کچھ عرصہ پہلے جب ہم چند دوست، ستیہ پال آنند کی نظم “اے حسن کوزہ گر” پر بات کررہے تھے تو ہمیں ن م راشد کی نظم “حسن کوزہ” گر کو بار بار حوالے کے طور پر دیکھنا پڑ رہا تھا۔ وہ اس لیے کہ خود نظم نگار نے پوری نظم کی تخلیقی فضا ہی راشد کی معروف نظم “حسن کوزہ گر” کو سامنے رکھ کر بنائی تھی۔ اچھا، ستیہ پال آنند کے ہاں یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے، یہ تو اُن کے محبوب قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوک روایات، دیو مالاؤں، قصوں کہانیوں، حکایتوں اور ماقبل دانش وروں کے اقوال اور شاعروں کے کلام سے کچھ نہ کچھ اخذ کرتے ہیں، ایک مکالمہ قائم کرنے کے لیے، اوریوں اپنی نظم کی تخلیقی فضا ڈھال لیا کرتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے:
٭: ان کی نظم ’’کل کا نستعلیق بچہ ‘‘کے نیچے نوٹ درج ہے”ہانس اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی کے تناظر میں لکھی گئی”
٭: نظم”آدھا بھائی جاگ رہا ہے”کا پاورقی نوٹ ہے “مرکزی خیال پنجاب کی ایک لوک کہانی سے ماخوذ”
٭: “عالم ارواح کی باتیں۔ نطشے، برگساں اور اقبال” کو پڑھتے ہوئے اقبال ان کے سامنے رہا ہے۔
٭:”مجھے نہ کر وداع”، “انتقام” اور زیر نظر نظم “اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے ن م راشد، کی نظموں کے متون سے بھی نظم نگار کا دھیان بندھا رہا ہے۔
“اے حسن کوزہ گر‘‘ کے تخلیقی لمحوں میں جب ستیہ پال آنند، ن م راشد کی نظم “حسن کوزہ” کے مرکزی کردار حسن کوزہ گر، جہان زاد، لبیب، شہر حلب حتی کہ عطار یوسف اور نظم نگار ن م راشد کی ذات کو خود سے جدا کرنے پر ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہیں ہورہے ہیں تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اس نظم پر بات کرتے ہوئے، اتنی ہی شدت سے راشد یاد نہ آئیں جتنی شدت سے وہ آنند جی کی نظم سے اُبل رہے ہیں۔ میں نے کہا نا کہ راشد سے آنند جی کا یہ پہلا مکالمہ نہیں ہے؛ مثلاً اُن کی ایک کتاب ’’مجھے نہ کر وداع‘‘ ہی لے لیں، اس کا نام پڑھتے ہی آپ کو راشد یاد آئیں گے۔ شاعر خود اعلان کر کرکے آپ کو یاد دلاتا ہے کہ مکالمہ راشد سے ہورہا ہے اور معاملہ” لَو اور ہیٹ “کا ہے۔ راشد نے’’مجھے وداع کر‘‘ میں کہا تھا:
“مجھے وداع کر
بہت ہی دیر۔ ۔ ۔ دیر جیسی ہوگئی
کہ اب گھڑی میں بیسویں صدی کی رات بج چکی
شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر
ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر
مکالمے میں جمع ہیں
وہ کیا کہیں گے۔ ۔ ۔
میں خداؤں کی طرح
ازل کے بے وفاؤں کی طرح۔ ۔ ۔
پھر اپنے عہد منصبی سے پھر گیا
مجھے وداع کر، اے میری ذات۔ ۔ ۔ “
جب کہ آنندجی نے”مجھے وداع کر” کو اوندھا کر” مجھے نہ کر وداع” کر لیا ہے اور”ن م راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ” کی عبارت کے ایزاد کے ساتھ فکری اختلاف کے لیے گنجائشیں نکالنے کے جتن کیے ہیں۔ :
“مجھے نہ کر وداع
مجھے نہ کر وداع پھر
شجر، حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر
جو میرے حلفیہ بیان کے لیے
کھڑے ہیں نیچے” ہال” میں
میں کیا مکالمہ کروں گا ان سے”میری ذات” بول
۔ ۔ ۔
سماع ہوں، نہ صوت ہوں
تواتر حیات میں ہوں منجمد
نہ زندگی، نہ موت ہوں!
