تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

تہذیبِ سخن، افتخار عارف کی شاعری کی روحانی جہات — نعیم الرحمٰن

افتخارعارف کی شاعری پر احمد جاوید صاحب کی منفرد کتاب

by دانش ڈیسک 06/08/2023
written by دانش ڈیسک 06/08/2023
252

تہذیبِ سخن افتخارعارف کی شخصیت اور شاعری پر منفرد کتاب ہے۔ جس کا ذیلی عنوان افتخارعارف کی شاعری کی روحانی جہات ہے۔ کتاب میں معروف دانشور، افسانہ نگار و شاعر احمد جاوید کے افتخارعارف کی شخصیت اورشاعری پربارہ لیکچرز کو تحریری شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ احمد جاوید یکم جون انیس سواڑتالیس کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ انیس سو پچاسی میں اقبال اکیڈمی کو جوائن کیا اور یہیں سے ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے۔ تصوف، فلسفہ، شعروسخن، اقبالیات پر گہری نظر ہے۔ تزکیہ و تصوف کتاب مشہور ہے۔ میر تقی میر کی شاعری کا محاکمہ ’’سرہانے میر کے‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ پیام مشرق تسہیل کلام علامہ اقبال، ’’محی الدین ابن عربی‘‘ اور ’’اقبال شناسی‘‘ کتب بھی مشہور ہیں۔ شاعری کا مجموعہ’’تقریباً‘‘ شائع ہوچکا ہے۔

معروف شاعراوردانشورخورشید رضوی کی کتاب کے بارے میں رائے بہت اہم ہے۔

’’ یہ کتاب چند زبانی نشستوں کی تحریری صورت ہے جس میں ہماری ملاقات اپنے عہدکی دو منفرد شخصیات سے ہوتی ہے۔ جناب افتخارعارف جو یہاں ممدوح ہیں اور جناب احمدجاوید جو مداح ہیں۔ احمد جاوید صاحب کی نگاہ ’مثل شعاع آفتاب‘ ہے۔ چنانچہ ان کی مداحی سطحی اور اکہری نہیں، بہت گہری اور تہہ دار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ افتخار کی ذات کے ان نہاں خانوں میں رسائی چاہتے ہیں جو خود افتخار صاحب کی حدادراک سے ماوراء ہیں اور جن کی جھلک صرف ان کی شاعری میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کی نگاہ میں افتخار صاحب کی زندگی ایک المیہ زندگی ہے جو نشاطیہ آہنگ میں گویا ’کانٹوں میں پھول پروتے‘ ہوئے گزاری گئی۔ احمد جاوید صاحب نے جناب افتخار عارف کی شاعری کا تجزیہ بہت جم کر اور بہت عمیق سطح پرکیا ہے۔ اور اس سلسلے میں ان کی مذہبی شاعری کو بطور خاص دقت نظرسے دیکھتے اور پرکھتے ہوئے، ان کے بعض فن پاروں کا مفصل مطالعہ پیش کیا ہے۔ یہ مطالعہ بیک وقت بلاغی، ادبی، فلسفیانہ اور نفسیاتی تہیں رکھتا ہے اور جس قدر ہمیں ممدوح کے بارے میں بتاتا ہے اتنی ہی یا شاید اس سے بھی زیادہ مداح کے درون و بطون کی آئینہ داری کرتا ہے۔ ‘‘

احمد جاوید صاحب ’’مقدمہ ‘‘میں لکھتے ہیں۔

چار چھ برس سے دل میں یہ خواہش زور پکڑتی جارہی تھی کہ اپنے بڑوں کو ناقدری کی بھینٹ نہ چڑھنے دیاجائے۔ بالآخر ان نادر روزگار ہستیوں کے تذکرے کے لیے ہفتے میں ایک دن خاص کرلیا۔ حسن اتفاق کہ شاہد اعوان صاحب نے جب افتخار عارف کی شاعری پر نسبتاً مفصل اور جامع گفتگو ہفتہ وار ریکارڈ کروانے کے لیے کہا تو میں نے وہی خاص دن تجویز کیا۔ خیال تھا کہ دوتین نشستوں میں بات پوری ہوجائے گی، لیکن بارہ نشستیں لگ گئیں اور بات پھر بھی پوری نہ ہو پائی۔ پہلی نشست میں افتخارعارف کی شخصیت کو موضوع گفتگو بنایا تاکہ ان کی شاعری کو ایک زندہ سیاق و سباق میں دیکھا جاسکے۔ مذہبی شاعری میں تکلف اور تصنع ہوتا ہے۔ لیکن مجھے ان کی مذہبی شاعری سے زیادہ دلچسپی ہے۔ فنی اور تکنیکی پختگی کے ساتھ ساتھ بہت کھری، بہت سچی اور بہت پراحوال۔ قلب پر بھی اثرکرتی ہے اور ذوق شعری کی تسکین کا سامان بھی رکھتی ہے۔ مجھے لگتاہے کہ حقیقی مذہبی احوال و کیفیات کا جیسا خالص اظہار ان کے پورے کلام میں جابجا دکھائی دیتا ہے، وہ ہماری شعری روایت میں کمیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بس بھران کی شخصیت کے نہاں خانوں میں جھانکنے کی کوشش کی جو افتخار عارف کے شعر سے اپنا اظہار تو کرتے رہتے ہیں مگر خود ان کے، جی ہاں ان کے ادراک سے باہر ہیں۔

