یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے، میں کتابوں کی ایک دکان سے کچھ اور ڈھونڈھ رہا تھا کہ میری نظر اصغر ندیم سید کی ’’ادھوری کلیات‘‘ پر پڑی۔ کتاب کا نام عجیب لگا۔ ادھوری بھی، کلیات بھی۔ خریدی، گھرلے آیا اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ یہ اصغر ندیم سید کی نظمیں تھیں۔ پہلی ہی نظم انتظار حسین کے نام تھی، ’’تاریخ ایک خاموش زمانہ‘‘۔ میں پڑھتا گیا، سب کچھ پانی ہوتا گیا۔ پانی پر تصویر بنی، تصویر زمین پر پھیل گئی، ٹوٹ کر بارش برسی۔ نظم کیا تھی؛ ساٹھ برسوں کا قصہ۔ ہمارا اپنا قصہ۔ ہم جو آدھے ہو گئے تھے۔ ہم جو آدھے رہ گئے ہیں۔ رہے بھی ہیں یا نہیں یا پھر فقط قصہ ہو گئے ہیں۔ میر نے کہا تھا: ’’ہونا جہاں کا اپنی آنکھوں میں ہے نہ ہونا‘‘ بس یوں ہے کہ ’’جہاں‘‘ کی جگہ ہمیں اپنے اجتماعی وجود رکھنا ہوگا ہماری اپنی نظروں میں معدوم ہوتا ہمارا اپنا اجتماعی وجود۔ میں وہ نظم پڑھ چکا تو ایک اور نظم کی تلاش ہوئی۔ وہی، کہ جو، جب سے میں نے سنی تھی، میرے اندر ایک گونج بھرتی تھی۔ لگ بھگ آدھی کلیات دیکھ چکا تو وہ ’’۱۴۔ اگست‘‘ کے عنوان سے میری آنکھوں کے سامنے تھی: ’’مسافر ساٹھ برسوں کے ابھی تک گھر نہیں پہنچے‘‘۔ (اب چھہتر برسوں کے بعد بھی ہم کہاں منزل پر پہنچ پائے ہیں) کچھ دن پہلے کشور ناہید کے ہاں جب اصغر ندیم سید نے اپنی دس کہانیوں کا مجموعہ ’’کہانی مجھے ملی‘‘ عطا کیا تھا تو میں نے خوش ہو کر کہا: ’’آہا افسانوں کا مجموعہ‘‘، اصغر نے کہا :’’نہیں کہانیاں‘‘۔ گھر آکر میں نے کتاب کھولی، پڑھی تو مجھے لگا یہ واقعی افسانے نہ تھے کہانیاں تھیں۔ ہماری اپنی کہانیاں ؛ محض گھڑا ہوا، سوچا ہوا، تخیل کی آنچ سے پکایا ہوا اور خیال کی پڑچھتی سے اُچکے ہوئے افسانے نہیں، ہماری اپنی کہانیاں۔ دس کی دس کہانیاں پڑھ چکا تو بھٹکنے والی نسل کے ساٹھ برسوں میں ایک اور دہائی جمع کرچکا تھا۔
اصغر ندیم سید کو آپ سنیں، اُن سے مکالمہ کریں یا اُن کی تحریر پڑھیں یہ شخص آپ کو ایک پوزیشن لیے نظر آئے گا۔ یوں نہیں بدن ایک طرف ہے اور نظر دوسری طرف۔ یوں بھی نہیں کہہ سن کچھ رہے ہیں اور خیال کہیں اور۔ کہ یہ تو ایک جانب دھیان باندھے ہوئے ہیں، ایک نقطے پر نظریں جمائے، ایک منزل کو نگاہ میں رکھے ہوئے۔ انہیں معلوم ہے جس طرف جانا ہے، انہیں خبر ہے، جہاں پہنچنا ہے۔ راستہ معلوم، راہ کی مشکل گھاٹیاں بھی معلوم۔ منزل جس پر پہنچنا ہے وہ بھی معلوم۔ مگر جنہیں ساتھ لے کر پہنچنا ہے وہ ہر بار اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں، بھٹک جاتے ہیں، ذرا سی پھسلن پر پھسل جاتے ہیں۔ اصغر ندیم سید کا فن محض ان کے اپنے وجود کے المیے کی تظہیر نہیں ہے یہ اسی بکھرے ہوئے، بھٹکے ہوئے اجتماعی وجود کی کہانی ہے۔ کا فکا نے کہا تھاکہ ادیب معاشرے کا سب سے ناتواں فرد ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے کندھوں پر موجودات کا سب سے زیادہ بوجھ محسوس کرتا ہے۔ اصغر ندیم سید کی ان دس کہانیوں کو پڑھ کر آنکا جا سکتا ہے کہ وہ محض موجودات کا بوجھ ہی محسوس نہیں کرتے قومی سطح پر وقوع ہونے والے واقعات، سماجی سطح پر ہونے والے سانحات اورسیاسی بدبختیوں پر مشتمل حادثات کو اپنے دِل پر محسوس کرتے ہوئے کچھ یوں اپنی نثر کا حصہ بناتے ہیں کہ ان کی نثر کا ایک خاص آہنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس آہنگ میں کہی ہوئی کہانی محض واقعات کی پوٹلی نہیں رہتی کہ اُس میں تاثیر کا جادو بھرجاتا ہے۔
