2016 میں طیبہ کی زخمی چہرے کے ساتھ تصاویر سامنے آئی تھیں وہ بھی ایک ایسی بدنصیب کم سن بچی تھی جس پر یہ عتاب ایک جج صاحب ہی کے گھر اترا تھا۔ اس کی مالکن نے محض اسے ایک جھاڑو گم ہوجانے پر بہت بے دردی سے پیٹا تھا۔ اس کے چہرے کے ادھڑے اور سوجے ہوئے زخموں نے اس کے خدوخال ا س قدر بدنما بنا ڈالے تھے کہ وہ اسے انسانی مخلوق میں شمار ہونے نہیں دے رہے تھے۔ اس کے ہاتھ بھی جلائے گئے تھے۔ اس پر کئے گئے تشدد اور جلنے کے نشان اتنے گہرے تھے کہ شاید ہی وہ کبھی اس کے ہاتھوں اور چہرے سے مٹ سکے ہوں گے۔
لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں ایک13 سالہ ملازمہ کو افشاں نامی خاتون اور اس کے دو بھائیوں نے نا صرف بے دردی سے مارا پیٹا بلکہ اسے 30 سے 40 فیصد تک آگ سے جھلسا دیا۔ اس کی ٹانگوں پر گھر کا چولھا الٹا دیا گیا تھا۔ اور اس پر ظلم یہ تھا کہ اسے انہی جھلسی ہوئی ٹانگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔
2020 میں کھاریاں میں ایک نجی کلینک چلانے والے ڈاکٹر کے گھر سے ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ رمشہ یاسین کی لاش تابوت میں بھر کے اس کے گھر بھجوادی گئی تھی۔ اس کی موت کا سبب کرونا وائرس بتایا گیا۔ گھر والوں نے شک کی بنا پر ڈیڈ باڈی کا ٹیسٹ کروایا تو رپورٹ منفی آئی۔ ان کے شک کی وجہ اس کے بدن کے گہرے گھائو تھے جو چیخ چیخ کر کسی ظلم کی داستان سنا رہے تھے۔
2019 میں پنجاب اسمبلی کی خاتون رکن کی بیٹی نے اپنے گھریلو ملازم 16 سالہ اختر علی پر اتنا تشدد کیا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ عظمی کو مالکن نے سر پر ڈنڈے کا وار کرکے قتل کردیا۔ اس کی عمر محض 15 سال تھی۔ لاہور ہی کے علاقے گلدشت ٹائون میں 14 سالہ ملازمہ حرا کو جناح ہسپتال کی ڈاکٹر تانیہ اور اس کے شوہر نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور ڈاکٹر صاحبہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تیل چھڑک کر اسے آگ لگانے کی بھی کوشش کی گئی۔ سبزہ زار کا واقعہ ہے جس میں کم سن گھریلو ملازمہ جب رات کو تھکی ہاری بستر پر لیٹتی تو مالکہ اسے بری طرح پیٹا کرتی۔ اسے اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے پر الیکٹرک راڈ گرم کر کے لگایا جاتا۔ پانی کے پائپ سے مار مار کر اس کی چمڑی ادھیڑی گئی۔
2019 میں کم سن سمیرا کو اس کی مالکن نےشدید غصے اور اضطراب میں استری سے جلا دیا پھر کہیں جاکر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ کراچی میں ایک گھریلو ملازم کو اذ یت ناک موت دینے کے لئے اسے گھر کی با لائی منزل سے نیچے دھکیل دیا گیا۔ ان واقعات کو پڑھتے اور سنتے ہوئے رونگھٹے تو کھڑے ہوتے ہیں لیکن ان کی دلگدازی کا بڑا سبب یہ حقیقت ہے کہ ظلم و بربریت کے ان واقعات کے تسلسل میں مرکزی مجرم کا کردار “عورت” نے نبھایا ہے۔ وہ عورت جس کے بارے سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہ متوازن حیاتیات لے کر جنم لیتی ہے۔ وہ جو اپنی طاقت و ہمت کی بنا پر غلبہ پانا اور حاوی ہونا نہیں چاہتی۔ جس کے بارے میں سمجھا یہ جاتا ہے کہ قدرت نے اسے مامتا کا وصف عطا کرکے اس کے مرکز میں ایک بڑی گہری آسودگی پیدا کر دی ہے۔ ممتا کی یہی صفت اسے پرسکون اور پر امن رکھتی ہے۔ اس کی ذات میں کسی قسم کا ادھورہ پن یا احساس کمتری نہیں رہ جاتا۔ عورت جو مکمل ہے۔ جس کا وجود محبت کی علامت ہے، جو حیات کی جڑ ہے وہ کسی معصوم کی حیات کیسے نوچ سکتی ہے۔ عورت جس کا احساس جھرنوں جیسا اور اس کی ہستی رحمت جیسی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی معصوم کو گھائو بھی دے اور اس گھائو کا درد اور کرب محسوس کرنے کی بجائے اسے بار بار رگید کر طمانیت محسوس کرے۔ جس کا وجود محبت کی شبنم میں گندھا ہو ا ہووہ اپنے اندر اس قدر نفرت کیسے پنپنے دے سکتی ہے۔ وہ کس طرح خود اپنے ہاتھوں جیتی جاگتی آنکھیں نوچ سکتی ہے۔ وہ ماں ہے اور کسی بھی بچے کے ہاتھوں سے کھلونے اور اس کی آنکھوں سے معصوم سپنے، دل سے چھوٹی چھوٹی حسرتیں کس طرح چھین سکتی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی خونخوار بھیڑئیے کی طرح کسی کی بوٹیاں نوچ لے اس کا وجود زخموں سے داغدار کر دے۔ کیا اس لمحے اس کا دل نہیں کانپتا ہوگا۔ کسی دوسرے آنگن کی کلی مسلتے ہوئے اسے اپنی کوکھ کے جنے ہوئوں کی شکل یاد نہ آتی ہوگی۔ عورت نے اپنی حساسیت کیوں کھو دی ہے؟
شاید ثروت و امارت اور آگے بڑھنے کی خواہش نے عورت اور مرد دونوں ہی سے سادہ زندگی کے معنی چھین لئے ہیں۔ خواہشات اور دکھاوے نے زندگی کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ جیسے جیسے زندگی خواہشات کے بوجھ میں دب کر پیچیدہ ہوتی جاتی ہےانسان بے حس اور سفاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک حد سے زیادہ جاہ و ثروت کا مالک انسان بے حس نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا وہ بے حس ہوگا تو ہی استحصال کرے گا اور استحصال کے بغیر نہ تو وہ امیر ہوسکتا ہے نہ ہی امیر رہ سکتا ہے۔ عورت اپنے شوہر کےعہدے، طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں بے حس ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انسانی خون اور کسی کی مامتا کا قتل اس کے لئے بے معنی ہوگیا ہے جیسے مرد کی طرح اب اسے بھی گلیڈیئٹر کے میدان میں سجا انسانی بے بسی کا تماشہ بھانے لگا ہے۔ یہ صاحب ثروت خواتین ملازمین کو رکھتی ہی اپنے جاہ و جلال کی دھاک بٹھانے کو ہیں۔ وہ اپنی بے سکون، بے سمت اور بے مقصد زندگی کے دبائو اور تنائو کو کم کرنے کے کئے ملازمائوں کی عزت نفس اور ان کی زندگی کی دھجیاں اڑاتی ہیں۔
دوسری طرف ان دلخراش واقعات کی ذمے داری ان معصوم بچوں کے ماں باپ کے سر بھی جاتی ہے۔ جو ان معصوموں کو کتاب اور قلم تھمانے کی بجائے ان کے ہاتھوں “باجی” کے بچوں کی غلاظت سے لتھڑے پوتڑے تھما دیتے ہیں۔ کسی کو اپنا قرض اتارنا ہے تو کسی کو دو وقت کی روٹی کا دھندہ چلانا ہے۔ کوئی ماں اپنی بچی کو انجان لوگوں کے ہاتھ اس لئے سونپ آتی ہے کہ وہ اپنے سوتیلے یا سگے باپ کی جنسی ہوس سے بچ سکے کسی کی خواہش ہے کہ امیر گھرانے میں رہتے ہوئے اس کی بچی اچھا کھانا کھا سکے گی اور تن کے پھٹے ہوئے لباس کی جگہ صاف ستھرے اور نئے کپڑے لے لیں گے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کی بیٹی کے تن اور من کو ڈھکنے کے لئے ماں کا آنچل ہی کافی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ باجی کے گھر میں اس سے شہزادیوں والا برتائو نہیں ہوگا۔ جب اس کے نازک ہاتھ باجی کا کام نہیں کر پائیں گے تو باجی ان ہاتھوں کو توڑ دے گی جب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کو یاد کرکے روئے گی اور واپس جانے کی ضد کرے گی تو باجی اسے اتنے زخم دے گی کہ وہ جدائی کے زخم بھلا کر ان زخموں کو سہلاتی رہ جائے گی۔ جب وہ باجی کے بچوں کی کوئی بچی کھچی چیز کھانے کی کوشش کرے گی تو باجی اس پر چوری کا الزام لگا کر اس کے سر یا چہرے کو لہولہان کرے گی۔ پھر اس کی لاڈلی بیٹی صرف تڑپے گی یا خود کو مرنے سے بچانے کو ترسے گی۔
بالکل ویسے جیسے کچھ برس قبل فیصل آباد کی رضیہ نے خود کو بچانے کی داستان سناتے ہوئے کہا۔
“میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں چھت پر خود کو چھپانے کے لئے بھاگی۔ مالکن مجھے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ وہ میرے ہاتھ پر لگی اور میں زخمی ہوگئی وہ پھر بھی نہیں رکی اور اس نے مجھے چھری دے مار ی۔۔۔۔ “
جیسے رضوانہ کی آنکھوں کو خونی اور نوکیلے ناخنوں سے نوچا گیا۔ اس کے سر پر اتنے گھائو دئے گئے کہ ان میں سنڈیوں جیسے کیڑے رینگنے لگے۔ زخم لگانے والے نے ان زخموں پر مرہم اس لئے نہیں لگایا کہ تکلیف میں تڑپتی، گڑگڑاتی اور اپنی باجی کے غیض و غضب سے پناہ مانگتی رضوانہ کی آواز ہی میں اس کی تسکین تھی۔ ہم رانی پور کی ننھی فاطمہ کے پل پل موت کی طرف جاتے بے حجاب وجود کا دکھ بھی کبھی بھلا نہ پائیں گے۔ وہ مختصر سی ویڈیو اس کی اذیت اور کرب کی ایسی عکاس ہے کہ اس کی ایک جھلک ہی ہمارے دل کی دھڑکن کو بند کر دینے کو کافی ہے۔ ملزم اسد شاہ تو سفاک تھا ہی لیکن اس کی بیوی حنا شاہ ایک ایسا تماشبین تھی جو اپنے شوہر کے حضور یہ معصوم بچیاں ٹرے میں سجی ہوئے طعام کی طرح پیش کرتی تھی۔ اور وہ جنگلی بھیڑیا کچر کچر، ان کی بوٹیاں ہڈیوں سمیت ہڑپ جاتا تھا۔
آپ اگر تھوڑے سے پوش علاقے میں رہتے ہیں تو آپ کو ہر تیسرے یا چوتھے گھرمیں ایک ننھی ملازمہ ضرور دکھائی دے گی۔ ان کی سہولت یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے کی خدمت گزاری مل جاتی ہے اسی لئے یہ رواج اب متوسط طبقے میں بھی سرایت کر رہا ہے۔ ان گھروں میں خاتون خانہ رات گئے تک جاگنے اور دن چڑھنے کے بہت بعد تک نیند کی گولیوں کے اثر سے سوتے دکھائی دیتی ہیں۔ یہ حوا کی بیٹیاں اپنے گھروں کی شہزادیاں ہیں یہی وجہ ہے ان کا ہر کام بچوں کو سکول بھیجنے سے لے کر رات گئے کے برتن سمیٹنے تک گھر کے ملازم ہی انجام دیتے ہیں۔ یہ ننھی بچیاں تو وہ یہ کہہ کر رکھتی ہیں کہ ان سے اپنے بچوں کے چھوٹے موٹے کام ہی کروائے جائیں گے لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کی سزا کے طور پر ان کی ذمہ داریاں اور بڑھنے لگتی ہیں۔ اب اگر کسی بات پر باجی کا پارہ چڑھ جائے تو ممکن ہے ان کمزور ہڈیوں کے ٹوٹنے کی آوازسے ہی یہ پارہ نیچے آسکے۔ گھر میں جب اوپر کی آمدن تگڑی ہو، رزق حرام وافر ہو تو کل کلاں کو کچھ ہو بھی گیا تو کیا غریب ہیں کچھ دے دلا کر خاموش کر دیا جا ئے گا اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ کھنکتے سکوں سے مجبوری کو خرید لیا جاتا ہے۔ اور ایک نئی رضوانہ، فاطمہ یا طیبہ کی بھینٹ تیار ہو جاتی ہے۔ ان معصوموں سے وابستہ قانون سازی فائلوں میں ہی دھری رہ جاتی ہے۔ کیونکہ قانون بنانے والے اور قانون لاگو کرنے والے بھی ہمیشہ تگڑی پارٹی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
2022 میں ایک نجی ادارے نے مختلف شہروں میں گھروں کی عمارتوں پر ایسی تختیاں آویزاں کی تھیں جن پر لکھا تھا کہ یہاں کوئی بچہ مشقت نہیں کرتا۔ تاکہ معاشرے میں شعور و آگاہی پھیلے۔ ایسی ہی تختیاں ہر اس گھر کے باہر لگوائی جائیں جہاں بچوں سے مشقت لیئےجانے کا احتمال ہو۔ ہر صوبے میں یہ قانون بنا دیا جائے کہ کم عمر بچوں سے مشقت لینا ایک قابل سزا جرم ہے جس کی سزا اور جرمانہ بھاری رکھا جائے تاکہ ایسے لوگ جرم تو کیا بچوں کو اجرت پر رکھتے ہوئے ہی سو بار سوچیں۔ اور اگر وہ اس قانون کی پاسداری نہ کریں تو دوسرے شہری بآسانی ان کے خلاف شکایت درج کروا کے اپنی ذمہ داری نبھا سکیں۔ اگر کچھ بن نہیں پاتا تو معاشرتی طور پر ایسے گھرانوں کے مکینوں کو اپنے طور پر اس جرم کا احساس دلائیں، انہیں معاشرتی سطح پر تنہائی کا شکار بنانے کر ان سے میل جول کو معطل کریں۔ تاکہ اپنے محلوں کی یہ شہزادیاں معصوم بچوں سے مشقت لینے سے اپنا ہاتھ اسی معاشرتی نفرت اور تنفر کے احساس سے روک دیں۔