کتاب کا انتساب سلیم احمد کے نام ہے۔ جس کے بارے میں حرف ناشر میں برادرم شاہد اعوان لکھتے ہیں۔

’’ کیسے ممکن ہے کہ احمدجاوید صاحب سے بات ہو اور سلیم احمد کا ذکر نہ ہو۔ پھرسلیم احمدسے وابستہ افراد کی بات چھڑے اور آج ہم میں موجوداس حلقے کے بہت کم زندہ افراد تک نہ پہنچے۔ ایسے ہی ایک تذکرے میں سلیم احمد کے شاگرد جناب افتخارعارف کی بات ہوئی تو اچانک جاوید صاحب نے ان کی شخصیت اور شاعری پہ اظہار خیال کی خواہش کا بے ساختہ اظہار کیا۔ یوں دانش ٹی وی daanishTv پہ ان نشستوں کا آغاز ہوا جن میں بقول افتخار صاحب انکی زندگی میں پہلی بار کسی نے ان کے مزاج اور کلام و فن کو اس گہرائی و گیرائی سے دیکھا اور بالکل منفرد اور خالص انداز میں نئے نئے پہلو دریافت کیے۔ خود میرے لئے یہ سلسلہ گفتگو ممدوح اور مداح کو جاننے کے ہزاروں در وا کرتا چلا گیا۔ بارہ نشستوں پہ مشتمل اس گفتگو کو صفحہ قرطاس پہ منتقل کرنے کی میری خواہش کی تکمیل جناب افتخار عارف کی مسلسل تحریک کے بغیر ممکن نہ تھی۔ غیر رسمی اسلوب گفتگو کو قابل قبول حد تک تحریری انداز میں ڈھالنے کا مرحلہ توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ کتاب کو ابواب میں تقسیم کرنے کی بجائے ہر نشست کو جوں کا توں الگ الگ حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے اور آخر میں اس حصہ کی وڈیو کا لنک بھی شامل کردیا گیا ہے۔ یوں دلچسپی رکھنے والے قارئین اس بصری اور سمعی لوازمہ سے بھی مستفیذ ہو سکتے ہیں۔ ‘‘

محمد خالد مسعود کا کہنا ہے۔

’’ جناب احمدجاوید کی تصنیف ’تہذیبِ سخن‘ اردو ادب شناسی میں ایک نئی سمت بلکہ ایک جدیدصنف کاگراں قدر اور قابل ستائش اضافہ ہے۔ مصنف فلسفہ، کلام، تصوف اور اردو ادب کی تاریخ کے وسیع اور گہرے مطالعے میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی رائے انتقادیات میں سخن کی تہذیب کے حوالے زبان، اسلوب، مضمون اور خیال رہتے ہیں، حسی تجربات کی ابلاغیات اور حقیقی اور مجازی کی نزاکتیں تنقید کا موضوع بنتی ہیں۔ متداول انتقادیات سے ہٹ کر یہ کتاب ’’تہذیب سخن‘‘ کی اس روایت سے متعارف کراتی ہے جس کی آبیار ی جناب افتخار عارف جیسے مایہ نازسخنور کرتے ہیں۔ مصنف کا ماننا ہے کہ افتخار عارف روح اور جسم کا ایک زندہ برزخ ہیں جس نے ان کے شعور کی تنہائی اور طرز احساس میں ایسی وحدت پیدا کردی ہے کہ وصال میں فراق کی جدائی اور فراق میں وصال کی تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ روح اور جسم دور ہیں لیکن لاتعلق نہیں۔ افتخار عارف کی شاعری شاعر کے وجودی وفور کی رو ہے۔ ‘‘

