے۔ لگ بھگ ایسا ہی عشقیہ مضامین کے حوالے سے سلسلہ چل نکلا تھا۔ حالی کو اگر دونوں مضامین میں چچوڑی ہوئی ہڈی کی طرح شعر میں بے مزہ ہوتے دِکھتے تھے تو ایسا نہیں تھا کہ وہ ان مضامین کو سرے سے شاعری میں ناروا سمجھتے تھے بلکہ وہ اندھی تقلید اور ریاکاری کے جذبوں کو تخلیقی عمل کے دوران جھٹک دینے اور خالص جذبوں اور باطن کی بھرپور شرکت کے ساتھ تخلیقی عمل کے مقابل ہونے پر اصرار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments Box
الطاف حسین حالیالطاف حسین حالی اور مقدمہ شعر و شاعریمقدمہ شعر و شاعری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
خدا سے سامنا —- پروفیسر یسٹن اسمتھ  ترجمہ: ناصر فاروق
next post
بغض اقبال، عظمت اقبال اور فیض احمد فیض — ملک محسن رضا‎

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.