یہاں میرا دھیان، ان کے ناول ’’آدھے چاند کی رات‘‘ کی طرف چلا گیا ہے۔ بہ ظاہر یہ ناول انسانی رشتوں کی کہانی کو نفسیاتی سطح پر گرفت میں لیتا اور اس کی نزاکتیں دریافت کرتا ہے تاہم عین آخری صفحات میں اس ناول کی مرکزی کردار ماہ رُخ کا اپنے محبوب فیصل کا محبت سے بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دینا اور اپنی ممتا کو جگاتے ہوئے ایک بچے عامر کے ساتھ زندگی بتانے کا فیصلہ کرنا اسی ذکی الحس فرد کو نشان زد کرتا ہے جس کے کندھوں پر کافکا نے موجودات کا بوجھ لدے ہوئے دیکھا تھا۔ یادرہے عامر ماہ رُخ کا اپنا بیٹا نہیں ہے مگر یوں ہے کہ وہ اُس کا اپنا ہو گیا ہے۔
اصغر ندیم سید کے لفظوں میں ان کے کردار ایسی کتاب نہیں ہیں جنہیں جہاں رکھا جائے وہیں پڑی ہوئے ملیں، ان کے اندر ہر پل ایک نئی دنیا پیدا ہوتی ہے اور یہ دنیا سماجی رشتوں سے جڑ کرہی محترم اور معتبر ہوتی ہے۔ جی، ایسی دُنیا جس کی چہل پہل ہماری دیکھی بھالی ہے، جس کے کردار ہمارے جانے پہچانے ہیں، جس کا منظر نامہ ہمارا اپنا آس پاس ہے۔ اصغر ندیم سید نے اگرچہ، اپنے چھے سطری دیباچے میں لکھ رکھا ہے کہ اُن کے یہ کردار کہیں نہ کہیں انہیں ملے ضرور ہوں گے جو اُن کے تخیل سے اُن کے ہوگئے ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ لگ بھگ سارے کردار ان کے دیکھے برتے ہوئے ہیں، تخئیل کا لفظ تو انہوں نے محض اپنے قاری کے بہکاوے کے لیے لکھ دیا ہے۔ جی سو فی صد حقیقی کردار۔ سوترمنڈی کاوہ فیصل آبادی تاجر جس نے جرمن ساخت کے پستول کی گولیوں میں باردو کی جگہ اپنی توہین کا بدلہ بھر لیا تھا یا ٹبی گلی کی وہ طوائف جس کے دھڑکتے سینے میں بسے فیض صاحب، پطرس بخاری، عابد علی عابد اور حمید اختر کے احترام اور عقیدت کو نفرت بھری گولی سے چھید کر خون کے ساتھ بہا ڈالا گیا تھا (کہانی کی تلاش میں)، سن سیتالیس کے بٹوارے کی کہانی کا ہر میت سنگھ برنالہ، جس کی یادداشت منقسم ہو گئی تھی یا میاں محمد صدیق اور اس کے دو بیٹے جن میں ہر میت سنگھ کی کوٹھی تقسیم ہورہی تھی (بٹوارہ)۔ اُدھر کے ایک ڈانس سکول کی مالتی اور اس کی بیٹی سنجنا، جو بنگال کی آواز اور بنگال کی آبرو تھی یااِدھر سے گئی فوج کا کیپٹن عمران ملک، جس کے نام مالتی سنجنا کی ولدیت لکھوانا چاہتی تھی (سنجنا کی کہانی)۔ ہماری اپنی قومی سیاست کا نمائندہ کردار غوث بخش المعروف بگھیلے شاہ، ایسی اسمبلی کا رکن ہو گیا تھا جس کا ہر رکن ایک بگھیلا تھا (المعروف بگھیلے شاہ)۔ یاوہ ہر نام سنگھ جسے چغتائیوں کی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا۔ جی وہی، جس نے اس عشق میں اپنے کیس منڈھوا ئے اور مذہب تبدیل کر لیا تھا مگر اپنی محبوبہ کو پا کر بھی سب کچھ کھو بیٹھا تھا۔ یا دلجیت کور کا ویرخوشونت سنگھ، جس کی راکھ کہانی کا راوی مٹی کے برتن میں لیے سرحد کے اُس طرف پہنچا تھا مگر خود یوں محسوس کر رہا تھا جیسے منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرح نومینز لینڈ میں کھڑا تھا اور کئی انسانوں کی راکھ کبھی اُدھر اڑ کے جاتی تھی کبھی ادھراڑ کر آتی تھی (ایک اور ٹوبہ ٹیک سنگھ)۔ تو کہئے صاحب کون سا کردار ہے جو فقط لکھنے والے کے تخئیل کی کارستانی ہو؟ سب ہی تو دیکھے بھالے ہیں۔ جو نہیں دیکھے ان کے نام جانے پہچانے ہیں اور جو بچ رہتے ہیں ان پر بھی شنا سا ہونے کا گمان سا گزرتا ہے۔
اچھا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ’’لندن ۲۰۵۰ء‘‘ سب کا سب تخئیل کا شاخسانہ ہے۔ لندن میں کئی سال بعد جو کچھ ہونے جارہا تھا وہ اصغر ندیم سید نے اپنے تخیل کی کمند سے گرفتار کرکے کہانی کے تانے بانے میں بُنا تھا۔ ورنہ ان کے پاس ایسی ٹائم مشین کہان جو انہیں مشاہدہ کرنے کو ۲۰۵۰ء میں پہچانتی اور کہانی لکھنے کو واپس لے آتی۔ جی بالکل درست۔ ماننا پڑے گا۔ بلکہ مجھے تو یوں لگا ہے کہ یہ لگ بھگ ویسا ہی قرینہ ہے جیسا غلام عباس نے اپنے افسانے ’’دھنک‘‘ میں اس وقت کو گرفت میں لینے کے لیے برتا تھا جب انہوں نے پاکستان کو تسخیر قمر کی انہونی کرتے دکھایا تھا۔ غلام عباس کے افسانے میںاس انہونی کے بعد ہماری اپنی معاشرت کے تضادات کھل کر سامنے آگئے تھے۔ یہ عین مین وہی تضادات ہیں جو اب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم اصغر ندیم سید کے ہاں تشکیل پانے والے لندن ۲۰۵۰ ء کی تخیلاتی حقیقت یوں مختلف ہے کہ یہ برصغیر پاک و ہند کی گزشتہ پون صدی کی تاریخ اور پاکستان کے موجودہ منظر نامے کی حقیقی تصویر ہو گئی ہے۔ ایسی حقیقت جسے ۲۰۵۰ء کے لندن میں دہرایا جانا ہے۔ یوں ہم اسے آج کی حقیقت سے الگ کرکے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
یہ کہانیاں پڑھتے ہوئے کہیں کہیں مجھے یوں لگا ہے کہ ہمارے تخلیق کار نے حقیقت کو خیال یا کہانی کو افسانہ بننے سے روک دینے کو کئی شعوری حیلے کیے ہیں، مثلا دیکھئے وہ ’’ہمارے ہیرو واپس کرو‘‘ اور ’’سمندر پر کیا گزری‘‘ جیسی کہانیاں لکھتے ہوئے کالم یا مضمون کے قرینے کو برتتے ہیں اور اس میں بیان ہونے والی حقیقت میں اپنے اندیشوں کو گوندھ دیتے ہیں۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اتنے حیلوں کے باوجود ایسی کہانیوں نے یہاں وہاں کئی مقامات پر واقعیت کا سخت خول اپنے بدن اُدھیڑ پھینکا ہے، بہ طور خاص وہاں وہاں جہاں کہانی نامی ایک خیالی کردارکی تجسیم ہو جاتی ہے۔ جی وہی کہانی کا نسانی وجود رکھنے والا کردار جوایک دوست اور محبوبہ کی طرح کہانی کے متن میں راوی سے مکالمے کو موجود ہوتا ہے۔
“باپ کا ذکر کرکے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہانی کہیں پاس ہی تھی۔ کہنے لگی۔ “یہ آنسو کوئی اور کہانی بتارہے ہیں۔ “شانتی کو بہت کچھ یاد آرہا ہے۔ کہانی تو جیسے میرے اندر چھپ جاتی تھی۔۔” (شانتی، شانتی سے ہے)