اردوادب میں ہم عصرشاعر کے فکروفن کے جائزے کی روایت نہیں ہے۔ اساتذہ نے بھی ماضی کے شعراء کے شاندارتذکرے قلم بندکیے ہیں۔ جن کی بدولت ہمیں ان شعراء کے فکروفن سے بخوبی آگاہ ہونے کاموقع ملتاہے۔ ان میں میں محمد حسین آزادکی ’’آب حیات‘‘ سرفہر ست ہے۔ جبکہ ہم عصرشعراء کی شاعری کا جائزہ بہت کم لیا گیا ہے۔ مشہورشاعر و ادیب خالد معین نے اپنی کتاب ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ میں ہم عصر شاعروں کا ذکر دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ لیکن یہ شخصی خاکے یا یادیں ہیں۔ فن و شخصیت کا ذکرنہیں۔ اسی طرح پروفیسر شاہد کمال نے اپنی کتاب ’’کراچی کے پانچ معروف شاعر‘‘ میں کراچی کے چند اہم شاعروں کے فکروفن پر نظر ڈالی ہے۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے ’’امجد فہمی‘‘ کے عنوان سے ضخیم کتاب میں امجداسلام امجد کی شخصیت اورفن کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ جس میں امجد اسلام امجد کے فن کے ہر پہلو شاعری، ڈرامہ، کالم، سفرنامہ کا محاکمہ کیا گیا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کی شاعری پر بہت عمدہ کتاب فتح محمد ملک صاحب نے لکھی۔ فیض احمد فیض کی شخصیت و فن پرکئی کتب لکھی گئیں۔ ان میں سے بیشترفیض کی وفات کے بعد لکھی گئی ہیں۔ فیض پرلکھے سوسے زائد خاکوں کی بھی ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات نے اردوکے معروف مصنفین اورشعراء کی شخصیت و فن پر سوسے زائد کتب شائع کرکے اس خلا کو بخوبی پر کیا ہے۔

احمد جاوید کی ’’تہذیب سخن‘‘ ایک یکسرمختلف قسم کی کتاب ہے۔ اس میں دورحاضر کے ایک اہم دانشور کی ہم عصرشاعرکے فن پر گفتگو کی طویل نشستوں کو تحریر کی صورت دی گئی ہے اورہرباب کے ساتھ اس کا وڈیو لنک بھی دیا گیا ہے۔ تاکہ قاری مزید سمجھنے کے لیے بصری ذریعے سے بھی استفادہ کرسکے۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ ایک بالکل نئی طرزکی کتاب ہے۔ جسے ایمل پبلشرز نے اپنے مخصوص دلکش انداز میں شائع کیاہے۔ شعرفہمی سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ’’تہذیب سخن‘‘ ایک تحفہ خاص کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس سے استفادہ کرکے افتخار عارف کی شاعری کا سرسری مطالعہ کرنے والے قارئین کو بھی ان کے کلام  کو دقت نظر سے پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔ احمدجاوید صاحب جس دھیمے اور دل پذیر انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ اسی طرح تقریرکو تحریر میں ڈھالنے والوں نے اسے دلچسپ اور پراثر بنایا ہے۔ قاری اگر پڑھنے کے ساتھ وڈیو بھی دیکھے تو اس کا لطف دوبالا ہوجائے گا اور افتخارعارف کی شاعری کے بے شمار نئے پہلو اس کے سامنے آئیں گے۔ جس کے نتیجے میں افتخارکے کلام میں نئی دلچسپی محسوس ہوگی۔

احمد جاوید صاحب کے ساتھ بارہ نشستوں کوان کے عنوان کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے اور ہر نشست کو کئی ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی نشست کا عنوان ’’ایک فرد شاعر‘‘ ہے۔ جسے ’’ایک پرکشش تنہائی‘‘، ’’معلومات اورعلم‘‘، ’’ اخلاقِ فاتحانہ‘‘، ’’ المیہ درنشاطیہ‘‘، ’’ شاعرافتخارعارف‘‘، ’’ شعرِ رومان بیاں‘‘، ’’ در معنی و مضمون ‘‘ اور’’احساسات کی تجدید‘‘ کے ذیلی عنوانات میں بانٹا گیا ہے۔ جن سے بات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

احمد جاوید نے افتخارعارف کی شاعری کا ایسی باریک بینی سے جائزہ لیاہے اوران کے کلام سے نئے نکات تلاش کیے ہیں کہ جن کے ذریعے افتخارعارف کی شاعری یکسر نئے مفہوم کے ساتھ قاری کے سامنے آتی ہے۔ ہرشعرکے نئے اور حیران کن پہلو آشکار ہوتے ہیں اور پڑھنے والے کوایک نیا لطف بھی ملتاہے۔ ایسا بھرپور اور تفصیلی جائزہ کسی شاعرکے لیے بھی باعث افتخارہے۔ ’’تہذیب سخن‘‘ محض ایک شاعر کے کلام کا جائزہ اور تنقید نظرنہیں، بلکہ اس کی بازیافت ہے۔ کتاب پڑھ کر کلام کو ازسرنو پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے اور یہی اس کے بہترین ہونے کا ثبوت ہے۔

پہلی نشست کی ’’ایک فرد شاعر‘‘ میں احمد جاوید نے افتخارعارف کی شخصیت کے بعض پوشیدہ گوشے اجاگر کیے ہیں۔ جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے۔ ’’

