تفہیم اقبال کے لیے کم از کم شرط یہ ہے کہ دل میں بعض محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ ہو۔ جو رسول کا دشمن ہے، آل رسول کا دشمن ہے، جو اسلام کا دشمن ہے اور ببانگ دہل اپنے اسلام سے پھرنے یعنی مرتد ہونے کو گلیمرائز کرتا ہے، اسے اقبال کی سمجھ کیسے آسکتی ہے؟ ایسوں نے تنقید برائے تنقید کرنی ہوتی ہے۔ ان کو اسلام، اقبال، پاکستان اور ہر اس انسان سے بغض ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اسلام، پاکستان اور اقبال کی عظمت کا اظہار کرے۔ اب ایسے بغض کو کیا کہا جا سکتا ہے؟جن لوگوں کو یہ دانشور بنائے پھرتے ہیں وہ خود راندہ درگاہ ہیں جو بے چارے مغرب کی تھوک کو بھی چاٹنے پر آمادہ ہیں۔ ایسی تنگ نظری، تعصب، جہالت اور بے جا مغرب پرستی پر اقبال نے جگہ جگہ تنقید کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقبال کے دشمن بنے ہوئے ہیں؟کیوں کہ اقبال مغرب کا سب سے بڑا نقاد ہے۔ اور اعجاز اقبال یہ ہے کہ اقبال نے مغرب اور مقلدین مغرب پر جو سو سال پہلے تنقید کی وہ سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ مغرب نے دنیا کو تباہی و بربادی کے سوا کیا دیا ہے۔ چاہے وہ ایٹمی تباہ کاری ہو یا سرمایہ داریت کی تباہ کاری، چاہے وہ منشیات اور اسلحے کے انبار ہوں یا آئی ایم ایف، ورلڈ بنک جیسے صیہونی اداروں کا پوری دنیا کو بھوک و افلاس میں لپیٹتا سودی نظام، چاہے وہ الحاد کے زیر اثر بنتے انسانی کتے (Human dogs) ہوں یا ادب اور تنقید کا حلیہ بگاڑتے مغربی رجحانات، چاہے وہ عالمگیریت یا کمرشل ازم کا جال ہو یا نوآبادیاتی نظام۔ چاہے وہ نئی نوآبادیات یا جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کی لوٹ مار۔ کیا دیا ہے مغرب نے دنیا کو؟یہ ترقی جاہلوں کو نظر آتی، ہر عقل سلیم کو اس تباہی پر رونا آتا ہے۔ یہ ترقی نہ بھی ہوتی تو انسانیت کو بال برابر نقصان نہیں تھا۔ مغرب نے جتنا دنیا اور کائنات کو نقصان پہنچایا ہے اس کے بدلے دیا کیا ہے؟ جی موبائل دیا ہے، گھڑی دی ہے، فریج دی ہے۔۔۔ یہ نہ ہوتیں تو پھر۔۔۔ پھر زندگی نہیں گزر رہی تھی۔ بہتر بہت بہتر گزر رہی تھی۔ ایسے مرتدین کا ادب اور شاعری سے دور دور تک لینا دینا کچھ نہیں۔ جو خود ایک نظم نہیں لکھ سکتے وہ اگر غالب اور اقبال کی غلطیاں نکالیں تو زبان سے بے ساختہ یہی نکلتا ہے کہ:
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں
اور عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ امتحان ہے کہ وہ عصر حاضر کے مسلیمہ کذابوں، ابوجہلوں اور عبداللہ بن ابی کے چیلوں کو برداشت کر رہے ہیں لیکن یہ برداشت آخر کب تک ؟
بانگ درا میں اقبال کا ابتدائی زمانے کا کلام ہے۔ اس میں فطرت، مناظر فطرت، حسن، عشق، بچوں کے لیے نظمیں اور وطن پرستی جیسے موضوعات نظر آتے ہیں۔ بانگ دار کی پہلی نظم ہے “ہمالہ”۔ اس میں “ہمالہ” پہاڑ کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ ہمالہ کو فصیل ہندوستاں کہا گیا ہے۔ اس کا پہلا بند قاری کو اپنے سحر میں جکڑتا ہے اور وہ آخر تک غنائیت، ترنم اور ردھم کے زیر اثر سر دھنتا رہتا ہے۔ جو اقبال کے معترضین ہیں بلکہ قتیل بغض اقبال ہیں وہ اس نظم جیسی کوئی ایک نظم لکھ لائیں ہم ان کی عظمت کے معترف بن جاتے ہیں۔ چلو پوری نظم نہیں لکھ سکتے نظم کے پہلے اور آخری بند جیسا ہی کوئی بند لکھ لائیں۔ ایک دفعہ کسی کتاب میں ایک واقعہ پڑھا کہ کسی شہر کے مشہور مصور نے کمال مہارت سے بڑی محنت اور جانفشانی سے ایک شاہکار تخلیق کیا۔ اس نے اپنی تصویر مرکزی چوک میں آویزاں کی اور عوام سے کہا کہ جہاں سے غلط لگے وہاں نشان لگا دیں، اگلی صبح اس نے تصویر دیکھی تو اس پر جگہ جگہ نشانات تھے، تصویر کا حلیہ بگڑ چکا تھا، مصور بہت دل گرفتہ ہوا کہ اتنی کاریگری اور فن کاری کی یہ قدر ہوئی۔ سخت متعجب اور پریشان۔ کسی سیانے سے صورت حال بیان کی تو اس نے کہا:
“یا حضرت!پریشاں نہ ہوں، آپ کے فن اور کمال میں کوئی عیب نہیں لیکن آپ نے داد اس ہجوم سے چاہی ہے جن کو فن کا پتا نہیں۔ آپ اسی تصویر کی نقل دوبارہ اسی چوک میں آویزاں کریں اور لوگوں سے یہ کہیں کہ جہاں سے غلط ہے وہ درست کر دیں”۔
چناں چہ مصور نے اسی طرح کیا کہ اپنی تصویر چوک میں آویزاں کی اور کہا کہ جہاں سے غلطی ہو وہ درست کر دیں یا اس سے بہتر بنا دیں۔ اگلی صبح وہ یہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں گم ہو گیا کہ تصویر سلامت تھی اور اہل شہر نے اسے شاہکار تسلیم کیا تھا۔ چوہدری فضل حق نے کہا تھا کہ:
“اعتراف عظمت کے لیے باعظمت ہونا ضروری ہے “
یہی وجہ ہے کہ کسی فن کار کو داد اعلٰی ظرف کا انسان ہی دے سکتا ہے۔ کیوں کہ ہر کسی کو تو سمجھ نہیں آتی۔ پھر شاعری سمجھنے کے لیے تخیل اور فکر کی بلندی کے علاوہ ادبی ذوق و شوق اور فن عروض اور شاعری کی روایت سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ اقبال کے بعد آنے والا شعرا میں فیض احمد فیض خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے جگہ جگہ اقبال سے محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔
نصرت چوہدری کے ایک سوال کے جواب میں فیض نے کہا:
“یوں تو اس عہد میں پورے علاقے پر اقبال کا اثر تھا، مگر جہاں تک براہِ راست میرا تعلق ہے، وہ میری نوجوانی کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں عام طور سے ہر شاعر رومانی شاعری کرتا ہے۔ اس لئے اس زمانے میں اس زمانے کے جو رومانی شاعر تھے، (مجھ پر) ان کا اثر مقابلتاً زیادہ تھا۔ فیض نے اقبال کی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کیا اورانہیں اس دور کا سب سے بڑا شاعر کہا۔ ایک بار فیض سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں علامہ اقبال کا شاعری میں کیا مرتبہ ہے؟ بولے: جہاں تک شاعری میں sensibility، زبان پر عبور اور غنائیت کا تعلق ہے ہم تو ان کی خاک پا بھی نہیں۔ علامہ بہت بڑے شاعر ہیں۔ اگر وہ سوشلزم کے معاملے میں ذرا سنجیدہ ہوجاتے تو ہمارا کہیں ٹھکانا نہ ہوتا”۔
فیض نے ترقی پسندوں کی اس وقت شدید مخالفت کی جب وہ اقبال کے خلا ف مضامین لکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1949ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے حکم ہوا کہ علامہ اقبال کو demolish کریں۔۔۔۔ ہمیں یہ بک بک لگی کہ علامہ اقبال کے ہاں بے پناہ ذخیرہ سامراج، جاگیرداروں اور نوابوں کے خلاف ملتا ہے۔۔۔۔ چناں چہ ہماری ان سے جنگ ہوگئی
احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں کہ فیض احمد بہت شیریں، میٹھا اور رومانٹک شاعر تھا۔ حسن اور محبت کا شاعر تھا۔ محبت اور حسن کے جذبات وہ جس خوبصورتی سے اپنی نظم یا غزل میں لے آتا ہے اس کاجواب نہیں۔ لیکن میں اسے غالب یا اقبال کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتا۔ وہ اتنا عظیم شاعر نہیں جس طرح انہیں عظیم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ شاعروں میں جو فکر اور گہرائی ہوتی ہے وہ اسے جان بوجھ کر اپنے کلام میں نہیں لائے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ اقبال کے دور میں تھے اور سمجھتے تھے کہ جس سطح پر اقبال پہنچا ہے میں وہاں کس طرح پہنچوں گا۔