ایسا وہاں بھی ہوا ہے جہاں ہمارے اس تخلیق کار نے زُبان کے اندر کے بھیدوں کے جاگ اٹھنے پر اپنے ارادے کو پسپا ہونے دِیا ہے یا پھر زبان کا جادو جان بوجھ کر جگا لیا گیا ہے۔ جہاں جہاں ایسا ہوا ہے وہاں وہاں کہانی محض ٹھوس واقعات کا مجموعہ کہاں رہتی ہے؟ مثلاً رواں منظر نامے سے اٹھائی گئی ایک ایسی ہی کہانی کے یہ جملے دیکھیے:
“وہ سب سکتے میں آگئے۔ اس لیے کہ سرکار نے صرف سمندر ہی نہیں بیچا تھا آسمان اور دھوپ بھی ساتھ ہی بک گئی تھی۔ “(سمندر پر کیا گزری)
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ’’سی پیک‘‘ کے مثبت بیانیے کو ایک طرف رکھ کر ایک چونکا دینے والی ٹھوس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے مگر آسمان اور دھوپ کا سمندر کے ساتھ بکنا اس حقیقت کی ایسی سنگینی کو سامنے لاتا ہے جو حقیقت سے کہیں زیادہ حقیقی ہے۔ ایک کہانی جس کا ذکر اوپر ہو چکا بظاہر ٹھوس واقعات کا مجموعہ ہے مگر اپنے اختتام پر پہنچ کر اپنا رُخ حسیات کی طرف موڑ لیتی ہے، یوں کہ کہانی میں افسانویت جاگ اُٹھتی ہے:
“اُسے لگا کسی نے اُس کا نام پکارا ہے۔ وہ بیٹھا رہا۔ پھر کسی نے آواز دی؛ بگھیلے شاہ۔ اُسے لگا اسمبلی میں سب کا ایک ہی نام ہے۔ پھر اُس نے آنکھیں بند کیں تو اُسے لگا خیمے جل رہے ہیں۔ دھواں اُٹھ رہا ہے اور وہ شام غریباں سُن رہا ہے۔” (المعروف بگھیلے شاہ)
اچھا، ایسا بھی ہے کہ کہیں کہیں ہمیں اصل کرداروں سے کچھ فاصلے پر رکھنے اوران کرداروں کی شناخت کو دھند میں رکھ کر شعوری طور پر کہانی کے ٹھوس پن کو غچہ دینے کی سعی بھی کی گئی ہے؛ یوں جیسے بنگلہ دیش بننے کے بعد اس ملک سے چلے جانے والی ایک مقبول ہیروئن، جسے ایک رات پانچ نوجوانوں نے ادھیڑ ڈالا تھا۔ کہانی میں اس کا نام شانتی ہے یا روای کو لُچا ملتانی کہہ کر اپنی بے تکلف محبت کا اظہار کرنے والا وہ کردار جسے متن میں احمد صہبائی کہا گیا ہے۔ میں ایسا نہیں کہتا کہ اصغر ندیم سید اس حیلے سے ہمیں دھوکے میں رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم ایسا ہے کہ ان کرداروں کے ناموں کو اجنبیا کرانہیں کچھ غیر حقیقی واقعات سے جوڑ کر دیکھنے کا جواز پیدا کرگئے ہیں اور یہ بھی فکشن کا ایک قرینہ ہے۔ محض کہانی کا نہیں؛ افسانے کا۔ گویا وہ جانتے ہیں کہ کہانی افسانہ کیسے بنتی ہے مگر ان کے سرکار ایسے ہیں کہ وہ کہانی کی صورت میں ہی قاری کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی مقام پر وہ نہیں چاہتے کہ ان کا قاری پچھڑ جائے۔ انتظار حسین کی طرح، جہاں اس کا ماتھا ٹھنکتا ہے کہ قاری پیچھے رہ جائے گا وہاں وہ خود مڑ کر اس کی انگلی تھام لیتے ہیں یا اپنی مدد کے لیے شاعروں، دانشوروں اور افسانہ نگاروں لے آتے ہیں۔
کوئی تیس سال پہلے چھپنے والے ایک مضمون میں اصغر ندیم سید نے لکھا تھا:
“آج کے عہد میں کہانی کی کیا شکل ہونی چاہیے؟ آج کے کہانی کار کو یہ سوال خود سے کر لینا چاہیے تاکہ آج کا ادب معتبر ہو سکے۔ ۔ ۔ کہانی اپنے عہدکی جذباتی، حسیاتی اور خارجی صداقتوں کو اِجتماعی تجربے کے کینوس میں دیکھتی ہے۔ اور پھر ایسا گواہ بن جاتی ہے جس کے منحرف ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ (کہانی کی کہانی۔ طرز احساس)