افتخار عارف کے حلقہ احباب میں شمار نہ ہونے کے باوجود مجھے خوش فہمی ہے کہ افتخار عارف کے مقربین بھی شاید انہیں اتنا نہ جانتے ہوں جتنا کہ یہ ناچیز۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر تعلق دار ان کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ وہ تو خود کو ان کی نظر میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی زندگی میں آنے والے لوگوں میں ایسے کم، بہت ہی کم ہیں جو خود کو دکھانے میں نہیں، انھیں دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ‘‘

اپنی اس گفتگو میں احمد جاوید نے بہت عمدگی سے پڑھنے کے آداب واضح کیے ہیں اوراسے افتخارعارف کی شاعری سے مربوط کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’کلام کی کئی انواع و اقسام ہیں اور ہر قسم اپنے قاری سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کامخاطب بننے کے لیے یہ خاص شرط پوری کرو۔ ایک نوع یہ شرط عائد کرتی ہے کہ اسے منشائے متکلم جاننے کے لیے پڑھا جائے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مطالبہ نہیں ہے یعنی کہ فہم اس کا مخاطب بنا، کیونکہ یہ صرف آپ کے فہم کو ٹچ کریگا۔ گویا اس نوع کا کلام قاری پر لازم کرتاہے کہ کیا کہا جارہا ہے کے دائرے میں رہو۔ دوسری نوع کلام میں یہ دیکھناہے کہ کیسے کہا جا رہا ہے، جیسے شاعری وغیرہ۔ ایک تیسری کمیاب قسم بھی ہے، اس کا مخاطب بننے کے لیے ضروری ہے کہ کتاب کھولنے سے پہلے یہ دیکھا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ کہنے والا کون ہے۔ یہ کلام کی نادر قسم ہے اور افتخار عارف کی شاعری اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس میں متکلم کی حیثیت معنوی اصلی یعنی بیان کی سی ہے۔ اگر متکلم اپنی نسبت پیدا کرکے اس نسبت کے اظہار کا ذریعہ بننے کی استعداد پیدا نہ کرسکے، تو جو فوری معنویت ہے، وہ معلق رہتی ہے۔ مثلاً جیسے قرآن کے لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ قرآن کا معنی واحد و حقیقی اللہ ہے۔ تو اللہ کی برکت اور بندوں کے ادراک و اظہارمیں وحدت کی جو صلاحیت ہے، اگر وہ حاصل ہوجائے تو پھر متکلم ہی کلام ہے، کلام ہی متکلم ہے۔ افتخارعارف کے ہاں یہ صورت بہت زیادہ واضح طور پر نظر آتی ہے۔ افتخار عارف کو نہ جاننے والا، ان کی شاعری چاہے سمجھ لے، لیکن اسے پوری طرح سراہ نہیں سکتا۔ لہٰذہ افتخار عارف کی شخصیت کو ذرا گہرائی میں دیکھنا ضروری ہے اور قوی امید ہے کہ ان کی شخصیت کے اس تجزیہ کے بعد آپ انہیں پڑھیں گے تو آپ کو ہر شعر یوں لگے گا کہ دیکھا تو پہلے تھا، پڑھا آج ہے۔ یا دیکھا تو پہلے بھی تھا، یاد بھی ہے، لیکن سمجھا اور چکھا آج ہے۔ ‘‘

اور’’تہذیب سخن‘‘ احمدجاویدکے اس تجزیے کی عملی تعبیرہے۔ ان کا کہناہے۔

’’ افتخار صاحب کی شخصیت بہت ہی اکیلی ہے اور ان کی طرح کے اکیلے پن میں اگر کوئی رفاقت، نسبت یاتعلق مدد کو نہ آئے تو یہ انسان کی برداشت سے زیادہ ہے۔ کہا جاتاہے کہ جبری تنہائی سب سے بری اور اختیاری تنہائی سب سے اچھی چیز ہے۔ افتخار عارف ایسے اکیلے آدمی ہیں، جن کا اکیلاپن ذاتی نہیں رہا اور یہ ان کا کمال ہے، بلکہ ان کے کمال سے زیادہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت دست گیری نہ کرتی تو یہ تنہائی قابل برداشت نہ تھی، یہ اکیلا پن انسانی سمائی سے زیادہ تھا۔ اس تنہائی میں ممکن ہے کہ لوگ بھی رہیں اور پورا ہلاگلا رہے۔ یہ تنہائی اس آدمی کے لیے بہت ضروری ہے جو الم اور نشاط کے درمیان پیدا کیے جانے والے تضادات کو حل کرنے آیا ہو۔ ان کی تنہائی سننے میں دلچسپ اور پرکشش ہے لیکن جھیلنے میں ناممکن ہے۔ ‘‘