قرۃالعین حیدر عظیم فکشن نگار ہیں، وہ بھی عظمت اقبال کی قائل تھیں۔ چناں چہ لکھتی ہیں:
“فیض صاحب کی ذہنی پختگی اس چیز سے ظاہر ہوتی ہے کہ جن دنوں سارے کٹر ترقی پسند حضرات اقبال کو فسطائی کہہ کر پکارتے تھے، فیض صاحب اس انتہا پسندی کے مخالف تھے اور اس زمانے میں انھوں نے اقبال ہی کے لئے اپنی مندرجہ ذیل خوبصورت نظم لکھی تھی:
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں
ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا
تھیں چندہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا
اب دور جاچکا ہے وہ شاہِ گدا نما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں
چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کی لَے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں
فیض یہ بھی کہتے تھے کہ غالب، اقبال، میر، وہ لوگ شاعر تھے۔ ہم کیا ہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہ فقرے روایتی کسر نفسی کے طور پر نہیں، بلکہ نہایت سنجیدگی اور خلوص سے کہتے تھے۔ فیض کہتے تھے کہ میں نے فارسی میں ایک شاعر حافظ کو ٹھیک سے پڑھا ہے۔ اردو میں میراور غالب کو۔ رہا اقبال تو وہ ایسا شاعر ہے کہ اسے پڑھتے وقت کوئی اور شاعر نظر میں نہیں جچتا۔ فکر اور شعر دونوں میں ہمہ گیر اور آفاقی۔
معروف ادیب اور شاعر جناب جمیل یوسف نے ادبی ماہنامے ا لحمرا کے تازہ شمارے میں لکھّا ہے:
’’اسلام آباد ہوٹل میں ہونے والی ایک تقریب کی صدارت فیض احمد فیضؔ فرما رہے تھے، اسٹیج سیکریٹری نے صاحبِ صدر کو بلاتے وقت جوش میں یہ بھی کہہ دیا کہ اقبالؔ زندہ ہوتے تو وہ بھی فیضؔ پر رشک کرتے۔ یہ سنتے ہی فیضؔ صاحب کے چہرے پر ناگواری اور خجالت کی کیفیّت جھلکنے لگی۔ وہ بوجھل قدموں سے اٹھے اور مائیک پر آتے ہی فرمایا ’’کہاں اقبالؒ اور کہاں یہ خاکسار۔ میں تو اقبالؔ کا پرستار ہوں جہاں تک اقبالؔ کی شاعری کا تعلق ہے یوں سمجھ لیجیے کہ اقبال ؒ ایک بلند وبالا پہاڑ ہے اور ہم اس کے دامن میں پڑے ہوئے پتھر”
فیضؔ صاحب کہتے ہیں:
’’ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اقبالؔ کی مثال ہمارے ہاں ایک ندی یا ایک نہر کی سی نہیں ہے جو ایک ہی سمت میں جا رہی ہو بلکہ ان کی مثال تو سمندر کی سی ہے جو چاروں طرف محیط ہے۔ چناں چہ ان کو ہم ایک مکتبِ فکر نہیں کہہ سکتے، ہاں ان کو ہم ایک جامعہ یا ایک یونیورسٹی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس میں طرح طرح کے دبستان موجود ہیں اور طرح طرح کے دبستانوں نے ان سے فیض اٹھایا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ مقام یعنی اتنا اثر، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا، ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا، اور میں سمجھتا ہوں جب تک ان سے بڑا شاعر کوئی پید ا نہیں ہوتا اس وقت تک کسی اور کو یہ مقام حاصل نہیں ہو گا‘‘۔
ہمالہ
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمۂ دامن ترا آئینہ سیال ہے
دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسے
دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلی
یوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مرا
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پر
خوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