اس اقتباس میں جہاں اصغر ندیم سید نے تیس سال پہلے کہانی کے کاندھوں پر اجتماعی تجربے کی تاریخ مرتب کرنے کامقدس فریضہ ڈالا تھا، وہیں وہ بین السطور کہانی کے فن کوشخصی اور فرد کے دُکھوں کا رقت آمیز کھاتہ یا انفرادی خوش فعلیوں اور لذتوں کی اشتہا انگیز کھتونی بننے پر معترض بھی ہوئے تھے۔ خیر، ایسا بھی نہیں ہے کہ اُن کے نزدیک فرد کے شخصی تجربے کی کوئی وقعت نہ ہو۔ وہ ہے، مگریوں ہے کہ وہ اپنے ہر کردار کو ایک شخص نہیں سماج کی اکائی سمجھتے ہیں اور سماجی رشتوں کے اندر رکھ کر ہی اُسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ فرد کی فکر کو تحریک دیتے ہیں، اُس کے جذبوں کے ستار کے تاروں کو چھیڑتے ہیں اور حسیات کو تحریک دیتے ہیں۔
صاحب! یہ رشتے بھی کتنے عجیب ہیں کہ کہیں فرد کو فرد سے جوڑ کر ایک سماج بناتے ہیں اور کہیں اسی سماج کو طبقات میں تقسیم کرکے باہم بھڑا دیتے ہیں۔ ایک قوم کے بجائے طبقوں اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے والے اس خطے کے انسانوں کی تاریخ سے ان کہانیوں کے متن کو متشکل کیا گیا ہے۔ بٹوارے کی تاریخ، اور اس بٹوارے کا لقمہ بننے والے بے بس انسانوں کی تاریخ۔ جی وہ انسان، جو محض اس لیے مار ڈالے گئے یا مارے جارہے ہیں کہ وہ رنگ نسل یا مذہب کے اعتبار سے مارنے والوں سے مختلف ہیں۔ یہ بٹوارہ سن سینتالیس کا ہو، اکہتر کا یا وہ بٹوارا اور تقسیم در تقسیم جو ہمارے باقی بچ رہے ملک میں منافرت کی کاشت، نسل کشی، گم شدگیوں، ریاستی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی کی صورت ظاہر ہوچکی ہے۔ تاہم ان ہی کہانیوں میں انسانیت پر وہاں اعتبار بھی قائم ہو جاتا ہے جہاں دوسروں کو اس لیے بچا لیا جاتا ہے کہ انسانیت کا یہی تقاضا ہے۔
میں نے اپنی بات کو آغاز دیتے ہوئے اس نظم کو یاد کیا تھا جو اصغر ندیم سید نے انتظار حسین کے نام کی تھی اور اس نظم کو بھی جس میں کئی برسوں کے مسافروں کو منزل نہ ملنے کا ذکر آیا تھا اور اب یہ کہنا ہے کہ انتظار حسین کا شہر افسوس، اصغر ندیم سید کی ان دس کہانیوں کے متن میں گندھ گیا ہے اور اجتماعی سفر کی رائیگانی کا وہ احساس بھی جو ایک سچے تخلیق کار کو کسی طور چین سے نہیں رہنے دیتا۔ کا فکاکے کہے کو بھی ایک بار پھر یاد کر لیتے ہیں، ’’ادیب معاشرے کا سب سے ناتواں فرد ہے‘‘۔ اصغر ندیم سید وہی ناتواں فرد ہے جو اپنے کندھوں پر موجودات کا سب سے زیادہ بوجھ محسوس کرتا ہے۔ مگر اس فرد میں اتنی توانائی اور حوصلہ ہے کہ ایک خاص زمان میں بندھ کر اور ایک متعین مکان میں رہ کر جانے پہچانے کرداروں کو کہانی میں ڈھال دے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اصغر ندیم سید کی کہانیاں ایک زمان و مکان سے بندھے انسان کی کہانیاں ہیں۔ آفاقی ہونے سے پہلے مقامی ہونے کی للک رکھنے والی کہانیاں۔ سچی کہانیاں۔ اور راستے کے سارے کانٹے اپنی نازک پوروں سے چن کر منزل کی سمت اشارہ کرتے ایک حساس اور سچے تخلیق کار کی کہانیاں، ایسی کہانیاں جو روشنی کی لکیر ہو کر راستہ سجھا دیتی ہیں۔