افتخارعارف کی شہرت کسوٹی پروگرام سے ہوئی۔ کسوٹی ایک مقبول اورمفید پروگرام ہوا کرتا تھا، جسے دیکھنا ہر تعلیم یافتہ گھر میں واجب سا تھا اورکسوٹی کے اوقات کے لحاظ سے لوگ تقریبات رکھاکرتے تھے۔ قریش پور، عبداللہ بیگ اورافتخارعارف گویا تہذیبی اور تعلیمی آئیکون بن گئے تھے اورلوگ انہیں آئیڈیلائز کرتے تھے۔ قریش پور اورعبداللہ بیگ معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ رکھتے تھے لیکن افتخارعارف کو دیکھ  کر اندازہ ہوتا تھا کہ معلومات اورعلم مل جائیں تو آدمی کیسا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ کم ہوں گے جوبڑوں کے ادب اورچھوٹوں پرشفقت کو اپنی فطرت کاحصہ بنالینے میں کامیاب ہوئے ہوں جیسا کہ افتخارعارف صاحب ہوئے۔ وہ بہت عالم فاضل شخص ہیں اورسنسکرت کے علاوہ اور بھی بہت چیزوں کے عالم ہیں، مگراپنے علم کے اظہار میں محتاط ہیں۔

بقول احمدجاوید

’’ افتخارعارف نے گویا المیہ زندگی نشاطیہ آہنگ میں گزاری ہے یا یوں کہیں کہ المیے کا موتی نشاطیے کے صدف میں رکھے رکھا اور پھر کسی دوست کو خبر تک نہ ہونے دی۔ ظاہراً یہ خوب ہنس بول لیتے تھے، مجلسی آدمی تھے لیکن ان کی ذاتی زندگی یا ان کی خلوت میں کوئی دخیل نہیں تھا۔ جب پاکستان آئے تو بڑے کروفر والے تھے۔ انہوں نے ظاہری کروفر اور دنیاوی خوشحالی اور ترقی گویا ایک حجاب کی طرح بنی تھی۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کانٹوں پر پھول پروتے گزری ہے۔ ایک چیزان کی شخصیت میں یہ بھی تھی کہ وہ اپنا غم چھپاتے رہے لیکن غمگسار بناتے رہے اور غمگسار یہ خواتین کو بناتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب ان کے مطالبے کی تعمیل ہونا محال ثابت ہوتا تھا تو یہ کسی اور کو محبوب بنالیتے اور اس عشق میں سچے بھی ہوتے تھے۔ اس بات کو اگر سطحی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ہرجائی پن لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہرجائی پن نہیں ہے، بلکہ کثرت کو وحدت دینے کا ایک عمل ہے۔ جیسے ایک آدمی تسلسل سے ایک کے بعد دوسرے پر عاشق ہوتا رہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ سچا عاشق نہ ہو، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنے عشق سے میچ کرنے والا محبوب ڈھونڈنے میں غلطی کرتا رہتا ہے، یہی افتخار صاحب کے ساتھ بھی ہوتا رہا۔ ‘‘

بھلا کس کو احمد جاوید جیسا مداح ملا ہوگا۔ جواس طرح ممدوح کی شخصیت کے ہر پہلو کو پیش کرے اور بظاہرغلط نظرآنے والی باتوں کا بھی دفاع بھرپوردلائل سے کرے۔ احمد جاوید ایک دلچسپ بات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’افتخار صاحب مشہور ہونے کے بعدشاعر بنے، شاعر بن کر مشہور نہیں ہوئے، آج کا آدمی ان جیسی شہرت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا نے عالمیگری دے دی ہے لیکن اس شہرت اور مقبو لیت کا آج حصول ناممکن ہے۔ ان کی ابتدائی دورکی شاعری کو رومانوی (عشقیہ ومجازی شاعری) کہا جاسکتا ہے۔ لیکن رومانوی شاعری میں بھی ایک عجیب سی انفرادیت ہے، ایک پیچ داری سی ہے، وہ یہ ان کا ہر محبوب اپنی صنف میں رہتے ہوئے، اس صنف کے بائیولوجیکل تقاضے پورے کرتے ہوئے اس سے تجاوز بھی کرتا رہتا ہے۔ یعنی عورت لاعورت ہوسکنے سے مشروط ہے، جیسے ہمارا موجود ہونا، ہمارے موجود نہ ہو سکنے سے مشروط ہے۔ گویا ایک شخص اپنے محبوب، جس کی محبت میں جسمانی کشش اور جسمانی ربط کا ایک بہت بنیادی کردارہے، اس کے باوجود وہ اس سے تجاوز کا تقاضہ کر رہا ہے، اس میں جسم اپنا زور کھوئے بغیر مکمل ہوکر روحانی حال میں ڈھل جاتا ہے۔ جیسے ابن عربی کہتے ہیں کہ ’’جب آدمی حالتِ وصل میں ہوتا ہے تو اس وقت اپنی فنا بقا کے تجربے سے گزر رہا ہوتا ہے۔‘‘ ایسا لگتا ہے کہ افتخار صاحب نے ابن عربی کا قول سنا ہے یا ابن عربی نے ان جیسوں کو دیکھ کر یہ قول کہا تھا۔ ‘‘