مجھے نہ کر وداع۔ ۔ ۔ “
راشد کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ خدا سے، تصوف سے، مذہبی علامتوں سے، ماضی سے اور روایت سے شعوری طور پر بچ نکلنے کے کھیکھن کرتے رہے اوراپنی نثری تحریروں میں اس کا اعلان بھی کیا مگر جب ہم ان کی نظموں کا جم کر مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس شاعر کا تخلیقی باطن، خواہش اور کوشش کے باوجود یہیں سے کچھ نہ کچھ کشید کرتا رہا ہے۔ مثلاً اسی نظم کو دیکھئے جس کے معنی کو ایک “نہ” لگا کر آنند جی نے اوندھانا چاہا ہے۔ یہ وہ نظم ہےجس نے راشد کی شعوری فکریات سے کٹ کر ان کے تخلیقی وفور سے ایک اور سطح پر معاملہ کر رکھا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آنند جی نے راشد کی اس نظم سے مکالمہ کرتے ہوئے “ذات” جیسی صوفیانہ اصطلاح سے معنی کیوں نہ اخذ کیے، اس کی مابعد الطبیعیاتی فضا کو کیوں نہیں پرکھا اور اس بابت کیوں نہیں سوچا کہ”ذات” سے جدائی کا یہ مطالبہ پہلی بار نہیں ہورہا تھا۔ یہ واقعہ پہلے بھی ہو چکا، اور انسان جب اپنے وجود میں قائم ہونے میں ناکام ہو گیا ہے اور اسی”ذات” میں پھر پناہ گزیں ہونا چاہا تو ایک بار پھر اس”ذات” سے”وداع” ہونے کے معنی”شہود” کے بھی ہیں تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل اور آدمی کی”انا” کا قیام بھی۔ صاحب، یوں دیکھیں تو “ذات” سے”مجھے نہ کروداع” والا آنندجی کا مطالبہ، کیا راشد کی نظم کی سطح پر چند خراشوں کا سا نہیں رہ جاتا؟
ن م راشد کی نظم “انتقام” پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے۔ :
“۔ ۔ ۔ ۔کہ شاید “رات بھر” میں
“اپنے ہونٹوں سے” برابر صبح تک لیتا رہوں گا
” اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام”
وہ”برہنہ جسم” وہ”چہرہ” وہ”خدوخال” سب کچھ
بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے
اور یہ مکافاتی طریقہ
مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!”
جی صاحب، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض “بودا” ہے نہ”بچکانہ” اور پھر”خدوخال” کے ساتھ”بن چھوئے” کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم ’’اے حسن کوزہ گر‘‘ کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد کے تراشے ہوئے کرداروں اور ان کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے۔
یہ میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ اس نظم کی تیکنیک بھی لگ بھگ وہی بنتی ہے جو، آنند جی نے”مجھے نہ کر وداع” میں برتی ہے۔ وہاں اس کا اعلان نہ کیا گیا تھا کہ ان کی نظم میں” رید کتیو اید ابسرد م‘‘ والی تکنیک استعمال ہوئی تھی۔ تاہم یہ اطلاع اس نظم کے پڑھنے والوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ نظم کے علاوہ اگر کوئی متن نظم کے ساتھ نتھی کردیا جائے تو یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہاں اس نوٹ کا مطلب اس نظم کو ایک خاص تناظر دینے کا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ”اے حسن کوزہ گر” لکھتے ہوئے نظم سے وہ معنی اخذ کیے گئے ہیں جو راشد کے ہاں ہوں گے، یا جو اس فن پارے سے پھوٹے پڑ رہے ہیں اور شاید اس تیکنیک کے تحت آنند جی اس کے مکلف بھی نہیں رہے، لہٰذا ہم آنند جی کی نظم پر بات کرتے ہوئے راشد کی نظم کے صرف ان علاقوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آنند جی کی نظم کے تصرف میں رہے ہیں۔ ’’اے حسن کوزہ گر‘‘ میں عین آغازہی میں راشد کی نظم کے اس راوی کی شناخت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ :
“اے حَسن کوزہ گر
کون ہے تو؟ بتا
اور” تُو” میں بھی شامل ہے، “ہاں” اور”نہیں”
تُو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے
اورشہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے
آب وگل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے
جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر
خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے
اپنی صورت گری کی توقع بھی از یادِ رفتہ کیے
چاہ نیساں کی گہرائی میں
خواب آلودہ ہے”
یہ نظم کا آغاز ہے، جس تیکنیک کو یہاں برتا گیا ہےاس کے حوالے سے ہمارے دوست ظفر سید نے ایک مکالمے کے دوران کہاتھا کہ شاعر نے راشد کی نظم کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے۔ عام آئینہ نہیں بلکہ میلوں ٹھیلوں والا چہرے کے چوکھٹے کو گڈمڈ کر دینے والا آئینہ۔ یہ ایک لحاظ سے انہوں نے درست ہی کہا تھا۔ وہ یوں کہ ایک تو آنند جی نے اس کردار کوراشد کی نظم کے مجموعی تناظر میں نہیں دیکھا، بس اتنا دیکھا ہے جتنا کہ اس آئینے کے فریم کے اندر سما گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے باطن میں موجود معنیاتی نظام کو مدنظر رکھنے کی بہ جائے صرف اس کے خارج میں موجود واقعاتی سطح سے معاملہ رکھا ہے۔ آئینہ بھی باطن سے سروکار نہیں رکھتا محض وہ دکھاتا ہے جو سطح سے اخذ کرتا ہے۔ اور اب چوں کہ یہ آئینہ ” رید کتیو اید ابسرد م” کی تیکنیکی زنگار والا ہے لہٰذا مبالغہ کی حد تک تضادات کو اخذ کیا گیا ہے۔ جس طرح پکاسو کو حق تھا کہ وہ تصویر بناتے ہوئے چہرہ گڈمڈ کر دے، اتنا کہ اصل کہیں پس منظر میں چلا جائے اورتھامس ناسٹ کو حق تھا کہ وہ کیری کیچر بناتے ہوئے نقل بہ مطابق اصل نہ بنائے، اسے مضحک بنادے، آنند جی کو بھی حق ہے کہ ” رید کتیو اید ابسرد م‘‘کے وسیلے وہ متن کے اوپر سے اپنی صواب دید کے مطابق کچھ تضادات اٹھائیں اور معنی اوندھا کر رکھ دیں۔ تو یوں ہے کہ انہوں نے نظم کے خارج میں موجود شواہد کو لے کر باطنی معنوں کو اوندھا کر رکھ دیا ہے۔
کیا اس پوری نظم میں جنس کو اس سطح پر برتا گیا ہے جس سطح پر آنند جی کی نظم اسے زیر بحث لاتی ہے؟ شاید نہیں بلکہ یقیناً اس کا جواب ہوگا نہیں، بالکل نہیں۔ میں نہیں کہتا کہ راشد کا مسئلہ کبھی جنس نہیں رہا، ضرور رہا ہے اور شاید مریضانہ حد تک یہ رویہ ان کی نظموں سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے مگر بات ایک ایسی نظم کی ہو رہی ہے جس میں تخلیقی وفور نے ان کے صنفی تعصب کو بھی پچھاڑ دیا تھا۔ وہاں ایک رات، صرف ایک رات والی جنس جو آخر تک عورت کے وجود سے محض ایک الجھن سے زیادہ شاعر کو کچھ نہیں دے پاتی، کیسے اس سارے مکالمے کا جواز ہو سکتی ہے جو “اے حسن کوزہ گر” میں انتہائی مشاقی سے آنند جی نے قائم کر دیا ہے۔ آنند جی کی نظم پڑھتے ہوئے مفہوم کا یوں اوندھایا جانا بھی اسے الگ دھج دے دیتا ہے۔ خود آنند جی ہی کے مطابق:
“جس میں حسن کوزہ گر کومیری نظم میں براہ راست مخاطب کیا گیا ہے، وہ ان سطور کے بارے میں ہے جو اس کے”مردانہ پن” پر دلالت کرتی تھیں۔ یعنی “رید کتیو اید ابسرد م”کے طریق کار کے الٹ طریق کار “ایکزیجریشن اید ابسردم” کو بروئے کار لاتے ہوئے”مردانہ پن کے نہ ہونے” پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ سطریں دیکھیں۔ :
“اے حَسن کوزہ گر
بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے
اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی
کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے
تشنگی جاں کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی
ادھ مری خشک جاں
العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک
کیوں کہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا
جس میں جہاں زاد کے جسم کی
گرم، مرطوب دل داریوں کی تمازت
ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی
اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں
۔ ۔ ۔ لپٹی ہوئی”
اس سے آگے کی سطریں تو حقیقت کو بیان کرنے کے فرض کی ادائی کچھ زیادہ ہی صراحت سے کرتی ہیں۔
“ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے
ہنر کی نمائش کی یا امتحان کی، مگر
تیری پسپائی تیرا مقدر بنی
اور کرتا بھی کیا ؟
سب بنے، ادھ بنے
“سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان” تو
بس وہیں چاک پر، ان جنی اپنی مخلوق کو ترک کر کے
حلب چھوڑ کر
سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا حسن کوزہ گرکا یہ روپ ن م راشد کا وہ مخفی روپ ہے جسے وہ چھپائے ہوئے پہلے ایران اور پھر لندن، نیو یارک، میں پھرتے رہے۔ لیکن اس نے انہیں چین نہیں لینے دیا، اور تخلیق کے دھارے میں بہتے ہوئے اس نظم میں سطح پر اُبھر آیا تھا۔ “
اس طویل اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنند جی، راشد کے “حسن کوزہ گر” سے مکالمہ کرتے کرتے، اپنی تخلیق سے پھوٹنے والے اوراپنی نظر سے دیکھے ہوئے راشد کو کم کم جب کہ ساقی فاروقی اور دوسروں کی زبان سے سنے ہوئے راشد کو زیادہ برتتے رہے ہیں۔ ن م راشد کا “حسن کوزہ گر”اپنے ’’آپ‘‘ کی طرف پلٹتا ہے اس کے یوں پلٹنے کو بہ سہولت مثبت معنی بھی دیے جاسکتے تھے مگر جس راشد سے آنند جی کا اس تیکنیک کے توسل سے معاملہ ہو رہاتھا، اس کے تحت سطح پر سے اخذ کیے گئے معانی کو ہی متحرک کیا جاسکتا تھا۔
اچھا، ماقبل شاعر کو، اس کی فکر اور کردار کو، آپس میں گوندھ کر اس طرح دیکھنا کہ اچھا بھلا چہرہ کچھ کا کچھ ہو جائے، خود راشد کو بھی عزیز رہا ہے۔ انہوں نے اقبال سے لگ بھگ ایسا ہی معاملہ کر رکھا ہے۔ اقبال نے یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کو جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیر قرار دیا تھا، جب کہ راشد کے مطابق:
“اے فلسفہ گو
کہاں وہ رویائے آسمانی
کہاں یہ نمرود کی خدائی
تو جال بنتا رہا، جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے
ہم اس یقیں سے، ہم اس عمل سے، ہم اس محبت سے
آج مایوس ہو چکے ہیں”
یا پھر”نیا دور” میں چھپنے والی نظم “پریڈ” سے برآمد ہونے والا اقبال وہ نہیں ہے، جو اپنی تحریروں میں نظر آتا ہے بلکہ وہ ہے جسے راشد نے اپنے تئیں اخذ کیا ہے:
“کرسمس کے دن
اقبال
اپنے گھر کے چبوترے پر کھڑا
روحوں کی پریڈ سے
سلامی لے رہا تھا
سب کے پاؤں اکھڑے ہوئے تھے
سوائے رومی کے
سوائے نیٹشے اور برگساں کے
سوائے چند نیک دل بادشاہوں کے
اقبال غصے میں بھرا ہوا
گھر کے اندرچلا گیا
اور دوبارہ
اپنی مومن بتیاں بنانے لگا
میری مومن بتی کیوں بجھ گئی ؟
اسے پھر سے کیسے روشن کروں؟۔ “
جس طرح راشد نے اقبال کے ہاں سے”مومن بتیاں”برآمد کر لی تھیں اسی طرح آنند جی نے راشد کے جہاں زاد جیسی عورتوں کو نہ” سلجھ” سکنے پر جھن جھنانے کو اور اپنے آپ کی طرف پلٹنے سے”مردانہ پن کے نہ ہونے” کو برآمد کر لیا ہے۔ آنند جی نے” رید کتیو اید ابسرد م” کی تھیوری کے اطلاق سے راشد کو جس نہج سے عریاں کرنا چاہا، کر دیا اور میں اسے بھی مانتا ہوں کہ شاعر نے اپنے ذہنی تجربہ سے اپنے ہی ذہن پر عیاں ہو نے والے منظر کے اندر چلتے ہوئے اور اپنے مفروضات کو تخیل کے خاکے میں ڈھالتے ہوئے اس عریانی سے الفاظ کے ملبوس کی طرف سفر کیا ہے تو ایک اور نظم بنی ہے۔ کہہ لیجئے یہ بھی لائق توجہ فن پارہ ہے۔
نظم میں راشد کی”تشنگی جاں ہو” یا “نو برس”بھٹکنے کا حوالہ، عشق کے استعارے نہیں بنتے ایسا عکس بنتے ہیں جس میں جنسی تشنگی کا شاخسانہ ہو جاتے ہیں:
“ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا
بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے)
ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد
اے حَسن کوزہ گر
تو بھی “الجھن” ہے ان عورتوں کی طرح
جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انھیں پا لیا
واہمہ ہے فقط
کیوں کہ میرا بدن جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی
تو وہیں حوض میں ڈوب کررہ گیا تھا اسی رات
جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے
تجھ کو اتنا توشاید پتا ہے کہ شب جوترے ذہن میں
ڈائنوں سی کھڑی ایک عشرے سے اک سال کم
تجھ کو کیوں، اے حسن، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر
بلاتی رہی ہے حلب کی طرف
وہ تو اب ایک “لب خند” عورت ہے، لڑکی نہیں۔ ۔ ۔ “
یہ جو کہا جا رہا ہے کہ آنند جی نے اس نظم کے ذریعہ راشد کی نظم کے حوالے سے تنقیدی سوالات قائم کیے ہیں۔ اپنی جگہ بہت دلچسپ ہیں۔ اچھا، حاشیہ کے اُس اجلاس میں، جس کی صدارت یہ خاکسار کر رہا تھا، جب آنند جی اپنی نظم پر بات کررہے تھے تو انہوں نے بہت سے تنقیدی مباحث کو بھی چھیڑاتھا، ایک ایک کرکے کئی تھیوریوں کو گنوایا مگر نظم کے اوپر قائم کیے گئے نوٹ، اور نظم کے قرینے کو دھیان میں رکھا جائے تو ہم اپنے آپ کو راشد کی نظم سے برآمد ہونے والے کسی اور معنیاتی نظام کی بہ جائے ان ہی معنوں سے معاملہ کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں، جو اس تکنیک کے خاص وسیلے سے اس نظم کے متن سے برآمد ہو رہے ہیں۔ تو یوں ہے آنند جی نے اسے خوب رواں دواں بُنا ہے، قصے کی طرح دلچسپ بنادیا ہے اور اس میں راشد کی جنس کی متھ سے نہ صرف خوب خوب لذت برآمد کی ہے، انسانی رشتوں کو عورت مرد کے حوالوں سے ایک نقطہ نظرمیں ڈھال کر قاری کو منتقل کیا ہے جو راشد کی بنائی ہوئی متھ کو رد کرتا ہے اور اس مقدمے میں راشد کو مجرم بنا ڈالتا ہے۔ اور یہ بھی کہتا چلوں کہ جہاں زاد سے آنند جی اپنی رسم و راہ کچھ یوں دکھاتے ہیں کہ راشد کی نظم کی فضا پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ :
“۔ ۔ ۔ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے
اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک “نادان” نے
اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن
جب وہ “نادان” تھی
میں بھی نادان تھا
نا رسا آس تھی
بے طلب پیاس تھی
چار سو یاس تھی
اس زمانے میں تو
بس “گماں” ہی”گماں” تھی مری زندگی
کچھ بھی”ممکن” نہ تھا
ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے
صبح آئی تو پھر یوں لگا
جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا
اور سارے “طلوعوں” کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر
پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا ۔ ۔ ۔ “
جی، زبان کا مواد اور فضا بے شک راشد کی سہی مگر جس طرح آنندجی نے اسے اپنے وجود اور اپنی ذات سے جوڑ ا ہے، سب کچھ مختلف اور نیا نیا ہوگیا ہے۔ آخر میں آنند جی کا یہ سوال، ایک فیصلہ کی صورت سامنے آتا ہے کہ غالباً راشد کا ’’حسن کوزہ گر‘‘ کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ کوزے پکانے والی بھٹی کی سوئی ہوئی راکھ سے چند سلگتے ہوئے انگار ے تلاش کیے جائیں اور ایک کہانی گھڑلی جائے۔ اور بہ قول ان کے راشد نے کہانی تو گھڑ لی مگر اسے وہ پذیرائی نہ ملی پائی جو اس طرح کے قصوں کا مقدر ہو جایا کرتی ہے۔ :
“۔ ۔ ۔
ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو
وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی
اور راشد کا فن
لوک قصّوں، اساطیر یاعشق کی
داستانوں کے فن سے بہت دور تھا
یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں
پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں”
تو یوں ہے کہ وہ تفہیم جو میں نے راشد کی “حسن کوزہ گر” کے باب میں کی، اسے بھول جائیں اور آنند جی کی” ریدکتییو اید ابسردم” کی تھیوری کے اطلاق سے تخلیق ہونے والی “اے حسن کوزہ گر” کی روشنی میں اسے دیکھیں تو یہ نظم وہاں رسائی پانے میں ناکام نظر آتی ہے، جہاں اسے دیکھا جارہا ہے۔ تاہم ہم سب کا آنند جی کی طرف توجہ سے دیکھنا کو ئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔
ضروری نہیں ہوتا کہ ہم اس فکری نظام کو کہ جو کسی فن پارے میں سے چھلک رہا ہوتا ہے اسے مان لیاجائے، اس منطق کو بھی تسلیم کرلیں جو اس فن پارے کو تخلیق کرنے والے کو عزیز ہوگئی تھی مگر جس قرینے کا وہ فن پارہ بنا ہے اپنی فضا کے اعتبار سے اور اپنی جمالیات کے اعتبار سے، اسی سے اسے آنکنا چاہیے۔ ستیہ پال آنند کی ’’اے حسن کوزہ گر‘‘ اس اعتبار سے ایک کامیاب اور نمایاں نظم ہے کہ وہ اردو کی ایک نہایت نمایاں، کامیاب اور بڑی نظم سے مکالمہ کرتی ہے، اس کی تخلیقی فضا سے جڑتی بھی ہے اور اس کے آفاق وسیع بھی کرتی ہے، اس کے معانی کی ایک جہت میں”اضافہ” کرکے نئے معنی ڈھالتی ہے اور اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ جب بھی “حسن کوزہ گر” کا حوالہ آئے گا، اس کے ساتھ “اے حسن کوزہ گر” کو بھی یاد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ن۔م۔راشد کی شاعری : ایک جائزہ- افضل رضوی