شعرکی معنی آفرینی اور مضمون بندی ضرر دیکھنی چاہیے۔ مضمون بندی کامطلب یہ ہے کہ شاعرکے شعری تجربات میں کتنی ثروت مندی اور معنویت ہے۔ مضمون کسی تجربے کا بیان ہوتا ہے، یعنی رسائی کونارسائی کے سپرد کرنا پڑتا ہے۔ افتخارصاحب احساسات کی تجدید کرتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے انہوں نے یہ شعرپیش کیا ہے۔
ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

اس شعرکی معنویت احمد جاوید نے کئی صفحات میں اجاگر کی ہے اور ایسی معنی آفرینی پیداکی ہے کہ قاری اش اش کراٹھتاہے، ہر نئے پیرے میں ایک نئے معنی اور ہر اگلے جملے میں نیا مفہوم۔ پڑھنے والے پر شعر کے ایسے ایسے پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ جو تربیت یافتہ قاری کے بھی تصورسے باہر ہوتے ہیں۔ احمدجاوید کے مطابق

’’ اس شعرکی ندرت کے بہت پہلوہیں، ہجر کو دھوپ کہہ کر پھر چھاؤں کو لانا بالکل نیا تلازمہ ہے۔ اس کا مطلب دھوپ کا انکار نہیں ہے، نہ دھوپ کا زوال ہے، نہ خاتمہ بلکہ یہ ہجر کی دھوپ میں ایک چھاؤں داخل کرگئی۔ آنسو کا ماں کے ساتھ تشبیہ یا اس میں جو وجہ شبہ ہے وہ بہت نایاب ہے۔ اس فن کے چھوٹے، ماں اور آنسو کے درمیان نسبت نہیں ڈھونڈ سکتے۔ یہی کیفیات کی تشکیل ِ نو ہے کہ دو کیفیتوں اور دو کرداروں کے درمیان کوئی وجہ تعلق نہ پائی جاتی ہو اور کوئی آدمی نئی نسبت ڈھونڈ کر ان کو پرو دیتا ہے۔ یہاں آنسوؤں اور ماؤں کے درمیان نسبت دیکھیں تو کامیڈی اور ٹریجڈی کا امتیاز نہیں رہا۔ کامیڈی ٹریجڈی بن گئی اور ٹریجڈی کامیڈی ہو گئی۔ یعنی ماں کے حوالے سے آنسو تسکین کی ضمانت بن گئے اور ظاہر ہے آنسو کا سبب ٹریجک ہے۔ بڑے شاعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسی قاعدے کو توڑنا ان کا حق ہوتا ہے۔ یہ ہر فنی قاعدے، ضابطے، لسانیاتی قوانین وغیرہ سے متصرفانہ تعلق رکھتے ہیں۔ بڑا شاعر کہتے ہی اسے ہیں کہ زبان کے اب تک کے بنے ہوئے دائرے کو توڑ کر اسے وسعت دے، ہر بڑے شاعر نے یہ کیا ہے۔ ‘‘

اس اقتباس میں احمد جاوید نے افتخارعارف کوبڑا شاعربھی قرار دیدیا اوران کی انفرادیت کوبھی واضح کردیا۔ اگلی نشست جسے ’’نقد غزل‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، میں بھی اسی شعرکے نت نئے پہلو اجاگر کیے گئے ہیں۔ جس سے ایک جانب افتخارعارف کے شعرکی گہرائی وگیرائی واضح ہوتی ہے، تو دوسری جانب قاری کی شعرخوانی کی تربیت بھی ہوجاتی ہے۔ ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے۔

لفظوں کوان کی معروف، مروج، جبری، متداول نسبتوں سے کسی قدرآزاد کرکے دیکھنا یہ شعرکی ضروریات میں سے ہے نہ کہ شعرکے محاسن سے۔ شاعرلفظ کی سرپرستی کرتا ہے، معنی سے اس کا وہ رشتہ نہیں ہے جو لفظ سے ہے۔ شاعرکا لفظ سے تعلق یہ تقاضا کرتاہے کہ لفظ کومعنی کے اصول پرجس تنظیم اورترتیب کا پاپند کر دیا گیا ہے، یہ لفظ کوا س سے آزادی دلوائے اور لفظوں کے درمیان کچھ ایسی نسبتیں پہلی مرتبہ پیدا کرکے دکھائے، جن نسبتوں کی قبولیت وہ ذہن مشکل سے کرپاتاہے جو معنی سے تربیت پانے والاہے۔ یہ سب افتخار صاحب کے ہاں ایک مدھم ڈھب سے ہے، دھوم دھڑکے کے بغیر۔ بڑے شعراء لفظ کو آزادی دیتے ہیں لیکن وہ آزادی لفظ اورمعنی کے تلازم سے باہرنہیں ہوتی۔ لفظ کہتے ظرفِ معنی کو، تو بڑا آدمی جو لفظ پرتصرف رکھنے والا ہو، وہ لفظ کے کچھ حصے خالی رکھتاہے، یعنی وہ ایک معنی یاایک مفہوم سے لفظ کو پورا بھرنے نہیں دیتا، یہ لفظ کی آزادی ہے۔ شاعر لفظ پرقدرت رکھنے کے طفیل معنی کے اندر ایسا خلاء رکھتا ہے کہ معنی لفظ کے اندر سما جائے یا لفظ کی سمائی اس کے کانٹینٹ سے زیادہ ہوجا ئے اور اس کے زیادہ ہونے کا وقتاً فوقتاً ثبوت محسوس ہوتا رہے۔ لفظ معنی کا تابع مہمل نہیں ہوتا بلکہ اپنے استعمال میں خلاقانہ قدرت رکھنے والے شاعرکے ہاتھوں سے لفظ اپنے معنی پرتصرف کرتا ہے۔ ‘‘

اب ذرا اس اقتباس کی روشنی میں افتخارعارف کے کلام کا ازسرنو مطالعہ کریں۔ کیا کیا مفاہیم نہ آشکارہوں گے۔ تیسری نشست کو’’کلچر اور شعر‘‘ کاعنوان دیا گیا ہے۔ جس کی ابتدامیں لکھنؤ کی تہذیب کا ذکر ہے۔ برصغیرکی مسلم ثقافت میں لکھنؤ خاص حصہ بلکہ امتیازات رکھتا ہے۔ یہاں کلچر اورمذہب کے درمیان فاصلہ پاٹ دیا گیا ہے اوریہ کسی بھی تہذیب کی بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام اقدار، معاشرتی مراسم اورطبیعت میں راسخ اچھے برے اور خو ش گوار اور ناخوش گوار محرکات کو ایک ہم آہنگ کرلے اور افتخارعارف کا تعلق اسی لکھنؤ سے ہے۔ اس نشست میں افتخارعارف کے ایک با کمال شعر پر ہی گفتگو کی گئی ہے۔
بجھتے ہوئے دیے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ ۔۔۔ کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے

احمد جاوید نے اس شعر کے ایک ایک لفظ دیے، لو، بھیگی آنکھ اور بیچ اور ان علامات پر جس طرح بحث کی ہے۔ اس سے ان کی علمیت اورشعر فہمی بھی واضح ہوتی ہے اور کلام شاعرکے بے شمارگوشے بھی وا ہوتے ہیں اورقاری بھی کسی مرحلے پر اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس تمام بحث سے حظ اٹھانے کے ساتھ شعرکی خوبیوں سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ ذیلی عنوانات ’’بارے کچھ علامات کے‘‘، ’’دیا اورانفس وآفاق‘‘ اور ’’کوئی کی تعین‘‘ میں اسی شعرکی معنویت کا ذکر ہے۔ بلکہ اگلی نشست ’’دیا اور خواب‘‘ میں بھی یہ ذکر جاری ہے اورکہتے ہیں کہ یہ بہت عجیب شعرہے اور جو بنیادی اور ضروری باتیں ہیں، وہ ابھی نہیں ہوپائیں، تو اسی شعر پر مزید کچھ باتیں عرض کرتے ہیں۔

دیا گویا طاقِ غیب میں رکھا ہوا ہے اور سامنے عرصہ شہود کواس طاقِ غیب سے جوڑے ہوئے ہے۔ دیے کا کام یہ ہے کہ غیبت کوشہود سے جوڑے اورشہود کوخود اپنا ریئلائزر بنائے رکھے، یعنی شہود خود اپنے لیے روشن ہو۔ یہاں پہنچ کر ایک بڑی روایت کو دیکھتے ہیں، شنکراچاریہ جس کے سب سے بڑے نمائندے ہیں، وہ ویدانت یا ابدیت ہے۔ وہاں ذات اعلیٰ نہیں ہے، وہاں شعوراعلیٰ ہے کہ ایک شعور ہے، جو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ہم سب اسی کے اندر ہیں اوراس سے اوپر کچھ نہیں ہے، اس کو کہتے ہیں شعوراعلیٰ۔ محی الدین ابن عربی کا تعین وجود ذہن میں حاضر کرلیں تو آپ کو بلاتکلف دکھائی دے گا کہ یہ دونوں گویا اس دیے میں ایک ہوگئے ہیں، یہ بھی روشنی اورحرارت کے پہلو سے۔ روشنی شعوراعلیٰ سے ہے اور حرارت تعین وجود سے ہے۔ آنکھ دوسراکردارہے، دوسرا قطب ہے۔ دیے کی مناسبت سے آنکھ چشم شعور بھی ہے اور دیدہ وجود بھی ہے۔ گویا یہ وہ آنکھ ہے جوعین الیقین اورحالِ حضورکو اپنے قریب رکھتی ہے۔ انسان کو اسی آنکھ کا وارث بنایا گیا ہے۔ تاکہ وہ اس دیے سے معرفت، محبت، خشیت اور اپنے موجود ہونے کی حقیقت اور اصلیت کشید کرتا رہے۔

ایک ایک شعر اور ایک ایک لفظ کی ایسی توجیح و تشریح شاید ہی کبھی پڑھنے کا موقع ملا ہوگا اور تمام تعبیر قاری کے دل میں اترجاتی ہے۔ چوتھی نشست کے ذیلی عنوان ’’دیا، آنکھ اور شنکراچاریہ‘‘، ’’وحدت وکثرت‘‘، ’’ ڈی ہیومنائزیشن اورلاتعلقی‘‘، ’’ طلسمِ تماشا اورمن وتو‘‘ اور’’کوزہ وجود‘‘ ہیں۔ پانچویں نشست کا موضوع ’’شعر اور کچھ بڑے سوال‘‘ ہے۔ جسے ’’خیراورجمال‘‘ اور ’’ہواکی چیخ‘‘ کے ذیلی عنوانات سے اجاگر کیا گیا ہے۔ چھٹی نشست کو’’مقام عقیدت ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذیلی عنوانات ’’حرف باریاب‘‘، ’’دائرہ ہائے تسنن، تشیع اورشعر‘‘، ’’ مذہبی شاعری کی روایت‘‘ اور’’ہوا کے پردے میں کون‘‘ ہیں۔ ساتویں نشست ’’کوئی شہ سوار بھیج‘‘ اور آٹھویں ’’کتاب اور روشنی‘‘ جس کا ایک ذیلی عنوان ’’حضورِآفاق‘‘ ہے۔ نویں نشست کو’’حرف شوق‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ جس میں ’’نعت صد صفات‘‘، ’’عشق وعرفان کے مشترکات‘‘ اور ’’استغفار کی روشنی‘‘ کے نام سے مزید اجاگر کیا گیا ہے۔ دسویں نشست ’’پاپیادہ ہوجا‘‘ ہے۔ جس کا ذیلی عنوان ’’منظر نگاری‘‘ ہے۔ گیارہویں نشست ’’علی کا عاشق کون ہے‘‘ کو ’’مناقب نگاری کا درست منہج‘‘، ’’ تصویرِ طیبہ‘‘ کے عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ بارہویں اور آخری نشست ’’شہر علم کے درواز ے پر‘‘ ہے۔ جس کے عنوانات ’’علی کون؟‘‘ اور’’حسین اور تعلق باللہ‘‘ ہیں۔

ان تمام عناوین سے لیکچرز کے موضوعات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ خصوصاً افتخارعارف کی مذہبی شاعری کا جس باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ بارہ نشستوں پر مشتمل یہ گفتگو انتہائی دلچسپ بھی ہے اور پراثر بھی۔ کتاب دانشور احمدجاوید اور شاعر افتخار عارف کی شخصیت اورفن کے کئی نئے پہلو اجاگر کرتی ہے۔ لیکن ’’تہذیبِ سخن‘‘ کو تمام تر دلچسپی کے باوجود ایک نشست میں پڑھنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس میں احمد جاوید کی نکتہ آفرینی اور معجزبیانی کئی جگہ قاری کو مطالعہ سے روک کر سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ کئی پیراگراف ایک قرات میں اپنا مفہوم واضح نہیں کرتے۔ لیکن طرزِ سخن ایسادل نشین ہے کہ کتاب شروع کرنے کے بعد چھوڑنے کو دل نہیں کرتا اور کتاب کے ساتھ افتخارعارف کی تمام شاعری کے مطالعے کی بھی جستجو ہوتی ہے۔. danys35 sarah chalke nude

ایک شانداراور منفردنوعیت کی کتاب پیش کرنے پر شاہد اعوان صاحب کو بھرپور مبارک باد۔ احمد جاوید کی گفتگو کو تحریری شکل دینے والے بھی داد کے مستحق ہیں۔ ایمل مطبوعات نے ایک مرتبہ پھر اپنی انفرادیت ثابت کردی۔

 

Facebook Comments Box
Ahmad Javedahmad javiadahmed javedEmel PublicationsIftikhar ArifTehzeeb-e-Sukhanاحمد جاویدافتخار عارفایمل مطبوعاتتہذیب سخن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایم- اے فیل —— محمد ذیشان اختر کاافسانہ
next post
اصغر ندیم سید کی کہانی مجھے ملی —- محمد حمید شاہد

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.